بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / میں بھٹکل میں ‘شاپنگ مال’ بنتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں؛ میونسپال کی نئی چیف آفیسر کے ساتھ بھٹکلیس کی خصوصی ملاقات

میں بھٹکل میں ‘شاپنگ مال’ بنتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں؛ میونسپال کی نئی چیف آفیسر کے ساتھ بھٹکلیس کی خصوصی ملاقات

Print Friendly, PDF & Email

"بنگلورو کے مگڈی سے تعلق رکھنے والی عائشہ خانم جن کی پہلی پوسٹنگ ہی بھٹکل میں ہوئی ہے ان سے بھٹکلیس ڈاٹ کام کی نمائندہ مریم حراء ائیکری نے خصوصی طور پر ملاقات کی اور اس نوجوان آفیسر سے ان کے خیالات اور منصوبوں کو جاننے کی کوشش کی”۔

بھٹکلیس : اپنے بارے میں ہمیں کچھ جانکاری دیں۔۔۔۔

عائشہ خانم: میرا تعلق بنگلور کے مگڈی سے ہے۔ میں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیمات وغیرہ بنگلورو ہی سے مکمل کی۔ میری گریجویشن اور اگلی تعلیمات کی تکمیل کے بعد مجھے کرناٹکا ایڈمنسٹریٹیو سرویس میں جوائن ہونے کا موقع ملا اور اس کے بعد سے سب سے پہلے مجھے بھٹکل میں خدمت کرنے کا موقع دیا گیا۔

بھٹکلیس: جیسے کہ آپ نے کہا کہ بھٹکل میونسپالٹی سے آپ کو اپنی سرویس کے آغاز کا موقع ملا ہے، تو آپ یہاں اپنی میعاد میں کیا ترقیاتی کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں؟

عائشہ خانم: میں سب سے پہلے عوام کو بنیادی ضروریات جیسے پینے کا پانی، اسٹریٹ لائٹس اور اس جیسی دیگر سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہوں تاکہ لوگ یہاں خوشی کے ساتھ رہ سکیں۔

بھٹکلیس: بہت اچھا منصوبہ ہے لیکن ان سب کے بیچ کیا کسی خاص چیز کو آپ یہاں انجام دینا چاہیں گی؟

عائشہ خانم: بہت اچھا سوال ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ بھٹکل کا شمار سوچھ بھارت کے صاف ستھرے پچاس شہروں میں ہونے لگے اور میرا یہ بھی منصوبہ ہے کہ بھٹکل کو کھلے میں پیشاب اور پائخانہ کرنے والے لوگوں سے راحت دلائی جائے جو کہ دوسرے شہروں کے لئے بھی نمونہ ہو۔

بھٹکلیس: آپ کو یہاں تک پہنچانے میں سب سے اہم کردار کس نے ادا کیا ہے؟

عائشہ خانم: میرے والدین اور میرے ماموں وغیرہ نے مجھے اس جانب بہت ہی تعاون کیا ہے اور ان ہی کی وجہ سے آج میں اس جگہ پہنچی ہوں۔

بھٹکلیس : کیا آپ اپنے اس سرویس کے درمیان کبھی ذہنی تھکان، دباؤ یا مشکل محسوس کرتی ہیں؟

عائشہ خانم: ویسے تو کبھی تکلیف نہیں ہوتی ہے لیکن عوام جب کسی چیز کے لئے حد سے زیادہ دباؤ بناتے ہیں تب تھوڑی ذہنی تکلیف ہوتی ہے۔

بھٹکلیس: اس عہدہ پر منتخب ہونے کے بعد اب کیسا محسوس کررہی ہیں؟

عائشہ خانم: یہ خدمت کا جو موقع ملا ہے وہ میری سرویس کا پہلا موقع ہے، اس پر ایک عرصہ گزرنے کے بعد امید ہے کہ مجھے اس کا تجربہ ملے گا اور آگے اچھے طریقے سے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

بھٹکلیس: بھٹکل کی مردم شماری کے اعداد وشمار کے سلسلہ میں جانکاری دیں۔

عائشہ خانم: اب تک کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق بھٹکل کی آبادی 32000 ہے اور یہ برابر بڑھ رہی ہے، امید ہے کہ 2021 ء تک بھٹکل میونسپالٹی کو سٹی میونسپل کارپوریشن کا درجہ مل جائے۔

بھٹکلیس: آپ بھٹکل میں کس طرح کے ترقیاتی کام ہوتے دیکھنا چاہتی ہیں؟

عائشہ خانم: میری سب سے اولین خواہش ہے کہ یہاں کی سڑکیں اچھی بنیں، اس کے علاوہ میں یہاں پر ہورہے پاور کٹ کے مسئلہ کو بھی حل کرنے کی کوشش کروں گی اور اس سلسلہ میں متعلقہ محکمہ سے رابطہ کروں گی۔

بھٹکلیس: آپ ایک مسلمان خاتون ہوکر اس عہدہ پر فائز ہوئی ہیں جوکہ بھٹکل کی عورتوں کے لئے ایک متاثر کرنے والی چیز ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گی؟

عائشہ خانم:  میں اس موقع پر بھٹکلی عورتوں کو کہنا چاہوں گی کہ وہ اس مقابلاتی دور میں آگے بڑھیں اور اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کو باہر لاکر عوام کو بھی اس سے فائدہ پہنچائیں۔

بھٹکلیس: کیا آپ کا بھٹکل شہر کی مارکیٹ کو کچھ ترقی دلانے کا ارادہ ہے؟

عائشہ خانم: میں اس سلسلہ میں کام کر رہی ہوں اور میں یہاں ایک شاپنگ مال کی تعمیر ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں۔

بھٹکلیس: ہم آپ کے شکریہ کے ساتھ آپ کو اس عہدہ کے لئے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ آپ کو اس شہر میں خلوص کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کو آپ کے منصوبوں میں کامیاب فرمائے۔آمین

 

(بھٹکلیس نیوز بیورو)

x

Check Also

بیفا انڈر-14 ٹیم کی قومی سطح کے فٹبال ٹورنامنٹ میں شرکت؛ پہلی میچ میں ملی جیت

بھٹکل: 17 نومبر،2018 (بھٹکلیس نیوز بیورو) لاٹور شرد سوسر اکیڈمی کی جانب ...