بنیادی صفحہ / مضامین / قوم کو جگانے والا شاعر۔۔۔ اعجاز رحمانی۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

قوم کو جگانے والا شاعر۔۔۔ اعجاز رحمانی۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Print Friendly, PDF & Email

[email protected]

یہ ۱۹۸۰ کے موسم سرماکی ایک ٹھنڈی شام تھی، دبی کریک پر واقع عالیشان ہوٹل شیراٹون کے وسیع وعریض ہال میں دبی کی تاریخ کے پہلے عالمی اردو مشاعرے کی محفل سجی تھی،اس میں اس وقت کے برصغیر کے مایہ ناز اور بزرگ شعراء شریک تھے، ان میں کلیم احمد عاجز، حفیظ میرٹھی، جگن ناتھ آزاد، فنا نظامی کانپوری، شاعر لکھنوی، قتیل شفائی، کلیم عثمانی، اقبال صفی پوری، احمد ندیم قاسمی، دلاور فگار، سید اقبال عظیم،
جیسے عظیم شاعرحاضر تھے ، یہ مشاعرے کی تاریخ کا ایک ایسا معیاری مشاعرہ تھا، جس کے بعدنہ صرف یہاں بلکہ شاید برصغیر میں بھی ایسی کہشکشاں دوبارہ نہیںسجی، کیونکہ چند سالوں میں یہ کہشاں ٹوٹنے لگی، اور اس محفل کو رونق بخشنے والے یہ شاعرجہاں ایک طرف اپنی پیرانہ سالی سے مشاعروں میں شرکت سے معذور ہونے لگے،تو دوسری طرف ان کی بڑی تعداد ایک عشرے کے اندر دار فانی کو کوچ کرگئی۔ اس مشاعرے کی نظامت قادر الکلام اور استاد شاعر حضرت راغب مرادآبادی کے حصہ میں آئی تھی ، جن کی برجستہ گوئی اور عروض پر قدرت کی مثال شاذ و نادر ہی ملتی ہے، وہ بر وقت شعراء کے نام پر مشتمل اشعار ڈھال کرکے انہیں دعوت سخن دے رہے تھے۔حفظ مراتب کو دیکھتے ہوئے میزبان مقامی شعراء کے کلام سے اس محفل کا آغاز ہوا، اردو مشاعرے کی روایت اس سے پہلے دبی میں کہا ں تھی؟حاضرین میں سے ایک بڑی تعداد کو معلوم بھی نہیں تھا کہ مشاعرے کی بھی کوئی تہذیب ہوا کرتی ہے، اب آوازے کسے جانے لگے ، ایسی ہوٹنگ ہونے لگی کہ الامان الحفیظ، ہڑبونگ ایسی مچی کہ منتظمین مشاعرہ آئندہ ایسی کوئی محفل سجانے سے توبہ کرلیں۔ اور جب یہ بے ہودگی اپنے عروج پر تھی اور کانوں پڑی بات سنائی نہیں دے رہی تھی،تو ایسے میں ناظم مشاعر ہ نے ایک ایسے شاعر کو آواز دی جس کی عمر چالیس سے کچھ ہی متجاوز تھی، چہرے مہرے پر جوانی کے آثار نمایاں تھے، اور غالبا مہمان شعراء میں وہ سب سے عمر کم تھے، یہ تھے اعجاز رحمانی جن کا نام مکمل نام سید اعجاز علی رحمانی تھا، ناظم مشاعرہ نے سامعین کی گونج میں مہمان شاعر کے بارے میں ایک شعر پڑھ کر صرف اتنا بتا یا کہ کراچی سے آئے ہیں، اور شاعر موصوف نے بغیر کسی تمہید ، دا د طلبی ، یا شاعرانہ تکلفات کے اپنی غزل پیش کردی، جس کے پہلے ہی شعر نے سامعین کو چوکنا کردیا، اور یک لخت ہوٹنگ بند ہوکر واہ واہ اور دوبارہ ارشاد کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ مشاعرے کا رنگ یکسر بد ل گیا۔ اعجاز رحمانی نے اپنی باری اس غزل سے شروع کی تھی۔
جنوں کا رقص تو ہر انجمن میں جاری ہے
فراز دار پہ لیکن سکوت طاری ہے
مزید عرض تمنا کا حوصلہ ہے کسے
ابھی تو پہلی نوازش کا زخم کاری ہے
یہ رنگ ونور کی بارش، یہ خوشبوئوں کا سفر
ہمارے خون کی تحریک ہی سے جاری ہے
نصیب سایہ گل ہے جنہیں وہ کیا جانیں
ہمارے پائوں کی زنجیر کتنی بھاری ہے
سحر کو رنگ ملا ہے اسی کے صدقے میں
ستون دار پہ ہم نے جو شب گذاری ہے
ہمیں نے کل بھی بچایا تھا شیش محلوں کو
ہمیں پہ آج بھی الزام سنگ باری ہے
کسی کو پرسش احوال کی نہیں فرصت
وہ کون ہے جسے احساس غم گساری ہے
جگائیں سوئی ہوئی اپنی قوم کو اعجاز
تمام اہل قلم کی یہ ذمہ داری ہے
اپنی عمر کی نصف صدی سے زیادہ عرصہ قوم کو جگاکر یہ شاعر ۲۶ /اکتوبر ۲۰۱۹ کو کراچی میں ابدی نیند سوگیا۔
آپ نے اس دنیا میں ۲۱ / فروری ۱۹۳۶ ء کو شہر علی گڑھ کے محلہ اسرا میں آنکھ کھولی تھی،اس حساب سے آپ نے عمر عزیز کے ۸۳سال اس دنیائے فانی میں گزارے۔آپ کے والد ماجد کا نام سید ایوب علی تھا، ابھی آپ کی عمر دو سال کی تھی کہ سایہ پدری سر سے اٹھ گیا ، آپ عمر کے نو یںسال میں تھےکہ والدہ نے بھی داغ مفارقت دے دیا، اور آپ اپنی دادی ماں کے سایہ آغوش میں آگئے ، جو کہ بڑی باہمت خاتون تھیں، انہوں نے آپ کی تعلیم وتربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، بڑی حوصلہ مندی کا ثبوت دیا ، آپ کی ابتدائی تعلیم علی گڑھ پرائمری اسکول میں ہوئی، آواز بڑی خوبصورت پائی تھی، بچپن ہی سے اسکول میں نظمیں پڑھنے کے لئے پیش ہونے لگے، یہاں علامہ اقبال کی نظموں چین و عرب ہمارا وغیرہ کا بہت چلن تھا، جس سے بچپن ہی میں شاعری کا چسکہ لگ گیا، اور گیارہ سال کی عمر ہی میں ایک مصرعہ تخلیق پا یا جو یوں تھا
رواں دواں ہے میری نائو بحر الفت میں
ابھی تعلیم جاری ہی تھی کہ تقسیم ہند کا حادثہ پیش آیا، گھر کے حالات اچھے نہیں تھے، نان شبینہ کی ضرورت پوری نہیں ہورہی تھی،نوزائیدہ مملکت کی شہرت سن کر گھر میں کسی کو بتائے بغیر ۹۵۴ء میں پاکستان کا رخ کیا، یہاں آپ کو چند ایک سال تلاش معاش کے لئے جد وجہد کرنی پڑی ، جس کے بعد سنہ۱۹۵۸ء میں پاکستان ٹوباکو کمپنی میں آپکو ملازمت ملی، اس ملازمت میں آپ نے پچیس سال گذارے، تنخواہ اچھی تھی، زندگی خوش وخرم گزررہی تھی، گھر کی تربیت بھی اچھی تھی، اسکول میں ٹیچر بھی بہترین اورو ہمدرد ملےتھے، وہ تعلیم وتربیت کے ہنر سے آگاہ تھے، ان میں آپ کی دادی کی ماموں زاد بہن قمر جہاں بھی تھیں، جو اسکول میں نمازوں اور وضع قطع وغیرہ کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ ان کے انداز تربیت کی ایک مثال یہ تھی کہ ایک مرتبہ ڈرل کا کوئی مظاہرہ تھا، آپ کے کرتے کا بٹن ٹوٹا ہوا تھا،قمر جہاں صاحبہ نے ایک روپیہ اس بچے کو دے کر بٹن بنوانے کو بھیجا ، چالیس کی دہائی میں یہ بڑی رقم ہوا کرتی تھی۔ایسی ہی تربیت تھی کہ سگریٹ فیکٹری میں طویل ملازمت کے باوجود کبھی آپ نےسگریٹ منہ کو نہیں لگایا۔ حالانکہ مفت میں معیاری سگریٹ یہاں بہت دستیاب تھے۔
انہی دنوں آپ نے کراچی سے اردو فاضل کا امتحان پاس کیا ، شاعری کی لت انڈیا ہی میں لگ چکی تھی،جہاں آپ فلمی طرز پر کلام پڑھتے تھے، کراچی میں آپ کے والد کے ماموں فلاح جلالوی صاحب، عالم فاضل آدمی تھے، انہوں نے آپ کو مشاعروں میں کلام پڑھنے پر آمادہ کیا ، اوراس دور میں اردو کے اعلی پائے کے استاد شاعر قمر جلالوی سے کلام کی اصلاح کے لئےملوایا، چند مدت یہ سلسلہ چلتا رہا، لیکن پھر اس کی ضرورت نہیں رہی ، کیونکہ شعری ملکہ اللہ نے گھٹی میں ڈال رکھا تھا، قمر جلالوی صاحب کا انتقال ۱۹۶۸ء میں ہوا، جس کے بعد آپ کے کئی ایک شاگردوں نے اصلاح کے لئے آپ سے رجوع کیا۔اعجاز رحمانی کا پہلا مجموعہ کلام استاد کی رحلت کے پانچ سال بعد ۱۹۷۳ ء میں اعجاز مصطفی کے نام سے منظر عام پر آیا۔
۱۹۷۰ء میں الیکشن کے موقعہ پر آپ کی فکری وابستگی جماعت اسلامی سے ہوئی، ۱۹۷۲ءمیں جب بھٹوکے خلاف تحریک چلی تو اعجازر حمانی جماعت کی زبان بن گئے، اس وقت ان کے کئی ایک اشعار زبانوں پر عام ہوئے ۔ جن میں سے ایک شعر یہ بھی تھا۔
جھوٹے ہیں سب دعوے ان کے، طوفان کا رخ موڑیں گے
دل کو ہمارا توڑ رہے ہیں کیا وہ ستارے توڑیں گے
اعجار رحمانی نے غزل ، نظم ہر صنف سخن میں مشق آزمائی کی اور کامیاب ہوئے ، آپ کی نظموں اور غزلوں کو مشاعروں میں ہمیشہ پذیرائی ملی، آپ نے بڑے بڑوں کی موجود گی میں خود کو منوالیا، مثلا ۱۹۸۰ء میں ابوظبی کونٹیننٹل ہوٹل کے افتتاح کے موقعہ پر جو مشاعرہ ہوا تھا، اس میں میزبان انہیںاہمیت نہیں دے کر کنارے کررہے تھے، نعت کا مشاعرہ ہونے کے باوجود آپ کو موقع نہیں مل رہا تھا، اس وقت آپ نے آگے بڑھ کر اپنی نظم پیش کی تھی، جس نے مشاعرے میں دھوم مچائی اور باربار اسے پڑھنے کی درخواست کی گئی تھی، اس کا مطلع یوں تھا۔

چپ رہنے میں جاں کا زیاں تھا،کہنے میں تھے رسوائی تھی
ہم نے جس خوشبو کو چاہا،وہ خوشبو ہرجائی تھی
آپ نے کامیابیوں سے بھرپور زندگی گزاری ، خوشبو کا سفر، سلامتی کا سفر، لہو کاآبشار، جذبوں کی زبان، آخری روشنی،پہلی کرن، اعجاز مصطفی ، کاغذ کے سفینے،افکار کی خوشبو ، غبار انا، لمحون کی زنجیر،چراغ مدحت، گلہائے سلام ومنقبت، کے عنوان سے نعتوں غزلوں اور نعتوں کے مجموعے شائع ہوئے، اور حمد و نعت اورکلام کی کئی کلیات شائع ہوکار مقبول ہوئیں۔آپ کے ترانوں کو بھی بڑی مقبولیت ملی۔آپ نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منظوم پیرائے میں ڈھالا، اور ایک ضخیم سیرت پرکتاب لکھی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی منظوم سیرت رفیق رسول، حضرت فاروق اعظم کی دعائے رسول ، حضرت عثمان کی ضیائے رسول اور حضرت علی کی برادر رسول کے عنوان سے مرتب کیں، امہات المومنین کی منظوم سیرت پر کام جاری تھا۔ حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا پر کئی سو بند تیار ہوگئے تھے۔ بعد میں اس کی اطلاع نہیں ملی۔
ہمیں ایک طویل عرصہ تک اعجاز صاحب سے ملاقات کا موقعہ نہیں ملا، البتہ جسارت وغیرہ میں آپ کے قطعات پر نظر پڑتی تھی، لیکن ۱۹۸۶ ء نشتر پارک کے اجلاس میں پڑھی ہوئی اس نظم نے ہمیں آپ کا گرویدہ بنایا، اس کے ابتدائی بند کو ہماری ترتیب کرہ ویڈیو سیریز کی نمبرنگ میں بطور ٹائٹل استعما ل کیا۔ نظم یہ تھی
امن و اخوت عدل محبت
وحدت کا پرچار کرو
انسانوں کی اس نگری میں
انسانوں سے پیار کرو
آگ کے صحرائوں سے گزرو
خون کے دریا پار کرو
جو رستہ ہموار نہیں ہے اس کو بھی ہموار کرو
دین بھی سچا ،تم بھی سچے
سچ کا ہی اظہار کرو
تاریکی میں روشن اپنی عظمت کے مینار کرو
نفرت کے شعلوں کو بجھادو
پیار کی ٹھنڈک سے
ہمدری کی فصل اگائو
صحرا کو گلزار کرو
سچے روشن حرف لکھو
یہ ظلمت خود کٹ جائے گی
اپنے قلم کو تیشہ کرلو
لہجے کو تلوار کرو
عزت، عظمت، شہرت یارو
دامن میں اسلام کے ہے
وقت یہی ہے سنگ زنوں کو آئینہ کردار کرو
دنیا ہویا دین کی منزل
یکجہتی سے ملتی ہے
وحدت کا پیغام سنا کر
ذہنوں کو بیدار کرو
انسان کو راحت نہ ملے گی
دنیا بھر کے ازموں سے
اس دنیا میں نافذ لوگو
حکم شہ ابرار کرو
سرخ سمندر والی لہریں
دور بہا لے جائیں گی
ہوش میں آئو
سبز ہلالی پرچم کو پتوار کرو
سورج بننا مشکل ہے تو
جگنو ہی بن جاو تم
بھائی ہوتو بھائی کی خاطر
اتنا تو ایثار کرو
کچھ تو اپنے ہم سائے پہ
پیار کا رشتہ رہنے دو
اعجاز اپنے گھر کی اونچی
اتنی مت دیوار کرو
اعجاز رحمانی صاحب ۱۹۸۸ء میں ڈاکٹر سید انور علی مرحوم کے انٹرنیشل اسکول ابو ظبی کے منعقد کردہ مشاعرے میں ایک طویل عرصہ بعد نظر آئے ، اس میں آپ کے ساتھ حفیظ میرٹھی، سحر انصاری، اور انتظار نعیم نے خوب رنگ جمایا تھا،یہ پہلا موقعہ تھا کہ بھٹکلی احباب کی کسی مجلس میں وہ تشریف لائے تھے، اس کے بعد وہ جب بھی آئے اپنائیت کا مظاہرہ کیا،اور ان کی محفلوں کو خوب گرمایا، وہ یہاں ۱۹۹۱ء میں ڈاکٹر اطہر علی زیدی کے عالمی عرب اردو مشاعرےمیں لائے تو اس وقت بھٹکل کے استاد شاعر محمد حسین فطرت بھی موجود تھے، اس وقت خوب مجلسیں رہیں، اس کے بعد ستمبر ۲۰۰۱ء میں بھی ان کی خوب مجلس رہی، ان مجالس میں حمد ونعت ، غزلیات اور نظموں پر مشتمل ۴۰ سے زیادہ کلام ریکارڈ محفوظ کرنے کا ہمیں موقعہ ملا، جواردو آڈیو ڈاٹ کام www.urduaudio.com پر محفوظ ہیں۔

مورخہ ۶/جنوری ۲۰۱۴ ء کو آخری مرتبہ آپ سے ملاقات نصیب ہوئی، اس روز ایک مختصرنشست رکھنا نصیب ہواتھا،اس وقت دل کا دورہ پڑنے کے ایک عرصہ بعد تشریف لائے تھے اس کے بعد وہ کافی کمزور ہوگئے تھے، وہ شخص جو دو تین گھنٹے پوری توانائی اور رعنائی کے ساتھ کلام پڑھ کر نہیں تھکتا تھا اب خاصہ ضعیف ہوچکا تھا، اب ایک نظم پڑھنے ہی میں سانس اکھڑنے لگتی تھی۔ اس وقت آپ سے بڑی پیاری باتیں ہوئی تھیں۔
اعجاز رحمانی کے اس دنیا سے کوچ کرنے کی خبر سے دل کو بڑا صدمہ پہنچا، وہ ایسے آدمی نہیں تھے کہ آسانی سے انہیں بھلا دیا جائے، اخلاق ان کی سیرت میں رچا بسا تھا،وہ ایک ملنسار انسان تھے، ان کی شخصیت بڑی انس اور محبت رکھنے والی تھی، ایسے لوگوں کی زندگی کے نقوش دل پر پتھر کی لکیر بن جاتے ہیں ۔
اعجاز صاحب کو احساس تھا کہ انہیں اپنوں سے وہ پذیرائی نہیں ملی جو انہیں دوسروں سے ملی ، جس تحریک سے ان کا دلی لگائو تھا،یہ تحریک بنیادی طور پر ادب اسلامی کی بھی تحریک تھی، اور اس کے لئے انہوں نے اپنی توانیاں صرف کی تھیں ، اب وہاں پر ادب سے لگائو ختم ہوتا جارہا ہے،آپ کے جانے کے بعد ایک خلا محسوس ہورہا ہے، ایسا شاعرو ادیب جو محبوب بھی ہو، اس کا کلام دلچسپی سے ہرمحفل میں سنا جاتا ہو، دور دور تک نظر نہیں آرہا ہے۔ مرنے والے کی تعریفیں تو بہت کی جاتی ہیں ، لیکن ایسی تعریف کس کام کی جب مرنے والے کی جلائی ہو ئی شمع بجھ جائے، اوراس سے دوسری شمع نہ جل سکے۔اعجاز صاحب کا جب تذکرہ ہوتا ہے، یا ان کی یاد آتی ہے تو ان کی جو بے شمار نعتیں اور نظمین کانوں میں گونجنے لگتی ہیں، ان میں آپ کی یہ نظم بھی شامل ہے۔
ہم اجالوں کے پیغام بر ہیں
روشنی کی حمایت کریں گے
جو دیئے ہم نے روشن کئے ہیں
ان دیوں کی حفاظت کریں گے
اپنے سورج کو بجھنے نہ دیں گے
چاند روشن گا ہمارا
یہ اندھیرے جو ہیں نفرتوں کے
ان اندھیروں کو رخصت کریں گے
جو تعصب کی کرتے ہیں باتیں
وہ تو اپنے دشمن ہیں یا رو
ہم محبت کے پیغام بر ہیں
ہم تو سب سے محبت کریں گے
طالب علم ہویا کہ تاجر
ہو وہ مزدور یاکہ ہاری
یہ وطن سب کا پیار ا وطن ہے
سب ہی مل کے خدمت کریں گے
باد نفرت مٹادے گی سب کچھ
اتش گل جلادے کی سب کچھ
کیا رہے گا چمن میں بتائو
پھول ہی جب بغاوت کریں گے
ہر حکومت تو ہے آنی جاتی
ہے محبت مگر جاودانی
تخت اور تاج تم کو مبارک
ہم دلوں پر حکومت کریں گے
امن ہے جان سے ہم کو پیارا
اتحاد اپنا اعجاز نعرہ
بھائی سے بھائی کو جو لڑائے
ہم نہ ایسی سیاست کریں گے۔
شاید ان کی زندگی کا پیغام بھی یہی ہے، جس کے لئے وہ جئے، اور جس کی وہ تمنا عمر بھر کرتے رہے، نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ کی شناخت بنی، شاید اس کا محور بھی یہی پیغام ہے، اللہ کی ذات سے امید ہے کہ آپ کا نام تادیر زندہ رہ کر سوئے ہوئے دلوں کو جگاتا رہے گا، اللہ مغفرت کرے ، اور درجات بلند کرے۔
2019-11-09

 

x

Check Also

مردوں کی مسیحائی۔۔۔۱۵۔۔۔ رحمۃ للعالمین۔۔۔تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

’’میں شہادت دیتا ہوں کہ انسان بھائی بھائی ہیں‘‘۔ جس کے منھ ...