بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / ٹاؤن میونسپال عمارت پر لگے اردو نام کا تنازعہ : جمعرات کو ڈپٹی کمشنر کر سکتے ہیں بھٹکل کا دورہ۔ رکن اسمبلی  نے بھی کی مداخلت

ٹاؤن میونسپال عمارت پر لگے اردو نام کا تنازعہ : جمعرات کو ڈپٹی کمشنر کر سکتے ہیں بھٹکل کا دورہ۔ رکن اسمبلی  نے بھی کی مداخلت

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل: 29 جون،2022 (بھٹکلیس نیوز بیورو) بھٹکل میں پیر کے روز ٹاؤن میونسپال کونسل کی عمارت پر انگریزی اور کنڑا کے ساتھ اردو میں ٹاؤن میونسپال کونسل کا نام آویزاں کیے جانے کے بعد کھڑا ہونے والا ہنگا مہ  لمبا ہوتا نظر آرہا ہے ۔

ادھر کنڑا نواز تنظیموں کے اعتراض اور اس پر اردو کی حمایت میں کیے گئے احتجاج کے بعد اب رکن اسمبلی سنیل نائک بھی میدان میں اتر گئے ہیں اور موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا الو سیدھا کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ ایک کنڑا اخبار سے بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی سنیل نائک نے کہا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ سے بات کی ہے اور نام ہٹانے کی اپیل کی ہے ۔  انہوں نے کہا ہے کہ اگر دو دنوں میں اردو  نام ہٹایا نہیں جاتا ہے تو وہ خود اپنے کارکنان کے ساتھ جاکر نام اتا ر دیں گے۔

دریں اثناء  اطلاعات مل رہی ہیں کہ کل اتر کینرا ضلع کے ڈپٹی کمشنر مسٹر ملئی مہیلن بھٹکل کا دورہ کرنے والے ہیں اور دونوں طرف کے نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے اگلا فیصلہ لینے والے ہیں، توقع ہے کہ اس میٹنگ میں رکن اسمبلی سنیل نائک بھی شریک رہیں گے۔

تاہم اس دوران مجلس اصلاح و تنظیم   اور دیگر اردو نواز تنظیموں کی طرف سے بھی یہ بات سننے میں آرہی ہے کہ وہ کسی تنظیم کے دباؤ میں آنے والے نہیں ہیں البتہ  ڈپٹی کمشنر اور ضلع انتظامیہ کی طرف سے جو فیصلہ آتا ہے وہ اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

 

اس دوران مقامی لوگوں نے نام ہٹائے جانے کو لے کر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پرانی عمارت پر اردو نام لکھا موجود تھا تو پھر اس عمارت میں نام لکھے جانے پر اعتراض کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔عوام کا یہ بھی کہنا ہےکہ بھٹکل ٹی ایم سی حدود  میں زیادہ تر ٹیکس ادا کرنے والے  لوگ اردوجاننے اور سمجھنے والے ہیں لہٰذا  اگر ان کا خیال رکھتے ہوئے عمارت پر اردو میں  نام لکھا جاتا ہے تو پھر اس سے کسی کو کیوں تکلیف ہورہی ہے؟۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کل ڈپٹی کمشنر کی آمد کے بعد یہ معاملہ کیا رخ اختیار کرتا ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*