بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / دہلی میں مسلم خاتون رضاکار کی عصمت دری اور بہیمانہ قتل کے خلاف بھٹکل میں ایس ڈی پی آئی نے کیا کینڈل مارچ اور احتجاج

دہلی میں مسلم خاتون رضاکار کی عصمت دری اور بہیمانہ قتل کے خلاف بھٹکل میں ایس ڈی پی آئی نے کیا کینڈل مارچ اور احتجاج

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل : 7 ستمبر،2021 (بھٹکلیس نیوز بیورو) قومی دارالحکومت دہلی کے سول ڈیفنس کی ملازمہ مسلم خاتون کی عصمت دری کے بعد بہیمانہ قتل کا معاملہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے ملزمان کی بروقت گرفتاری نہ ہونے اور پولیس کی تساہلی کے خلاف عوامی سطح پر شدید ناراضگی دیکھی جارہی ہے۔

اسی سلسلے میں آج بھٹکل میں سوشیل ڈیمو کریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے کارکنان نے احتجاج درج کرتے ہوئے شہر کی اہم سڑکوں پر کینڈل مارچ کا اہتمام کیا اور مجرموں کو بر سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔

اس  مارچ کا آغاز بعد نماز مغرب سلطان مسجد سے ہوا جس کے بعد احتجاجی ہاتھوں میں موم بتیاں لیے  مین روڈ سے ہوتے ہوئے شمس الدین سرکل تک پہنچے جہاں ایس ڈی پی آئی کے لیڈران نے اس  معاملے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے   حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ جلد سے جلد خاتون کے قاتلوں کو پھانسی کی سزا دی جائے تاکہ دوسروں کے لئے عبرت ہو۔  نیز اس موقع پر دہلی پولس کے کردار پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے  مطالبہ کیا گیا کہ اس کیس کی اعلی سطحی تحقیقات ہوں اور مجرمین کو فی الفور کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور مظلومین کو انصاف دلایا جائے۔

واضح رہے کہ دہلی کے سیول ڈیفنس میں انسپکٹر کے عہدہ پر مامور اس مسلم خاتون کا 27 اگست کو اجتماعی عصمت دری کے بعد انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کردیا گیا تھا۔

 

کون تھیں یہ خاتون اور ان کے ساتھ کیا ہوا؟

بہار کی ساکن دہلی کے سنگم وہار کی رہائشی 21سالہ یہ خاتون دہلی پولس میں چار ماہ قبل ہی پولیس کانسٹبل کے عہدہ پر جوائن ہوئی تھیں۔

27 اگست کو جب یہ ڈیوٹی کے بعد گھر نہیں لوٹیں تو ان کے افراد خاندان نے پولس اسٹیشن کوفون کیا وہاں پہلے فون ریسیو نہیں کیا گیا بعد میں بار بار فون لگانے کے بعد جواب یہ ملا کہ وہ یہاں سے جاچکی ہیں۔

جس کے بعد ان کے افراد خاندان نے انہیں تلاش کیا لیکن کوئی سراغ نہیں ملا بعدازاں ان کی نعش دستیاب ہوئی جنہیں انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔

جن کی پہلے متعدد مرتبہ اجتماعی عصمت ریزی کی گئی پھر ان کو بے رحمانہ طریقہ سے قتل کیاگیا۔رابعہ سیفی کی نعش پر 50سے زائد چاقو کے ضربات پائے گئے تھے۔ان کی گردن کاٹ دی گئی تھی،دونوں پستان کاٹ دیے گئے، شرم گاہ میں متعدد مرتبہ چاقووں سے وار کئے گئے تھے۔ان کے پیر اور ہاتھ کی نسیں کاٹ دی گئی تھیں اور کمر کے حصے میں چاقو سے متعدد ضربات پہنچائے گئےتھے۔

اس کے والدین نے فوری اس سلسلہ میں ایک شکایت درج کروائی لیکن پولیس پر الزام ہے کہ وہ اتنے سنگین اور درندگی سے بھرپور واقعہ میں تساہلی سے کام لیتے ہوئے اسے نظر انداز کررہی ہے!!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*