بنیادی صفحہ / مضامین / حج كا سفر۔۔۔ روانگی اور بمبئی میں (03 ) ‏، مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی

حج كا سفر۔۔۔ روانگی اور بمبئی میں (03 ) ‏، مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی

Print Friendly, PDF & Email

اس حقیقت پر كہاں تك آنسو بہائیے گا كہ عازمین حج كی بڑی تعداد حج كے ابتدائیات ہی سے نابلد ہوتی ہے ‏، زیادہ صحیح لفظوں میں یوں كہنے كی جرأت كی جاسكتی ہے كہ ضروریات ِ دین ہی سے ناواقف اور نابلد ہوتی ہے ۔
كیا جانیے كیا ہوگیا ارباب جنوں كو
جینے كی ادا یاد‏، نہ مرنے كی ادا یاد
ہم لوگ صابو صدیق مسافرخانے كے اس حصے میں جو حج كمیٹی كے قبضے میں ہے كھڑے آپس میں باتیں كررہے تھے ‏، اچانك نظر پڑی كہ كئی ایك بوڑھے بنگالی كچھ كہ رہے ہیں اور رورہے ‏، سب ہی ادھر متوجہ ہوگئے ‏، مگر مشكل یہ تھی كہ ان بنگالیوں كی بات جو بجر دیہاتی تھے كسی كی سمجھ میں نہیں آرہی تھی ‏، كیا چاہتے ہیں اور كس بات پر رورہے ہیں ؟ كون پوچھے ؟حج كمیٹی كے پورے عملے میں ایك بھی بنگالی ‏، یا بنگلہ جاننے والانظر نہیں آرہا تھا ‏، ان بچاروں كے ہاتھوں میں كچھ كاغذتھے جن كی طرف اشارہ كرتے اور رونے لگتے تھے ‏، دیكھنے اور سننے والےلاچار كہ آخر كیسے حق غم گساری ادا كریں ؟
حسنِ اتفاق كہ ہمارے رفیق اور عزیز متین میاں بنگلہ جاننے والے نكل آئے ‏، انہوں نے دریافت كیا ‏، تو پتہ چلا كہ ان بنگالیوں كو محمدی جہاز میں جو 25 مارچ كو روانہ ہونے والاتھا نشستیں ملی تھیں ‏، نہ معلوم كن اسباب كے تحت جہازوں كے پروگرام میں عین وقت پر تبدیلی كردی گئی اور 23 مارچ كو جو اسلامی جہاز جانے والا تھا اس كی روانگی 25 مارچ كردی گئی ۔
مغل كمپنی كی طرف سے ایسے تنگ وقت میں پروگرام میں تبدیلی كی اطلاعیں عازمینِ حج كو بھیجی گئیں كہ دور درازكے رہنے والے مسافروں كو وقت وقت خبر پہنچی ‏، یہ بنگالی قافلہ كسی دیہات كا تھا اور 25 مارچ كے پروگرام كے حساب سے اپنے وطن سے روانہ ہونے والاتھا ‏، یعنی گھر سے اس طرح چلتا كہ چار‏، پانچ روز پہلے بمبئی پہنچ جاتا ‏، اپنے حساب سے اس نے گھر سے نكلنے كا پروگرام جس دن بنایا تھا ‏، اسی دن اس كو محمدی جہاز كے دو روز قبل روانگی كے پروگرام كی خبر ملی ‏، بنگال كے ایك دیہات سے بمبئی تك پہنچتے پہنچتے وہ وقت آگیا كہ صرف دو دن محمدی جہاز كی روانگی كورہ گئے تھے ‏، ان بنگالیوں نے بمبئی پہنچتے ہی اپنے كاغذات دكھائے ‏، تو انہیں سرسری جواب یہ ملا كہ آپ لوگ دیر میں آئے ‏، محمدی جہاز كی تمام نشستیں بھرچكی ہیں ‏، یعنی چار ‏، پانچ روز پہلے نہ پہنچنے كی وجہ سے امیدواروں كی فہرست كے اولیں ناموں كو آپ كی جگہیں دیدی گئیں ۔
اب یہ بنگالی اپنی كہ رہے ہیں اور حج كمیٹی والے اپنی اڑارہے ہیں ‏، نہ وہ ان كی سمجھتے ہیں ‏، نہ یہ ان كی ‏، اس مصیبت میں بنگالیوں كو رونا نہ آئے ‏، تو اور كیا ہو؟
ہم لوگوں كی بھی رگ حمیت بھڑكی اور ان بنگالیوں كی بغیر كسی غلطی كے محرومی پر ہم میں سے بہتوں نے حج كمیٹی والوں كی بڑی لے‏،دے كی ‏، بہرحال جب حج كمیٹی والوں كو صحیح صورتِ حال كا علم ہوا ‏، تو ان بنگالیوں كے لئے وہ گنجائش نكالنے پر مجبور ہوگئے۔
یہ واردات تو ہماری چشم دید تھی ایسے ہی نہ معلوم كتنے واقعے بنگالیوں ‏، آسامیوں ‏، میواتیوں ‏، مارواڑیوں اور پوربی ‏، یا پہاڑی اضلاع كے رہنے والے اترپردیش كے باشندوں كو زبان اور لہجے كی ناواقفیت كی بناء پر پیش آچكے ہوں گے ‏، جن كا ہمیں علم تو نہیں ہوا ‏، مگر جن كا وقوع پذیر ہونا لابدی سا ہے ۔
ان واقعات كی روشنی میں محسوس ہوا كہ حج ایكٹ كی مركزیت كو توڑے بغیر عازمینِ حج كے مصائب كا علاج ممكن ہی نہیں ہے۔
حاجیوں كی سہولت كے لیے حكومتِ ہند نے ایك مركزی قانون حج ایكٹ كے نام سے منظور كیا ہے جس كی دفعات كی رو سے ایك ‘‘ حج كمیٹی ’’ بمبئی میں قائم ہے ‏، جسے پہلے پورٹ حج كمیٹی كہتے تھے ‏، اب وہ صرف ‘‘ حج كمیٹی’’ كہلاتی ہے ‏، یہی حج كمیٹی حج اور مقاماتِ مقدسہ كی زیارت كے لیے جانے والے مسافروں كے تمام انتظامات كرتی ہے ۔
بمبئی كی حج كمیٹی پر ذمہ داریوں كا جتنا بوجھ زمانہٴ حج میں پڑتا ہے ‏، وہ اس كی متحمل نہیں ہوپاتی اور ہندوستان بھر كے عازمین حج كے مسائل سے نپٹنا كمیٹی كے لیے جس قدر دشوار ہے ‏، اس سے زیادہ ملك بھر میں پھیلے ہوئے عازمینِ حج كے لیے زحمت طلب ہے ‏، صورتِ حال یہ ہے كہ تقریباً تمام بڑی ‏، بڑی ریاستوں میں ریاستی حج كمیٹیاں قائم ہیں ‏، اس كے علاوہ ایك مركزی حج كمیٹی بھی دلی میں موجود ہے ‏، مركزی حج كمیٹی ملك كے مسلم زعماء اور مسلم ممبران پارلی منٹ كی ایك تعداد پر مشتمل ہے ‏، ریاستی كمیٹیاں بھی ریاستی قانون ساز مسلم ممبروں اور ذمہ دار باشندوں پر مشتمل ہیں ؛ لیكن ان میں سے كسی كے پاس كوئی اختیار نہیں ہے ‏، یہ صرف مشورہ دینے والے ادارے ہیں ‏، ساری طاقت حج ایكٹ كے تحت قائم كمیٹی بمبئی كے ہاتھ میں ہے جس كے اركان میں مركزی حكومت كے نامزد دو ممبر لوك سبھا كے اسپیكر اور راجیہ سبھا كے چیرمین كے نامزد كردہ دو‏، دو ممبر ‏،مہاراشٹر اسمبلی كے اسپیكر كے نامزد دو ‏، دو ممبر ‏، مہاراشٹر حكومت كی طرف سے بمبئی كارپوریشن كے ممبروں كی سفارش پر نامزد تین ممبر اور عہدے كے اعتبار سے بمبئی كلكٹر كسٹم بمبئی چیرمین پورٹ ٹرسٹ مركنٹائل میرین ڈپارٹمنٹ بمبئی كے پرنپلے افسر ‏، بمبئی كمشنر پولیس ‏، بمبئی میونسپل كمشنر اور بمبئی پورٹ ہیلتھ افسر اور یہ تمام اركان كمیٹی دو اور ممبروں كو كواپٹ (منتخب) كرتےہیں ‏، حج كمیٹی كی موجودہ تشكیل میں ( اور عموماُ اسی طرح وہ تشكیل پاتی ہے )بمبئی كا عنصر بے حد غالب ہے 19 ممبروں میں 14 ممبر خاص بمبئی كے ہیں ‏، اس كا نتیجہ یہ كہ عازمینِ حج كے تمام قضایا ‏، سرزمینِ بمبئی كے معزز ممبروں كے جنبشِ قلم ہی سے طے ہوتے ہیں ‏، حالانكہ جن كے قضیے درپیش ہوتے ہیں وہ سارے ملك میں پھیلے ہوئے ہیں ۔
حج كے متمنی اگر صاحبِ حیثیت ہیں ‏، تو بذاتِ خود اور اگر اتنی استطاعت نہیں ركھتے ‏، تو كئی ‏، كئی آدمی مل كر كسی ایك كو نمائندہ بناكر معاملات كی پیروی كے لیے پہلے سے ممبئی بھیج دے تے ہیں ‏، پھر یہ پیروكار اپنی ہنرمندیاں دكھاكر وہ كچھ حاصل كرسكتےہیں جسے كوئی دوسرا سوچ بھی نہیں سكتا ۔
کمپوزنگ: محمد رضی قاسمی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*