بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف /  جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں فارغ  التحصیل طلبہ کے لیے سجائی گئی الوداعی محفل: 74 طلبہ  ہوئے درجہ عالمیت سے فارغ

 جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں فارغ  التحصیل طلبہ کے لیے سجائی گئی الوداعی محفل: 74 طلبہ  ہوئے درجہ عالمیت سے فارغ

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل : 20 جنوری،2022 (بھٹکلیس نیوز بیورو)  سابقہ سالوں کی طرح امسال کے طلبائے عالیہ ثالثہ نے بھی فارغین جامعہ کے اعزاز میں مؤرخہ 15/16 جمادی الاولیٰ 1443ھ مطابق 19/20 جنوری 2022ء بروز بدھ و جمعرات تین نشستوں پر مشتمل الوداعی تقریب کا انعقاد کیا۔

امسال کل 74 طلبہ جامعہ اسلامیہ کے درجہ عالمیت سے فارغ ہورہے ہیں، ہر طالب علم نے جامعہ اسلامیہ کی فضا میں گزارے ہوئے لمحات کو مختصر وقت میں بیان کیا، اور تمام طلبہ اپنے قلبی احساسات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے والدین کی فکروں، اساتذہ کی انتھک محنتوں، ذمہ داران جامعہ کی ناقابل فراموش خدمات اور ان ایام میں جو کچھ فیض حاصل ہوا ان کا تذکرہ کرکے اپنے محسنین کو دعاؤوں سے نواز رہے تھے، ساتھ ہی ساتھ اپنی کوتاہیوں پر نادم اور کامیابیوں پر شکر بجا لارہے تھے، اور آنے والے طلبہ کے لیے جامعہ سے حتی الامکان مستفید ہوکر روشن مستقبل بنانے کی ترغیب دے رہے تھے۔ اس طویل سفر میں کسی نہ کسی نے اپنے سرپرست، مشفق و محبوب شخصیت کو کھو دیا ہے ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کرتے رہے۔

اس موقع پر مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد کوبٹے ندوی نے ان علماء و حفاظ کو اس نعمت عظمیٰ کے حصول پر مبارکباد دی اور اساتذہ کی محنتوں کو سراہتے ہوئے خلوص سے کام کرنے کی دعا دی، اور طلباء سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ قرآنی تعلیمات کو زندگی میں لائیں، اپنے وعدوں کی لاج رکھیں، اور اعتماد صرف اللہ پر کریں، اسی میں دنیا و آخرت کی کامرانی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر مرحوم مولانا عبدالباری ندوی، مرحوم مولانا اقبال ملا ندوی ودیگر محسنین و مخلصین کے لیے دعائے مغفرت کی۔

صدر جامعہ مولانا عبدالعلیم صاحب قاسمی نے فارغ ہونے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ وصیت فرمائی کہ اب تک آپ نے صرف ورق گردانی کی ہے، اب آپ کو عملی میدان میں اتر کر سیکھنا ہے، سنبھلنا ہے اور ڈٹ کر رہنا ہے، نیز حالات کا جفاکشی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ دعائیہ کلمات کے ساتھ عوام الناس سے جامعہ کے لیے خصوصی دعاؤں کی درخواست کی۔

ناظم جامعہ مولانا محمد طلحہ رکن الدین ندوی نے اساتذہ جامعہ و خدام کی خدمات کو سراہتے ہوئے شکریہ کلمات ادا کیے اور حاضرین و سامعین سے یہ اپیل کی کہ جامعہ کی تعلیمی و تربیتی ترقی کے لیے دعا کریں اور مالی استحکام میں اپنا بھرپور تعاون کریں، نیز اپنی اولاد میں سے کسی ایک کو عالم یا حافظ ضرور بنائیں، اسی میں ہمارے دین کی بقا ہے۔

الوداعی تقریب میں امسال حافظ ہونے والے 32 طلبہ کا سابق صدر شعبہ حفظ حافظ کبیر الدین صاحب کے ذریعہ تکمیل حفظ قرآن بھی عمل میں آیا۔

ملحوظ رہے کہ مولانا سمعان خلیفہ ندوی کا نتیجہ فکر پیمان وفا عزیزی عبداللہ عتبان شریف نے اپنی خوش گلو آواز میں پڑھ کر سنایا اور مولوی سالک برماور ندوی کی تحریر کردہ الوداعی نظم عبداللہ رازی ابن مولانا عرفان ندوی نے اپنی مترنم آواز میں پڑھ کر سامعین کے دلوں کو موہ لیا۔ علاوہ ازیں امسال کے فارغ مولوی سالک قاسمجی نے بھی ناموں کی فہرست کے ساتھ الوداعیہ نظم لکھی تھی جسے عزیزم شعور عسکری نے اپنی مسحور کن آواز میں گنگنایا۔

واضح رہے کہ اس موقع پر دو طلبہ نے منظوم تاثرات پیش کیے، اور عزیزی ثمامہ صدیقی نے عالیہ ثالثہ کی طرف سے فارغین کے نام الوداعیہ پڑھ کر جھنجھوڑا ۔

 

اخیر  میں مولانا محمد فاروق قاضی ندوی کی دعا پر الوداعی تقریب کا اختتام ہوا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*