بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / اے پی سی آر کے زیر اہتمام بھٹکل میں عوامی اجلاس کا انعقاد؛ بی ٹی و ینکٹیش اور ولی رحمانی کی شرکت

اے پی سی آر کے زیر اہتمام بھٹکل میں عوامی اجلاس کا انعقاد؛ بی ٹی و ینکٹیش اور ولی رحمانی کی شرکت

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکلیس نیوز / 10 فروری، 18

بھٹکل / (رضوان گنگاولی) ایسوسی ایشن فار رپروتیکشن آف سول رائیٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے نوائط کالونی تنظیم میدان میں کل رات ہندوستانی جمہوری نظام کو درپش خطرات اور چیلنجز کے عنوان پر ایک عوامی اجلاس منعقد ہوا جس میں کرناٹکا ہائی کورٹ کے سابق پبلک پریسیکیوٹر مسٹر بی ٹی وینکٹیش اور سوشیل میڈیا پر مشہور و معروف نوجوان مقرر ولی رحمانی نے شرکت کی۔

اس موقع پر ولی رحمانی نے دلوں کو جنجھوڑ دینے والے اپنے بیان میں ہندوستان میں سیکولرزم اور جمہوریت کو لاحق خطرات سے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا دستور خطرے میں ہے انہوں نے آننت کمار ہیگڈے کی طرف سے دستور میں تبدیلی کی باتیں اور سپریم کورٹ کے چار ججس کا میڈیا کے سامنے آنے کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اب بھی ہم نہیں سمجھیں کہ ہمارا دستور خطرے میں ہے تو یہ بڑی بے وقفی ہوگی۔

انہوں نے مسلمانوں کو بیدار ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ دستور کے ابتدائیہ میں اس کو سمجھنے کے لئے پانچ الفاظ کا استعمال کیا گیا لیکن اب ان میں سے تین چیزیں خطرہ میں ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کو بچانے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کو اس ملک کے ذہین اور سیکولر لوگوں نے مل کر بنایا تھا تاکہ اس میں تمام مذہب اور ذات پات کے لوگوں کو ان کا صحیح حق حاصل ہو۔

انہوں نے اپنے ووٹ کا حق صحیح انسان کو دینے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ دیتے وقت کبھی یہ نہیں دیکھیں کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان ہے بلکہ ہم دیکھیں کہ وہ ترقی کرنے والا ہے یا نہیں ۔ ہمیں اسے ووٹ دینا چاہئے جو دیش کی ترقی کے لئے کام کرے۔

ولی رحمانی نے اس موقع پر تاریخ کے حوالہ سے بہت ساری باتیں کہیں جس میں ہندو اور مسلمانوں نے مل کر اس دیش کی ترقی کے لئے کام کیا تھا۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ملک میں پھیلی نفرت کی فضا کو صرف محبت سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنے اور اسے تھام کر چلنے کی بھی بات کہی۔

ایک اور مہمان خصوصی مسٹر بی ٹی وینکٹیش نے بھی اس موقع پر اپنے تجربات کی روشنی میں بہت ہی مفید باتیں بیان کیں اور کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے سوال پوچھنا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے سرکاری کارندوں اور پولس اہلکاروں کو سرکاری ملازم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان سے ڈرنے کے بجائے ان کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے اور دستور کو سمجھ کر اپنے حق کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت ہے۔

اجلاس کا آغاز حسن قاضیا کی تلاوت سے ہوا، جس کے بعد اے پی سی آر بھٹکل یونٹ کے صدر جناب مولانا سید محمد زبیر مارکیٹ نے استقبالیہ کلمات پیش کئے جبکہ جناب قمرالدین مشائخ نے اے پی سی آر کا تعارف کرتے ہوئے اجلاس کی غرض و غایت بیان کی۔

اس موقع پر مولانا شبیر گنگاولی نے اپنی قید و بند کی صعوبتوں کو سامعین کے گوش گزار کیا جبکہ ڈاکٹر حنیف شباب صاحب نے بھی موقع کی مناسبت سے مختصر خیالات ظاہر کئے۔ ناظم اجلاس اسماعیل ضوریز کے شکریہ کلمات پر اجلاس اختتام کو پہنچا۔

ڈائس پر مولانا محمد جعفر فقیہ ندوی صاحب، جناب مولانا عبدالعظیم قاضیا ندوی صاحب، جناب عبدالرحمٰن محتشم صاحب، جناب عنایت اللہ شابندری صاحب اور دیگر حضرات موجود تھے۔

x

Check Also

جی ٹی اینڈ ٹی سی میسورو سے انجمن کے طلبہ کو بھی ہوگا فائدہ

بھٹکل: 15 اکتوبر،18 (بھٹکلیس نیوز بیورو) انجمن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ ...