بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن نے والدین سے کی اپنے بچوں کو ’پب جی‘ گیم سے دور رکھنے کی گزارش: آخر کیو ں کی جارہی ہے گزارش؟؟؟
[adrotate banner="161"]

بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن نے والدین سے کی اپنے بچوں کو ’پب جی‘ گیم سے دور رکھنے کی گزارش: آخر کیو ں کی جارہی ہے گزارش؟؟؟

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل: 6 جون،2019 (بھٹکلیس نیوز بیورو) بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن نے آن لائن گیم پب جی کے مضر اثرات کو دیکھتے ہوئے عید کی نماز کے بعد بھٹکل عیدگاہ میں اس سے بچوں کو دور رکھنے کے لیے پمفلٹ تقسیم کیے ہیں۔

بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کی طرف سے تقسیم کیے گئے اس پمفلٹ میں پلیئر ان نون بیٹل گراؤنڈ یعنی پب جی گیم کا دوسرا نام موت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ گیم بچوں کی نفسیات پر بہت ہی برا اثر چھوڑ رہا ہے، اس کی وجہ سے  بچے نہ صرف پڑھائی سے دور ہوتے جارہے ہیں بلکہ ان کے اندر چڑ چڑا پن اور لڑائی جھگڑے کی عادت پیدا ہوگئی ہے علاوہ ازیں اس کا سب سے برا اثر یہ پڑ رہا ہے کہ بچوں کو اس کی لت لگنے کی وجہ سے کئی نوجوان اور بچے موت کے منہ میں چلے جارہے ہیں۔

پمفلٹ کی آخر میں کہا گیا ہے کہ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نگاہ رکھیں اور یہ اور اس طرح کے کوئی گیم انہیں کھیلنے نہ دیں۔

آخر کیا بلا ہے پب جی : پب جی گیم میں ایساہے جس میں گروپ کی شکل میں دوسروں کو قتل کر کے انکی املاک تباہ کر کے ناحق انہیں زدوکوب کر کے لطف اٹھایا جاتا ہے۔مکمل گیم اختتام تک کھیلنے والوں کو ایک فرضی چِکن ڈِنر انعام ملتا ہے۔ بچے اور خاص طور پرنوجوان نسل اس قسم کے ویڈیو گیمزکثرت سے کھیل کر جرائم کے نت نئے طریقے اور ترکیبیں سیکھ لیتے ہیں۔یہ گیمزانکے ذہنوں میں تشدد، مار دھاڑ اور لڑنے جھگڑنے کے ایسے ہنر پیدا کر دیتے ہیں جن سے وہ ویڈیو گیمز کے کھیلنے سے پہلے خالی الذہن ہوتے ہیں۔

اس گیم کو بنانے والی کمپنی کی وضاحت: گیم بنانے والے کمپنی فن لینڈکی فرم سُپر سیل اور ساوتھ کوریا کی جانب سے بتایا گیا ہےکہ اِس پب جی ویڈیو گیم میں موجود اینی میشن کی روشنی سے نکلنے والی شعاعیں کثرت سے گیم کھیلنے والوں میں مرگی کا عارضہ پیدا کر دیتی ہیں ۔اور یہ بھی خبر دار کیا ہے کہ یہ اور اِس جیسے ویڈیو گیم بہت زیادہ کھیلنے سے ہاتھوں میں رعشہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ گیمز میں برق رفتاری کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے ہڈیوں اور عضلات کی تکلیف لاحق ہو جاتی ہیں۔

علاوہ ازیں موبائیل پرانگلیوں کی مسلسل حرکت کی وجہ سے ابہام والی انگلی کو بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے ویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے آنکھوں کی حرکت تیز ہو جانے کی وجہ سے آنکھوں پربھی برا اثر پڑتا ہے۔ مقناطیسی لہریں موبائیل اسکرین سے نکلتی رہتی ہیں جسکی وجہ سے آنکھ سرخ اور خشک ہو جاتی ہیں۔حتی کہ یہ گیم کھیلنے والوں میں خود اعتمادی کی کمی کے ساتھ نفسیاتی مریض بن کر رہ جاتے ہیں ۔

گیم کے باعث  لغویات کا طوفان: عام فرد کے لیے وہ تصورات اور الفاظ جن کو پہلے کبھی سوچنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اب وہ ان گیمز کے ذریعے زندگی میں رچتے بستے جا رہے ہیں۔ اور معاشرہ ان کے کثیر استعمال کے باعث انہیں قبول کر کے اپنے اندر ضم بھی کر رہاہے۔ تشدد،ماردھاڑ اور جنگ کے مناظر عام افراد خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر کیا اثرات مرتب کریں گے۔ اس سے موبائیل اور گیم کمپنیوں کو کوئی سرو کار نہیں۔ یقیناًیہ ایسا گیم ہے جِس سے خونریزی اور جرائم کو بڑھاوادیا جا رہا ہے۔گیم کھیلنے والوں کو ایک ایک ہتھیار ،بندوق ،گن کا نام ازبر ہوجاتا ہے ۔ساتھ ساتھ اِس گیم میں منشیات کا استعمال، تشدد،ماردھاڑ، چھُپ چھپا کر قتل کرنا، گروہوں کے درمیان لڑائی، نا زیبا اور عامیانہ الفاظ کا استعمال عام بات ہے ۔

نئی نسل کو اس کے اثرات سے بچانے کی ضرورت:لیکن یہ سوال معاشرے کے لیے بے حد اہم ہے کہ پُرتشدد اور اخلاق باختہ ویڈیو گیمز کے پھیلاؤ کے بعد اس قوم کا اخلاقی مستقبل کیا ہو گا؟ آکر کس طرح ہماری آنے والی نسل کو سنجیدہ مسائل کو سوچنے اور اس پر غور فکر کے لیے تیار کیا جائے گا؟۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان چیلنجز اور مسائل کو نمٹنے کے لیے اور اپنے بچوں کو ان چیزوں کے معاشرتی منفی اثرات سے بچانے کے لیے۔ اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ تا کہ ہمارا یہ مستقبل محفوظ پروان چڑھ سکے،ورنہ ایسے موبائیل گیم اور انٹرنیٹ کے سائے میں پروان چڑھنے والی نسل کے لیے ادب، اخلاقیات، انکساری، تحمل،صبر، حیا اور دردمندی جیسے الفاظ عجوبہ بن جائیں گے۔ اور آنے والی نسلیں ان الفاظ کے استعمال پر حیرت سے منہ تکیں گی۔

 

[adrotate group="32"]
x

Check Also

بھٹکل لیبر محکمہ میں بدعنوانیوں کا الزام؛ ڈی سی کو پیش کی گئی یاد داشت

بھٹکل: 17 جون، 19 (بھٹکلیس نیوز بیورو) بھٹکل لیبر محکمہ میں مختلف ...