بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / محسن کتابیں۔۔۔ ۱۴۔۔۔ تحریر: مولانا عبد العزیز میمن

محسن کتابیں۔۔۔ ۱۴۔۔۔ تحریر: مولانا عبد العزیز میمن

Print Friendly, PDF & Email

مولانا عبدالعزیز میمن

ولادت:راجکوٹ(کاٹھیاواڑ، گجرات) ۱۳ /صفرالمظفر۱۳۰۶؁ھ، مطابق ۲۳/اکتوبر۱۸۸۸؁ء

راجکوٹ کی میمن برادری سے آپ کا تعلق تھا۔ لکھنو، دہلی اور رامپور کے اساتذہ سے علم حاصل کیا، ان کے اساتذہ میں شیخ محمدطیب مکی، ڈپٹی نذیر احمد اور مولانا محمد بشیر سہسوانی وغیرہ ہیں۔ سند حدیث شیخ حسین بن محسن انصاری یمانی سے حاصل کی۔ ذاتی محنت اور مسلسل جانفشانی سے عربی زبان و ادب میں وہ کمال پیدا کیا کے ادبائے عرب نے ان کا لوہا مان لیا، حتیٰ کہ ان کو المجمع العلمی العربی کا ۱۹۲۸ء میں رکن بنایا گیا، جو ایک بہت بڑا علمی اعزاز تھا، اور اس وقت پورے برصغیر میں حاذق الملک حکیم اجمل خاں اور انہی کوئی یہ شرف حاصل تھا۔۱۳۵۶ھ میں بلادعربیہ اور ترکی کا سفر کیا، اور بہت سے قیمتی مخطوطات کے بارے میں معلومات بہم پہنچائیں۔ نادر مخطوطات کی اطلاع کے سلسلے میں بھی علامہ میمن اپنے عہد میں بہت ممتاز تھے۔ فضلائے عرب نے قدر افزائی کے ساتھ ان سے معلومات حاصل کیں۔ ان کو تقریبا ایک لاکھ عربی اشعار یاد تھے۔ مشن کالج پشاور اور پھر اورینٹل کالج لاہور میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد۱۹۲۹ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ آئے،اور ۱۹۵۰تک وہاں عربی زبان و ادب کے استاد رہے۔کئی سال صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی، ۱۹۵۴ء میں پاکستان ہجرت کی،اور کراچی میں مقیم ہوئے۔ وہاں کراچی یونیورسٹی میں عربی ادب کے استاد اور پھر تھوڑے عرصے کے بعد پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ عربی کے صدر بنائے گئے۔ نیز ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔مشہور کتابوں میں ابوالعلاء وماالیہ، سمط اللآلی وغیرہ ہیں، ان کے علاوہ دسیوں کتابوں اور دواوین شعرکی تحقیق کی ہے۔ وفات:کراچی،۲۶/ ذیقعدہ۱۳۹۸؁ھ، مطابق، ۲۷/اکتوبر ۱۹۷۸؁ء  مدفن: قبرستان سوسائٹی، کراچی
مولانا عبدالعزیز میمن کے اس مضمون کا مولانا محمد عزیز شمس نے عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ ترجمہ انہوں نے مجلہ المجمع العلمی

الہندی کے’’ مولانا عبدالعزیز میمن نمبر‘‘ کے لیے کیا تھا۔ بحوث وتحقیقات جلد اول میں بھی یہ ترجمہ شامل ہے۔فیصل

پہلے پہل جب میں کاٹھیاواڑ سے دہلی آیا،تو چونکہ اردو اور فارسی دونوں سے نابلد تھا، اس لیے تین سال صرف اور نحو کی ابتدائی تعلیم میں ضائع ہوئے، اور شرح جامی تک پہنچا۔ اس کے بعد یکایک توفیق الہی نے رہنمائی کی، اور معلوم ہوا کہ میں غلط راستے پر جارہا ہوں، چنانچہ یہ سب میں نے چھوڑ دیا،اساتذہ کو بہت کم تکلیف دی، اور زیادہ تر اپنی کاوش پر اعتماد کیا، اور حسب ذیل کتابوں کو مع شروح کے بہت غائر نظر سے مطالعہ کیا: صرف میں شروح شافیہ،نحو میں شروح الفیہ اور مفصل، الاشباہ والنظائر اور بعض قلمی متون، اسفرانئی کا لب الالباب اور تسھیل الفوائد وغیرہ، الغرض فقہاء اور منطقیین کی نحو سے نجات ملی۔ کافیہ کے بعض غلط سلط مسائل نے ہم کو نحو سے بیزار کیا،مثلاً ’’لایضاف موصوف الی صفتہ ولاصفۃ الی موصوفھا،وجامع الغربی ونحوہ شاذ‘‘ حالانکہ پوری عربی زبان ان اضافتوں سے لبریز ہے۔نیز بعض اس قسم کی چیزیں،جن میں تاویلات کا دروازہ کھولا گیا ہے، اور ناحق ایک متعلم نحو کو فضول کی کنج کاوی اور مدافعت یا حملے کی مصیبت میں پھنسایا گیا ہے،ان کتابوں سے بدظن کر دیا کہ طالبعلم کا مقصد اپنی عربیت کی اصلاح ہے، نہ کسی شخص کی جنبہ داری۔ پھر مفصل اور کتاب سیبویہ کے مطالعے نے ادب کی طرف متوجہ کیا۔ شواہد نحویہ کی تلاش نے ان دیوانوں اور ان کی شروح کی طرف پہنچایا۔ ادب کے سلسلے میں معلوم ہوا کہ ہم غلط راستے کی طرف جا رہے ہیں، ہم کو مفردات یاد کرنے چاہئیں، اور مفردات سے بھی پہلے ضرورت ہے کے ثلاثی مجرد کے ابواب یاد کیے جائیں۔ یہ سب سے مشکل کام ہے، اس لیے کہ اس میں قیاس کوئی مدد نہیں کرتا۔ اس کے بعد پھر مفردات لغویہ کو یاد کرنے کے لئے ان کتابوں پر نظر رہیں اور یاد کیں: کفایۃ المتحفظ، فقہ اللغۃ،(ثعالبی)،الفاظ الکتابیہ(ہمدانی)، نظام الغریب وغیرہ، اور اس سے آگے بڑھ کر اصلاح المنطق اور تہذیب الالفاظ وغیرہ وغیرہ۔ کسی زمانے میں معلقات عشر اورپانچ،سات اور قصیدے، جن کو عربی میں بہترین کہا جاتا ہے، اور معلقات کے درجے کے سمجھے جاتے ہیں، ان کو یاد کیا۔علاوہ بریں مجامیع ادبیہ اور دواوین ِشعریہ جن کا بیشتر حصہ یاد کیا، وہ حسب ذیل ہیں:دیوان ِمتنبی اور حماسہ (تقریبا مکمل حفظ) جمہرۃ اشعار العرب،مفضلیات،نوادر ابی زید ،کامل مبرد، کتاب البیان والتبیین، ادب الکاتب مع اقتضاب۔

میں نے حماسہ، متنبی، مقامات اور سقط الزند، ڈپٹی نذیر احمد صاحب مرحوم سے پڑھی۔ ڈپٹی صاحب کی ایک خاص خوبی یہ تھی کہ وہ ترجمہ اس قدر خوبصورت کرتے تھے کہ تعریف نہیں ہو سکتی۔ ان کو عربی نظم کا بہت عمدہ مذاق اور اس پر زبردست قدرت تھی، مگر ان کی ادبی قابلیت،کچھ خداداد تھی، کتابوں کی رہین منت نہیں معلوم ہوتی تھی، وہ میرے ساتھ بڑے تواضع سے پیش آتے۔ افسوس ہے کہ سقط الزند کے ایک شعر پر میری ان کی مفارقت ہو گئی، سقط الزند میں تین شعرہیں۔ وعلی من دماء الشھیدین علیّ ونجلہ شاھدان فھما فی اواخر اللیل فجرا ن وفی اولیاتہ شفقان ثبتاً فی قمیصہ لیجیء الحش و مستعدیاً الی الرحمٰن ثبتا (تثنیہ مذکر غائب)کو ڈپٹی صاحب نے ثبتاً (مصدر) پڑھا۔میں نے کہا کہ یہ شعر نثر ہوگیا،پھر میں نے تقطیع کرکے بتایا،ڈپٹی صاحب نے فرمایا: شعر می گویم بہ از آب حیات من ندانم فاعلاتن فاعلات میں نے کہا کہ” لیکن من می دانم فاعلاتن فاعلات چہ کنم”۔یہ۱۹۰۶ء۔۱۹۰۷ کی بات ہے، پھر میں نے ڈپٹی صاحب کو تکلیف نہیں دی، اگرچہ ان کی تواضع سے مجھے امید تھی کی وہ مجھے استفادے کا موقع دیں گے۔

ڈپٹی صاحب مرحوم کو عربی نظم پر جو قدرت تھی،اس کا اندازہ اس واقعہ سے کیا جاسکتا ہے، کہ ایک مرتبہ سینٹ اسٹیفنس کالج دہلی میں امیر حبیب اللہ خان تشریف لانے والے تھے،ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کے ایک عزیز صاحبزادے ایف۔اے میں پڑھتے تھے۔ اس وقت منتخب دیوان ابی العتاھیہ نصاب میں داخل تھا،جس میں سے وہ قصیدہ امیر صاحب کے سامنے پڑھنے کے لئے انتخاب کیا گیا، جس کا مطلع ہے: لایذھبن بک الامل حتی تقصر فی الاجل ،طالب علم نے کہا کہ میں  یہ ابیات تین منٹ میں ختم کر لوں گا،آپ کچھ اشعار کا اضافہ فرما دیجئے، ڈپٹی صاحب نے یہ گرہ لگائی، اور حق یہ ہے کہ خوب لگائی:

اللہ قدر فی الأزل+ ألا نجاۃ بلا عمل

النصح لیس بنافع+ والسیف قد سبق العذل

والمرء لیس بخالد+ والعیش أمر محتمل

کن حیث شئت من السھو ل+ وفی البروج وفی القلل

یدرکک موت فی الزما ن+ ولایزیدک فی الأجل

لذات دنیا کلھا+ سمّ مشوب بالعسل

العمر فان فالنجا +والموت آت فالعجل

حتی متی تقلید الھویٰ +والیٰ متی تجدید الحیل

المبتلیٰ بعلائق +الد نیا حمار فی الوحل

ڈپٹی صاحب کی حاضر دماغی اورادبیت کا اندازہ اس لطیفے سے ہوسکتا ہے کہ وہ امیر حبیب اللہ خان سے ملے،اتفاق سے عید کا دن تھا،ڈپٹی صاحب نے متنبی کا عید اور وجہ حبیب والا شعر پڑھا۔ عید کا دن اور امیرصاحب کے نام کی مناسبت نے اس شعر میں خاص نکتہ پیدا کردیا،اور امیرصاحب بہت محظوظ ہوئے۔

اب میں بعض مشہور ادبی کتابوں کے متعلق اپنے تاثرات قلم بند کرتا ہوں: میرے نزدیک الغریب المصنف (ابن سلام) اور اصلاح المنطق وہ کتابیں ہیں،جن کا یاد ہونا ایک ادیب کے لئے نہایت ضروری ہے۔ ہمارے ہاتھ میں اس وقت کوئی اتنی جامع کتاب نہیں ہے جس کے مصنف کو اتنے اعلی مآخذ ملے ہوں، اور اس نے ہر نحوی مسئلے کے متعلق، جس کا تعلق کسی بیت سے ہو، نیز شعر و شاعری کے متعلق قدیم ترین مآخذوں سے انتہائی محنت کے ساتھ اتنا ضروری مواد فراہم کر دیا ہو، جتنا کے خزانۃ الادب میں ہے۔ مصنف کو اولین و آخرین نحویین کے کلام پر اتنا عبور حاصل ہے، اور اس کے پاس اتنا ذخیرہ موجود ہے، جس کی مثال ہم کو نہیں ملتی، گویا ہنوز اس کے پیدا ہونے کا زمانہ نہیں آیا، اس کو اکیسویں صدی میں پیدا ہونا چاہیے تھا۔ حماسات میں انتخاب ابو تمام کا سب سے بہتر ہے،لیکن ترتیب اور تدوین اور گندگی سے پاک ہونے کے اعتبار سے بحتری کے حماسہ کو فوقیت حاصل ہے، نوادر کے اعتبار سے خود ابو تمام کا’’ وحشیات‘‘ جوالحماسۃ الصغریٰ کے نام سے مشہور ہے، ممتاز ہے، اور شعر و شاعری کی تنقید میں حماسۃ الخالدیین سے بہتر کوئی کتاب نہیں، حماسہ بصریہ اور حماسہ مغربیہ بہت معمولی چیزیں ہیں، اول الذکر قسطنطنیہ کے کتب خانے میں ہے اور آخر الذکر حیدرآباد میں، اور میرے پاس بھی اس کے دو نسخے ہیں۔ نقد الشعر کے موضوع پر قراضۃ الذھب ابن رشیق اور رسالۃ الابتکار لابن شرف، حماسۃ الخالدیین، شرح المختار من اشعار بشار، ہر مضمون کے متعدد شعروں کا مقابلہ کر نے کے لئے بہترین کتابیں ہیں، اور بعض حیثیتیں جو نقد الشعر کی ہیں، ان کے لئے ابن رشیق کی کتاب العمدۃ بہترین کتاب ہے، الموشح فی مآخذ العلماء علی الشعراء للمرزبانی بھی اچھی کتاب ہے، فہم شعر کے لئے لآلی بہترین کتاب ہے۔ ابن خلدون نے جن کتابوں کو اصول فن ادب قرار دیا ہے ان کے متعلق میری یہ رائے ہے کہ کامل للمبرد مبتدی کے لئے زیادہ مفید ہے، ادب الکاتب کو اقتضاب کے ساتھ پڑھا جائے، تو انسان کو ایک محقق لغوی بنا سکتی ہے، کتاب البیان والتبیین میں فصیح نظم و نثر کے نمونے ان چاروں سے زیادہ ہیں، نوادر لغت و شعر ’’امالی لابی علی القالی ‘‘میں سب سے زیادہ ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*