بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / نقوش پا کی تلاش میں۔۔۔ گجرات کا ایک مختصر سفر(۰۵) راندیر کی طرف۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل

نقوش پا کی تلاش میں۔۔۔ گجرات کا ایک مختصر سفر(۰۵) راندیر کی طرف۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Print Friendly, PDF & Email

*سملک سے ہماری اگلی منزل سورت تھی۔ سورت کے بیچوں بیچ سے دریائے تاپتی بہتا ہے، جو اسے راندیر اور سورت میں تقسیم کرتا ہے۔ ان دونوں شہروں کی اپنی اپنی  تہذیبی اور ثقافتی شناخت ہے۔ یہ دونوں قدیم شہر ہیں، لیکن راندیر سورت سے زیادہ قدیم ہے، لیکن اس کی تاریخ پر گمنامی کی دبیز چادر چڑھی ہوئی ہے، جسے اتارنا اور اس پر چڑھے ہوئے گرد وغبار کو ہٹا کر تحقیق کے سان پر اسے گھسنا  ایک قومی فریضہ ہے۔ وہ قومیں جو اپنی تاریخ یاد نہیں رکھتیں انہیں تاریخ بھلادیتی ہے، آج گجرات کے مسلم تاریخی ورثہ کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہورہا ہے۔ یہاں کے مسلمان کا چاہے عالم ہوں یا جاہل  اپنے سنہرے ماضی سے کوئی خاص تعلق محسوس نہیں ہوتا۔ بس سنی سنائی  اور کشف وکرامات کی باتیں ہیں، جو تضادات اور اندھی عقیدتوں سے بھری ہوئی ہیں، ان میں سے حقائق کو تلاش کرنا اور انہیں صیقل کرکے جگمگانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گجرات ، کوکن، گوا، کینرا ، اور کیرالا کے آخری کنارے تک پھیلی ہوئی بندرگاہوں کے مسلمانوں نے اس ملک کو بہت کچھ دیا ہے، تاریخ کا مطالعہ کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اپنے وقت  میں  یہ مسلمان  مقامی لوگوں کی ضرورت بن گئے تھے، مختلف قوموں کے آپسی مفادات دوسرے مقامات کی بہ نسبت یہاں  پر زیادہ  گھلے ہوئے  ملتے ہیں ، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مقامی ہندو قوم تجارتی سامان اور غذائی مواد تیار کرتی تھی۔ لیکن اسے جہاز رانی سے کوئی سروکار نہیں تھا، ان کے سامان تجارت کو ملکوں ملکوں اور سمندرکے پار پہنچانے والے عرب ومسلم جہاں راں تھے، اس وقت بحیرہ عرب کے ساحلوں کی تجارت سے وابستہ  جہاز رانی پر عرب اور مسلمان تاجروں کا غلبہ تھا۔ لہذا ان علاقوں میں مسلمانوں کی دیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں ہندو مسلم تعلقات کبھی حساس  نہیں ہوئے۔ آپسی بھائی چارہ اور میل ملاپ تقسیم ہند کی کئی دہائیوں تک بھی جاری رہا۔ اب بھی یہاں کی صورت حال دوسرے علاقوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے۔گجرات کے ساحلوں پر  چمپانیر(محمد آباد)، احمد آباد، دیو، گوگا، گندھار، کھمبایت، پٹن، سومنات،لمبودرا،  جیسی  بیسیوں بندرگاہیں رہی ہیں ، لیکن ان میں راندیر اور سورت کو مرکزی اہمیت حاصل  رہی ہے۔

سورت اور احمد آباد کی تاریخ پر تو کئی ایک کتابیں آچکی ہیں، لیکن راندیر کے ماضی پر ابھی تک پردہ پڑا ہوا ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے اس ناچیز کو راندیر سے ایک جذباتی سا لگاؤ ہوگیا ہے۔ اور اس  قصبے   کی تاریخ جاننے کے لئے ایک گونہ دلچسپی سی ہوگئی ہے۔ اور اس دلچسپی کو ہمارے علم وکتاب واٹس اپ گروپ کے ممبران  مختلف اوقات میں کئے ہوئے تبصروں نے دوآتشہ بنادیا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل یہاں پر برسہا برس تک مقیم اہل علم  سے دریافت کرنے پر یہاں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا تھا،  چونکہ یہاں کی تاریخ کو  گہرائی سے جاننے والے افراد نہیں   پائے جاتے ہیں،اور جنہیں گجرات کی تاریخ سے شغف ہے، وہ بھی جنوبی گجرات  تک نہیں پہنچتے جس نے  اس سلسلے میں  معلومات کی فراہمی حصول کے تعلق سے مایوس کردیا ہے۔

، لیکن خدا بھلا کرے ہمارے گروپ ممبر مولانا عمار لمباڈا کا کہ یہاں کی مساجد  ، محلوں وغیرہ کی تصاویر بھیج  بھیج کر سوکھے دھانوں میں پانی ڈال دیا، اور بجھی ہوئی خواہش کو از سر نو دل میں زندہ کردیا۔

تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اس ناچیز کو سفرنامے پڑھنے کا شوق ہے، اتفاق سے    ایک پرتگالی سیاح دوارت بربوسا کی کتاب نظر سے گذری جو ساڑھے پانچ سو سال قبل   ء۱۵۰۲میں یہاں سے گذرا، اس سیاح اور اس کی کتاب کے محقق مینسل ڈیمس نے  راندیر کی تاریخ کے کئی ایک ایسے گوشوں پر روشنی ڈالی ہے، جو عموما نظروں سے اوجھل ہیں۔  آپ کی معلومات کے لئے سفر نامہ اور اس کے نوٹس سے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

پرتگالی مؤرخین نے اس شہر کا نام رینل (Reynel)اور رینر (Rener)لکھا ہے ۔ ۱۸ویں صدی کی ایک فارسی کتاب چہار گلشن میں اس کے لیے راندیر کا نام استعمال ہوا ہے ، یہ شہر دریائے تابتی جہاں گرتی ہے اس سے کچھ اوپر شمال جانب سورت سے قریب واقع ہے ۔۔۔ بربوسا نے اس شہر کے بار ے میں لکھا ہے کہ یہاں کے مکانات خوبصورت اور جگہیں بڑی کشادہ ہیں ۔ یہ بڑی خوشحال اور مال دار جگہ ہے۔ یہاں کے مسلمان خود اپنے جہازوں میں ملقا (ملیشیا) بنگال، تبنیسریم (برما) پیگو (برما) اس طرح مرتبان (برما) اور سومطرہ (انڈونیشیا) سے مختلف قسم  کے مصالحہ جات، جڑی بوٹیاں اور ریشم بڑی مقدار  میں اور مشک ، جاوی گوند، نقش ونگار کئے ہوئے چینی برتن اور دوسری اشیاء لاتے ہیں۔ یہاں والوں کے پاس بہت بڑی اور خوبصورت کشتیاں ہیں ۔ جن پر چین اور ملقا سے ٹوٹنے پھوٹنے والا یہ اپنا سامان تجارت لاتے ہیں ۔ اور جہاں ان سے زیادہ منافع ملتا ہے لے جاتے ہیں ۔ یہاں کے مسلمان مالدار اور دوسری قوموں سے نمایاں رنگ و روپ رکھتے ہیں ۔ ان کا رنگ کھلا ہوا ہے ۔ ان کی عورتیں خوبصورت ، مکانات اچھے اور فرنیچر سے آراستہ ہیں ۔ ان کے گھروں کے اندر جب جاتے ہیں تو سامنے والا پہلا کمرہ دکان کی طرح سجا ہوتا ہے ۔ اس میں چاروں طرف الماریاں لگی ہوتی ہیں ان کے خانوں میں خوبصورت نقش ونگار کئے ہوئے اور نئے طرز کے برتن اور خزف ریزے رکھے ہوئے ہیں ، ان کی عورتیں دوسری مسلمان قوموں کی عورتوں کی طرح قید و بند میں نہیں ہوتیں ۔ دن میں اجالے میں باہر بھی نکلتی ہیں ۔ سودا سلف بھی لاتی ہیں ۔ ہم جیسے ا جنبیوں کے سامنے چہرا کھلا بھی چھوڑتی ہیں ۔۔۔۔

بیروس  راوی ہے کہ ۱۵۵۲ء میں وہ دریائے تاپتی کی پٹی پر آگے کو بڑھا جس کی خلیج پر دو عظیم شہر کھڑے ہیں ایک کو سورت کہا جاتا ہے جو کہ دریا کے دہانے سے ۳ فرسخ کی دوری پر ہے اور دوسرا راندیر ساحل دریا کے بالمقابل نصف فرسخ پر ۔ آخر الذکرشہر بہت زیادہ اپنی تہذیب اور عمارتوں کے لحاظ  سے شاندار تھا ، یہاں کے تمام باشندے مسلمان تھے اور بحری جنگوں کے زمانے کے جنگجو تھے ، اس شہر میں سلطان کھمبات کی بحریہ کی کشتیاں اور جہاز زیادہ تر  تیار ہوئے تھے ۔ سورت میں جنگ وجدال سے بھاگنے والی ایک قوم بنیا رہتی تھی ۔ خاص طور پر یہاں سوتی کپڑوں پر کشیدہ کاری ہوتی تھی۔۔۔

۔۱۵۹۰ میں سورت دریائے تابتی پر قائم مشہور بندرگاہ ہوا کرتی تھی ۔ سات کوس پر یہ دریا سمندر کے کھارے پانی میں آکر ملتی تھی ۔ ندی دریا کے دوسرے کنارے پر۔ قائم راندیر اب سورت کی ماتحت بندرگا ہ بن کر رہ گئی ہے جب کہ یہ پہلے بڑا شہر ہوا کرتا تھا۔

*راندیر کی تباہی*

ڈیمس نے ڈی بیروس  کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ۱۵۳۰ء میں پرتگالی گورنر انتونیو ڈی سلویر   ا   اپنے بحری بیڑے کے ساتھ تاپتی ندی کی طرف روانہ ہوا ۔ اس نے سورت اور راندیر دونوں شہروں پر حملہ کرکے انہیں تباہ کیا ۔ اس شہر کا دفاع مسلمانوں میں سے نائطی لوگوں نے بھر پور کیا ۔ لیکن یہ شہر سورت کے ماتحت ہونے کے باوجود یہاں کے بنیوں نے اس کی مدافعت کی کوشش نہیں کی ۔ واضح رہے راندیر کو کسی اعلی مقصد سے لوٹا اور جلایا نہیں گیا تھا ۔ مؤرخین نے حالت جنگ میں بھی روانہ رکھی جانے والی اس بربادی پر بڑے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے ۔ (De Barros 215, Barbosa – Dames 1/146)

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راندیر اس مار سے دوبارہ نہ اٹھ سکا ۔ سورت کو اس کی بنیا آبادی کے ذریعہ تجارتی مرکز کی حیثیت سے دوبارہ اہمیت مل گئی ، لیکن راندیر کچھ ایسا برباد ہوا کہ بعد کے سیاحوں نے اس کا تذکرہ تک ضروری نہیں سمجھا ۔ بس اچٹتی نظر سے کہیں اس کا ذکر آگیا تو آگیا۔

ان میں سے مینڈلسلو نے ۱۶۳۸ء (ص۱۷) لکھا ہے کہ بعض ڈچ اور انگریز تاجر مجھے ایک کھنڈر بستی Renielرینیل لے گئے ، یہاں ڈچوں کا ایک گودام تھا۔ اس شہر کے رہنے والے نائطی کہلاتے تھے ۔ یہ مسلمان اور زیادہ تر کشتی بان اور تاجر تھے ۔ شہر کی گلیاں تنگ تھیں ۔

ڈیمس راندیر کی تباہی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ملقا اور چین جیسے دور دراز ملکوں کے ساتھ اس شہر کی تجارت قابل توجہ ہے ۔ راندیر کے تاجر واضح طور پر ایک تہذیب و ثقافت کے حامل تھے ۔ بربوسا نے مسلمانوں کے استقبالیہ کمروں کی جو تصویر کشی کی ہے کہ چاروں طرف الماریوں میں چینی خزف ریزے مزین تھے اس کا حیرت انگیز مظہر ہے ۔ بلا مقصد اور بربرانہ طریقے سے ایک انمول اور پرکشش جگہ کی سلویرا کے   ہاتھوں تباہی ہندوستان میں پرتگالی عہد حکومت کی جبین پر ایک بدنما داغ ہے ۔

ڈینورس  نے اس حملہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے ک انٹوینو ڈاسلویرا    تاپتی ندی کی طرف آگے بڑھا ۔ اس نے شہر سورت اور اس کی بندرگاہ پر لنگر انداز جہازوں کو آگ لگادی ۔ یہاں پر اس نے ہر جاندار شیئ کو ختم کر دیا اور ہر قیمت رکھنے والی شیی کو لوٹ لیا ۔ اس کے بعد وہ دریا کے ساتھ آگے کو بڑھا اور شہر راندیر کے ساتھ اس نے وہی کچھ کیا ۔ یہاں اس نے بندرگاہ پر کھڑے بیس جہاز اور چھوٹی بڑی  بہت ساری کشتیاں تباہ کیں ۔

سولھویں صدی میں ر اندیر ترقی کی جس شاہ راہ پر گامزن تھا اور یہاں پر عالمی تجارت جس بام عروج پر تھی اس میں اہل نوائط کا رول سب سے زیادہ تھا۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ڈیمس نے بربوسا کی کتاب میں راندیر کے تذکرہ میں اہل نوائط کی تاریخ کے تاریک گوشوں پر روشنی ڈالنے کی ممکنہ کوشش  کی ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ مسلم آباد ی میں یہ مسلمان ایک علحدہ نسل سے تعلق رکھتے تھے ۔ مختلف ذرائع سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ یہ ڈی بیروس کے نائطیس ہیں جنہوں نے بے جگری سے ۱۵۳۰ء میں راندیر کا دفاع کیا ۔

نائطیوں کی نسبت بعض مورخین نے شیعوں کی طرف کی ہے ، لیکن  ڈیمس نے نوٹس میں اس نظریہ کی تردید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :

بھٹکل کی مقامی روایات کہتی ہیں کہ یہ سنی پناہ گزین تھے ۔ شیعوں نے انہیں فارس سے آٹھویں صدی میں نکالا تھا ۔ ابن بطوطہ نے ہوناور کے سفر میں جن مسلمانوں کو دیکھا تھا وہ اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور سنی تھے ۔ ڈی بیروس کے مطابق انہیں وجے نگر کے ہندوں نے ۱۴۷۹ء میں وہاں سے نکال دیا تھا۔ یہ عادل شاہی سلطنت کی حفاظت میں گوا میں پناہ گزین رہے اور ساحل کے دوسرے مقامات تک پھیل گئے ۔ بہت ممکن ہے راندیر میں ۶۴۱ھ میں تعمیر شدہ مسجد کے پتھر سے اہل نوائط کی جو تاریخ لی گئی ہے وہ مسجد اہل نوائط کی تعمیر کردہ نہ ہو بلکہ ابتداء میں آنے والے مسلمانوں کی تعمیر کردہ ہو اور راندیر کے نوائط ہوناور اور بھٹکل سے نکالے گئے نوائط کی شاخ سے ہوں ۔

گجرات کے ایک مقامی مورخ  نرمدا شنکر کا   کہنا ہے کہ :۔

ایک نیا طبقہ جو راندیر میں مقیم ہوا اسے Navayataکہا جاتا ہے ۔ مسلمانوں نے بعد میں یہ نام Navayatasمیں تبدیل کیا ۔ پھر

یہ Navatasمیں بدل گیا ۔ ان میں سے بعض کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ یہ کروڑ پتی تھے ۔ بعضوں کی تجوریوں میں چھپن کروڑ تک نقد روپیہ موجود تھا۔ لاکھوں کی جائیداد الگ سے تھیں ۔ ان کی تجوریوں کی ضخامت کی وجہ سے مشہور تھا کہ ان میں سے غیر فطری آوازیں آتی ہیں اور ان میں دولت کی دیوی لکشمی رہتی تھی۔

*نوائط اور شہنشاہ جہانگیر کی میزبانی*

بیان کیا جاتا ہے کہ ۱۶۰۰ء میں نوائط کی دولت و ثروت سے بھرپور زندگی کی خبر جب دہلی کے شہنشاہ جہانگیر کو پہنچی تو بذات خود انہیں دیکھنے کی خواہش اسے راندیر لے آئی ۔ جہانگیر نے راندیر سے کچھ دوری پر اپنا ڈیرہ ڈالا ۔ ایک صبح جب وہ اپنے گھوڑے پر شکار کو نکلا تو راندیر کے پاس ایک نچلی ذات کے ایک شخص سے اس کی ملاقات ہوئی ۔ شہنشاہ کے اس سوال پر کہ کیا وہ دہلی کے بادشاہ جہانگیر کو جانتا ہے اس راہ گیر نے جواب دیا کہ وہ تو آپ ہی ہیں ۔ شہنشاہ نے حیرت کے لہجہ میں کہا کہ وہ جہانگیر نہیں ہے ۔ اس نے دوبارہ جواب دیا کہ بادشاہ جہانگیر آپ ہی ہیں ۔ شہنشاہ نے استفسار کیا کہ اس کے بادشاہ جہانگیر ہونے کا اسے کیسے علم ہوا تو اس نے جواب دیا کہ یہ بات اسی کسی اور سے معلوم نہیں ہوئی ہے ۔ جہانگیر نے سوچا یہاں کا ایک نچلی ذات کا شخص اتنا زیرک ہوسکتا ہے تو اعلی طبقہ کے یہاں کے لوگ بہت ہی عقلمند ہوں گے ۔ اس نے یہاں کے نوائط کے بارے میں اس سے استفسار کیا تو اس نے جواب دیا کہ ان کے پاس دولت و ثروت کی اتنی بہتات ہے کہ ان کا کوئی حساب نہیں ۔ شہنشاہ نے اس اجنبی کو جاگیر انعام میں دی اور واپس کیمپ کی طرف روانہ ہوا۔

ایک اور روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب شہنشاہ جہانگیر نے گجرات میں پڑاؤ  ڈالا تو اس نے یہاں کے باشندوں کو عطیات دینے شروع کئے ، چند لوگ اس سے ایک مرتبہ عطیہ لے کر دوسری مرتبہ تشریف لائے، تو شہنشاہ نے پہنچان کر سرزنش کی، تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ شہنشاہ ہوکر دوسری مرتبہ آنے والے کو دھتکارتے ہیں، جبکہ یہاں کے نوائط ایسے دل والے ہیں کہ  دس دس بار  کوئی مانگنے آئے تو  بھی کچھ  نہیں کہتے ۔

راندیر میں جہاں شہنشاہ جہانگیر نے پڑا ؤ ڈالا تھا اسے جہانگیر آباد اور جہاں اس کی فوج نے کیمپ کیا تھا اسے جہانگیر پورہ کہا جاتا ہے ۔

 کہا جاتا ہے کہ ایک نائطی نے شہنشاہ جہانگیر کی دعوت کی ، سونے کی کشیدہ کاری کیا ہوا غالیچے شہنشاہ کی قیام گاہ جہانگیر آباد اور فوج کی قیام گاہ جہانگیر پورہ تک مہمانوں کے آنے جانے کے راستہ پر بچھائے گئے ۔ کھانے کے لیے جاندی کی تھالیوں اور پینے کے لیے سونے کے گلاسوں سے خاطر مدارات کی گئی ۔ فراغت کے بعد یہ سب اشیاء مہمانوں کو دی گئیں ۔ شہنشاہ کو ان کے علاوہ بہت سا قیمتی نذرانہ پیش کیا گیا ۔ شہنشاہ اس سے بہت خوش ہوا اور نائطی میزبانوں سے کچھ فرمائش کرنے کو کہا۔ نوائط نے جواب دیا کہ ان کے پاس خدا کا دیا ہوا سبھی کچھ ہے ۔ انہیں مزید کی طلب نہیں  . کہتے ہیں راندیر میں نوائط کا زوال اس کے بعد ہوا۔

جب ہم راندیر پہنچے تو احباب ہمیں نائطہ واڑہ میں لے گئے، جو یہاں کا قدیم ترین  محلہ ہے، کسی زمانے میں یہاں نوائط آباد تھے، لیکن اب یہاں پر تلاش کرنے سے یہ لوگ نظر نہیں آتے، یہاں پر ایک خوبصورت جامع مسجد ہے، جس کی تعمیر نو ۱۳۳۴ھ میں ہوئی ہے، اس کا سنگ بنیاد حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی ؒ نے رکھا تھا، ایک صدی پیشتر یہاں پر علمائے دیوبند کے اثرات پڑنے لگے ، جامعہ اشرفیہ جیسے ادارے قائم ہوئے، آج کے حالات کا تو صحیح علم نہیں، سنا ہے کہ سنہ ۱۹۶۲ ء میں  برما کے فوجی انقلاب سےراندیر کے مسلمان شدید طور پر متاثر ہوئے تھے، برما میں یہاں کے تاجر بڑی تعداد میں آباد تھے، یہ مسجد بھی خوش حالی کے اسی دور کی نشانی ہے۔

احباب نے راندیر کے حالات سے آگاہی کے لئے یہاں کے ایک قدیم بزرگ عبد الوہاب صاحب سے ملاقات کروائی، اس طرح یہاں کے بزرگ ادیب وشاعر وسیم ملک سے بھی گفتگو ہوئی۔ لیکن ان کی باتوں سے معلومات میں کسی خاص اضافہ کا احساس نہیں ہوا۔

نائطہ واڑہ کی قدیم مساجد  منشی مسجد اور دہلا مسجد  اور چھٹی صدی ہجری کی مسجد کے آثار قدیمہ بھی دیکھنے کا موقعہ ملا۔ یہاں کی رفاعی خانقاہ اور قبرستان پر بھی گئے تھے، لیکن یہاں کے سجاد ہ نشیں سے ملاقات نہیں ہوسکی، جس کا افسوس ہوا، کیونکہ بعد میں محسوس ہوا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ  بچے کچے نائطی برادری کے افراد میں ہوں، کیونکہ ان کے شافعی المسلک ہونے کی اطلاع ہمیں بعد  میں ملی۔ اور یہ کہ سورت کی رفاعی خانقاہ سے اس کا ربط وتعلق نہیں ہے۔

ہماری بڑی خواہش تھی کہ یہاں پر شیخ فقیہ عطاء احمد کی قبر کو کھوج نکالیں،خانوادہ قاضی بدر الدولۃ کے مصنف نے مخدوم فقیہ اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ کا نسب آپ پر ختم کیا ہے۔مخدوم فقیہ بھٹکل میں آسودہ خاک ہیں۔

راندیر گجرات کی قدیم ترین مسلم آبادیوں میں سے ایک ہے۔پرتگالیوں  نے  ۱۴۷۹ ء میں جان بجاکر آنے والے نوائط کا آباد کردہ شہر قرار دیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ یہ بندرگاہ اس سے بہت پہلے سے آباد ہو، یہاں پر صحابہ و  تبع تابعین کی قبروں کی موجود گی کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے۔    لیکن ان کے ثبوت میں تاریخی ثبوت کے بجائے کشف و مراقبہ کی بات کی جاتی ہے۔ بہت ممکن ہے آج سے چھ سو سال قبل پندرھویں صدی عیسوی میں اسے عروج ملا ہو، اور یہ اس کی تاریخ کا سنہر ا دور رہا  ہو، پھر مسلسل حملوں اور تباہی کے بعد اس کی حیثیت سورت کے سامنے ماند پڑ گئی ہو۔ نائطہ واڑہ کے محلوں اور مکانات کو دیکھ مرور زمانہ کی تبدیلیوں کے باوجود اب بھی  بھٹکل کی نوائط تہذیب کے آثار یہاں اب بھی کہیں کہیں نظر آتے ہیں۔

 ظہر کی ادائیگی اور کافی دیر راندیر میں گذار کر ہم   سورت میں  خانوادہ منیار کے  دولت کدوں میں سے ایک دولت کدہ ساحل پر پہنچے۔ اور ظہرانہ کے بعد کچھ دیر پیر لمبے کئے۔

2021-10-03

 WA: 00971555636151

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*