بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / چھت سے گر کر ہلاک ہونے والے بچے کے علاج میں ڈاکٹر پر لاپرواہی  کا الزام؛ بھٹکل سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر کا گھیراؤ

چھت سے گر کر ہلاک ہونے والے بچے کے علاج میں ڈاکٹر پر لاپرواہی  کا الزام؛ بھٹکل سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر کا گھیراؤ

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل:  19 اکتوبر، 18 (بھٹکلیس نیوز بیورو)  بدھ کے روز چھت سے گر کر ہلاک ہونے والے  14/سالہ بچے ے اہل خانہ نے بھٹکل سرکاری اسپتال پہنچ کر ڈیوٹی داکٹر پر لاپرواہی اور غفلت کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج درج کیا۔

اطلاع کے مطابق چندر کانت نامی لڑکا منگل کے روز چھت سے گیند نکالتے وقت زمین پر گر گیا تھا اور اس کے سر پر چوٹ آئی تھی جس کے بعد گھر والوں نے اسے سرکاری اسپتال میں بھرتی کردیا ۔

گھر والوں کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی ڈاکٹر نے انہیں کسی بھی خطرے سے آگاہ نہیں کیا   اور نہ ہی کسی دوسرے اسپتال میں منتقل کرنے کی بات کی تھی بلکہ سب کچھ نارمل ہونے کی بات کہی ، جس کی وجہ سے گھر والے مطمئن ہوگئے  اور  بچے کو گھر لے گئےتاہم دوسری صبح   گھر میں بچے نے قئی کی اور اپنی آخری سانس لے کر  ہمیشہ کے لیے چل بسا۔

گھر والوں  کا کہنا تھا کہ اگرڈاکٹر نے انہیں فوری طور پر مزید علاج کے لئے شہر سے باہر لے جانے کے لئے کہا ہوتا  تو وہ اسے کنداپور، منی پال وغیرہ لے جاتے۔لیکن ڈاکٹر نے غفلت دکھائی اور ہماری صحیح رہنمائی نہیں کی انہوں  نے ڈیوٹی ڈاکٹر پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں فوری حاضر کرنے کی مانگ کی۔اس موقع پر حالات کو کشیدہ ہوتے دیکھ کر پولیس نے اسپتال کے اندر حفاظتی بندوبست کردیا تھا۔

جب دوپہر 2بجے کے قریب ڈاکٹر  ڈیوٹی پر آئے تو بچے کے رشتے داروں نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا۔اس کے جواب میں ڈاکٹر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا  کہ میں نے جان بوجھ کر ایسی غفلت نہیں کی تھی۔گزشتہ 35سال کی میری پیشہ ورانہ زندگی میں پہلی بار مجھ پر ایسا الزام لگایا جارہا ہے۔ انہوں نے  بچے کی موت کو  غیر متوقع قرار دیا اور گھر والوں سے معذرت چاہی۔

احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں میں دلت تنظیم کے ذمہ داران کرن شیرور، ماروتی پاوسکر، موہن شیرالیکر، گھنشیام ہوناور کر، مہیش پالیکر، بھاسکر چنداورکر اور دیگر افراد شامل تھے۔

x

Check Also

فن خطاطی میں اپنی پہچان بنانے والے بھٹکلی نوجوان سے بھٹکلیس کی خصوصی ملاقات