بنیادی صفحہ / مضامین / حکومت کی بوکھلاہٹ کا ایک اور نمونہ… سہیل انجم

حکومت کی بوکھلاہٹ کا ایک اور نمونہ… سہیل انجم

Print Friendly, PDF & Email

چینی جارحیت پر سینئر کانگریسی رہنما راہل گاندھی کے تیکھے سوالوں کا بی جے پی یا حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اسی لیے براہ راست گفتگو کرنے کے بجائے دائیں بائیں بھاگنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح ڈرا دھمکا کر کانگریس صدر سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو خاموش کرایا جا سکے۔ چونکہ حکومت بہت سے مخالفین کو انتقامی کارروائی کے تحت چپ کرا چکی ہے اس لیے وہ چاہتی ہے کہ کانگریس بھی چپ ہو جائے اور ا س کی ناکامیوں کے سلسلے میں کوئی سوال نہ پوچھے۔ ان پر پردہ پڑا رہے۔

لیکن مذکورہ تینوں رہنما خاموش ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جہاں ایک طرف سونیا گاندھی اور راہل گاندھی مرکزی حکومت کی ناکامیوں پر سخت انداز میں تنقید کر رہے ہیں اور خاص طور پر چینی کارروائیوں کے حوالے سے سوالات کر رہے ہیں وہیں پرینکا گاندھی یو پی حکومت کی ناکامیوں پر یوگی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وکاس دوبے کانڈ کے بعد انھوں نے یو پی میں ایک بار پھر جنگل راج کی بات کہی ہے اور وکاس کے انکاونٹر کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ادھر حکومت اور بی جے پی دونوں نے کانگریس کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ پہلے مدھیہ پردیش کی کانگریس کی حکومت گرائی گئی اور اب کانگریس کے مطابق راجستھان کی گہلوت سرکار کو گرانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اشوک گہلوت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کانگریس کے ممبران کو پندرہ پندرہ کروڑ روپے میں خریدنے کی کوشش جا ری ہے۔ در اصل بی جے پی سمجھتی ہے کہ کانگریس کے ہاتھ میں جتنی زیادہ ریاستیں ہوں گی اس کی طاقت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اس لیے وہ یکے بعد دیگرے اس سے ریاستی حکومتیں چھیننے کے درپے ہے۔ اس کے پاس دولت کی کمی نہیں ہے۔ جب سے مرکز میں وہ برسراقتدار آئی ہے اس کے فنڈ میں کئی گنا کا اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا پیسوں کا حصول اور ان کو خرچ کرنا اس کے لیے کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ وہ اسی دولت کے سہارے ملک کی تمام ریاستوں میں اپنی حکومت قائم کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔

 ادھر حکومت کی جانب سے گاندھی نہرو خاندان کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش جاری ہے۔ پرینکا گاندھی سے ان کا بنگلہ خالی کرایا گیا ہے اور اب کانگریس کے تین فاونڈیشنوں کی جانچ کے لیے ایک بین وزارتی کمیٹی وضع کر دی گئی ہے۔ یہ ادارے ہیں راجیو گاندھی فاونڈیشن، راجیو گاندھی چیری ٹیبل ٹرسٹ اور اندرا گاندھی میموریل ٹرسٹ۔ ان کی صدر سونیا گاندھی ہیں اور ممبران میں راہل گاندھی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ شامل ہیں۔

 جب راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر چینی جارحیت کے سلسلے میں دروغ گوئی کا الزام عاید کیا تو بی جے پی صدر جے پی نڈا نے کانگریس کے خلاف کمان سنبھال لی اور انھوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کے ان اداروں کو چین کی جانب سے فنڈنگ کی گئی ہے۔ بی جے پی کو اس پر بھی اعتراض ہے کہ جب ڈوکلام کا معاملہ چل رہا تھا تو راہل گاندھی نے ہندوستان میں چین کے سفیر سے کیوں ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد جب کانگریس کی جانب سے اس کی تفصیل پیش کی گئی کہ بی جے پی کے فلاں فلاں رہنما چینی رہنماؤں سے ملتے رہے ہیں تو کوئی جواب سوجھ نہ پانے کے بعد مذکورہ جانچ کا اعلان کر دیا گیا۔

 جے پی نڈا کا کہنا ہے کہ 2005 میں جب مرکز میں یو پی اے کی حکومت تھی تو چین کے سفارت خانے اور چینی حکومت کی جانب سے راجیو گاندھی فاونڈیشن کو تین کروڑ ڈالر کا فنڈ دیا گیا تھا۔ کانگریس نے اس کا جواب دیا اور کہا کہ نریندر مودی کو چاہیے کہ وہ 2005 میں جینا چھوڑ دیں اور موجودہ گلوان وادی کے تعلق سے جو کچھ ہو رہا ہے اس کا جواب دیں۔ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے چینی سفارت خانے سے ایک کروڑ 45 لاکھ روپے ملے تھے۔ یہ رقم ہند چین تعلقات پر تحقیق اور معذوروں کے لیے فلاحی پروگرام کے لیے موصول ہوئی تھی اور جس مقصد کے لیے یہ رقم ملی تھی اس کا استعمال اسی میں ہوا ہے۔ کانگریس کا مزید کہنا ہے کہ راجیو گاندھی فاونڈیشن کا باضابطہ آڈٹ ہوتا ہے اور ایف سی آر اے کے تحت انکم ٹیکس ریٹرن داخل کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس کی کسی بھی غلطی یا بدعنوانی کا کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔

 کانگریس کا کہنا ہے کہ وہ لداخ کے معاملے میں جو سوالات پوچھ رہی ہے اس سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے حکومت کی جانب سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے فاونڈیشنوں کے کاغذات عوامی طور پر موجود ہیں جن کو کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔ ان اداروں کے کاموں میں مکمل شفافیت ہے۔ جوں ہی حکومت کی جانب سے جانچ کا اعلان کیا گیا راہل گاندھی نے ایک ٹویٹ کرکے کہا کہ اس کا مقصد پارٹی کو چپ کرانا ہے۔ راہل گاندھی اس کے بعد بھی چپ نہیں ہوئے ہیں بلکہ روزانہ حکومت سے سوال پوچھ رہے ہیں۔بہر حال اس معاملے میں حکومت چھ سال تک خاموش رہی اور اب اچانک اسے ان فاونڈیشنوں کی یاد آگئی۔

 کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے حکومت سے سوال پوچھا ہے کہ کیا وہ بی جے پی کی آمدنی میں پانچ سو فیصد کے اضافے اور 2015-16 میں 570.86 کروڑ اور 2018-19 میں 2410 کروڑ روپے کے چندے کی بھی جانچ کروائے گی۔ نہ تو حکومت کی جانب سے اس کا کوئی جواب دیا گیا ہے اور نہ ہی بی جے پی کی جانب سے۔ بی جے پی صدر جے پی نڈا بھی خاموش ہیں اور دوسرے لیڈران بھی۔ شاید ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے کہ بی جے پی کی آمدنی میں اتنا اضافہ کیسے ہوا اور اس کو اتنا چندہ کہاں سے ملا۔

 بہر حال حکومت نے نہرو گاندھی خاندان کو چپ کرانے کے لیے ایک بڑا حملہ کیا ہے۔ اس نے جس جانچ کا اعلان کیا ہے اس میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ، انکم ٹیکس محکمہ، وزارت مالیات اور وزارت داخلہ کے نمائندے شامل ہوں گے۔ اتنی بڑی جانچ کے اعلان کا مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ کسی طرح سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو خاموش کرایا جا سکے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس کے بعد کیا کارروائی کرتی ہے۔

x

Check Also

تبصرات ماجدی۔۔۔ (160)۔۔۔ جزیرہ سخنوران۔۔ از:غلام عباس۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

 (160)  جزیرہ سخنوران           از غلام عباس صاحب      کتاب خانہ ہزار ...