بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / دہلی میں ہوئے رابعہ سیفی عصمت دری اور قتل معاملے کی مجلس اصلاح و تنظیم نے کی پر زور مذمت: اے سی کے توسط وزیر اعظم کو سونپا میمورنڈم

دہلی میں ہوئے رابعہ سیفی عصمت دری اور قتل معاملے کی مجلس اصلاح و تنظیم نے کی پر زور مذمت: اے سی کے توسط وزیر اعظم کو سونپا میمورنڈم

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل: 9 ستمبر،2021 (بھٹکلیس نیوز بیورو) دہلی میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ساتھ کام کرنے والی ایک 21سالہ خاتون سول ڈیفنس افسررابعہ سیفی کی عصمت دری اور قتل  معاملے کی مذمت کرتے ہوئے آج بعد نماز عصر مجلس اصلاح و تنظیم کی طرف سے اسسٹنٹ کمشنر ممتا دیوی کے توسط سے وزیر اعظم نریندر مودی کو میمورنڈم سونپا گیا۔

اس موقع پر مجلس اصلاح و تنظیم کے جنرل سکریٹری جناب عبدالرقیب ایم جے نے اس معاملے کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تازہ معاملہ ہندوستان میں لڑکیوں کی حفاظت کو لے کر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔  انہوں نے کہا کہ اس طرح کے خونریز اور گھناؤنے جرم کے بعد بھی وزیر  داخلہ اور دہلی حکومت کے وزیر اعلٰی اس معاملے میں کچھ نہیں بول رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کی دارالحکومت دہلی میں  اس طرح کے معاملات   پیش آنے کو وزارت داخلہ اور کیجریوال حکومت کی ناکامی قرار دی۔

انہوں نے اس موقع پر وزیر اعظم سے درخواست کی کہ اس معاملہ کی اعلی سطحی جانچ کی جائے اور اس کے پیچھے چھپے انسانی درندوں کو بر سر عام لاکر انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ پھر کوئی اس طرح کی ہمت نہ کر سکے۔

اس موقع پر جناب عنایت اللہ شابندری صاحب  نے بھی اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کی اور خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ایڈوکیٹ عمران لنکا نے میمورنڈم پڑھ کر سنایا۔

مجلس اصلاح وتنظیم کی طرف سے رابعہ کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور ان کے اہل خانہ کے لیے تعزیتی کلمات بھی ادا کیےگئے۔

اس موقع پر صدر تنظیم جناب ایس ایم سید پرویز صاحب، جناب مولانا عزیز الرحمٰن ندوی صاحب، جناب صدیق ڈی ایف صاحب، جناب الطاف کھروری صاحب و دیگر موجود تھے۔

کون تھیں رابعہ سیفی اور ان کے ساتھ کیا ہوا؟

بہار کی ساکن دہلی کے سنگم وہار کی رہائشی 21سالہ رابعہ سیفی دہلی پولس میں چار ماہ قبل ہی پولیس کانسٹبل کے عہدہ پر جوائن ہوئی تھیں۔

27 اگست کو جب یہ ڈیوٹی کے بعد گھر نہیں لوٹیں تو ان کے افراد خاندان نے پولس اسٹیشن کوفون کیا وہاں پہلے فون ریسیو نہیں کیا گیا بعد میں بار بار فون لگانے کے بعد جواب یہ ملا کہ وہ یہاں سے جاچکی ہیں۔

جس کے بعد ان کے افراد خاندان نے انہیں تلاش کیا لیکن کوئی سراغ نہیں ملا بعدازاں ان کی نعش دستیاب ہوئی جنہیں انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔

جن کی پہلے متعدد مرتبہ اجتماعی عصمت ریزی کی گئی پھر ان کو بے رحمانہ طریقہ سے قتل کیاگیا۔رابعہ سیفی کی نعش پر 50سے زائد چاقو کے ضربات پائے گئے تھے۔ان کی گردن کاٹ دی گئی تھی،دونوں پستان کاٹ دیے گئے، شرم گاہ میں متعدد مرتبہ چاقووں سے وار کئے گئے تھے۔ان کے پیر اور ہاتھ کی نسیں کاٹ دی گئی تھیں اور کمر کے حصے میں چاقو سے متعدد ضربات پہنچائے گئےتھے۔

اس کے والدین نے فوری اس سلسلہ میں ایک شکایت درج کروائی لیکن پولیس پر الزام ہے کہ وہ اتنے سنگین اور درندگی سے بھرپور واقعہ میں تساہلی سے کام لیتے ہوئے اسے نظر انداز کررہی ہے!!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*