بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / کرناٹک میں بی جے پی لیڈر پروین نیٹارو کے قتل کی جانچ NIA کو سونپی گئی: دس دنوں میں تیسرے قتل کے بعد کرناٹک میں سخت حفاظتی انتظامات

کرناٹک میں بی جے پی لیڈر پروین نیٹارو کے قتل کی جانچ NIA کو سونپی گئی: دس دنوں میں تیسرے قتل کے بعد کرناٹک میں سخت حفاظتی انتظامات

Print Friendly, PDF & Email

بینگلورو: 29 جولائی،2022 (ایجنسی) جنوبی کینرا ضلع میں نوجوان بی جے پی مورچہ کے لیڈر پروین نیٹارو کے قتل معاملے میں ریاستی حکومت نے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ بومائی حکومت نے بی جے پی لیڈر کے قتل معاملے کی جانچ قومی تفیشی ایجنسی (NIA) سے کرانے کا فیصلہ لیا ہے۔ اب اس پورے معاملے کی جانچ این آئی اے کرے گی۔ پروین نیٹارو کومنگل کی شب کو کچھ نامعلوم افراد نے قتل کردیا تھا۔
بی جے پی لیڈر کے قتل کے بعد پارٹی کارکنان نے جم کر مخالفت کی تھی۔ قتل سے متعلق کارکنان اپنی ہی ریاستی حکومت پر سوال اٹھا رہے تھے۔ اب اس معاملے کو این آئی اے کو سونپ دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کرناٹک میں گذشتہ دس دنوں کے اندر تین افراد کا بے دردی سے قتل کیا گیا ہے جس کے بعد پولس انتظامیہ چوکس ہوگئی ہے اور ضروری اقدامات کیے ہوئے ہے۔ قتل کا یہ سلسلہ 20 جولائی کو شروع ہوا تھا  جب 18 سالہ نوجوان بی مسعود پر کچھ لوگوں کے ایک گروہ نے حملہ کیا تھا  جس کے بعد  بری طرح سے زخمی مسعود نے 21 جولائی کو دم توڑ دیا تھا۔ پولیس نے اس کے بعد  قتل کے تمام 8 ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

اس کے بعد 26 جولائی کو بائیک پر سوار کچھ حملہ آوروں نے بلاری قصبہ میں بی جے پی کے کارکن 31 سالہ پروین کمار نیتارو پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ اس معاملہ میں پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور 20 سے زیادہ لوگوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد گزشتہ شب سور تکل شہر میں 23 سالہ فاضل کو کچھ لوگوں کے ایک گروہ نے دکان کے باہر قتل کر دیا۔ اس واردات کو کپڑے کی دکان کے سامنے انجام دیا گیا اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

 

آئی اے این ایس نے ذرائع کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ یہ تینوں قتل انتقامی جذبہ کے تحت کئے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مسعود کے قتل کے بعد پروین کا قتل کیا گیا۔ دراصل پروین جیل میں قید مسعود کے قتل کے ملزمان کی مدد کر رہا تھا، اس لئے اسے نشانہ بنایا گیا۔ وزیر اعلیٰ بسوراج بومائی نے پروین کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور حکومت کی جانب سے 25 لاکھ کا امدادی چیک جاری کر دیا گیا۔ پارٹی کی جانب سے 25 لاکھ روپے علیحدہ سے بھی ادا کئے گئے ہیں۔ وہیں مسعود کے اہل خانہ کی تاحال کوئی مالی اعانت نہیں کی گئی ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ نے میڈیکل بلوں کی ادائیگی کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا ہے۔

سابق وزیر اور کانگریس کے رکن اسمبلی یو ٹی قادر نے کہا کہ حکمراں بی جے پی حکومت کو غیر جانبدارانہ طور پر انصاف کرنا چاہئے اور قصورواروں کو سزا دی جانی چاہئے۔ قادر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بومائی مسعود کے اہل خانہ سے ملاقات کے لئے نہیں پہنچے، جبکہ قتل کے وقت وہ منگلورو کے دورے پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کو حکومت پر بھروسہ نہیں ہوتا تو وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔

ادھر، منگلورو کے پولیس کمشنر این ششی کمار نے کہا کہ فاضل کے قتل کا مقصد تاحال معلوم نہیں چل سکا ہے۔ ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے عوام سے افواہوں پر توجہ نہیں دینے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ خیال رہے کہ فاضل کے قتل کے بعد منگلورو ضلع کا ماحول کشیدہ ہے اور پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لئے دفعہ 144  کے تحت امتناعی احکامات جاری کردیے ہیں اور یکم اگست تک دکانوں کو بھی مغرب ہوتے ہی بند کرنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*