بنیادی صفحہ / مصنف کی تحاریر : اطھرہاشمی

مصنف کی تحاریر : اطھرہاشمی

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ پام آئل کے درخت۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

’ائمہ‘ امام کی جمع ہے اور اس کے الف پر مد یعنی آئمہ نہیں ہے، لیکن بیشتر اخبارات میں آئمہ ہی چھپ رہا ہے، حتیٰ کہ ائمہ مساجد کی تنظیم کی طرف سے موصول ہونے والی پریس ریلیز میں بھی ...

مزید پڑھیں »

مٹی پاؤ ہمزہ یا بغیر ہمزہ کے؟۔۔۔ از : اطہر ہاشمی

گزشتہ دنوں کراچی میں ایک مسجد کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب کے بڑے بڑے اشتہارات بیشتر اخباروں میں دیکھے۔ ان اشتہاروں میں ’’مسجد کی سنگ بنیاد‘‘ رکھنے پر مبارک باد پیش کی گئی تھی۔ غالباً اشتہار کا مضمون بنانے ...

مزید پڑھیں »

امالہ کیا ہے ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

پچھلے کالم میں ہم نے ’’امالہ‘‘ کا ذکر کیا تھا۔ ہمیں اب تک یہ اندازہ نہیں ہے کہ اسے کہاں استعمال کرنا چاہیے اور کہاں نہیں۔ امالہ کے حوالے سے سابق صدر شعبہ اردو جامعہ پنجاب، اورینٹل کالج حضرت رفیع ...

مزید پڑھیں »

شعب ابی طالب کی گھاٹی ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

بعض لکھنے والے ’’بذاتِ خود‘‘ اور ’’بجائے خود‘‘ میں فرق نہیں کرتے۔ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ جب ذات کا ذکر ہو یا زندہ وجود کا تذکرہ، تو وہاں ’’بذاتِ خود‘‘ استعمال کرنا چاہیے، اورجہاں بے جان چیز کا ...

مزید پڑھیں »

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ گشت، مذکر یا مونث۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

۔27 جولائی کے ایک اخبار کے اداریے میں ”معمول کی گشت“ پڑھا۔ یعنی اداریہ نویس کے خیال میں ’گشت‘ مونث ہے۔ ہم تو اسے مذکر ہی کہتے اور لکھتے رہے ہیں۔ مونث تو گشتی ہوتی ہے جو اچھی نہیں سمجھی ...

مزید پڑھیں »

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ محاوروں کی دلچسپ کتاب۔۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

پچھلے کالم کے حوالے سے ایک قاری عبدالحمید صاحب نے توجہ دلائی ہے کہ حضرت عزیر نبی نہیں بلکہ ایک بزرگ شخص تھے۔ ایسا ہی ہوگا، لیکن تفاسیر اور تراجم میں ان کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھا جاتا ...

مزید پڑھیں »

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ معیاد یا میعاد؟۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

آج پہلے خود اپنا جائزہ لیتے ہیں۔ 13 جولائی کے جسارت میں ایک خبر کی ذیلی سرخی ہے ”صوبوں سے دغا کیا جارہا ہے“۔ جسارت میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ کام کررہے ہیں۔ ہوسکتا ہے سرخی نکالنے والے صاحب ...

مزید پڑھیں »

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ سیلابِ اشتیاق اور امیر خسرو۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

پروفیسر غازی علم الدین سے ہم بالواسطہ بہت کچھ سیکھ رہے ہیں۔ اس طرح وہ ہمارے استاد ہوئے جس کی خبر اُن کو نہیں ہوئی۔ پچھلے شمارے میں انہوں نے ’’اشکوں کا سیلاب‘‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ اصل ...

مزید پڑھیں »

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ ہمی سوگئے،اچھا کیا۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

سنڈے میگزین میں ایک شاہین صفت مضمون نگار نے بہت معروف اور دلکش شعر کو داغ دار کردیا ہے۔ شعر یوں چھپا ہے:۔ زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے یہ ۔ہمی۔ کیا ہوتا ...

مزید پڑھیں »

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ زبان کی نزاکتیں، لطافتیں۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

ایک ٹی وی چینل پر ’جرگہ‘ کے عنوان سے پروگرام ہوتا ہے لیکن اس کا تلفظ جِرگہ ۔(ج کے نیچے زیر)۔ کیا جاتا ہے۔ انگریزی میں بھی اسے  لکھا جاتا ہے، جب کہ یہ فارسی کا لفظ ہے اور ’ج‘ ...

مزید پڑھیں »

خبرلیجے زباں بگڑی۔۔۔ جس کا کام اسی کو سانجھے۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

ایک ٹی وی اینکر بتا رہے تھے کہ یہ پرانی کہاوت ہے ’’جس کا کام اسی کو سانجھے‘‘۔ یہ کہاوت تو ہے لیکن اس میں ’’سانجھے‘‘ نہیں ”ساجے“ ہے۔ ممکن ہے یہ سجنے سے ہو۔ سجنا ہندی کا لفظ ہے ...

مزید پڑھیں »

خبرلیجے زباں بگڑی۔۔۔ قوس وقزح کے رنگ۔۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

۔30 مئی کے ایک اخبار میں رنگین تصویر کا عنوان (کیپشن) ہے ’’ٹوکیو میں قوس و قزح کے رنگ بکھرے ہوئے ہیں‘‘۔ ایک تو ہمارے صحافی بھائیوں کو بے جا طور پر ’و‘ کا استعمال بہت پسند ہے۔ جیسے بلندوبانگ، ...

مزید پڑھیں »

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ ٹڈی دل کا لشکر۔۔۔ تحریر :اطہر علی ہاشمی

ٹڈی دل نے پاکستان میں تباہی مچا دی ہے۔ اس کا حملہ زبان پر بھی ہوا ہے۔ اخبارات میں کئی جگہ ’’ٹڈی دل کا لشکر‘‘ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، جب کہ ’دَل‘ تو کہتے ہی لشکر، فوج، انبوہ کو ...

مزید پڑھیں »

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ تار ۔ مذکر یا مونث؟۔۔۔ اطہر علی ہاشمی

اردو میں ہم ایسے کئی الفاظ بے مُحابا استعمال کرتے ہیں جن کا مفہوم اور محل واضح ہوتا ہے لیکن کم لوگ جن میں ہم بھی شامل ہیں‘ ان الفاظ کے معانی پر غور کرتے ہیں۔ اب اسی لفظ ’’بے ...

مزید پڑھیں »