بنیادی صفحہ / مضامین / اردو کاجذب اُس کی گیرائی اور سمائی ۔۔۔ تحریر: ندیم صدیقی

اردو کاجذب اُس کی گیرائی اور سمائی ۔۔۔ تحریر: ندیم صدیقی

Print Friendly, PDF & Email
  ریگل سینما  (ممبئی)  اور جس سرکل پر میوزیم واقع ہے، عین اُسی کے سامنےسرکاؤس جی جہانگیر ہال ہے ، جو، اب ہماری ناقص معلومات کے مطابق آرٹس گیلری میں تبدیل ہوگیا ہے۔ شاید آج لوگوں کو یہ یقین کرنے میں تردد ہو کہ اسی جہانگیر ہال میں ہم نے اُردو مشاعرہ سنا ہے۔  یومِ ِاقبال کے موقع پر’ اُردو ادب عالیہ‘ کے زیر ِاہتمام جلسہ  ومشاعرہ منعقد ہواتھا ۔ اس جلسے کی مسندِ صدارت پر ڈاکٹر ظ انصاری جلوہ افروز تھے تو اسی  جلسے میں ہم نے پہلی  بار مشہورمراٹھا  وِدوان، فارسی کے اسکالر سیتو  مادھو راؤ پاگڑی کی تقریر سنی تھی جس کا موضوع علامہ اقبالؔ  تھے۔ آج ہماری نئی نسل ہی نہیں با لخصوص مراٹھوں کی نئی نسل بھی نہ جانتی ہوگی کہ یہ سیتو مادھو راؤ پاگڑی صاحب ہی تھے جنہوں نے مہاراشٹرا حکومت کی گزارش پر شیواجی چھتر پتی مہاراج کے سرکاری دستاویزات کا فارسی سے مراٹھی زبان میں ترجمے کا کام کیا اور شیواجی کے یہ سرکاری ڈاکومنٹس کتابی شکل میں مراٹھی میں شائع بھی ہوچکے ہیں۔ پہلی بارجب ہم نے سنا  تھا تو یہ بات ہمارے لئے بھی حیران کن تھی کہ۔۔۔ شیواجی کی سرکاری زبان مراٹھی نہ ہوتے ہوئے فارسی تھی۔!!
مگر یہ امر تاریخی حقیقت ہے جس کی سند آنجہانی سیتو  مادھو راؤ پاگڑی جی  تھے۔
۲۱ ،اپریل کی تاریخ تھی اورسَرکاؤس جی جہانگیر ہال جس میں دو منزلہ بالکنی تھی جس کا گنبد زمین سے اتنی بلندی پر تھا کہ نیچے سے اسے دیکھتے ہوئے ،   ہیبتِ فلکی کا احساس جاگتا تھا۔  پاگڑی صاحب اُردو میں کلامِ اقبالؔ کے محاسن کے اسرار کھول رہے تھے  اوراُن کی آواز تھی کہ گنبد سے ٹکرا کر جب ہمارے کانوں  میں پہنچتی تھی تو لگتا  تھا کہ فلم مغلِ اعظم کے پرتھوی راج مہابلی اکبر اپنے درباریوں کو خطاب کر رہے ہیں ہم کیا ہم تو اس وقت نو عمر تھے۔ اونچے اسٹیج پرصدرِ جلسہ ڈاکٹر ظ انصاری،  مقررین میں شبیر احمد راہیؔ،  عبد الحمید بوبیرے اورشعرئے کرام سب  کے سب پاگڑی صاحب کے لفظ و بیان  اور آواز کے  زیر وبم میں ساکت و صامت بنے  ہوئے تھے۔
’’کوئی ہمیں کیا بتائے گا ۔۔۔ اقبال کیا  ہے ؟۔۔۔ اقبال کو صرف اس کے ترانہ ٔہندی میں
د یکھیے وہ پورے شد  ومد کے ساتھ جذبۂ حب الوطنی سے سر شار ایک ہندوستانی نظر آتا ہے جو اپنے ملک کی عظمت اورحرمت پر اپنا  ہی سر بلند کرتے ہوئے محسوس نہیں ہوتا بلکہ اپنے سننے اور پڑھنے والے کو بھی ’ کیفیت ِاقبال مندی‘  سےشاد کردیتا ہے۔ یہ ہمارا شاعر ہے ہماری دیسی زبان اُردو کا شاعر ہے جسے ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا،ہماری اقبال مندی اسی سیالکوٹی محمد اقبال سے مشرع ہے۔‘‘
اس آخری جملے اور بالخصوص۔۔۔ مشرع ہے۔۔۔ پر تالیوں سے جب ہال گونجا، تو لگا کہ جیسے آسمان بھی پاگڑی جی کیلئے داد و تحسین کی برسات کرنے پرسخی بنا ہوا ہے۔ ہمارے اکثر ہم عمر بھی وِ دیا دَھر گوکھلےکو تو نہیں بھولے ہونگے۔ کل ہی کی تو بات ہے یہ مہاشے ممبئی کےسب سے بڑے مراٹھی روزنامے  ’ لوک ستہ ‘کے سمپادَک تھے وہ بھی  مرزا کے مغلوب تھے۔  اُنہوں نے بھی غالبؔ کا حق ادا کیا اور یہ حق کتابی شکل میں موجود ہے۔ ایک بار کرشن بہاری نورؔ نے ہمارے گھر پر کوئی سات آٹھ گھنٹے گزارے تھے ہماری بیگم کوجب اُنہوں نے دُلہن کہہ کر پکارا اور لکھنؤ کی دسہری دیتے ہوئے یہ بھی کہاکہ ’’لکھنؤ سے اسے لے کر چلا تھا   تو سوچا تھا  میرا روڈ جاکر اپنی بِٹیا کو دو ںگا مگر
  یہاں آکر پتہ چلا کہ ان دسہریوں پر تو ایک بہو کا بھی نام لکھا ہوا ہے۔۔۔
کیسےصاحب ِکردار تھے اور کیسے صاحب گفتار۔۔۔!:
’’سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں۔‘‘
بھیونڈی کے رئیس ہائی اسکول کے  میدان میں نصیر مومن  کے زیر اہتمام  منعقدہ یہاں کا تاریخی نعتیہ مشاعرہ باذَوق لوگ یقیناً نہیں بھول سکتے جس میں آنجہانی نورؔ ہی نہیں
نا مسلم شعرا میں ڈاکٹر وائ وی  لئیو شیدا چینی نے بھی اہلِ بھیونڈی کے ذوق کو بے طرح شاد کیا تھا اور جب اس مشاعرے کے صدر نشیں روِندر جین نے  مائک پر  رسول کریمؐ
سے اپنی عقیدت کا چراغ روشن کیا  تو بس دیکھتے اور سنتےہی بنی تھی ، عین
بارہ ربیع الاول کی شب اوررئیس کا پورا میدان شعرو شاعری کے مداحوں سے کھچا کھچ  بھرا ہوا تھا۔ جینؔ کی پاٹ دار پہاڑی آواز چاروں طرف عمارتوں سے ٹکرا کر لوٹتی تھی تو لگ رہاتھا کہ بس مومنینِ بھیونڈی کے قلوب  میں اُتررہی ہے:
’’آپ ؐکے چاہنے والوں میں ضروری تو نہیں
صرف شامل ہوں مسلمان؟  رسولِ اکرم  ؐ‘‘
جین دادا اپنی نعت سنا کر پلٹے تو بھیونڈی کے صاحبانِ دل نے  اپنی فطرت کے مظاہرے میں ذرّہ بھر بخیلی نہیں کی، ہزاروں کا مجمع یک  آواز تھا۔۔۔ ایک اور ایک اور۔۔۔
نابینا جین  مائک پر پلٹے اور پھر جب اُنہوں نے بصارت و بصیرت سے بھرپور جو مطلع پڑھا تو کیاعام کیا خاص سب کی آنکھیں نم تھیں۔ ہم نے اُس دن محسوس کیا کہ  ہمارا رسولؐ  جس کا  لاحقہ کریم بھی ہے اس سےذرا سی بھی اُلفت رکھنے والا کبھی محروم نہیں رہ سکتا یہ اور بات کہ کسی  کا انعام عقبیٰ پر رکھ دِیا جاتا ہے اور کسی کو اسی دُنیا میں نواز  دِیا جاتا ہے۔ ہم شعر و ادب کے ناقد واقد تو ہر گز نہیں البتہ شعر وادب کے طالب علم ضرور ہیں۔
جین دادا نے اپنے مطلع میں جو بات کہہ  دی ،  وہ بڑے بڑے صوفیا اور اہل قلوب کے دل ہی کی آواز نہیں بلکہ عقیدے سے کیا کم ہے:
تم اپنے دل میں مدینے کی آرزو رکھنا
پھر اُن  ؐ کا کام ہے جذبے کی آبرو رکھنا
اس مطلع کو سُنے ہوئے ایک دہے  سےکم مدت تونہیں گزری ہوگی مگر آج بھی  دل میں  یہ مصرعے سانسوں کی آمد وشد محسوس ہوتے ہیں اور اس کی تعبیر توہمارا سچاتجربہ
بن  چکی ہےکہ 2010میں ہمارے جذبے کی آبرو رکھ لی گئی،انہوںؐ نےخود بلایا  اور نوازنے کی تو یہ ہے  ہمارے پاس  لفظ نہیں جس طرح حجاز میں ہم پر کامیابی
اور کامرانی نچھاور کر دِی گئی۔
بس۔۔۔
تم اپنے دل  میں مدینے کی آرزو رکھنا
اسی بھیونڈی کے صاحبِ جلیل جو انصاری بھی ہیں انہوں نے   یوم آزادی کے موقع پر اتوار 20اگست کو پاورلوم مزدوروں کی بستی میں بلکہ یوں کہیں کہ اُردو والوں کی اس نگری میں ایک اچھی روایت  قائم کرنے کی سعیٔ احسن کی ہے کہ وہ اُردو کے نا مسلم شعرا کا ایک  مشاعرہ کر رہے ہیں اور حیرت ہے کہ اُنہوں نے ممبئی اور نواحِ ممبئی میں ایک خاصی
تعداد میں ایسے  شاعروں کو تلاش کر لیا ہے ۔ اُردو  دھرتی اور زمین کی طرح
جذب و گیرائی اور سمائی جیسی صفت کی حامل زبان ہے کہ اس میں کسی بھی دین دھرم کا آدمی ایسےکھپ جاتا ہے کہ بس آپ دیکھتے ہی رہ جائیں،
شرط صرف اس زبان سے محبت ہے۔
ہمیں یقین ہے عزیزم جلیل انصاری کی یہ کوشش کامیاب ہوگی اور اہلِ بھیونڈی اپنی روایت کے مطابق اس مشاعرے کو بھی تاریخی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔     

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*