بنیادی صفحہ / مضامین / تبصرہ کتب : ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ، بحیثیت اقبال شناس —-تحریر: ملک نواز احمد اعوان

تبصرہ کتب : ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ، بحیثیت اقبال شناس —-تحریر: ملک نواز احمد اعوان

Print Friendly, PDF & Email

نام کتاب : ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ، بحیثیت اقبال شناس
مصنف : پروفیسرڈاکٹر ہارون الرشید تبسم
صفحات : 248 قیمت 1000 روپے
ناشر : مقبول اکیڈمی 199 سرکلر روڈ چوک اردو بازار‘ لاہور
فون نمبر : 042-37324164
042-37233165
برائے رابطہ : پاکستان ادب اکادمی سرگودھا
319-Y علامہ اقبال کالونی سرگودھا
فون نمبر : 048-3711717
ای میل : [email protected]
پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم (پ:12 اکتوبر1955ئ) سابق صدر شعبہ اردو گورنمنٹ انبالہ مسلم کالج سرگودھا ایم فل (اقبالیات 1993ئ)، پی ایچ ڈی (اردو 2002ئ) ابھی تک 75 ادبی کتب اور 27 نصابی کتب تحریر کرچکے ہیں۔ ماضی قریب میں ان کی چھے کتابوں کا تعارف فرائیڈے اسپیشل میں کرایا گیا تھا۔ اقبالیات پر یہ کتابیں ہیں: موضوعاتی کلام اقبال، ذخیرۂ اقبال، بیت بازی کلام اقبال، اقبالیات کا انسائیکلوپیڈیا خورشید اقبال، کائناتِ اقبال، تقاریر اقبال۔ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم محترم ڈاکٹر رفیع الدین صاحب ہاشمی حفظہ اللہ کے شاگردِ رشید ہیں۔ انہوں نے اپنے استاد کی ایک خصوصیت یعنی اقبال شناسی کو موضوع بنایا ہے۔
صاحبزادہ عبدالرسول تحریر فرماتے ہیں:
’’پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی میرے دیرینہ رفیقِ کار ہیں۔ انہوں نے علم و ادب کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر اہلِ علم کو محنت اور جہدِ مسلسل کا راستہ دکھایا ہے۔ ہاشمی صاحب اپنی ذات میں ایک ادبی تحریک ہیں۔ انگریزی، اردو اور پنجابی زبانوں میں دسترس رکھتے ہیں۔ عربی اور فارسی سے بھی شناسائی ہے۔ ذخیرۂ الفاظ کے اعتبار سے وہ انتہائی ثروت مند دانشور ہیں۔ انہوں نے مختلف اصنافِ نثر میں طبع آزمائی کی ہے۔ وہ اسناد و شواہد کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ تحقیق کے میدان میں انہوں نے عرق ریزی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جذب و شوق، آرزو مندی اور حقیقت کی تلاش کے لیے انہوں نے ریاضت کا مظاہرہ کیا ہے۔ طالب علموں کے لیے مختلف موضوعات پر کتب کی اشاعت ان کا بہت بڑا ادبی کارنامہ ہے۔
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے فکر و فن پر ان کی تصانیف محتاجِ تعارف نہیں ہیں۔’’اقبال کی طویل نظمیں‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے اقبال کی شاعری اور نثر کا مطالعہ گہری ریاضت سے کیا ہے۔ اقبال کے خیالات اور فکر کو سمجھنے کے لیے یہ بہت عمدہ کتاب ہے۔
ان کی ایک اور کتاب ’’اقبال بحیثیت شاعر‘‘ اقبال پر مختلف اہلِ قلم کے مضامین کا مجموعہ ہے۔ یوں تو اس طرح کے بیسیوں مجموعے ملتے ہیں مگر ہاشمی صاحب کا حسنِ انتخاب قابلِ داد ہے۔ اس میں تمام اہم اقبال شناسوں کے مضامین آگئے ہیں۔ انہوں نے ایک ایک مضمون کو باریک بینی سے پڑھا اور اشعار کی غلطیوں کو درست کیا۔ آخر میں مضمون نگاروں کے مختصر کوائف بھی مہیا کیے ہیں۔ اشاریہ بھی شامل ہے۔ میرے خیال میں یہ کتاب ترتیب و تدوین کا ایک مثالی نمونہ ہے۔
ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کا شمار ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور میرے شاگردوں میں ہوتا ہے۔ تبسم صاحب نے حقِ شاگردی ادا کرتے ہوئے میرے بارے میں ’’شمع آگہی‘‘ کتاب مرتب کی تھی۔ زیر نظر کتاب ’’ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی بطور اقبال شناس‘‘ بھی اسی جذبے کی عکاس ہے۔ انہوں نے ہاشمی صاحب کے احوال و آثار اور تصانیف پر فراخ دلی سے اظہارِ خیال کیا ہے۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی تصانیف پر مختلف نقادوں کی آرا قابلِ ستائش ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ رفیع الدین ہاشمی اور سرگودھا کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔ گورنمنٹ کالج سرگودھا کے درودیوار ہاشمی صاحب کی خدمات کے گواہ ہیں۔ انہوں نے محبت و خلوص اور تحقیق و تنقید کی وہ قابلِ قدر مثالیں قائم کی ہیں جو نوآموز محققین کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ میں اس کتاب کی اشاعت پر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ہاشمی صاحب کی اقبال شناسی کو دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بنانے کا فریضہ ادا کیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم لکھتے ہیں:
’’بحیثیت شاگرد ایک عرصے سے دل میں خواہش مچل رہی تھی کہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی شخصیت اور علمی و ادبی خدمات کے حوالے سے کتاب مرتب کی جائے۔ یوں تو ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں لیکن اقبال شناسی ان کا بنیادی حوالہ ہے۔ راقم الحروف (ہارون الرشید تبسم) نے ان کی اقبال شناسی پر زیرنظر کتاب مرتب کرکے حقِ شاگردی ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔
اہلِ نظر بخوبی جانتے ہیں کہ راقم نے مختلف موضوعات پر دسیوں کتابیں مرتب اور شائع کی ہیں لیکن زیر نظر کتاب کو آپ ان سب سے مختلف پائیں گے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میرے محترم استاد اختصار پسند ہیں اور وہ اپنی تحریروں میں حشو و زوائد سے اجتناب کرتے ہیں۔ میں نے بھی اس کتاب میں اختصار برتنے کی کوشش کی ہے۔
اس کتاب کا اصل موضوع ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، بطور اقبال شناس ہے۔ چنانچہ صرف وہی لوازمہ جمع کیا گیا ہے جو موضوع سے متعلق ہے۔ یوں تو آپ کی ہر اقبالیاتی کتاب پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن مختلف اہلِ نقد نے اُن کی کتابوں پر جو تبصرے کیے اور اُن کی کاوشوں کو جس طرح سراہا ہے ان سے استادِ محترم کے کارنامے کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔
تبصروں کے آغاز میں ہر کتاب کے کتابیاتی کوائف بھی دیے گئے ہیں، اسی طرح میں نے اپنے مقدمے میں استادِ محترم کے کوائفِ حیات بھی مرتب کیے ہیں۔
تبصروں کو جمع کرنے اور انہیں ترتیب دینے کے لیے مجھے خاصی تلاش اور تگ و دو کرنی پڑی۔ بعض دوستوں سے درخواست کرکے تبصرے لکھوائے گئے، چنانچہ مشمولہ تبصروں میں سے بعض غیر مطبوعہ ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر خالد ندیم، ڈاکٹر قاسم محمود احمد اورجناب فیاض احمد ساجد کے تعاون کا شکر گزار ہوں۔
مجھے امید ہے کہ یہ کتاب دیگر اقبال شناسوں پر لکھی گئی کتابوں کی نسبت زیادہ مقبولیت حاصل کرے گی۔ میں قارئین کے تاثرات کے لیے چشم براہ رہوں گا۔‘‘
ڈاکٹر ہارون الرشید صاحب نے استاد کے بلند و اعلیٰ مقام پر جو سطریں تحریر فرمائی ہیں وہ اس قابل ہیں کہ انہیں سونے کے پانی سے لکھ کر درس گاہوں میں آویزاں کیا جائے۔
اسلام میں جو بلند مقام استاد کا رکھا گیا ہے افسوس ہے وہ ہمارے سیکولر نظام تعلیم میں نہیں دیا جاتا۔ ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں:
’’استاد کا احترام کرنا انسان کی اپنی شناخت ہے۔ جس طرح اجرامِ فلکی مسلسل حرکت میں رہتے ہیں، اسی طرح کائنات کے تمام شعبہ جات استاد کے گرد رواں دواں ہیں۔ استاد اور شاگرد کا روحانی رشتہ دل کے گرد گھومتا ہے اور دل کی دنیا عقیدت، احترام، محبت، مروت، ارادت، ریاضت اور خلوص کی قوسِ قزح ہے۔ حُسنِ کائناتِ مقصودِ کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلمِ اخلاق ہونے پر فخر کیا۔ فخرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد صحابہ کرامؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کی نہ صرف تقلید کرتے بلکہ جاں سپاری اور جاں نثاری کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے۔ احترام کا یہ عالم تھا کہ تاجدارِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو شاگرد وضو سے گرنے والا پانی اپنے چہروں پر مَل لیتے۔
تاریخ شاہد ہے کہ استاد کا احترام کرنے والے زندگی میں ہمیشہ کامیاب رہے۔ استاد سے حاصل کردہ علم اُن کے لیے روشنی ثابت ہوا۔ وہ جہاں بھی گئے اس روشنی نے اُن کی راہیں منور کردیں۔ ایک سچا اور کھرا استاد باغبان کی طرح ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے فرمایا: ’’جس شخص سے میں نے ایک لفظ بھی پڑھا، میں اُس کا غلام ہوں۔ اُس کی مرضی ہے کہ وہ مجھے بیچ دے یا آزاد کردے‘‘۔ استاد اپنے علم و فضل سے اندھیروں کو روشنی اور پھولوں کو مہک عطا کرتا ہے۔ استاد کی تعظیم کرنے والوں نے عظمتیں پائیں۔
اگر ہم کائنات کا بغور مطالعہ کریں تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ فرش سے عرش تک علم کی فرماں روائی ہے جس کا منبع استادِ گرامی ہے۔ اکتسابِِ فیض کی آرزو رکھنے والوں کے سامنے استاد کی دعا اُن کی زندگی کو نکھار عطا کرتی ہے۔ ایک اچھا استاد علم کا آئینہ ہے۔ اس کی ذات اس کے شاگردوں میں منعکس ہوتی ہے۔ استاد ایک پھول ہے اور شاگرد اس کی خوشبو۔ استاد نہ صرف علم و آگہی کا منبع ہے بلکہ اخلاق و کردار کی دولت اپنے شاگردوں میں منتقل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
ہماری زندگی کے تمام دروازے استاد کی ذات پر آکر رکتے ہیں۔ ایک اچھا استاد قوم کا معمار اور روحانی اقدار کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ جس قوم کا استاد اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے میں ایمان داری اور دیانت داری کا مظاہرہ کرتا ہو اُس قوم کو کبھی زوال نہیں آسکتا۔
پاکستان میں ایسے اساتذہ کرام کی کمی نہیں ہے جنہوں نے اپنے شاگردوں کے دلوں پر حکمرانی کی۔ اُن کا تعلیمی و تربیتی فیض نسل در نسل منتقل ہورہا ہے۔ وہ جذبۂ اخلاقیات سے سرشار ہوکر اپنے شاگردوں کو دوسروں کے لیے باعثِ تقلید بناتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا شمار ایسے ہی اساتذہ کرام میں ہوتا ہے جو اپنے شاگردوں کی کامیابی کے لیے ہمہ وقت دست بدعا نہیں رہتے، ان کی رہ نمائی کے لیے انہیں وقت بھی دیتے ہیں۔ میری خوش بختی ہے کہ مجھے اُن کی شاگردی کا اعزاز حاصل ہے۔‘‘
ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے کتاب پر مبسوط اور جامع مقدمہ تحریر کیا ہے، جگہ کی کمی کی وجہ سے ہم یہاں اس کی گرانقدر تفصیلات نہیں دے سکتے، لیکن اپنے استاد کے متعلق ڈاکٹر تبسم کے نجیب خیالات ضرور دینا چاہیں گے:
’’حُسنِ اخلاق ایسے عطر کی مانند ہے جسے جتنا دوسروں پر چھڑکیں اتنی ہی خوشبو ہمیں اپنے من میں محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی شخصیت میں ایسی ہی خوشبو ہے جس سے ہزاروں طالب علم معطر ہیں۔ اُن کا دھیما لہجہ اور انسان دوستی کا معیار قابلِ تقلید ہے۔ وہ اصولوں کے پابند ہیں۔ دوسروں کی اصلاح کے لیے بھی اُن کے اپنے خاص اصول ہیں۔ انہوں نے جس سے تعلق جوڑا اسے ہمیشہ کے لیے اپنالیا۔ وقت کی پابندی اُن کی سرشت میں شامل ہے۔ ناسازیٔ طبع اور پیرانہ سالی کے باوجود ریسرچ اسکالرز کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ وہ ہر ملاقاتی کو طے شدہ پروگرام کے مطابق فراخدلی سے وقت دیتے ہیں، لیکن وہ لوگ جو کسی رابطے کے بغیر منہ اٹھائے چلے آتے ہیں، انہیں ندامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قومی زبان، قومی لباس اور طرزِ معاشرت پر عملدرآمد اُن کی شخصیت کا اہم پہلو ہے۔ جناح کیپ اور شیروانی میں مثلِ قائداعظم محمد علی جناح ہیں۔ گفتگو میں مٹھاس، ٹھیراؤ اور تحقیقی انداز دوسروں پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ منافقت، جھوٹ، لالچ، غیبت اور منافرت سے بچتے ہیں۔ انسانی شخصیت کے اعلیٰ اوصاف اُن کی ذات میں موجود ہیں۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی مہمان نواز ہیں۔ اُن کا دستر خوان ہر مہمان کے لیے بہت کشادہ ہے۔ صوم و صلوٰۃ کی پابندی اُن کا طرۂ امتیاز ہے۔ دوسروں کے دکھ سُکھ کا خیال رکھتے ہیں۔ کسی دوست کے دکھ کو اپنا دکھ گردانتے ہیں۔ وفات کی خبر پاتے ہی تمام دوستوں کو اطلاع دینا اپنا فرضِ عین سمجھتے ہیں۔ دنیا سے بچھڑنے والوں کے لیے دعائے مغفرت کرنا اُن کے معمولات میں شامل ہے۔ وہ جہاں کہیں بھی ہوں، اپنے ممدوحین کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ تحقیق و تنقید سے وابستہ احباب سے اُن کا مستقل رابطہ، اُن کی شخصیت کا خاصا ہے۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی زندگی کے تسلسل کو قائم رکھنے والی سحر کی مانند ہیں۔ وہ شفقت، خلوص، اعتدال، برداشت اور تحقیق کے واقعیت پسند ادبی مصور ہیں۔ اُن کا تحقیقی عمل کتابوں میں دل پذیری اور آنکھوں میں سرایت کرنے کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ ادب برائے زندگی کے قائل ہیں۔ ہاشمی صاحب انسانی قدروں کے مبلغ ہیں۔ دوستی، اخلاق اور رواداری کے تمام تقاضے رفیع الدین ہاشمی کی شخصیت میں موجود ہیں۔ اقبالیاتی محققین کے علاوہ بھی انہوں نے طالب علموں کے لیے اردو کی کئی رہنما کتب تحریر کیں، مثلاً: ’’شرح مرقعِ ادب‘‘اور ’’تفہیمِ اردو‘‘ وغیرہ۔ پاکستان میں لاتعداد طالب علم اُن کی تحریر کردہ کتب سے استفادہ کررہے ہیں۔
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی پر درج ذیل مضامین بھی شاملِ کتاب ہیں۔
مضامین:
سرگودھا میں اقبال شناسی۔ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم
رفیع الدین ہاشمی: بحیثیت اقبال شناس۔ ڈاکٹر خورشید رضوی
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی۔ پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر
فکرِ اقبال کے شناور: ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی۔ ممتاز عارف
اقبالیاتی ادب کے محقق: ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی۔ ذوالفقار احسن

(ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا اقبالیاتی ادب (تبصرے اور جائزے 

بشکریہ فرائیڈے اسپیشل

x

Check Also

امریکہ کی دھمکی کتنی حقیقت کتنا فسانہ:۔۔۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

پاکستان اسلام اور مسلمانوں کے نام پر بنا تھا اسے بنانے والے ...