بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / بات سے بات: مکتبہ جبریل ، کینڈل، اور ای بوک۔۔۔ تحریر:عبد المتین منیری۔ بھٹکل

بات سے بات: مکتبہ جبریل ، کینڈل، اور ای بوک۔۔۔ تحریر:عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Print Friendly, PDF & Email

ہمارے پرجوش رفیق مولوی بشارت نواز نے مکتبہ جبریل اور اس سے وابستہ ای بک ریڈر جیسے پروجکٹ کے بند ہونے پر اظہار افسوس کیا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے ذہن میں چند خیالات آئے ہیں، انہیں تنقید پر محمول نہ کیا جائے، کیونکہ ہم مکتبہ جبریل اور اس کی ٹیم کے قدردانوں میں ہیں۔ اور اس کے بند ہونے کو ایک المیہ سے کم نہیں سمجھتے، اردو کتابوں کی ایسی کسی سوفٹ ویر کا بند ہوجانا بذات خود سوفٹ ویر کی دنیا میں اردو کی پسپائی ہی شمار ہوگی۔

ہمارے خیال میں مکتبہ جبریل کی ٹیم کے پاس اخلاص اور قربانی کا جذبہ تھا، آج کے مادی دور میں  کسی پروجکٹ کی کامیابی اور اس کے تسلسل کے لئے صرف ان دو چیزوں کا ہونا کافی نہیں ہے، ان کے ساتھ کچھ اور چیزوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ جن کا فقدان اس کے بند ہونے کاباعث بنا۔

ہمارے مسلم معاشرے میں عموما مسجد اور مدرسوں کی تعمیر اور غریب طلبہ اور حافظ قرآن کی کفالت کے لئے تو اہل خیر سے تعاون کم وبیش مل جاتا ہے۔ لیکن ان میں علمی ذوق اور کتب بینی کا شوق پیدا کرنے ، اداروں کو اچھی کتابیں اور علمی مواد فراہم کرنے اور معیاری کتب خانے کے قیام کے لئے تعاون نہیں ملتا،ہمارے اداروں میں کتب خانوں کی حیثیت  ذیلی ہے، ان کے سلسلے میں ہمارے اساتذہ اور ذمہ داران کا رویہ بھی بہت مایوس کن ہے، جہاں پر کتب خانے قائم ہیں، وہاں پر بھی ان کی حیثیت گوداموں یا پھر مہمانوں کو دکھا کر مدرسے کی تشہیر  کے ذریعہ سے زیادہ نہیں ہے۔ ایسے معاشرے میں الکٹرونک لائبریریوں کے سوفٹ ویر کے لئے لوگوں سے  مدد ملے تو یہ دشوار ترین کاموں میں سے ہے، ان کاموں کی اہمیت سمجھنے والے بھی ہمارے اہل علم میں نہیں پائے جاتے۔ اس کا سبب اقتصادی مشکلات سے زیادہ ذوق کا فقدان ہے، آخر کیا بات ہے، ہمارے اساتذہ  اور طلبہ کے پاس قیمتی موبائل تو پائے جاتے ہیں، لیکن ان سے بہت ہی  کم قیمت پر کتابوں کے پڑھنے کے قابل ٹیبلیٹ نہیں پائے جاتے،حالانکہ ٹیبلیٹ میں وہ  کیا نہیں ہے جو ایک موبائل میں پایا جاتا ہے؟

مکتبہ جبریل جس طرح بند ہوگیا یا اس کی ترقی رک گئی اس سے محسوس ہوتا کہ اس کے قائم کرنے والوں کے ذہن میں یہ بات تھی کہ قائم کرنے والوں کے علاوہ کوئی اسے چلا نہ سکے۔ چاہے اس کے لئے خرچ کی گئی سالہا سال کی محنت اور مال اکارت چلے جائیں۔

مکتبہ شاملہ کی  خوبی ماننی پڑے گی کہ تین سو یم بی کا  چھوٹا سا ایک ایسا سوفٹ ویر دے دیا، جس میں دنیا بھر کے کتاب دوست احباب نے دلچسپی لے کرساٹھ جی بی کی عظیم الشان لائبریری اسے  بنادی جس میں تیس ہزار عنوانات پر لاکھوں جلدوں سے استفاد کیا جاسکتا ہے۔ اور مسلسل اضافہ جاری ہے۔

 مکتبہ جبریل بنیادی طور ایک ریسرچ اور تحقیق کا آلہ ہے۔ اس میں جو تین ہزار ای بکس اور پی ڈیف کتابیں شامل کی گئی تھی وہ ریسرچ اور تحقیق کے کاموں میں مفید ہوسکتی ہیں۔ ریسرچ اور تحقیق  کام کبھی سند اور سرٹیکفیٹ حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے، جسے کتب بینی اور مطالعہ کا ذوق کہا جاتا ہے وہ ریسرچ اور تحقیق کے علاوہ  بھی ایک چیز ہے، کتب بینی اور مطالعہ کا ذوق ایک مصنف اور محقق کے ریسرچ اور تحقیق کو چار چاند لگا دیتا ہے، لیکن جو تصنیفی اور تحقیقی کام صرف ڈگری حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے وہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد دم توڑ دیتا ہے۔ ایک مقالہ کے بعد پھر اس کا مصنف  ڈھونڈھے  نہیں ملتا ۔

بد قسمتی سے سوفٹ ویر کی دنیا میں اردو کی ترقی بڑی تاخیر سے ہوئی، اردو ان پیج ایک اچھا آغاز تھا، اور اسے ہندوستان میں پرائیوٹ طور پر صرف کثیر سے تیار کیا گیا تھا، لیکن افسوس کہ ملک خداداد میں اس کے قفل کو توڑ کر اس کے غیر قانونی نسخوں کی ترویج کی گئی،اور ان پیج کا گلا ابتدا ہی میں  گلا دبا دیا گیا،  دنیا کی چھوٹی چا ھوٹی زبانیں ونڈوز میں شامل ہوکر ترقی کرتی رہیں، اور دنیا کی تیسری بڑی زبان پائریٹڈ انپیج کی اسیر ہوکر رہی۔ اور جب پی ڈی یف پر تصویر شدہ کتابوں کا رواج ہوا تو اردو قاری جن میں دینی علوم کے طلبہ وفارغین بد قسمتی سے زیادہ تھے، ان کی ترویج اور انہیں اکٹھا کرنے پر اپنی توانائی اور وقت صرف کرنے کو مطالعہ اور کتب بینی کا نعم البدل سمجھ لیا۔

ایسے ماحول میں جہاں کتب بینی اور مطالعہ کے ذوق کی ترویج نہ ہو، وہاں مکتبہ جبریل جیسے پروجکٹ کی کیسے ترقی پا سکتے ہیں؟۔ مکتبہ جبریل کو قائم رکھنے کے لئے ہمارے خیال میں صرف قربانی کا جذبہ اور اخلاص کافی نہیں تھا، اس میدان میں قدم رکھنے کے بعد اس راہ میں جو قانونی اور دوسری مشکلات آسکتی ہیں، ان کا بھر پور خاکہ غالبا سامنے رکھا گیا۔

جب مکتبہ جبریل سے کتابوں کے ایک بڑے ذخیرہ کو حذف کرنے کی بات آئی تھی تو ہم نے توجہ دلائی تھی کہ تمام امور کا احاطہ کئے بغیر جلد بازی نہ کی جائے، کیونکہ مکتبہ جبریل میں جو کتابیں شامل ہیں ان کی اکثریت ایسی کتابوں پر مشتمل ہے جن کے مصنفین اور ناشرین کو پڑوسی اشاعت گھروں نے حقوق نہیں دئے ہیں،

ستر سال سے دیوبند، لکھنو، دہلی ، دارالمصنفین، ندوہ المصنفین، مجلس تحقیقات ونشریات ، صدق فاؤنڈیشن وغیرہ کی کتابیں چھاپ چھاپ کر ان ناشرین کی کوٹھیاں کھڑی ہوگئیں، یہ کروڑوں میں کھیلتے لگے۔ جن لوگوں نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں، ان کا نام لیا جائے تو شاید بڑے بڑے عمامہ وقبا والے مل جائیں، ان کو کہاں اخلاقی وقانونی حق پہنچتا ہے کہ  کوئی دوسرا ان کتابوں کی اشاعت کا کام کرے تو   وہ مجرم ٹہرے؟

ہماری نظر میں پڑوسی ملک سے کم ازکم اہل حدیث مکتب فکر اور بریلوی مکتب فکر کے دو ویب سائٹ ایسے ہیں جو دھڑلے سے مختلف مکاتب فکر کی قیمتی کتابیں اپلوڈ کررہے ہیں۔ اور یہ سائٹیں ہماری ضرورت بن گئی ہیں۔ اب اتنا وقت اور مال صرف کرکے مکتبہ جبریل والے پیچھے ہٹ جائیں،  تو یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

خلیجی ممالک خاص کر امارات ، سعودی عرب، مصر وغیرہ میں حقوق النشر کے  قوانین جس سختی سے نافذ ہیں، اس کا موازنہ برصغیر کے ممالک سے نہیں کیا جاسکتا، باوجود اس کے جس طرح یہاں پر ہارڈ ڈسکوں میں تصویر شدیدہ کتابیں ملتی ہیں،ہمارے یہاں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ قانون سے محفوظ رہنے کی راہیں بھی بہت ہیں۔

مولوی بشارت نے مکتبہ جبریل کے مجوزہ ای بوک ریڈر کے احیاء کی بات کی ہے۔ ہمارے خیال میں اس کا وقت نکل چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کہ  جیبی کیلکولیٹر کی ترویج کے بیس سال بعد الکٹرونک ڈکشنریوں اطلس، کولینس، آکسفورڈ ، میریم ویبسٹر وغیرہ  کا رواج ہوا تھا، اس کے بعد سے الکٹرونک کتابیں ترقی کرتے کرتے مفت موبائل ایپ تک پہنچ چکی ہیں، الکٹرنک آلات وقت کے ساتھ ساتھ سوفٹ ویر میں اپڈیٹ کے طالب ہوتے ہیں، جن کا خرچہ لاکھوں تک پہنچتا ہے، چند سالوں بعد یہ اپڈیٹ بھی بے کار ہوجاتا ہے، اب تجارتی بنیادوں پر ان سے کمائی نہ ہو تو اس قسم کا کام بند ہوجاتا ہے۔

ہماری رائے میں اس وقت سب سے پہلے طلبہ واساتذہ میں مطالعہ اور کتب بینی کا ذوق پیدا کرنے کی ضرورت ہے، کینڈل بنیادی طور پر ریسرچ کی کتابوں کے لئے نہیں ہے، بلکہ یہ وقت گذاری کے لئے ہلکے پھلکے مطالعہ کی چیز ہے، اس میں وہی کتابیں شامل کی جاتی ہیں جو دلچسپ ہوتی ہیں اور کتب بینی کے شوق کو پروان چڑھاتی ہیں۔

اس کے لئے ضروری ہےناشرین کتب ایسی کتابوں کو منتخب کرکے ان کا کینڈل فورمیٹ بنائیں، اور امازون یا اس جیسی دوسری کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کرکے انہیں تجارتی بنیادوں پر فروخت کا نظم کریں، شوق دلانے کے لئے چند مفت کتابیں بھی رکھ دیں۔ تاکہ کینڈل یا بوک ریڈر کا خریدار مایوس نہ ہو۔ اسے گھوڑا پالنے کی طرح صرف خرچیلا آلہ نہ سمجھے۔

جب کینڈل کے معیار کی کتابیں آئیں تو ان کی ترویج اور خریداری پر قارئیں کو آمادہ کرنے کی بھی تحریک چلائیں۔ آخر، پیتزا، برگر، وغیرہ پر ہزاروں روپئے خرچ ہوسکتے ہیں، توذہن کی غذا پر ان میں سے ایک چھوٹا سا حصہ کیوں نہیں خرچ ہوسکتا؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*