بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / مجلس اصلاح و تنظیم کی بھٹکل و اطراف کے ائمہ و خطباء کے ساتھ اہم نشست: قرآن کے تعلق سے پھیلائی جارہی غلط فہمیوں کے خلاف عوام کا ذہن صاف کرنے پر زور

مجلس اصلاح و تنظیم کی بھٹکل و اطراف کے ائمہ و خطباء کے ساتھ اہم نشست: قرآن کے تعلق سے پھیلائی جارہی غلط فہمیوں کے خلاف عوام کا ذہن صاف کرنے پر زور

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل:24 مارچ، 2021 (بھٹکلیس نیوز بیورو) کچھ روز قبل وسیم رضوی کی قرآن کریم کی 26 آیتوں کو حذف کرنے کی درخواست کرتے ہوئے  دائر کردہ رٹ عرضی کے خلاف ملک بھر میں صدائے احتجاج بلند ہورہی ہے اور اس کے بعد سے علماء و دانشوران کا ایک بڑا طبقہ  مختلف طریقوں کو اپناتے ہوئے اس تعلق سے پھیلائی جارہی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے میں جٹا ہوا ہے۔

چونکہ مساجد کے ائمہ اور خطباء کرام عوام سے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور انہیں وقفے وقفے سے پندو نصائح سے نوازتے رہتے ہیں تو اسی مناسبت سے قرآن کے متعلق پھیلائی جارہی غلط فہمیوں کو دور کرنے آج بعد نماز عصر مجلس اصلاح و تنظیم میں بھٹکل و اطراف کے ائمہ و خطباء کے ساتھ ایک خصوصی نشست منعقد کی گئی تھی جس میں ائمہ و خطباء سے درخواست کی گئی کہ وہ آنے والے جمعہ کو خصوصی طور پر اپنے خطابات میں اس موضوع پر وضاحت کریں اور عوام کی غلط فہمیوں کو دور کریں۔

اس نشست میں چیف قاضی مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی نے  قرآن پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی قرآن پر اعتراض کیا جا چکا  ہے اور اس پر پابندی تک لگانے کی باتیں کی جاچکی ہیں لیکن قرآن اللہ کی کتاب ہے اس میں کسی بھی طرح کے  ردو بدل کا انسانوں کو حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی جیسے افراد اپنی پہچان بنانے اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ایسے گھنونے کام کرتے رہتے ہیں  ایسے میں بحیثیت امت مسلمہ اور امت دعوت ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سب سے پہلے قرآنی تعلیمات کو اپنے اندر لانے کی کوشش کریں اور پھر اسے غیروں تک پہنچانے والے بنیں۔

مولانا محترم نے وسیم رضوی کے اعتراضات پر چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید میں صرف 114 سورتیں ہیں لیکن  وسیم رضوی نے جو اعتراض کیا ہے اس میں اس نے سورہ نمبر 133 ، 152 اور دوسرے نمبر بیان کیے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

مولانا نے کہا کہ جن آیتوں پر اعتراض کیا گیا ہے اس کا اجمالی جائزہ لینے پتہ چلتا ہے کہ کفر،جہاد اور مال غنیمت کے تعلق سے  وارد آیتوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اس پر اعتراض کیا گیا ہے جس کے جوابات بہت سے علماء اور دانشوران دے چکے ہیں۔

خطیب تنظیم ملیہ مسجد مولانا انصار صاحب ندوی مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وسیم رضوی  جیسے لوگ اس دنیا میں آتے رہے ہیں اور نور ایمانی کو بجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت خود کر رہا ہے۔

مولانا محترم نے یہ بھی کہا کہ ہمیں یہ سوچ کر کہ اللہ حفاظت کرنے والے ہیں چپ نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ اپنی دعوتی ذمہ داریوں کو پوری کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

مولانا نے کہا کہ  وسیم رضوی نے اپنے اعتراض میں کہا ہے کہ یہ آیتیں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان ؓ نے اپنی طرف سے داخل کی تھیں ۔ مولانا نے اس پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو  حضرت علی ؓ (جن کو شیعہ اپنا امام مانتے ہیں) وہ ضرور اپنی  خلافت میں اس کو تبدیل کردیتے ۔ مولانا نے کہا کہ ایسے افراد اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتے رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا۔ مولانا نے لوگوں کی توجہ اپنی دینی اور دعوتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی طرف مبذول کرتے ہوئے کہا کہ ان ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہمارا دعوتی فریضہ ہے اگرہم اس کو پورا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ دوسری قوم کو تیار کرے گا اور ان سے اپنا کام لے گا۔مولانا نے نوجوانوں اور نئی نسلوں کے عقائد کو مضبوط کرنے اور انہیں اپنے دین کے تعلق سے پکا بنانے پر بھی زور دیا ۔

پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک کے ساتھ کیا گیا جس کے بعد قرآن کے موضوع پر نظم پیش کی گئی۔ جنرل سکریٹری مجلس اصلا ح و تنظیم مولانا عبدالرقیب ایم جے ندوی نے پروگرام کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے استقبال بھی کیا ۔ اجلاس کا اختتام صدر جلسہ جناب ایس ایم سید پرویز صاحب کے شکریہ کلمات اور مولانا یاسر ندوی صاحب نی نظامت پر ہوا۔

اس موقع پر تنظیم کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ ہوناور، ولکی اور دیگر علاقوں کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔

x

Check Also

بھٹکل واٹس ایپ ایڈمن ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام انعامی کوئز مسابقہ کا 3 رمضان سے ہورہا ہے آغاز: اس طرح سے کریں اپنا نام رجسٹر

بھٹکل : 13 اپریل، 2021 (راست)  رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ...