بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / جالی پٹن پنچایت کے بعد ہیبلے گرام پنچایت کے کونسلروں نے بھی کیا اپنے حلقوں کو ٹی ایم سی میں ضم کرنے کا مطالبہ

جالی پٹن پنچایت کے بعد ہیبلے گرام پنچایت کے کونسلروں نے بھی کیا اپنے حلقوں کو ٹی ایم سی میں ضم کرنے کا مطالبہ

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل: 5 دسمبر،2018 (بھٹکلیس نیوز بیورو) بھٹکل جالی پٹن پنچایت کے کونسلروں کی جانب سے ایڈوکیٹ عمران لنکا صاحب کی قیادت میں پنچایت کے وارڈس کو میونسپالٹی میں ضم کرنے کے مطالبے کے چند دنوں بعد ہی ہیبلے گرام پنچایت کے کونسلروں نے بھی اس طرح کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے قبل عمران لنکا نے جالی پٹن پنچایت صدر جناب آدم پنمبور کو ایک درخواست دی تھی جس میں انہوں نے اس مسئلہ پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد یہ درخواست پنچایت کی جنرل باڈی میٹنگ میں پیش بھی ہوئی لیکن کسی ایک رائے پر اتفاق نہ ہونے سے معاملہ ملتوی کیا گیا۔

عمران لنکا کی جانب سے دی گئی اس درخواست میں پنچایت علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے ان وارڈس کو میونسپالٹی کے ماتحت لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

تاہم اب ہیبلے گرام پنچایت کے کونسلروں نے بھی ترقیاتی کاموں کی کمی کی شکایت کرتے ہوئے اسی طرح کا مطالبہ کر ڈالا ہے۔

اس سلسلہ میں مقامی کونسلر جناب سید علی مالکی نے بھی مقامی تنظیموں کو خط لکھتے ہوئے ان سے حنیف آباد، رحمت آباد، فردوس نگر، طلحہ کالونی، ماسٹر کالونی اور جامعہ آباد کو ٹی ایم سی کے ماتحت لانے کے لیے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

اس معاملے میں جب میونسپال صدر سے جانکاری لی گئی تو انہوں نے کہا کہ اب تک ان کے پاس اس سلسلہ میں کوئی تحریر نہیں پہنچی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو پھر اس سلسلہ میں کارروائی کی جائے گی اور اس پر کام کیا جائے گا۔

لیکن اس تعلق سے سید علی مالکی اور عمران لنکا کے سامنے بڑا مسئلہ اس بات پر پنچایت کی جنرل باڈی میٹنگ میں کونسلروں کو متفق کرنا ہے۔ تاہم جناب سید علی صاحب کو اس سلسلہ میں پورا اعتماد ہے کہ ان کی پنچایت کے کونسلروں کی اکثریت اس سلسلہ میں ہامی بھرے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران لنکا صاحب کی درخواست پر کتنے کونسلر ان کا ساتھ دیتے ہیں۔

(رپورٹ: اسماعیل ضوریز)

 

x

Check Also

ویسٹرن رینج آئی جی پی کا بھٹکل کے تاریخی مقامات کا دورہ

بھٹکل: 15 دسمبر، 18 (بھٹکلیس نیوز بیورو) ویسٹر ن رینج کے آئی ...