بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / چپلون اور باب دکن دابھول کی سیر(۰۲)۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل

چپلون اور باب دکن دابھول کی سیر(۰۲)۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Print Friendly, PDF & Email

چپلون سے دابھول کا راستہ چاروں طرف خوبصورت گھنے جنگلات سے بھرے پرےاونچے نیچے   پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے، یہیں کہیں پانی کے آبشار بھی ہیں، جن سے بجلی بنانے کے لئے انرون کمپنی کا عظیم الشان پراجکٹ لگا ہوا ہے، یہ مہاراشٹر میں بجلی سپلائی کرنے والا سب سے بڑا کاخانہ ہے۔ یہاں مناظر اتنے خوش نما اور مسحور کن تھے کہ وقت کا پتہ بھی نہیں لگاکہ کیسے گذر گیا۔

دابھول کےبالمقابل جب دریا کے جنوبی ساحل پر  ہم پہنچےاور دریاپار کرنے کے لئے پل کے نہ ہونے کی وجہ سے جب ڈرائیور نے کار کوبارجہ (جنگلے)  پر چڑھادیا تو چاروں طرف خوش نما پہاڑوں کے  درمیان  اور صاف و شفاف پانی کے منظر کو دیکھ کر ہمارے ساتھی ڈاکٹر اطہر عبد الحمید نے فرمایا کہ یہ منظر تو ہوبہو ترکی میں یورپ اور ایشیا کو ملانے والے آبنا ئے باسفورس کا  لگتاہے، ترکی کے اس خوشنما منظر کو ہمارے ساتھی نے بالمشافہ دیکھا ہے،  ترکی کا یہ منظر دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے، اوریہ  دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مراکز میں سے ایک شمار ہوتا ہے،کوکن سے گوا ، کرناٹک  سے کیرالا تک کا منظر کچھ ایسا ہے کہ  بستیاں  عموما  ساحلی پٹیوں  کی طرح ہیں،جو کہ سیادری اور مغربی گھاٹ کے پہاڑوں اور جنگلات کے نیچے آباد ہیں، اور مغرب کی طرف سمندر اور مشرق کی طرف پہاڑیوں اور جنگلات سے گھری ہوئی ہیں، اس پر مستزاد  صاف شفاف ندیوں اور دریاؤں کو سمندر سے ملانے  والے دہانے بھی  جگہ جگہ بڑا حسین نظار ہ پیش کرتے ہیں، یہ منظر ہمارے بھی دیکھے بھالے ہیں، لیکن دابھول کےآس پاس کو دیکھ کر ہمارا بھی تاثر یہی ہوا کہ سمندر اور دریا کہ سنگم کا ایسا حسین نظارہ ہماری نظر سے بھی نہیں گذرا۔ قدرت کے ان حسین نظاروں کے باوجود  دابھول  میں  سیاح نہیں بس مچھلی کا شکار کرنے والے اور اسے بیچنے والے چند مچھیرے  نظر آتے ہیں،اور یہ علاقہ پس ماندگی کی حدوں کو چھو رہا ہے۔

گزٹ کے مطابق خلجی دور حکومت میں سنہ ۱۳۱۲ ء  میں ملک کافور کے حملہ کے بعد  دابھول مسلم سلطنت کے ماتحتی میں آگیا، اورسنہ ۱۶۶۱ء میں شیواجی کے حملے اور اسے جلادئے جانے کے بعد یہ بندرگاہ ساڑھے تین سو سال مسلم ماتحتی میں گذار کر مراٹھا سلطنت کی حدوں میں شامل ہوگئی۔خلجی گورنر اعظم خان کے دو فرزندان کے نام پر اس کا نام مصطفی آباد اور دوسرے قریبی علاقے کا حمزہ آباد رکھا گیاتھا۔(۱۳۴۷۔۱۵۰۰ء) کے دوران یہ بہمنی سلطنت کے اور پھر عادل سلطنت کے تابع ہوگیا۔عثمانی خلیفہ مراد دوم کا بیٹا، سلطنت عادل شاہی کا بانی یوسف عادل شاہ اسے جنت نشان کہتا تھا، یہاں اس نے صرف کثیر سے دار الایتام قائم کیا تھا۔ (۱۴۷۴۔۱۴۶۸ء) کے دوران گزرنے والے روسی سیاح ایتھناسیوس نیکیتن نے اسے ایک بڑا قصبہ اور ایک بڑے ضلع کا صدر مقام اور  وسیع سمندری گزرگاہ پایا، جہاں گھوڑےمیسور(گزٹ کے مطابق یہ مصر ہے)، عرب،خراسان اور نگھوستان(ایتھوپیا) سے لائے جاتے تھے، اور ہندوستان سے ایتھوپیا تک کے ساحلوں پر بسنے والی تمام قومیں  اس سے ملی ہوئی تھیں″ّ(نکیتین ۱۳)۔ اٹالوی سیاح ورتھما نے بھی کچھ اسی طرح اس کا تذکرہ کیا ہے(ورتھما: (114

۔۱۵۰۴ء میں اس علاقے کا دورہ کرنے والے پرتگالی سیاح دورت بربوسا کا کہنا ہے کہ :۔۔

"اس جگہ کو چھوڑ کر ، مند آباد(بانکوٹ)  ، اور ساحل کے ساتھ مالابار اور جنوب کی طرف جانے کے بعد ، آٹھ فرسخ کے فاصلے پر ایک اور عمدہ بڑا دریا ہے ، جس کے دہانے پر مسلمانوں اور غیر قوموں کا ایک بڑا قصبہ ہے ، جو کہ اسی دکنی سلطنت سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے دابول کہا جاتا ہے ،  اور اسی قصبے کے قریب دریا کے دہانے پر ایک فصیل ہے جس میں دریا کے داخلی دروازے کا دفاع کرنے کے لیے توپ خانے ہیں۔ دابول کے اس قصبے میں ایک بہت اچھی بندرگاہ ہے ، جہاں ہمیشہ  دنیا کے مختلف حصوں  اور خاص طور پر مکہ ، عدن اور اورہرمز سے گھوڑوں کے ساتھ ، اور کمبے ، دیو اور مالابار ملک سے بہت سے مسلمان جہاز جمع ہوتے ہیں۔ یہ ہر قسم کی بہت بڑی تجارت کا مقام ہے۔ اس میں بہت معزز مسلمان اور غیر قوم اور گجراتی تاجر پائے جاتے  ہیں۔ ملک کے اندرونی حصے کے لیے بہت زیادہ  مقدار میں تانبا ، چٹکی اور سندور یہاں فروخت کیا جاتا ہے، اندرونی علاقوں اور قصبوں کے لئے  بڑی تعداد میں ملکی کپڑے لائے جاتے ہیں ، اور بہت زیادہ گندم اور ہر قسم کی سبزیاں یہاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس بندرگاہ پر کسٹم ہاوس سے بہت زیادہ آمدنی   حاصل  ہوتی ہے، اور جمع کرنے والے قصبے کےسردار بھی وہاں  سے واجبات لیتے ہیں۔ یہ قصبہ خوبصورت اور اچھی طرح سے واقع ہے ، لیکن اس کے مکانات ناریل کے درختوں سے ڈھکے ہوئے ہیں ، اور اس میں بہت خوبصورت مساجد بھی ہیں۔ اس دریا کے اوپر ، دونوں کناروں پر بہت سارے خوبصورت قصبے ہیں ، یہاں کے لوگ بہت زیادہ کاشت کی زمین اور ریوڑ کے مالک ہیں۔ پرتگال کے بادشاہ کا ایک بیڑا اس شہر میں پہنچا ، جس میں وائسرائے کپتان تھا ، اور اس نے اپنے لوگوں کو اس شہر  پر قبضہ کرنے اور اسے  لینے اور تباہ کرنے کے مقصد سے ساحل پر اتارا۔اور مسلمانوں نے اپنے طور پر اس کا بھر پور دفاع کیا، اور پرتگالیوں کے ساتھ بہت بہادری سے لڑے۔ لڑائی میں بہت سے مسلمان اور غیر قوم مارے گئے ، اور آخر کار پرتگالیوں نے حملہ کر کے اس شہر کو اپنے قبضے میں لے لیا ، وہاں کے باشندوں کا زبردست قتل عام کیا ، اور شہر کو لوٹا   اور جلا دیا ، جس سے  بہت ساری دولت اور تجارتی سامان جل کر راکھ ہوگئے ، ان میں کئی ایک  جہاز  بھی تھے جو دریا میں پڑے تھے۔ ان میں سے چند وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئے، وہ بعد میں اس شہر کو بحال کرنے کے لیے واپس آگئے، تاکہ اب یہ پہلے کی طرح آباد ہو جائے″(بربوسا: ۱۶۴)

مسلم سلطنتوں کے دور میں چاؤل اور گوا کے درمیان یہ اہم ترین بندرگاہ تھی، پرتگالیوں نے اسے تباہ وتاراج کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، دسمبر 1508 میں پرتگالی وارئسرائے فرانسسکو ڈی المیڈا  کی قیادت میں اس پر زبردست بمباری ہوئی۔ ریکارڈ کے مطابق پرتگالیوں کا اس پر آخری حملہ ۱۵۷۱ء میں ہواتھا، اس وقت دابھول کا  گورنر خواجہ علی شیرازی تھا۔ اس لڑائی میں  دابھول میں 150 افراد کو قتل ہوئے تھے۔

بہمنی ریاست کے کئی چھوٹی سلطنتوں میں ٹوٹ پھوٹ ہو جانے کی وجہ سے دابھول کے زوال میں تیزی آگئی۔ کیونکہ ان سلطنتوں نے اپنے نئے  دارالحکومت بنالئے تھے  ، دابھول کی جغرافیائی پوزیشن اب اتنی خوش قسمت نہیں رہی جتنی پہلے تھی ، اور متبادل کے طور پر ، زیادہ آسان بندرگاہوں کو آباد کیا گیا تھا۔ 16 ویں صدی کے دوران ، بہت ساری تجارت دابھول سے دور جنوب میں راجہ پور کی ابھرتی ہوئی نئی بندرگاہ کی طرف موڑ دی گئی۔

*دابھول کی تاریخی شاہی مسجد*

دابھول صدیوں مسلم تہذیب وثقافت کا گہوارہ رہا، لیکن کوکن کے دوسرے علاقوں کی طرح جہاں اسلام کی شعاعیں پہلے پہل پہنچی تھی یہاں پر بھی مسلمانوں کی نشانیا ں معدوم ہیں، ہنٹر کا کہنا ہے  یہاں کی  شاہی  مسجد مسلم طرز تعمیر کی واحد نشانی ہے(امپیریل گزٹ)

الکزنڈر کیڈ نائرکا بھی کہنا ہے کہ ″کونکن  میں مسلم عمارتوں کی باقیات چند اور غیر اہم ہیں۔ دابھول کو پرتگالیوں نے بہت پہلے جلادیا تھا ، اور چاول کو شیواجی نے اسی طرح سے تباہ کر دیا تھا ، اب  یہ بتانے کے لئے یہاں  کافی شواہد نہیں کہ یہ  کبھی عظیم جگہیں رہی  تھیں۔ جگہوں جگہوں پر بہت سے مقبرے بکھرے ہوئے ہیں ، لیکن بتانے کے لئے کوئی اہم چیز نہیں  پائی جاتی۔ دابھول میں ایک عمدہ مسجد ہے جس میں گنبد اور مینار پانی کے کنارے کے قریب کھڑے ہیں ، اور اب تقریبا ناریل کے درختوں کے نیچے  دفن ہے ۔(ہسٹری آف کوکن)

ہنٹر اور کیڈ نائر نے دیڑھ سو  سال قبل یہاں کی جس شاہی مسجد کا تذکرہ کیا ہے، ہمیں بھی یہی مسجد دیکھنے کو ملی، تاریخ کے مطابق ۱۶ویں صدی میں ، عادل شاہی دور میں ، کونکن کے علاقے میں دو مساجد تعمیر ہونے کا ریکارڈ موجود ہے۔ ان میں سے ایک چاؤل کی حسبہ مسجد ہے اور دوسری شاہی مسجد دابولی کی  دابھول بندرگاہ پر ہے۔ اس مسجد کو ’’ انڈا مسجد ‘‘ یا ’’ مصاحب مسجد ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ شاہی مسجد انتہائی افسوس ناک حالت میں اور تقریبا کھنڈرکی حالت میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مسجد بیجا پور کی شاہی جامع مسجد کی نقل ہے۔ دابھول کے فن تعمیر کی شاہی مسجد ایرانی طرز کی ہے جس میں بے حد توازن  پایا جاتاہے۔ مسجد کے داخلی دروازے پر خوبصورت سیاہ پتھر سے بنی ہوئی سیڑھیاں ہیں۔ مسجد میں داخل ہونے کے بعد ، آپ کو اندر جانے سے پہلے خود کو دھونے اور صاف کرنے کے لیے بیسن اور چشمے ملیں گے۔ مسجد کا مرکزی ہال تین محرابوں ، ایک ہاتھ سے بنے سلیب اور چاروں کونوں میں چار سڈول میناروں سے آراستہ ہے۔ زمین کے قریب میناروں کے حصے میں سادہ مگر خوبصورت ہاتھ سے تیار کردہ نقش و نگار ہیں۔ سلیب کے مرکز میں ایک سرکلر ڈیزائن ہے جس کے پچھلے حصے میں 75 انچ کی بلندی پر ایک بڑا گنبد ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پرانے دنوں میں گنبد سونے کی چادروں سے ڈھکا ہوا تھا۔

 کہا جاتا ہے کہ ، 1559 میں ، بیجا پور کی  شہزادی عائشہ بی بی ، دابھول سے مکہ حج پر جا رہی تھیں ، لیکن وہ ناموافق موسمی حالات کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکیں۔ اس کے ساتھ اس کا لشکر اور 20،000 گھڑ سوار تھے۔ ایک بار جب یہ تصدیق ہو گئی کہ مکہ کا سفر جاری نہیں رہے گا ،تو شہزادی مایوسی کا شکار ہوگئی۔ اسے مایوسی کی حالت میں دیکھ کر ، علماء اور قاضی صاحبان نے جو اس کے ساتھ تھے اسے مشورہ دیا کہ وہ   نیک کام پر کچھ دولت خرچ کرے۔ ان کے مشورے کے مطابق شہزادی نے اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا۔ مسجد کی تعمیر مکمل ہونے میں تقریبا چار سال لگے۔ مسجد کامل خان نامی ایک مجسمہ ساز نے بنائی تھی۔  اس تعمیر پر شہزادی کو تقریبا پندرہ لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔ اس مسجد کی تعمیر ۱۵۵۹ء میں شروع ہوئی اور ۱۵۶۳ء میں یہ مکمل ہوئی۔

 ایک اور عوامی داستان کہتی ہے، جو کہ درست معلوم نہیں ہوتی  کہ ایک دفعہ ایک فقیر جو کہ ایک مرغی کا مالک تھا ، تو اس کی مرغی نے ہزاروں انڈے دیئے۔ اس فقیر نے پھران تمام انڈوں سے نکلنے والی مرغیاں بیچ کراس رقم سے مسجد بنائی۔ اس لیے اس مسجد کو ’’ انڈا مسجد ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

کوکن میں یہ مسجد قدیم اسلامی آثار میں  واحد یادگار ہے، جو مرور زمانے  کے تھپیڑوں کی مار ابھی تہ سہہ رہی ہے، دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں بہت شاندار مسلم عظمت کی نشانی رہی ہوگی، لیکن اس کی  موجودہ حالت زار کو دیکھتے ہوئے خوف سا لگتا ہے کہ کب یہ  زمین بوس ہوجائے؟، مسجد کے صحن میں ایک حوض  بناہے، کبھی اس میں تازہ اور شفاف پانی رہا ہوگا، اور قدرتی جھرنوں سے نکلنے والے پانی کا فوار ہ دلکش منظر پیش کرتا ہوگا۔ یہ مسجد حکومت ہند کے آثار قدیمہ کے ماتحت ہے، سنا ہے کہ اس  کے لئے  ایک موذن بھی مقرر ہے، لیکن اطلاع کے مطابق یہاں پر بھی  ہندوستان کی بہت سی قدیم مساجد کی طرح صرف نماز عیدین ادا کی جاتی ہے، مسجد کھلی ہوئی ہے، وضو کا انتظام بھی ہے، ہمیں مسجد میں  چند پرانی  دریاں اور چٹائیاں نظر آئیں،لیکن ہم نے پتھر کی سلیپ پر تحیۃ المسجد ادا کی۔

مسجد سے کچھ دوری پر  بومنے محلہ واقع ہے، جس میں مسلم آبادی  پائی جاتی ہے،  محلہ میں رہنےو الے بومنے کہلاتے ہیں،لقب کی  نسبت کی تفصیل معلوم کرنے پر محسوس  ہوا کہ یہ لوگ صرف اتنا جانتے ہیں کہ یہ بومنے کہلاتے ہیں،یہ محلہ ہمارے بھٹکل وغیرہ کے قدیم نوائط محلوں جیسا ہی ہمیں لگا، آمنے سامنے دوریہ ، ایک دوسری مابین دیواروں  سے جڑے ہوئےمکانات ،  ہمارے خیال میں بومنے لفظ بہمنی کی تحریف شدہ شکل ہے، نوائط اور کوکنی زبانوں میں اضافت کے لئے  حرف (ے)  لگانے کا  استعمال رائج ہے، اوربہمنی کو بہمنے ، مرہٹی کو مرہٹے، کوکنی کو کوکنے، نائطی کو نائطے کہنا یہاں  عام سی بات ہے، لیکن دابھول کے بومنے اپنے ماضی سے ایسے کٹ چکے ہیں، کہ انہیں اپنی اصل کا بھی انہیں پتہ نہیں، لفظ بہمنی ان کے لئے ایک نامعلوم  نسبت ہے۔

جامع مسجد دہلی سے سوسال پرانی اس تاریخی شاہی مسجد کی حالت دیکھ کر آنکھیں بھر آتی ہیں، یہاں پر مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی یاد دلانے کو صرف یہی ایک نشانی باقی رہ گئی ہے، اور اس کی حفاظت سے بے اعتنائی کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ باد وباراں اور موسم کی تبدیلیوں کا بوجھ یہ مسجد  زیادہ عرصہ برداشت نہیں کرسکے گی۔ بہمنی اور عادل شاہی سلطنتیں جنوب کی عظیم سلطنتیں تھیں، یہ مغلوں کے دور سے بھی زیادہ قدیم  تھیں، اب بھی ان سلطنتوں کے نشان کرناٹک اور مہاراشٹر میں جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں، لیکن مسلم تہذیب کی عظمت کی یہ نشانیاں خود اسلام کے نام لیواؤں کی بے اعتنائی کا شکار ہیں، شام آٹھ بجے مستی گنڈا ٹرین پر چپلون سے واپسی ہورہی تھی ، تو دماغ یہی سوچ رہا تھا کہ مسلمانوں کو اپنے شاندار ماضی سے کاٹنے کی سازشیں اور کوششیں زوروں پر ہیں، اب یہ اغیار کا ایجنڈا ہو تو کوئی تعجب کی بات نہیں، لیکن جب محسوس ہو کہ عملی طور پر تماشائی بن کر ہم خاموش مدد کررہے ہیں، تو ایک ہوک سی اٹھتی ہے، اور سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے، کیا مسلمانوں کو اپنے شاندار ماضی سے جوڑنے کی ذمہ داری  ہماری آپ کی نہیں ہے؟ آپ بھی سوچئے اور مجھے اجازت دیجئے۔

2021-09-06

M: +919900198268

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*