بنیادی صفحہ / مضامین / مصری صحافی کی کتاب اور شیخ الہند کی تصویر… تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

مصری صحافی کی کتاب اور شیخ الہند کی تصویر… تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Print Friendly, PDF & Email

WA:00971555636151

گزشتہ چار سال سے ہمارا ایک واٹس اپ گروپ علم وکتاب کےنام سے جاری ہے، اس میں برصغیر کے منتخب علماء، اہل قلم اور دانشور شامل ہیں، چند دن قبل گروپ کے معززممبر اور گجرات کے معروف عالم حدیث مولانا محمد طلحہ بلال منیار صاحب نے ایک پوسٹ کے ذریعہ توجہ مبذول کرائی تھی کہ کوئی بیس سال قبل جب وہ مکہ مکرمہ میں زیر تعلیم تھے، تومصری صحافی محمد عبد الرحمن الصباحی کی کتاب خمس سنین فی مغاور الاسر کے بارے میں سنا تھا کہ یہ صحافی حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی علیہ الرحمۃ مالٹا میں اسیری کے زمانے میں یہاں قید تھا، اور اس نے اپنی کتاب میں ایام اسیری کی داستان لکھی ہے اور اس میں حضرت شیخ الہند کی تصویر بھی شامل کی ہے، اس وقت یہ کتاب انہیں سعودی عرب کے کتب خانوں میں نہ مل سکی، اس کتاب کی انہیں تلاش ہے۔

اس کے چند روز بعد ہی گروپ ممبر اور ماہر کتابیات مولانا شبیر میواتی صاحب نے پندرہ روزہ دیوبند ٹائمز کی جنوری ۱۹۹۳ میں شائع شدہ حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی علیہ الرحمۃ سابق امیر شریعت بہار واڑیسہ و جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی کتاب کا مندرجہ ذیل اقتباس پوسٹ کیا۔

حضرت شیخ الہند کا فوٹو

ایک دن شام کو سید ابونصر صاحب فندق اطلس (ہوٹل) تشریف لائے۔اور ایک کتاب دکھلائی جس کا نام خمسۃ سنین فی مغاور الاسر ہے، عبد الرحمن الصباحی اس کے مصنف ہیں، یہ بھی مالٹا میں نظر بند کئے گئے تھے، اس کتاب میں انہوں نے اپنی نظر بندی اور اسارت اور مالٹا کے رفقاء کے حالات لکھے ہیں، کتاب میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ کا مختصر حال بھی ہے، اور صفحہ ۹۴ پر آپ کا فوٹو بھی ہے،فوٹو میں حضرت شیخ الہند بیٹھے مسکرا رہے ہیں، اور ایک دانت کچھ باہر نکلا ہوا ہے، بال بالکل سفید اور قد کافی چھوٹا ، آج پہلی مرتبہ تصویر دیکھنے کا اتفاق ہوا، یقینا یہ تصویر آپ کے علم واطلاع کے بغیر لی گئی ہوگی۔

(امیر شریعت مولانا سید منت اللہ رحمانی ، سفر نامہ مصر وحجاز ص ۱۶۰ )

حضرت شیخ الہندعلیہ الرحمۃ کے انتقال کے وقت امیر شریعت علیہ الرحمۃ کی عمر سات سال کی رہی ہوگی، لہذا ان کا آپ کو دیکھنا محال نظر آتا ہے، لیکن جس نسل سے آپ کا تعلق تھا وہ آپ سے قریبی عہد کی تھی، اور اپنی ایک عظمت شان رکھتی تھی،آپ کے سفرنامے کی عبارت کی داخلی شہادت سے محسوس ہوتا ہے، کتاب میں موجود تصویر کی حضرت شیخ الہند کی طرف نسبت میں انہیں او ان کے رفیق کو کوئی خاص شک نہیں پیدا ہوا، اور یہ کہ کتاب میں حضرت شیخ الہند کی تصویر شامل ہونے کی بات پہلے سے چلی آرہی ہے۔ اور یہ کہ سفرنامے لکھتے وقت یہ کتاب سامنے نہیں تھی۔ اور سفر کے دوران کتاب کو گہرائی سے پڑھنے کا موقعہ نہیں ملا۔ لہذا بعد میں یاد داشت سے لکھی ہوئی عبارت میں ادھر ادھر ہونا ممکن ہے۔

اب احباب کی دلچسپی میں ہماری بھی دلچسپی شامل ہوگئی ، ہم نے اسے خلیجی ممالک کی مختلف لائبریریوں میں تلاش کیا، اور   خوش قسمتی سے ۱۹۲۱ء کا ایک نسخہ دستیاب ہوگیا، اور لائبریری کے دستور کے مطابق اس کی ایک زیروکس کاپی مل گئی، چونکہ زیروکس میں تصویریں بالکل ہی غیر واضح تھیں، لائبریری میں ہمارے ایک عزیز کے ذریعہ ہم نے موبائل پر تصاویر کے فوٹو لئے۔اورکتاب کو علم وکتاب گروپ پر شیر کیا۔

تھوڑی ہی دیر میں ہمیں احباب کے میسیج آنے لگے کہ بعض لوگ سستی شہرت کے لئے کتاب سے حضرت شیخ الہند کی تصویر الگ کرکے فیس بوک وغیرہ پر وائرل کررہے ہیں،یہ ہمارے لئے تکلیف دہ بات تھی، کیونکہ بلاضرورت ہم اکابر کی تصاویر کو عام کرنا مناسب نہیں سمجھتے، اس میں تقدس کی بو آتی ہے، اور یہ کہ اکابر کے احترام میں یہ بھی شامل ہے کہ ان کی زندگی میں ہمارا جو رویہ ان شخصیات سے مناسب تھا، انتقال کے بعد بھی اس کی رعایت کرنی چاہئے۔

 ایسے موقعوں پر ہمیں مولانا محمد اسلم قاسمی علیہ الرحمۃ کی بات یاد آتی ہے، جب ہم نے ان سے حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی علیہ الرحمۃ کی تصویر کی تصدیق چاہی تو فرمایا، حضرت کو ایک کیمرہ مین نے دیکھ لیا، آپ ایک یکہ پر سوار تھے، جھٹ سے اس نے تصویر اتاردی، حضرت کے مریدین نے دیکھ لیا اور فوٹو گرافر پر جھپٹ پڑے، اور کیمرہ توڑ دیا، فوٹو گرافر چالاک تھا، مولویوں سے نگاہ بچا کر فیلم ریل اس نے محفوظ کرلیا،حضرت کو اس کا احساس تھا، اسے مخاطب کرکےفرمایا کہ اگریہ تصویر محفوظ ہوگئی تو قیامت کے دن تمھاری گردن پکڑوں گا۔

ہمارے نزدیک محمد عبد الرحمن صباحی کی کتاب مغاورالاسر کی مندرجہ ذیل ہے علمی و تاریخی اہمیت ہے۔

۱۔ برطانوی دور کے جیل مینول پر بہت کم لکھا گیا ہے، اردو میں اس سلسلے میں پہلی اہم اہم جامع کوشش شورش کاشمیری کی پس دیوار زنداں ہے۔ صباحی کی کتاب اس سے بیس سال پہلے کی ہے۔

۲۔ مالٹا جیل کو برصغیر کی تحریک آزادی کی  تاریخ میں بڑی اہمیت حاصل ہے،سیلولر جیل انڈومان کی طرح یہ جیل بھی جد وجہد آزادی کی ابتدائی تحریکوں میں سے ایک ریشمی رومال تحریک کے نقوش رفتہ کو اپنے درودیوار میں چھپائے ہوئے ہے۔

۲۔  مالٹا میں صرف برصغیر کے مجاہدین آزادی پابند سلاسل نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ اس زمانے کی عالم اسلام کی عظیم ملی قیاتیں بھی بند تھی، جوحضرت شیخ الہند ہی کی طرح اپنے اپنے علاقوں میں حریت وآزادی کی شمعیں روشن کی ہوئی تھیں ۔ برصغیر کی تاریخین ان کے تذکروں سے خالی ہیں، لہذا ریشمی رومال تحریک کی تاریخ جیل میں شیخ الہند کے ان رفقاء کے تذکروں کے بغیر نامکمل ہے۔

۳۔ اب رہی تصویر کی نسبت تو اس میں صباحی نے جو نام لکھا ہے، اس نے تصویر کی بعض لحاظ سے مشکوک کردیا ہے۔

۔ تصویر میں نام حسین محمود لکھا ہے، جب کہ شیخ الہند کا نام محمود حسن تھا۔

۔ آپ کو رئیس کلیۃ علی گڑھ لکھا ہے۔ جب کہ آپ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے۔

ہمارے خیال میں اس کی مندرجہ ذیل توجیہات ہوسکتی ہیں۔

۔ مصنف ایک مصری نژاد ہیں، اور یہ حضرات ناموں میں جتنی غلطیاں کرتے ہیں، عرب ممالک میں رہنے والے بخوبی جان سکتے ہیں، دکانوں پر اچھے خاصے عربی ناموں کی شکلیں بگاڑ کر نہ انہیں عربی رہنے دیتے ہیں نہ اجنبی۔

۔ علامہ رشید رضا مصری ہندوستان آئے تو پہلے پہل شعبان ۱۳۳۰ھ/ اگست ۱۹۱۲ء کے المنار میں ایک دو سطر میں دیوبند کا تذکرہ کیا، اس کے بعد دوچار مرتبہ برسبیل تذکرہ اپنے مضامین میں دیوبند کا نام لیا، رشید رضا شامی الاصل تھے، اور دیوبند اور ندوہ کا عرب دنیا میں وسیع تعارف اور احترام زیادہ تر شامی علماء ہی نے کیا ہے،حضرت مولانا علی میاں ندوی علیۃ الرحمۃ ہمیشہ کہا کرتے تھے، عالم اسلام کے حالات اور یہاں کی شخصیات سے آگاہی میں دلچسپی ہمیشہ برصغیر کے مسلمانوں ہی کو رہی ہے، ورنہ مصر اور عالم عرب کےاہل علم  کو کبھی اپنے ملکوں سے باہر جھانکنا نصیب نہیں ہوا، ہماری ناقص رائے میں دیوبند کا عالم عرب میں حقیقی تعارف مفتاح کنوز السنہ کے ۱۹۳۴ء کے ایڈیشن سے ہوا جس میں علامہ رشید رضا نے بڑے پرزور انداز سے یہاں علمائے حدیث کی تعریف کی، اور عرب ممالک کے علماء کو عار دلایا، اس کے بعد ۱۹۴۵ء میں مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علامہ کشمیری کی کتابوں کی اشاعت کے لئے مصر گئے اور ان کے تعلقات علامہ محمد زاہد الکوثری سے ہوئے، اس زمانے میں آپ نے احمد حسن زیادت کے عالم عرب کے سب سے مشہورعلمی و ادبی رسالہ مجلۃ الرسالۃ شمارہ ۳۰ جولائی ۱۹۴۵ء میں علامہ کشمیری علیہ الرحمۃ کی عربی زبان کی شاعری پر بڑا خوبصورت مضمون لکھا، یہاں سے جو روابط بڑھنے لگے تو ازہر سے شیخ محمد عبد المنعم النمر ۱۹۵۰ کی دہائی میں مبعوث ہوکر دیوبند تشریف لائے، اس سے دیوبند کے تعارف کو مہمیز لگی، ڈاکٹر نمر ایک اچھے مورخ اور صاحب قلم تھے، ہندوستانی مسلمانوں کے تعارف میں ان کی خدمات بڑی قابل قدر ہیں۔

اس ماحول میں ایسا ایک صحافی جس کا تعارف صرف مالٹا جیل کی روداد ہے بر صغیر کی کسی شخصیت کے نام میں غلطی کرجائے تو حیرت کی بات نہیں ہے۔

۔ صباحی نے تصویرکی نسبت حسین محمود کی طرف کی ہے، یہ بات بتانے کی ضرورت نہیں کہ حسین اور محمود ایک جان دو قالب تھے، اس نے حسین اور محمود کا نام ایک ساتھ سنا ہو، اور انہیں ایک شخص سمجھ لیا ہو۔

۔ بہت ممکن ہے کہ جیل میں شیخ الہند سے مناسب تعارف کا موقعہ نہ ملا ہو، اس نے بعد میں علی گڑھ میں آپ کے زیر سرپرستی جامعہ ملیہ کی تاسیس کی خبر پڑھی ہو، جسے اس نے گڈ مڈ کردیاہو۔

۔ یہ طے ہے کہ یہ کتاب جس زمانے کا احاطہ کرتی ہے، نہ صرف اس زمانے میں بلکہ اس کے بعد بھی تحریک آزادی کے دوران شیخ الہند مولانا محمود حسن اور شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے سوا مالٹا جیل میں  ان حسین اور محمود کے سوا کسی بھی ہندوستانی  قیدی کا سراغ کم از کم اس ناچیز کو نہیں ملا ہے، اگر کوئی بتادے تو یہ ایک اہم تاریخی انکشاف ہوگا۔ جب تک ایسا نیا کوئی انکشاف نہ ہوجائے اسی تصویر کو حضرت شیخ الہند کی تصویر ماننے میں کیا حرج ہے؟

07-07-2019

 

x

Check Also

محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا بدر الدین علوی

مولانا بدرالدین علوی             ولادت:علی گڑھ،۱۳۱۰ھ،مطابق ۱۸۹۳ء             معزز علوی سادات سے ...