بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / بھارت بند کا بھٹکل میں نہیں دکھا اثر: کانگریس نے راستہ روک کر کیا احتجاج۔ دیگر پارٹیوں نے بھی دیا میمورنڈم

بھارت بند کا بھٹکل میں نہیں دکھا اثر: کانگریس نے راستہ روک کر کیا احتجاج۔ دیگر پارٹیوں نے بھی دیا میمورنڈم

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل: 27 ستمبر، 2021 (بھٹکلیس نیوز بیورو)  مرکزی حکومت کے تین زرعی قوانین کے خلاف دس مہینوں سے احتجاج پر بیٹھے متحدہ کسان مورچہ کی طرف سے آج اعلان کے مطابق بھارت بند منایا گیا، اس پر امن بند کو ویسے تو ملک کی بہت ساری ریاستوں میں زبردست حمایت حاصل ہوئی لیکن ریاست کرناٹک میں بند کا کچھ خاص اثر نہیں دکھا۔

بھٹکل میں بھی کرناٹک کے دیگر اضلاع کی طرح دکانیں اور کاروبار معمول کی طرح جاری رہے اور بسوں کی آمد و رفت میں بھی کوئی خلل واقع نہیں ہوا۔ البتہ یہاں کانگریس پارٹی،  ویلفیر پارٹی آف انڈیا اور سی آئی ٹی یو کے اراکین نے اس بند کی حمایت کرتے ہوئے راستہ روک کر احتجاج کیا اور اے سی کے توسط سے صدر ہند کو میمورنڈم پیش کیا۔

کانگریس نے احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے شمس الدین سرکل پر کچھ دیر کےلئے دھرنا دیااور  مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔  کانگریس پارٹی کے احتجاجیوں نے سرکل پر  ٹائر جلاتے ہوئے کچھ دیر کےلئے نیشنل ہائی وے کو بند کردیا۔ احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ  کسانوں کو راحت دینے کا جھوٹا وعدہ کرکے  بی جے پی اقتدار پر پہنچی تھی، مگر آج دس ماہ سے کسان اپنے مطالبات کو لے کر  ملک بھر میں احتجاج کررہے ہیں اور مرکزی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔

اس موقع پر دیگر پارٹیوں کی طرف سے  بھی مرکزی حکومت کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کی مانگ کی گئی۔

خیال رہے کہ کسانوں کی طرف سے منائے جارہے اس بند کو آج ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*