بنیادی صفحہ / مضامین / دہلی اور اطراف کا ایک مختصر علمی سفر۔ ۰۸۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

دہلی اور اطراف کا ایک مختصر علمی سفر۔ ۰۸۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Print Friendly, PDF & Email

مانک مئو سے ہماری اگلی منزل جامعہ مظاہر علوم سہارنپو ر جدید تھی، عشاء سے کچھ پہلے ہم یہاں پہنچے، مولانا سید محمد شاہد مظاہری صاحب نے بڑی محبتوں سے خیر مقدم کیا ، اور ہمارے رہنے کا انتظام فرمایا، آپ کے فرزند مولانا مفتی سید محمد صالح الحسنی صاحب علم وکتاب گروپ کے ممبر ہیں ، اور ولد سر لابیہ کے مصداق، ان کا رات میں کہیں پروگرام تھا ، ان سے نماز فجر کے بعد ملاقات ہوئی،یہاں پر مولانا عبد اللہ خالد خیر آبادی ، مولانا ظہیر الھدی نور قاسمی ، اور مولانا محمد معاویہ سعدی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، یہ بتانا تحصیل حاصل ہے کہ مظاہر علوم ایک عظیم علمی مرکز ہے، یہاں اب بھی تحقیق و تصنیف کا کام اعلی پیمانے پر ہوتا ہے، یہاں سے شائع شدہ مولانا محمد معاویۃ سعدی صاحب کی کتاب الشیخ عبد الفتاح ابو غدہ فی ضوء تالیفاتہ و تحقیقاتہ نے دل کو اپنی جانب کھینچ لیا ، اس کے علاوہ جمع الفوائد من جامع الاصول ومجمع الزوائد کے نئے محققہ ایڈیشن اور خود مولانا محمد شاہد صاحب کی تصانیف تحریک آزادی ہند اور جامعہ مظاہر علوم وغیرہ کتابیں ہم جیسے طالب علموں کے لئے بڑی دلچسپی کا سامان رکھتی ہیں۔
حضرت مولانا سید محمد شاہد صاحب جامعہ مظاہر علوم کے ناظم اعلی کے منصب پر فائز ہیں، آپ کی اعلی نسبتوں کے لئے یہی کیا کم ہے کہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے نواسے ہیں،یہ رشتہ شایدہ دنیا میں سب سے پیارا رشتہ ہے، مرکز تبلیغ، نظام الدین دہلی کے اکابرین حضرت جی مولانا انعام الحسن رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا زبیر الحسن رحمۃ اللہ علیہ، مولانا زہیر الحسن صاحب وغیرہ آپ کے اقارب و اعزہ شمار ہوتے ہیں ، ایسی صاحب نسبت اور بزرگ شخصیات کو ہم جیسے لوگ عموما صرف دور سے دیکھ سکتے ہیں، اور بہت خوش نصیب نکلے توصرف مصافحہ کا موقعہ ملنے پر خوش ہوجاتے ہیں۔ اب تک مولانا شاہد صاحب سے ہمارا تعلق کچھ ایسا ہی تھا، ایک دو مرتبہ عقیدت مندوں کے جھرمٹ میں دیکھ لیا تھا، کبھی قریب جانے کا موقعہ نہیں ملا، اب جب مولانا سے ملاقات ہوئی تو محسوس ہوا کہ مولانا کے فیض سے محرومی تھی، اور اس کوتاہی میں ناچیز کے مزاج کا بھی دخل تھا۔اب جب بزرگوں سے مصافحہ کی بات آئی ہے تو پھر کیوں نہ قارئین کی دلچسپی کے لئے بزرگوں سے مصافحہ کے ایک دو مناظر کا ذکرہوجائے؟۔
ایک منظر تو ہمارے سامنے سنہ ۱۹۷۸ء کا ہے، ممبئی میں مراٹھا مندر کے پاس بمبئی آندھرا ٹرانسپورٹ کے مالک محمد بھائی کی ایک وسیع اور کشادہ حویلی ہوا کرتی تھی، اس حویلی کو ہندستان کے سبھی اکابر، حضرت حکیم الاسلام مولانا محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا ابرارالحق رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کی میزبانی کاشر ف حاصل رہا ہے، حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمۃ اللہ وطن سے اپنے آخری سفر ہجرت کے موقعہ پر یہیں ٹہرے تھے، اور یہیں حضرت شیخ کو دیکھنے اور مصافحہ کا شرف ہمیں ملاتھا، شہرممبئی میں حضرت شیخ کی موجودگی اور پیرانہ سالی میں آپ کے لاتعداد عقیدت مندوں کے ہجوم پر کنٹرول کرنا ایک امتحان سے کم نہیں تھا، لیکن میزبانوں کے لئے شاید یہ کوئی نیا تجربہ نہیں تھا، ان حضرات نے بڑی خوبصورتی سے مصافحہ کا نظم کیا تھا،کہ کوئی آنے والا محروم نہ ہوسکا، انتطام اس طرح تھا کہ حضرت شیخ ایک کرسی پر بیٹھ گئے، اور تمام حاضرین قطار سے بڑے ادب اور اطمئنان کے ساتھ حضرت شیخ سے مصافحہ کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
اس کے بعد ایک دوسرا منظر ہمیں ۱۲ ربیع الاول ۱۴۲۷ھ کو شارجہ کے تبلیغی مرکز میںنظر آیا، اطلاع آئی کی مولانا طارق جمیل صاحب کا خطاب ہے، مولانا تنزانیا سے دبی کے راستے کراچی جارہے تھے کہ مقررہ وقت سے آٹھ گھنٹے پہلے دبی کے لئے جہاز مل گیا، اس اضافی وقت کو یہاں کے تبلیغی مرکز والوں نے مفید بناتے ہوئےآپ کا بیان رکھ دیا ، سینہ گزٹ کے ذریعے خبر پھیلنے میں دیر نہیں لگی، آنا فانا مرکز کی مسجد بھر گئی، اندازا بیس ہزار سامعین رہیں ہونگے، مولانا کے بیان کے بعد عقیدت مندوں کا جو ہجوم ٹوٹا ہے کہ قیامت کا منظر سامنے آگیا، ایسا لگا کہ مسجد کے اندر لوگ پائوں تلے دب جائیں گے، سخت گھٹن کا موحول ہوگیا، مولانا کی آواز رندھی ہوئی تھی، آٹھ دس گھنٹے ہوائی سفر کی تھکاوت تھی،مسلسل مولانا بڑے ہی عاجزانہ انداز سے کہ کر رہے تھے، میری سانس رکی جارہی ہے، میں مر جائوں گا، مجھ پر رحم کرو، سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے مجھ میں کوئی سکت نہیں ، اللہ واسطہ مصافحہ نہ کریں، لیکن وہاںسننے والا کون تھا، ایک ریلا تھا کہ مصافحہ کے لئے بڑھا جارہا تھا، اسے کسی کے کہنے کی پروا نہیں تھی، جاہلانہ عقیدت کا ایسا دل خراش منظر کبھی آنکھوں کے سامنے نہیں آیا۔
عشاء کی نماز پڑھ کر مولاشاہد صاحب بڑی دلچسپ ملاقات رہی ، مولانا کے سینے میں یادوں اور مشاہدات کا ایک وسیع ذخیرہ محفوظ ہے، یہ تاریخ کی امانت ہے، ویسے مولانا نے ابتک مظاہر علوم اور حضرت شیخ کے حالات و افادات سے وابستہ پچاس سے زیادہ کتابیں لکھیں ہے، لیکن ہمارا اندازہ ہے کہ آپ کی مجالس کی اپنی ایک خوشبو ہے، اور اب بھی آپ کے پاس ایسے جواہر پارے رہ گئے ہیں کہ اگر منظر عام پر آئیں تو اپنی روشنی سے آنکھوں کو چکاچوند کردیں۔
مولانا سے معلوم ہوا کہ ابھی آپ کی عمر بارہ تیرہ سال کی تھی کہ تصنیف و تالیف کی طرف میلان ہوا، اسی عمر میں مدینہ کے شیخ احمد کا وہ مشہور خواب عام ہوا تھا، جس سے متاثر ہوکر عوام اس کی چالیس چالیس کاپیاں لکھ کر تقسیم کیا کرتے تھے، محلہ کی مسجد والوں نے مولانا سے کہا کہ اس خواب کی حقیقت پر ایک کتابچہ لکھیں ، آپ نے ان کی خواہش پورا کرتے ہوئے ، دستیاب مواد جمع کرکے اس خواب کے بطلان پر ایک کتابچہ لکھا ، جو محلہ کمیٹی والوں نے چھاپ دیا، حضرت شیخ کے ہاتھوں میں جب یہ پہنچا تو مولانا کو بلاکر آپ نے خوب ڈانٹ پلائی ، اور فرمایا کہ جب کتابچہ لکھا تھا، تو اپنے کسی بڑے کو کیوں نہیں؟ اور ان سے اس میں موجود معلومات کی تصدیق کیوں نہیں کروائی؟
مولانا شاہد اور آپ کے خالہ زادہ بھائی مولانا زبیر الحسن کاندھلوی رحمۃ اللہ کہ ابتدائی تعلیم حمد باری سے ہدایۃ النحو وغیرہ تک حضرت شیخ کی نگرانی میں گھر ہی پرہوئی تھی، شرح جامی کے درجے میں مولانا کا داخلہ مظاہر علوم میں ہواتھا، مولانا محمد یامین صاحب گیارہ ساڑھے گیارہ بجے تشریف لاتے اور اسباق پڑھا تے، صبح کے وقت مولانا حضرت شیخ اپنے دارالتصنیف میں رہتے ۔اور گھنٹے دو گھنٹے مراسلات کے جوابات املاء کرواتے، جوابات لکھنے کا یہ کام مولانا عبد الرحیم مٹالا صاحب کیا کرتے تھے، ہر وقت آموختہ تو یاد کرنا ممکن نہیںہوتا ، حضرت شیخ جب خطوط کا املا کرواتے تو آواز دور تک آتی ، اور مولانا شاہد صاحب کے کان اس طرف متوجہ ہوجاتے، ایسے موقعوں پر حضرت شیخ کے ان خطوط کو سن کر آپ اپنی نوٹ بک پر نقل کرتے ، اس طرح آپ کے سینکڑوں مکاتیب کے تین مجموعے جمع ہوگئے۔ بعد میں حضرت شیخ کوچوری چھپے مراسلت نقل کرنے کی خبر ہوئی تو آپ نے ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔
حضرت شیخ الحدیث نے اپنے سفر ہجرت کے دوران تقریبا ایک عشرے تک اپنے اس نواسے کو اپنے ساتھ رکھا، اس زمانے میں جدہ جانے کے لئے دہلی سے ممبئی یا پھر دہلی سے کراچی گزر کر جانا پڑتا تھا، اس زمانے میں آپ نے حضرت شیخ کے مکاتیب علمیہ مرتب کرکے کراچی کے مشہور ناشر کتب ہیچ ۔ یم سعید کمپنی کو دئے ، جب ایک بار حضرت شیخ کراچی کے راستے سفر کررہے تھے، تو آپ نے کراچی کے تبلیغی مرکز ۔ مکہ مسجد میں قیام کیا، اس وقت سعید کمپنی کے مالک ہنسی خوشی کتاب کے چند بنڈل لے کر آئے، اور پہلے حضرت شیخ کو یہ نسخے دئے ، پھر اس کے مرتب کو، مولانا شاہد کے ہاتھ میں مفت کتابوں کے بنڈل دیکھ کر حضرت شیخ نے خوب ڈانٹا، جب حضرت شیخ خاموش ہوئے تو مولانا نے آپ سے ڈانٹنے کا سبب دریافت کیا، تو حضرت شیخ نے فرمایا کہ ان کا معاوضہ کتابوں کے بنڈل کی صورت میں کیوں لیا؟ ۔ تو مولانا نے وضاحت کی کہ سعید کمپنی والوں سےیہ پہلی ملاقات تھی، اور ان سے کتابوں کا کوئی معاوضہ کبھی انہوں نے طلب نہیں کیا ہے، اس پر حضرت شیخ نے فرمایا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا؟ تو مولانا نے وضاحت کی کہ اس کا موقعہ ہی آپ نے کب دیا ؟ آپ نے تو پہلے ہی ڈانٹ دیا۔
حضرت شیخ کا یہی عمل تھا، جس کو اپنا تے ہوئے، مولانا نے اپنی کسی کتاب پر رائلٹی نہیں لی، اور اس کی اشاعت کے حقوق عام کردئے۔
مولانا کی اس بات سے ہمیں بہت پہلے سنی ہوئی بات یاد آئی کہ حضرت شیخ کی کتاب تبلیغی نصاب ابتدا میں آپ کے اشاعتی ادارے مکتبہ یحیویہ سے چھپا کرتی تھی، اور اس کی آمدنی مظاہر علوم کو جاتی تھی، اس کی مقبولیت کو دیکھ کر دہلی کے ادارہ اشاعت دینیات کے منشی انیس نے بڑے اعلی معیار پر اس کی اشاعت کی، جس سے ان کے تو وارے نیارے ہوگئے، لیکن اس سے مکتبہ یحیویہ کے نسخوں کی اشاعت رک گئی، اور گودام میں پڑے پڑے کتابیں خراب ہوگئیں، جس سے جامعہ کا بڑا مالی نقصان ہوگیا، اور اس کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بھی بند ہوگیا، حضرت شیخ نے اس پر ناراضگی کا اظہار تو کیا، لیکن ادارہ اشاعت دینیات ہی کیا ، کسی دوسرے ادارے کو بھی اس کی اشاعت سے نہیں روکا۔
حضرت شیخ کا خاندان مہمان نوازی میں بڑی شہرت رکھتاہے، مولانا شاہد صاحب کا عشائیہ اس کی مثال تھا، صبح ناشتے کے بعد نئی منزل کی طرف ہم رواں ہوئے، لیکن دل میں کسک ر ہی کہ ہمارے غائبانہ کرم فرما مولانا مفتی ناصر الدین مظاہری کی ملاقات سے محرومی رہی ، چونکہ یہ ایام مدارس میں ششماہی تعطیلات کے تھے، اور مولانا اپنے وطن بال بچوں کے پاس گئے ہوئے تھے، انہیں اس بات کی ناراضگی تھی کہ اس سفر میں ان کے لئے ہمارے پاس چند گھنٹے تھے، اور ان کا تقاضا اس سے بہت زیادہ وقت کا تھا، اب انہیں کون بتائے کہ غائبانہ محبتیں کبھی غیر حقیقی بھی ہوا کرتی ہیں،اور ایسی محبتیں شرمندگی کا باعث بھی بنتی ہیں، ایک دو گھنٹوں کی رفاقت کے لئے انہیں ہم چوبیس گھنٹے سفر کرکے آنے کے لئے کیوں کر کہتے؟، توفیق یزدی شامل حال رہی تو ان شاء للہ مفتی صاحب کی ملاقات کا قرض ادا کرنے کی کوئی سبیل نکل ہی آئے گی ، آپ بھی دعا کریں،اس مادیت بھری دنیا میں اہل اللہ کی صحبتوں کے مواقع ملتے رہیں، تاکہ محبین کی ملاقاتوں کی خوشیاں بھی ملیں، اور ایمان کی تازگی کے مواقع بھی۔ ۔۔ جاری۔۔۔
http://www.bhatkallys.com/ur/author/muniri/

 

x

Check Also

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ سَیر، سیر اور سِیر۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

ایک قاری نے استفسار کیا ہے کہ پچھلے شمارے میں لاش اور ...