بنیادی صفحہ / مضامین / حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیری کا نثری بیانیہ۔۔۔ تحریر: مفتی محمد ساجد کھجناوری

حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیری کا نثری بیانیہ۔۔۔ تحریر: مفتی محمد ساجد کھجناوری

Print Friendly, PDF & Email

احقر کاتب الحروف کے مطالعہ کی میزپر یکتائے روزگار محدث اور سحر طراز نثر نگار مولانا سید انظر شاہ مسعودی کشمیری ؒ (متوفی ۲۶؍اپریل ۲۰۰۸ء ) کے شاداب قلم فیض رقم کی مرہون سردست دوکتابیں لالہ وگل اور نقش دوام پیش نظرہیں ، جن کی افادیت کا جادو گردشِ شام وسحر اور مرورِ ایام کے باوصف سرچڑھ کر بول رہاہے۔ اول الذکر کتاب کے مشمولات ان زائد از ساٹھ کاروانِ دین ودانش کا تذکرہ جمیل ہے جن کے پڑھنے اور سننے سے خزاں رسیدہ چمن میں بہار ِنو عود کرآتی ہے اور گلشن حیات کا پتہ پتہ مسکرانے لگتاہے، ان اصحاب تذکرہ افراد میں دین وادب ، دانش وآگہی ، تہذیب وثقافت اور سیاست وسماج کی وہ نمائندہ نامی گرامی ہستیاں بھی ہیں جن کے مختصر سے وجود میں خلاق عالم نے اپنے جواہر وحکم کے بے شمار خزانے ودیعت فرمادئے تھے ، ان عزت مآب نفوس کی حکایات ہستی کو مولانا سید انظر شاہ کشمیری نے تحریر وانشاء کے ایسے دل آویز قالب میں ڈھال دیا ہے کہ اب دیر اور دورتک ان کے زندہ وتابندہ رہنے کی قوی تر امید ہے۔

جبکہ مؤخر الذکر کتاب مصنفِ باکمال کے شہرت پذیر والد گرامی اما م العصرحضرت مولانا انورشاہ کشمیریؒ کے سوانح، علمی وعملی رجحانات، سیاسی افکار وخیالات ، دینی نظریات اور تحقیقات وتفردات کا ایساحسین شاہ کار ہے کہ اس کی دستاویزی واستنادی حیثیت اصحاب لوح وقلم کے نزدیک مسلم الثبوت ہے ، ۴۶۲؍ صفحات پر حاوی نقش دوام کا یہ متذکرہ ایڈیشن صاحب سوانح کی شخصیت کا بہترین سراپاہے جو محض ایک روایتی سوانح حیات نہیں بلکہ امام العصر علامہ کشمیریؒ کی مختلف النوع کرشماتی شخصیت کا بہترین آئینہ ہے ، اس آئینہ کی وساطت سے ہم ان کے شخصی، علمی، فکری، تحقیقی اور سماجی جغرافیہ سے نہ صرف آشنا ہوسکتے ہیں بلکہ ان کی تابناک زندگی سے اسرار حیات بھی معلوم کرسکتے ہیں اور بلاشبہ یہی وہ رموز واسرار ہوتے ہیں جو زندہ قوموں کو فلاح وترقی کی معراج کراتے ہیں، جہاں پہنچ کر حضرت انسان کبرونخوت کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اسرار خودی وخود شناسی اسے خدا شناس بنادیتے ہیں ، تاآنکہ وہ علم ومعرفت کی دولت گرانمایہ سے فی الحقیقت ہم عنا ں بھی ہوتاہے اور مؤمنانہ صفات اس کی طرف اس طرح لپکتی ہیں جیسے مقناطیس آہن پاروں کی جانب۔

چنانچہ مذکورہ ہر دوکتب سیرت وسوانح اور افکار وآثار کا حسین مرقع ہیں۔ جن کے جملہ مضامین آمد کا نتیجہ ہیں۔ آور د کا کہیں بھی اور کبھی بھی بالکل احساس نہیں ہوتا ۔ مولانا کشمیری کے رشحات قلم ان کے دل کی تراوش ہے ،جو حق وصداقت کا خوبصورت اعلامیہ ہے۔ ان میں جوش ہے ، ابال ہے ، حرکت وفعالیت ہے، غیرت وحمیت کی للکار ہے ، جذبۂ اندرون کی حسین صدائیں ہیں، سمندر کی گہرائی اور صحرا کا سکون ہے، گفتار ورفتار میں نرمی بھی ہے اور سبک خرامی بھی ،شعلہ بھی ہے اور شبنم بھی، اظہار حقیقت بھی ہے اور دیانت کا اعتراف بھی، فاضل مصنف اپنے ممدوحین کے دلگدازقصیدے سناتے ہیں لیکن بے سروپانہیں، عقیدت والفت کا اظہار کرتے ہیں مگر حدا عتدال سے نہیں ہٹتے ، زبان وبیان میں بڑی ندرت ہے، جملوں کی تراش خراش اور انتخاب تعبیرات میں ید طولیٰ حاصل ہے ، لگتاہے کہ جملوں کا برمحل شتابی استعمال مولانا مرحوم کا وصف خاص تھا۔ وہ بے تکلف لکھتے بھی اور املابھی کراتے ، یہی بے تکلف استعمال مذکورہ کتابوں میں مکمل طور پر موجود ہے جس سے مطالعہ کی لذت دوآتشہ ہوگئی ہے اور قاری کی شکم سیری بلکہ علم پروری کا بھر پور سامان بھی۔ ہر کتاب کی ہر سطر فاضل قلم کار کے ذوق جمال وحسن اظہارکی شہادت دیتی ہے ۔

عہدحاضر کے نام ور نقاد حقانی القاسمی کا شاہ جی کے نثری ادب کے سلسلہ میں بطور شہادت ذیل کا یہ اقتباس بھی ملاحظہ فرمایئے’’انظر شاہ کشمیری کی نثرمیں طلسمی کیفیت ہے ، اردومیں ایسی پردم اوربلند آہنگ نثر لکھنے والے کم ہیں، جن کے جملوں کے زیر وبم اور موسیقیت سے وہ اذہان بھی متأثر ہوتے ہیں جو لفظوں کے معانی ومفاہیم تک رسائی سے قاصر رہتے ہیں، ان کی نثرکی رمزیت اور اسراریت میں وہ کیفیت ہے کہ قاری اس کے سحر سے نکل نہیں پاتا، اور اس کا ذہنی وجود نثر کی موج رواں میں جذب ہوکر رہ جاتاہے‘‘۔دارالعلوم دیوبند کاادبی شناخت نامہ:ص:۷۸-۷۹

 حضرت شاہ صاحبؒ کے زرخیز حافظہ ،وسیع مطالعہ ، قوی مشاہدہ ، مستحکم طرز استدلال ، مدلل ومبرہن کلام اور شگفتہ انداز بیان نے ایسا مواد فراہم کیا ہے کہ بار بار پڑھنے سے بھی طبیعت سیر نہیں ہوتی ، ہل من مزید کی صدائیں بلند ہوتی مسموع پڑتی ہیں ، شاہ جی ؒ کی تحریر یں ان کے بلند تخیل کی پیداوار ہیں۔ وہ قادرالکلام نثر نگار اور زور آور انشاء پرداز تھے۔ ان کی ابحاث علمی بھی ہیں، تحقیقی بھی ہیں اور سوانحی بھی۔ جس موضوع پر چاہتے ہیں دلائل وبراہین کے انبار لگادیتے ہیں ، انہیں نہ تکان ہوتی اور نہ افسردگی کا احساس ، ہمہ وقت ان کا خیال بلندیوں کو چھونے، آفاقیت کو سمیٹنے اور مسائل لاینحل سے نپٹنے کا رہتا ہے جس کا ادراک مذکورہ کتب سے بھی ہوتاہے۔حقائق کو واشگاف کرنا، دقائق کو بیان کرنا اور واقعات ونوازل سے صحیح نتائج کا استخراج ان کا وجدانی پہلو ہے جس میں ان کی جمالیاتی حس اور ذکاوت وموزونیت کا بڑا دخل ہے ۔وہ مسائل وحوادث سے الجھتے ہی نہیں بلکہ تریاق بھی فرماتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب کی نثر نگاری وانشاء پردازی کی تفہیم وتشریح بھی دراصل انہی لوگوں کے بس کی بات ہے جو بذات خود اچھے نثر نگار اور صاحب فن ہوں ، یہ تہی دامن اور کوتاہ قلم کیا عرض کرتا لیکن تعمیل ارشاد اور خیال خاطر اکابر کے مدنظر یہ چند بے ربط سطور صفحۂ قرطاس پر منتقل کر رہاہے جس سے بحیثیت نثر نگارانظر شناسی کا تحرک پیدا ہوسکتاہے ، علی الخصوص اس لئے بھی کہ آپ کے یہاں طرز تحریر اور نثر وانشا نگاری میں تخلیقیت کا بے پناہ وفور ہے ، علمی خانوادے کے چشم وچراغ اور نامور والد کے سعید بیٹے تو تھے ہی اس پر مستزاد شروع ہی سے لکھنے لکھانے کا معمول وبے پناہ جذبہ ، چنانچہ معروف ادیب اور ممتاز صاحب قلم مولانا مناظر حسن گیلانیؒ آپ کے ایک خط کے جواب میں ارقام فرماتے ہیں

’’ہر شخص کے رجحان ، افتاد طبع، اس کی اندرونی صلاحیتوں کی نوعیت کو معلوم کرنے کیلئے صرف چند سطریں ارباب نظر کے نزدیک کافی ہوتی ہیں ، خاکسار نے آپ کی کوئی مستقل تحریر تو نہیں دیکھی ہے، صرف متعددمکاتیب ہی سے سرفراز ہوا ہوں، لیکن ان خطوط میں بھی جو میں نے پایا ہے اس کی بنیاد پر میں کہہ سکتاہوں کہ ’’اسلام‘‘ کی خدمت قلم کی راہ سے ان شاء اللہ آپ آئندہ کریں گے اس کی توفیق آپ کو بخشی جائے گی اور گوچھوٹا منھ بڑی بات ہے لیکن کچھ ایسا معلوم ہوتاہے کہ ہندوستان کی اسلامی تاریخ میں کشمیر کے سادات کے ایک خانوادے کو خصوصی اہمیت حاصل ہونے والی ہے‘‘ (لالہ وگل ص۱۰۰)۔

ملک کے ایک مایۂ ناز اہل علم وقلم کی یہ پیشن گوئی بلکہ شہادت اس زمانہ کی ہے جب آپ کے قلمی سفر کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔ پھر رب دوجہاں نے وہ دن بھی دکھایا کہ آپنے حضرت علامہ کشمیریؒ کے نام اور کام کو آگے بڑھایا اور اپنے معاصرین میں انفرادیت کے چراغ روشن کئے ، زبان وقلم کی راہ سے آپ کی وقیع خدمات آب زلال سے مرقوم ہوں گی اور وقت کا مؤرخ ان کارہائے نمایاں سے صرف نظر نہ کرسکے گا۔

خیر یہ گفتگو تو بطور جملہ معترضہ کے تھی۔ اصل بات نقش دوام اور لالہ وگل کے محتویات ومشتملات کے تعلق سے چل رہی تھی کہ شاہ صاحب کے تحریری بانکپن اور نثری اسلوب کا رنگ وآہنگ ان کی کتابوں کے مطالعہ سے بخوبی ہوجاتاہے ، مثلاً لالہ وگل میں شامل مضامین کی اشاعت کا آپنے ارادہ کیا تو ’’خامہ فرسائی‘‘ کے عنوان کے تحت یوںرقم طراز ہوئے ’’کہاں گئے دوست احباب؟ کس دنیاکے باسی ہیں شفیق ماں باپ؟ یہ عورت کا سہاگ کس نے لوٹا؟ یہ شوہر کی خانۂ ویرانی کس نے کی ؟ یہ بچے کیوں یتیم ہوگئے؟ یہ شادآباد گھرانہ آج ماتم کدہ ہے؟ کیا کہہ گیا اور کیسی سچی بات وہی اردو کا مشہور شاعر جس نے عروج کے بعد زوال دیکھا ،جسے امارت کے بعد فلاکت نے گھیرا یعنی ان شاء اللہ خاں انشاء     ؎

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب تیار بیٹھے ہیں

بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

آہ! غفلتوں کا پشتارہ اس پر خدا تعالیٰ کی جانب سے انتباہ واِیقاظ، حالانکہ عبرت پذیر دل ودماغ نے ہر لمحے کی آمد ورفت کو بھی درس عبرت قرار دیا  غافل تجھے گھڑیال یہ دیتاہے منادی

گردوں نے گھڑی عمر کی ایک او ر گھٹادی

پھر آگے لکھتے ہیں

’’اپنے بزرگوں ، اپنے اکابر، جانی پہچانی شخصیتوں اور متعارف افراد واشخاص پر یہ مضامین قلم بند ہوئے ، خدا جانے کن کن مجلات وجرائد کیلئے اور کہاں کہاں کے اخبارات ورسائل میں شاید قدرت انہیں محفوظ رکھنا چاہتی ہے کہ عزیز قلبی خادم زادہ مولوی احمد خضر سلمہ کو خیال ہواکہ جمع ترتیب کے بعد ان کی طباعت کا سروسامان ہوکارساز حقیقی کی چارہ سازیاں کہ طویل وسنگلاخ مراحل سے گذر کر اب یہ مجموعہ آپ کے ہاتھوں میں ہے ‘‘۔

لالہ وگل میں جن شخصیات پر طبع آزمائی کی گئی ہے ان میں سے بعض کے نام آپ کے خطوط پھر ان کے جوابات جو مکتوب الیہ کی جانب سے وارد ہوئے ، مندرج ہیں ان خطوط کا پس منظر بھی شامل کتاب ہے جس کے تعلق سے آپ لکھتے ہیں 

’’ہر مکتوب کے پس منظر کو لانے کے لئے قلم گھسنے کی ضرورت تھی سو وہ اس کم سواد نے انجام دی ، مہم تو سرنہ ہوسکی لیکن کچاچٹھا آپ کے روبرو ہے، نگاہ خوردہ گیرسے بھی پناہ مانگتا ہوں اور مبالغہ آمیز مدح سے بھی اگریہ مجموعہ قابل قبول ہے تو رحمت رحمان کا ادنیٰ کرشمہ قرار دے کر داد کارخ بے تکلف احمد خضر کی طرف کیجئے ، ناپسندیدہ ہے تو گردن زدنی میں ہوں‘‘ (لالہ وگل ص۱۴)۔

شاہ جی کی حالات حاضر ہ پر گہری نگاہ رہتی وہ مسلمانوں پر دشمنان اسلام کے تابڑ توڑ دینی علمی مذہبی فکری اور عسکری حملوں سے نہ صرف کڑھتے بلکہ تاریخ اسلام اور صحابہ کرام کے عہد میمون سے وافی شافی اس کا تحلیل وتجزیہ فرماتے ہیں ،چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’اس صدی کا مسلمان مشرق میں ہو یامغرب میں جنوب میں یا شمال میں زندگی کے جن نازک مرحلوں سے گذر رہا ہے اس طرح کہ شوکت وطاقت سے بھی محروم ہے اقتصادی ومعاشی الجھنوں میں بھی گرفتار اور سیاسی اقتدار سے بھی بہت دور ، ان حالات میں اسلام کی ان چند شخصیتوں کے عبرت انگیز حالات اور کوائف ہی سننے اور سنائے جانے کی چیز ہے۔ کیا عجب ہے کہ امت کی موجودہ نسل اپنے رجال واشخاص کی زندگی کو نمونہ بناکر روشنی کے ان مناروں سے اپنے ٹمٹماتے ہوئے چراغ روشن کرسکے‘‘۔

آپ کا قلم وزبان اسلام کا ترجمان تھا وہ دفاغ عن الدین کے بارے میں بیحد حساس تھے ۔ مغرب کی جانب سے جو تمدنی اور فکری یورشیں مشرقی ایوانوں پرہورہی تھیں اس سے آپ رنج والم محسوس کرتے اور اس پر قدغن لگانے سے دریغ نہ فرماتے ، چنانچہ آگے تحریر فرماتے ہیں

’’امریکہ کی تقلید ، یورپ کا فکر، کمیونزم کے تخیلات، امپریلزم کے افکا راور سوشل نظریات وغیرہ ذلتوں کے گڈھوں میں کھینچ کر لیجانے والے تو ہیں لیکن قعر مذلت سے نکلنے اور نکالنے کا کام ان سے نہیں لیا جاسکتا ، خاک نشینوں کو خاک سے کاخ تک پہنچانے کا ذریعہ وہ تعلیمات ہیں جن کا سرچشمہ قرآن وحدیث میں اور جس کے سوتے عمل بالقرآن اور عمل بالسنۃ سے نکلتے ہیں، آج بھی انہیں حقائق پر عمل کرنے والے یہ کہتے ہوئے منزل کی طرف بڑی تیزگامی سے چلے جارہے ہیں کہ ’’ہوتاہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا‘‘ (لالہ وگل ص۱۶)۔

شاہ صاحب کی تحریروں کے کئی زاویے ہوتے ہیں جو سب کے سب مکمل اور قابل رشک ،جہاں ان کا صوتی رنگ وآہنگ غضب کا ہوتاہے وہیں ان کا پیرایۂ بیان بھی دلچسپ ، وہ الفاظ بھی خوب لاتے ہیں مگرمعنویت کا حقیقی رشتہ بھی ختم ہونے نہیں دیتے ، جس کا اندازہ ذیل کے اس اقتباس سے لگایئے جو صاحبِ ترجمان السنہ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی پر ہے :

’’نیرنگی ہائے قدرت کہ نوح کے یہاں کنعان آزر کے یہاں ابراہیم وجود پذیر ہوئے اور عجیب وغریب روایات بطور یاد گار وسرمایۂ عبرت اپنے پیچھے چھوڑیں مشور ہندی شاعر’’ اقبال ‘‘ کو فخر تھا او راسی فخرنے ان سے کہلایا مرا بنگرکہ درہندوستان دیگر نمی بینی برہمن زادۂ ورمزآشنائے روم وتبریز است

اس میں یہ اور اضافہ کرلیجئے ، کہ پورا گھرانہ مغربی تعلیم سے آراستہ ، کوئی کلکٹر ، کوئی ڈپٹی کلکٹر، کوئی تھانیدار لیکن مخرج الحی من ا  لمیت نے انہیں ’’اموات‘‘ میں ایک جیتی جاگتی ہستی بھی پیدا کردی۔ دنیا سے چلے اور دین تک جاپہنچے ، فرنگیت کے غبار سے دامن جھاڑا اور پھر زمزم سے ہمیشہ کیلئے اسے دھوڈالا اور ایسا نچوڑا کہ فرنگیت کے آثار باقی نہ رہے۔ زہد وتقویٰ کی دھوپ میں اسے سکھایا، جسم زیبا پر لیا تو اس کی زبیائی میں اور اضافہ ہوا، سرخ وسپید چہرہ، منور آنکھیں، اس پر تابدار چشمہ، سر پر بالعموم رومال، نزاکت میں تانا شاہ ، نفاست میں واجد علی، حدت مزاج ایسی کہ ڈگری کبھی کم نہ ہوتی۔  لالہ وگل ص۱۳۴

خانوادۂ قاسمی کے روشن چراغ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبندکا تعارف بالکل ان کے مناسب حال یوں کراتے ہیں

’’خانوادۂ قاسمی کے گوہر شب چراغ ، چمنستان قاسمی کے گل سبد، سحرالبیان مقرر وواعظ، ہزار داستان نکتہ آفریں، نکتہ شناس، پرانی روایات کے حامل لیکن جدت سے بھی نفور نہیں بلکہ قدیم وجدید کے سنگم، ایسے دریا جس میں ہر طرح کی ندیاں آکر گھل مل جائیں، خوش روبلکہ مغل شاہزادوں کی طرح خوب رو خوش پوشاک، قامت ایسا زیباکہ ہر لباس ان کے بدن پر بہار دیتا، روئی کے گالے کی طرح سفید بڑی آنکھیں جن پر دبیز پلکوں نے خوشنما سائبان کی شکل اختیار کی تھی، چہرہ پر معصومیت کا نور، خلوت اور جلوت میں فرشتوں کے ہجوم میں رہتے ، جس مجلس میں پہنچتے صدرنشیں، جس محفل میں درآتے تو مسند آرا، حلم وتحمل، صبر وضبط پوری زندگی پر حاوی ، عفو ودرگزر زندگی کے ہر شعبہ ومنزل میں نمایاں، ساٹھ سال سے زائد دارالعلوم کا اہتما م کیا اور اسے جہاں گیر بنایا، شرق وغرب کے سفر کئے اور دارالعلوم کی آفاقیت کے پھریرے اڑائے ۔ ص۱۲۸

شاہ صاحبؒ ملفوظات حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے بہترین حافظ اور ناقل ہیںکوئی بھی مسئلہ ہو یاکوئی بھی ادق موضوع ان کا ثاقب ذہن فوراً اس کے مالہ وما علیہ کی تفہیم وتحصیل میں اپنا جوہرکمال دکھاتا ہے یہاں صرف نقلِ ملفوظ کا نمونہ دیکھئے’’اہل علم جانتے ہیں کہ الجھے ہوئے مسائل میں امام ابو حنیفہؒ آخری فیصلہ مبتلیٰ بہٖ پر چھوڑ دیتے ہیں اور پھر حضرت تھانوی تو بلا شبہ فقیہ الامت تھے جن کے فتاویٰ پر آج بھی کروڑوں مسلمان باطمینان خاطر حرام وحلال ، جائز وناجائز کے فیصلے قبول کررہے ہیں مگر آپ ہی کو اک روز نماز کے ختم پر دانتوں میں کچھ خون کا شبہ ہوا تو نماز کی صحت وعدم صحت کے بارے میں اپنی رائے پر اعتماد کے بجائے دو مستند اہل فتویٰ کو دکھا کر نماز کی صحت کا اطمینان حاصل کیا ، ان علمائے ربانیین کی یہی شان تھی …… دانت کی تکلیف کے دوران لاہور کے کسی معالج نے دانت میں سونے کے استعمال کی تجویز کی، حضرت کو اس میں کچھ الجھن تھی تو باضابطہ دارالعلوم کے دارالافتاء سے استفتا فرمایا اس وقت کے مسند نشیں اہتمام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب وحضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے تھانہ بھون حاضر ہوکر عرض کیاکہ آپ خود فقیہ الامت ہیں آپ کے ہوتے ہوئے ہم اس پر کیا لکھیں فرمایاکہ ’’یہ میری ذاتی الجھن ہے کہیں ایسانہ ہو کہ میں اپنے لئے سہولت کی راہ نکال لوں ‘‘ اگر مقالے کی طوالت کا خوف نہ ہوتا تو اس طرح کے احتیاط کے واقعات آپ کی سوانح سے بکثرت پیش کئے جاسکتے ہیں۔ ص۴۹

زیر قلم شخصیت پر جب آپ خامہ فرسائی کرتے ہیں تو حقیقت نگاری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹتا، تعارف بھی تعریف بھی اور تنقیح بھی ، مگر سوال نہیں کہ منفی تنقید کا کوئی بھی عنصر درآیا ہو دیکھئے یہ نمونہ’’قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے پوتے ، دارالعلوم دیوبند کے فاضل ، حاذق طبیب اور گوشہ نشین دانشور ، لباس وپوشاک نفیس، گفتگو نستعلیق ، ان کی اردو عرب کے صحرا سے اس طرح گذری کہ اردو برائے نام اور عربی کا غلبۂ تمام ، حافظہ بے نظیر، مضامین مستحضر، بولنے پر آتے تو بے تکان بولتے چلے جاتے ،ناز میں پلے ہوئے ، نیاز مندی سے بہت دور، مرزا مظہر جان جاناں ؒ نے لکھا ہے کہ نازک مراجی لازم صاحبزادہ گیست ‘‘ مرزا مرحوم کے اس قول کی تصدیق حکیم صاحب کو دیکھ کر کرنا پڑتی ہے ، مشہور مقولہ ہے کہ بیوی اور خادم کسی کے معتقد نہیں ہوتے ، خاکسار کی جانب سے اس میں صاحبزادوں کا بھی اضافہ کرلینا چاہئے لیکن عجیب بات ہے کہ حکیم صاحب کو حضرت شاہ صاحب مرحوم سے بے پناہ عقیدت تھی خاکسار سے فرمایاکہ میں جب دارالعلوم دیوبند میںپڑھتا تھا تو حضرت شاہ صاحب ؒ کو ارادتاً پہروں دیکھتا اور یہ سوچتا کہ جناب رسول اللہ  ﷺ کی رفتار وگفتار آپ کی نشست وبرخاست ، قعود وقیام، لباس وپوشاک ، انداز کلام وگفتگو اس طرح  ہوگا۔ ص۲۲۵

اپنے وطن کشمیر کا تعارف جس طرح شاہ صاحب نے لکھا ہے وہ انہی کا کمال اور حصہ ہے ،کشمیر کے تعارف پر یہ ایک البیلی تحریر ہے جو بس پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے، پر شوکت الفاظ ہیں ، مؤثر ودلکش تعبیرات ہیں ، سوز دروں اس پر مزید چنانچہ لکھتے ہیں

 ’’ حضرت شاہ صاحب مرحوم کا وطن وہی کشمیر ہے جو اپنے حسن وجمال ، رعنائی وکشش، جاذبیت ودلکشی شبابی وشادابی میں عالمی شہرت رکھتا ہے جس کی پر حسن فضا، دوڑتے ہوئے دریا، اچھلتا ہوا پانی، چشموں کی فراوانی ، نکہت گل کی کثرت، پھلوں کی بہتات، آب وہوا کی خوش گواری ، مناظر کا حسن قدیم زمانے سے سیاحوں کے دامن دل کو اپنی جانب کھینچتا رہا ، بادشاہوں نے یہاں پر بارعیش کھولا اور خانقاہ بدوش صوفیاء اس کے جمال دل افروز میں پاگرفتہ ‘‘ ۔ص۳۶۷

حضرت شاہ صاحب اپنے والد مرحوم کی شاعری اور ان کی فن کا رانہ صلاحیتوں کے اعتراف میں لکھتے ہیں

 ’’مبدأ فیاض شاعر کو ایک نرم ونازک وحساس قلب سے سرفراز فرماتا ہے۔ وہ اپنے ماحول وگردوپیش سے عام انسان سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہوتا ہے اور پھر اس کا تأثر شعری لب ولہجہ میں ڈھل کر دوسروں کیلئے اثر انگیز واثر آفریں ہوتا ہے۔ محبوب کی بے التفاتی، رقیبوں کی عداوت ، پھولوں کا حسن، نسیم سحرکی نزاکت، کہساروں کی رفعت، پانی کی اچھل کود یہ اور سب چیزیں شاعر پر ایک اثر چھوڑتی ہیں ، اسی طرح وہ کسی کی موت کی شدت کو بھی محسوس کرتاہے، یہی اثر مرثیہ بن جائے گا اسے جناب رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی سے والہانہ تعلق نعت کی طرف متوجہ کرے گا، خدائے تعالیٰ کی صناعی اور اس کے انعامات کی بارش حمد کا روپ دھارے گی، کسی شخص کے کارنامے دامن دل کو کھینچیں گے تو وہی قصیدہ بن جائے گا ،غرضیکہ غزل ہو یا نظم ، مسدس ہو یا رباعی، قطعات ہوں یا مخمس ہر ایک کا پس منظر شاعر کو اپنے تاثرات وانفعالات کے اظہار پر مجبور کر دیتا ہے۔۔۔حضرت شاہ صاحب ہوں یا علمائے ربانی ان کے قصیدے کرم طراز یوں یا امراء کی عنایتوں کا مظہرنہیں ہوں گے یہ کام تو قاآنی وخاقانی کا ہے‘‘ نقش دوام ۲۶۲؍۲۶۳

ختام مسک کے طور پر بس یہی کہا جاسکتاہے کہ شاہ صاحب شگفتہ تحریر وانشاء کے طرح دار تھے۔ نقش دوام کا ہر ورق اور اس کی ہر سطر علم وکمال کے خزانہ سے مملو ہے، وہ اپنی تحریر کے بانکپن میں عظمتوں کا طواف کرتے نظر آتے ہیں ، لالہ وگل ہو یا نقش دوام ایک مرتبہ شروع کردیجئے بس پھر مطالعہ کا انہماک بڑھتا ہی جاتاہے ، قاری کے سامنے ان کی نثری ادائیں اس طرح رقص کناں ہوتی ہیں کہ وہ بھی ان کی زلفوں کا اسیرہوکر مچلنے لگتا ہے، اس کیلئے بسا اوقات یہ فیصلہ بھی کار دشوار ہوتا ہے کہ وہ واقعات کو مستحضر کرے یا شاہ صاحب کے اسلوب نگار ش کو اپنے خانۂ دل میں آباد کرے، آخر کونسا موضوع ہوگا جس پر شاہ صاحب نے اپنے تیز گام قلم کو حرکت نہ دی ہو ان کی خدماتِ علم وقلم کا ایک وسیع جہان آباد ہے، جہاں شاہ صاحب اپنی ساحرانہ صحافت اور دل ربا نثری شناخت کے ساتھ تادیرزندہ رہیں گے اور ان کے معارف ومأثر کی شام دیر اور بہت دیر سے آئے گی۔

(بہ شکریہ ماہنامہ محدث عصر دیوبند )

مضمون نگار: مدرس حدیث وفقہ جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ

اردو آڈیو

x

Check Also

سچی باتیں۔۔۔ ہمارا عمل کیسا رہا؟— تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

1925-10-16 ربیع الاول کا مہینہ ختم ہوگیا۔ جس مہینہ میں دنیا کے ...