بنیادی صفحہ / مضامین / اُردو کی طلب، طالب اور مطلوب … تحریر : ندیم صدیقی

اُردو کی طلب، طالب اور مطلوب … تحریر : ندیم صدیقی

Print Friendly, PDF & Email

سنہ ۱۹۵۷ تا ۱۹۶۳ تک سمپورنانند یوپی کے وزیر اعلیٰ رہے اور اُنھیں کے دورِ حکومت میں اُردو کو ریاست بدر کیا گیا۔ اب جو یوپی میں اُردوکی صورتِ حال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بیشک اب اُردو کانام لینے والوں میں صرف مسلمان ہی رہ گئے ہیں، اُردوکے تعلق سے یہ جو چند نام ہندوؤں کے آتے ہیں وہ یا تو پچاس ساٹھ بر س عمر کے یا اس سے زیادہ سِن و سال کے لوگ ہیں اور اس وقت گنا جائے تو یہ حضرات ملک کی اتنی بڑی آبادی میں چند ہی رہ گئے ہیں۔ نئی نسل کے لوگوں میں یہ تعداد اِن سے بھی کہیں کم ہے۔
پاکستان کے مشہور ادیب و ماہر لسانیات پروفیسر غازی علم الدین کے ایک مضمون نے اس موضوع پر اُکسایا ہےکہ اُنہوں نے ۔۔۔ ’’ہندوستان میں اُردو کی زبوں حالی پر۔۔۔۔‘‘ اچھا خاصا ایک مقالہ لکھا ہے۔ A-4 سائز کے سات صفحوں پر یہ تحریر محیط ہے۔ جس میں انہوں نے یہاں کے بعض اُردو رسائل او ر کتابوں سے نتائج اخذ کیے ہیں۔ واضح رہے کہ موصوف نے حال ہی میں ایک مضمون’’ اُردو کے خلاف ’قیامت کی چال‘‘ بھی لکھا ہے جس میں پاکستان میں اُردو کی حالت پر کلام کیاگیا ہے۔ جسے ہم آئندہ کسی اتوار کو ادبی صفحے پر شائع کریں گے۔
یوپی یقیناً اُردو کا ایک گڑھ رہا ہے بلکہ اُردو کے معاملے میں پنجاب بھی کسی طرح کم نہیں تھا کیسے کیسے اُردو کے ادیب و شاعر اس سرزمین سے اُٹھے اور انہوں نے خوب خوب اُردو کی زُلفیں سنواریں۔
ہمارے ایک سینئر کرم فرما ڈاکٹر عبد الباری جنہیں شعرو ادب کے اکثرلوگ شبنم سبحانی(مرحوم) کے نام سے بھی جانتے ہیں ہر چند کہ اُن کا تعلق ٹانڈہ( فیض آباد ) سے تھا مگر انہوں نے لکھنؤ میں بھی خاصا وقت گزاراہے۔ وہ کہتے تھے کہ میاں! اس وقت اتر پردیش میں اُردو کے جتنے روزنامے شائع ہو رہے ہیں، قبل از آزادی بھی اُردو کے اتنے اخبار لکھنؤ سے شائع نہیں ہوتے تھے۔مگر افسوس کے ساتھ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اُردو صحافت کا جو معیار ہم نے دورِ گزشتہ میں دیکھا ہے ا س کا
عشر ِعشیر بھی دور ِحاضر میں دیکھنے کو نہیں ملتا، تعداد تو یقینا بڑھی ہےمگر معیار کی قیمت پر۔
سال چھ ماہ میں ایک آدھ بار دہلی اور کبھی لکھنؤ کا ہمارا پھیرا ہو جاتا ہے ۔ ہم دہلی میں جن مسلمانوں کے گھر گئے ان کی تعداد اگر سو ہے تو ان میں سے شاید ہی دس پانچ گھروں میں اُردو اخبار دیکھنے کوملے ورنہ ہم سب لچھے دار باتیں کرنا تو خوب جانتے ہیں اور صرف باتوں سے کیا ہوتا ہے ۔!!
جنوبی ہند میں حیدر آباد اور بنگلور کے بعد مہاراشٹرا ہی ایک ایسی ریاست ہے جہاں یوپی وغیرہ کے بہ نسبت اُردو کی صورتِ حال بڑی حد تک غنیمت ہے۔ مگر آثار و قرائن کی روشنی میں یہ ’’ غنیمت‘‘ کے روز بھی جلد ہی’’ شب ‘‘ میں بدل سکتے ہیں۔(ہمارے منہ میں خاک) زیادہ وقت نہیں گزرا جب ہمارے بعض دور اندیش کی ضد قسم کے خود ساختہ لیڈر مہاراشٹر میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ ذرا سوچیے کہ اگر یہاں دوسری سرکاری زبان اردو بن بھی جائے تو کیا مراعتیں مل سکتی ہیں، دراصل اس صورت میں جو کچھ مل سکتا ہے وہ تو پہلے ہی یہاں مل رہا ہے۔ دوسری سرکاری زبان کا نعرہ لگا کر ہم کیوں اپنے دشمنوں کو جگائیں۔!!
یہاں کون نہیں جانتا کہ مراٹھی زبان میں اُردو کی ماؤوں(عربی فارسی) کے لفظ اس طری رَچے بسے ہیں کہ بسا اوقات جب ہم غور کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لفظ توہم اُردو والے اس طرح سے اب استعمال ہی نہیں کرتے۔ سامنے کا ایک لفظ ہے ’’زکاۃ‘‘ اُردو والے چنگی ناکہ، آکٹرائے ناکہ تو بولتے ہوئے ضرور سنے جاتے ہیں مگر ان میں سے کسی کے منہ سے ہم نے کبھی زکاۃ ناکہ نہیں سنا جبکہ مراٹھی قوم کے لوگ باقاعدہ ’جکات ناکہ‘ کہتے ہیں ۔یہ جو اِس وقت مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندرفَڈ نویس ہیں، ذرا اُن کے نامِ نامی اسمِ گرامی کے آخری ٹکڑے پر توجہ فرمائیں ۔۔۔ نویس۔۔۔ یہ لفظ کس زبان سے مراٹھی میں پہنچا ہوگا آپ بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں اوراگر کوئی تحقیق کا بیڑا اُٹھا لے تو وہ فَڈ نویس کی اصل ’’ فرد نویس‘‘ تک بھی یقیناً پہنچ ہی جائے گا۔
اس وقت میونسپل کارپوریشن کے اِسکولوں سے لے کر نجی قسم کے اسکولوں تک آپ اگر چاہیں تو اس ریاست میں اپنے بچوں کو ثانوی درجات تک اُردو میڈیم میں تعلیم دِلوا سکتے ہیں۔ ممبئی اس ریاست کا مرکزی شہر ہے اور اس کی بلدیہ کے شہر بھر میں اُردو اسکول خاصی تعداد میں موجود ہیں جن میں اُردو بولنے پڑھنے والوں کی اکثریت کے بچے پڑھتے ہیں یا نہیں مگر یہ کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ مسلمان مرد و خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد اِن اسکولوں میں برِ سر کار ہے اور ا نھیں اچھی خاصی تنخواہ بھی ملتی ہے مگر ایک امرجو افسوس ناک ضرور ہے مگر ہے حقیقت ،کہ ان اساتذہ میں شاید ہی کوئی ملے جو اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں پڑھانا پسند کر تا ہو بلکہ ہماری ناقص معلومات کے مطابق ان اساتذہ کے بچے مہنگےانگریزی اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جہاں اُردو کی تعلیم کا کوئی نظم نہیں اور جو پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں تو وہاں اُردو پڑھائی تو جارہی ہے مگر ہم جیسے لوگوں کیلئے اس کی صورتِ حال بری نہ سہی مگر اچھی بھی نہیں ہے۔
اُردو کے ایک سینئر بزرگ دتاتریہ کیفی یاد آگئے ان کی ایک کتاب(اُردو زبان کے قواعد و اصول وغیرہ سےمتعلقات)’ کیفیہ‘کی ان دنوں ہم ورق گردانی کر رہے ہیں۔ ایک جگہ یہ خیال گزرا ،یہ کتاب تو ہماری جامعات کے نصاب میں شامل ہونی چاہیے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان دانش گاہوں میں فی زمانہ جس طرح کے اساتذہ ہیں ان میں شاید چند اشخاص بھی ایسے نہ ملیں جو اِس کتاب کو پڑھانے کے اہل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف کی ایسی کتابیں لائبریریوں میں بند ہیں ۔ ملک بھر میں اُردو کی جو صورتِ حال ہے،ہماری ناقص رائے میں اس کے ذمے دار ہم خود ہیں جب ہم ہی اُردوپڑھنا اور پڑھانا ہی نہیں چاہتے تو دوسرے کیا کریں گے، اس طرح ان کا کام تو ہم نے خود آسان کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بہت بڑے شاعر و ادیب ہیں اور دُنیا ہماری تحریروں کو پڑھ کر خوب حظ اٹھا رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم واقعتاًکچھ بھی ہوں مگر اپنے گھر میں ہماری نگارشات کو سمجھنے والا تو کجا پڑھنے والا بھی اکثر نہیں ہے ، جو ہیں وہ ہمارے اس کارِ بے مصرف پر ہنستے ہیں۔ اب سوچیے کہ کل تاریخ ہم پر کیوں نہ ہنسے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*