بنیادی صفحہ / مضامین / بھٹکل کا گوہر گراں مایہ، حاجیوں کی خدمت جس کا سرمایہ امتیاز تھا۔۔۔تحریر: عبد المتین منیری

بھٹکل کا گوہر گراں مایہ، حاجیوں کی خدمت جس کا سرمایہ امتیاز تھا۔۔۔تحریر: عبد المتین منیری

Print Friendly, PDF & Email

مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی مرحوم کے ۱۹۶۵ء میں ہوئے سفر حج کی روداد (حج کا سفر  ) پر اسی زمانے میں نظر پڑی تھی، اس بھولےبسرے علمی وادبی سرمایہ کو اہل علم ودانش کی یاد داشت میں از سر نو واپس لانے کی غرض سے اس کی سلسلہ وار اشاعت بھٹکلیس ڈاٹ کام اور علم وکتاب واٹس اپ گروپ پر چند دنوں سے جاری ہے،مفتی صاحب کو  تین سال لگاتار ناکامی کے  بعد حج کا ٹکٹ ملا تھا، سفر حجاز میں مولانا دریابادی نے ۱۹۲۸ء میں سفر حج میں درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی ہے، اور مفتی صاحب نے ۱۹۶۵ء کے حالات کی عکاسی کرکے اس سفر نامے کو ایک تاریخی دستاویز بنا دیا ہے۔

اسے پڑھتے ہوئے ہمیں الحاج محی الدین منیری مرحوم یاد آئے،کیونکہ آپ نے ۱۹۴۹ء سے ۱۹۸۱ء تک مسلسل صابو صدیق حاجی مسافر خانے میں انجمن خدام النبی کے آفس میں رہ کر  عازمین حج بیت اللہ کی بیش بہا خدمات انجام دی تھیں ، اس خدمت کے طفیل آپ کو بزرگان دین، اور اہل اللہ سے جو تعلق ہوا، اور ان  کی جو دعائیں آپ کے حصہ میں آئیں،  بھٹکل کے شاید ہی کسی اور فرد کا ایسا نصیبا جاگا ہو، آپ کی یہی خدمات بھٹکل کو اس دوران اہل اللہ و اکابر سے مربوط کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنیں، منیری صاحب نے حاجیوں کی خدمت میں جو زندگی کے جو لمحات گذارے  تھے، وہ نہایت قیمتی لمحات تھے، لیکن انہیں دیکھنے والے اب  زیادہ تر دنیا سے اٹھ  چکے ہیں، آپ نے اپنی زندگی کے آخری دوعشروں میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے اب وہی  لوگوں کو یاد رہ گئے  ہیں، عازمیں حج بیت اللہ کی خدمات اب بھی نگاہوں سے  پوشیدہ ہیں،لیکن  کبھی کبھار جنگؤوں کی طرح کی روشنی نظر آتی ہے ، تو حیرت ہوتی ہے   کہ سرزمین بھٹکل نے کیسے گوہر گرانمایہ کو جنم دیا تھا۔

ہمارے بزرگ تھے مولانا سید صبغۃ اللہ بختیاری رحمۃ اللہ علیہ، جب بھی ملاقات ہوتی تو منیری صاحب کے لئے دست بہ دعا ہوتے، ڈھیر ساری دعائیں دیتے، ان کے شاگرد مولانا ثناء اللہ عمری نے آپ  کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ  ( جماعت اسلامی سے علاحدگی پر تین سال بیت گئے تھے کہ مولانا بختیاری نے سنا کہ آپ کے استاد اور مرشد مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سفر حج پر روانہ ہورہے ہیں، ارادہ کرلیا کہ حضرت مدنی کی رفاقت میں حج کی سعادت سے بہرہ ور ہوں ہونگے، مگر اس فقیر بے نوا کے پاس وسائل کہاں؟ ماہی بے آب ہوگئے، رو رو کر دعائیں کیں:۔

تو کریم مطلق ومن گدا، چہ کنی جز ایں کہ نخوانی ام

درد بنما کہ من ، بہ کجا روم چوں برانی ام

بمبئی پہنچ گئے، اللہ تعالی نے مولانا منیری بھٹکلی کو مہربان کردیا، سارے دفتری کام انھی نے کئے، ابھی کسی دم میں جہاز نکلنے کو تھا کہ ٹکٹ وغیرہ لادیا، مدت العمر مولانا انھیں یاد کرتے اور دعائیں دیتے رہے ۔( کہکشان جامعہ : ۷۴)

 پتہ نہیں ایسے کتنے اور  اللہ والوں کی دعائیں آپنے اپنے دامن میں سمیٹیں،

مولانا عامر عثمانی ؒ نے تجلی دیوبند کے  جنوری ، فروری ۱۹۶۸ء دو شماروں میں اپنے سفر حج میںمنیری صاحب  کی خدمات کا تذکرہ  بڑے پر اثر انداز میں کیا ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں:۔

(پاسپورٹ اور دیگر متعلقہ امور کی آئینی تکمیل کے سلسلے میں مسافر خانہ صابو صدیق پہنچے تو وہاں حجاج کا اتنا ہجوم تھا کہ ہچکولے کھائے بغیر راہداری سے گزرنا مشکل تھا، شور، ہلچل، ہنگامہ، اب شاید ہمارے لیے بھی تعجب اور ابتلا کی منزل آ پہنچی تھی، مگر نہیں، ابھی چند منٹ بھی تو نہ گزرے ہوں گے کہ ایک ایسے بندۂ خدا سے ملاقات ہوگئی جس کی مخلصانہ نوازشات نے ہمارا سارا غم دور کر دیا، یہ تھے مولانا محی الدین منیری، جوائنٹ سکریٹری مجلس خدام النبی، انھوں نے جس تپاک، سرگرمی اور محبت سے ہمارے سارے کام خود چل پھر کر کرا دئیے، اس کی یاد زندگی بھر دل سے محو نہ ہوگی، محاورے میں یوںسمجھئے کہ ہم تو نوابی کرتے رہے اور ضابطے کے تمام مراحل مولانا موصوف کی خاص توجہ سے آناً  فاناً طے ہوتے چلے گئے، ہزاروں ہزار حاجیوں کی بھیڑ میں کون ہے جسے متعلقہ مراحل طے کرنے میں تھوڑے بہت انتظار، تعب، صبر اور جسمانی و ذہنی جھٹکوں سے سابقہ نہ پیش آتا ہو، فقط بحری جہاز والوں کو ہی کی بات نہیں، ہوائی جہاز والے حجاج کو بھی ہم نے بعض مراحل میں لائن میں کھڑا دیکھا ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ باوجود موسم گرم نہ ہونے کے وہ رومال سے ماتھے اور گردن کا پسینہ پونچھ رہے ہیں، لیکن مولانا منیری کے حسنِ اخلاق نے ہمارے لئے وہ مسیحائی کی کہ کسی بھی مرحلے پر ہمیں ادنی درجے میں بھی نہ صبر و انتظار کی کلفت اٹھانی پڑی، نہ لائن میں لگنا پڑا، نہ دوڑ دھوپ کی نوبت آئی۔ یوں سمجھیئے کہ جیسے اور سب حاجی تو حاجی تھے اور ہم محض تماشائی، جو کسی آسودہ حال امیر کی طرح آرام کرسی پر نیم دراز فقط لطفِ تماشا اٹھا رہا ہو۔( تجلی دیوبند ۔ مارچ ۔ اپریل ۱۹۶۸ء)

یہاں قند مکرر کےطور پر اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہیں جو آپ کے حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں شرف باریابی پر پیش آیا، اسے خود منیری صاحب کی زبانی ملاحظہ کیجئے:۔

(اس کے واقعہ کے کچھ عرصہ بعد حضرت شیخ الحدیث مولانا محمدزکریا کاندھلوی ؒ کی خدمت میں سہارنپور حاضری ہوئی ۔ وہاں پرمجھے معلوم ہوا کہ حضرت مولانا رائے پوری ؒبے ہٹ ہاؤ س میں ٹہرے ہوئے ہیں۔ مولانا رائے پوری اس دور میں روحانیت کے امام تسلیم کئے جاتے تھے ، بڑے بڑے جید علماء آپ کے سامنے زانو تہہ کرتے تھے۔  مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے آپ کے حالات زندگی پر ایک کتاب لکھی ہے۔ حضرت کی یہاں پرموجودگی کی خبر سے مجھے آپ کی ملاقات کا شوق پیدا ہوا۔ چونکہ میں حضرت شیخ کا مہمان تھا لہذا آپ سے حضرت سے ملاقات کی اجازت چاہی۔ حضرت رائے پوری کے حلقہ میں میری کوئی جان پہچان نہیں تھی، ابھی میں انجان آپ کی رہائش گاہ پر جاہی رہا تھا کہ دروازے پر مولانا آزاد سے ملاقات ہوگئی ، (نام سے اشتباہ نہ ہو یہ مولانا ابوالکلام آزاد نہیں ہیں)، ان سے حاجیوں کے جہاز پر ہمارا سابقہ ہواتھا۔ یہ جگر مراد آبادی  مرحوم کو حج بیت اللہ لے گئے تھے۔جگر مرحوم سے میرا بڑا یارانہ تھا، ان کی ایک نعت سلطان مدینہ اس زمانہ میں کافی مشہو ر ہوئی تھی ، ان کی زبانی جب میں یہ نعت سنتا تو بڑا مدہوش ہوتا۔  جگرصاحب کا مزاج تھا کہ ہرکسی کی فرمائش پر وہ شعر نہیں سناتے تھے، لیکن جب بھی میں نے ان سے شعر سنانے کی درخواست کی انہوںنے کبھی اسے رد نہیں کیا ،سلطان مدینہ کی تو میں ان سے بار بار فرمائش کرتا۔ مولانا آزاد انہیں دنیا کے جھمیلوں سے دور گناہ دھلوانے کے لئے حج بیت اللہ لے جارہے تھے، آٹھ دس روز ہمارا جہاز کا ساتھ رہا۔ اس میں ہم لوگوں نے ایک مجلس مشاعرہ بھی کرڈالی ، جگر مرحوم نے بڑے پیارے پیارے شعر سنائے۔

            جب انہی مولانا آزاد نے مجھے حضرت رائے پوری کے یہاں آتے دیکھا تو لپک پڑے، کہنے لگے منیری صاحب ! آپ یہاں کیسے آئے ہو؟میں نے کہاحضرت سے ملاقات کا شوق یہاں لے آیاہے، انہوں نے کہا…ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی …نہیں …بالکل نہیں جانتا… حضرت سے ملاقات کرادو۔ جہاز کے روابط تھے ، اپنا ساراکام کاج چھوڑا اور میرا ہاتھ پکڑ کر حضرت کے پاس لے گئے۔

            اس وقت حضرت بیمار چل رہے تھے ، چارپائی پرلیٹے ہوئے تھے، ان میں اٹھنے بیٹھنے کی سکت نہیں تھی ۔ دو تین سو مریدین انہیں اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھے ، ایک شخص کتاب پڑھ رہاتھا ، جیسے ہی مجھے حضرت کے قریب بٹھایا گیا کتاب پڑھنی بند کی گئی ۔ جب بتایا گیا کہ منیری صاحب آئے ہیں تو حضرت دفعتاً چونک پڑے ، کہنے لگے منیری صاحب! کیا وہی عبدالمنان والے منیری صاحب ! ہاں وہی آئے ہیں۔ مجھے بٹھلادو، حضرت کو اٹھا کر بٹھلایا گیا ، مجھے اپنے بالکل قریب بٹھایا۔ حالات وغیرہ دریافت کئے ، بڑی محبت کا سلوک کیا، سرپر ہاتھ رکھا ، دعائیں دیں، کہنے لگے عبدالمنان نے خواہ مخواہ تمہیں بدنام کیا ، حالانکہ تم نے تو ان کا کام کردیا تھا۔

            واقعہ یوں تھا کہ عبدالمنان کا حضرت سے تعلق تھا، وہ حضرت کی خدمت میں وقتاً فوقتاً شعر لکھ کر بھیجا کرتے تھے ۔ انہوں نے سفرِ حج کا سارا قصہ حضرت کو لکھ دیا تھا ، جس میں یہ شعر بھی شامل تھا۔ شعر نے اپنا کام کردکھایا۔ اور وہ حضرت کو اتنا پسند آیا کہ جب بھی عبدالمنان مجلس میں حاضر ہوتے یا ان کا کوئی تذکرہ آتا تو حضرت دریافت فرماتے عبدالمنان کا منیری صاحب سے متعلق وہ کیا شعر تھا۔

سفر سخت دشوار، مجھ پر اندھیری           نہ کچھ کام آئے جناب منیری

حضرت کے بعد حاضرین مجلس جن کی تعداد دو تین سو سے کیا کم ہوگی ایک ساتھ یہ شعر گنگنانے لگتے ، اس طرح یہ شعر حضرت کے متعلقین کو زبانی یاد تھا۔ ملاقات کے بعد حضرت نے رات یہیں پر گذارنے کے لئے کہا، اور اپنے خادم کو ہدایت کی کہ میرے آرام و راحت کا خیال رکھے ۔ کچھ دیر بعد حضرت شیخ بھی وہاں پہنچ گئے ۔

منیری صاحب جس جہاز پر ہوتے اس کے امیر الحجاج بنادئے جاتے ، غالبا مولانا بختیاری ؒ کا یہی سفر تھا،جس میں  حضرت شیخ الاسلام  مدنیؒ ، حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب ؒ وغیرہ اکابروبزرگان دیوبند عازمین سفرتھے، اسی جہاز پر      مشہوربریلوی مناظر مفتی حشمت علی پیلی بھیتی بھی سوار تھے،  مفتی حشمت علی بد زبانی میں اپنے مکتب فکر کے لوگوں میں نمونہ مانے جاتے ہیں، ان کے مسلک کے لوگ انہیں شیر بیشہ اہل سنت کے خطاب سے نوازتے ہیں، جب انہیں معلوم ہوا کہ اکابر دیوبند جہاز میں موجود ہیں تو پھروہ بھڑک اٹھے،  انہیں گالیاں دینی شروع کیں، ان اکابر کے معتقدین نے بہت برداشت کیا ،لیکن جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو مفتی صاحب کو پکڑ کر ایک لکڑی کے تختہ سےمضبوطی سے باندھا، تاکہ سمندر کے کھارے پانی میں  ان کی ایک  ڈبکی چلتے جہاز سے دی جائے، ہنگامہ کی آواز سن کرمنیری صاحب پہنچے اور ان کی جان بچائی، حج سے واپسی پر مفتی حشمت علی نے بمبئی کے جلسوں میں منیری صاحب کو خوب گالیاں بکیں، حالانکہ آپ نے ان کی جان بچائی تھی، مفتی حشمت علی کچھ عرصہ بعدزبان کے کینسر میں دنیا ہی میں اذیتیں اٹھا کر راہی عدم ہوگئے، نت نئی گالیاں اور القاب ایجاد کرنے میں شاید آپ کی مثال ملنی مشکل ہے، آپ کی ایک کتاب ہے الصوارم الھندیۃ اس کے جواب میں مولانا نور محمد ٹانڈوی مبلغ مظاہر علوم کی ایک مختصر سی کتاب ہے تکفیری افسانے، بہ قامت کہتر بہ قیمت بہتر کی مثال ہے، بہت عرصہ پہلےنظر سے گذری تھی۔

منیری صاحب جہاں بھی گئے اللہ نے ان کی خدمات کے صلے میں ہر جگہ عزت واکرام سے نوازا ، وہ اکابر کی خدمت میں نیازمندی کے جذبے سے گئے ، لیکن ان بزرگان  نے آپ کے ساتھ احسان مندی کا اور برابری کا سلوک کیا، اور انہیں اپنا بھائی سمجھا، بزرگان سے تعلق کی ایسی مثالیں شاذونادر ملتی ہیں، اللہ ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔

2022-07-05

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*