بنیادی صفحہ / مضامین / اخلاق ومروت کے پیکر، عظیم عالم دین ومربی مولانا حفیظ الرحمن اعظمی(۳)

اخلاق ومروت کے پیکر، عظیم عالم دین ومربی مولانا حفیظ الرحمن اعظمی(۳)

Print Friendly, PDF & Email

اخلاق ومروت کے پیکر ،عظیم عالم دین و مربی ،مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی ؒ (  ۳)

*تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل*

 http://www.bhatkallys.com/ur/author/muniri

 یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مولانا حفیظ الرحمن مرحوم کےوالد ماجد  کا   نہ صرف اہل حدیث  مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے، بلکہ اس دور میں اس مسلک کے اکابر میں آپ کا شمار ہوتا تھا، غالبا  اس کی وجہ تحریک خلافت سے آپ کی وابستگی تھی، جس نے  مسلکی اختلافات کو  چند فروعی مسائل تک محدود کردیا ، اوریہ رویہ ذاتی منافرت اور دوری تک نہ پہنچ سکا۔ ، جامعہ دارالسلام عمرآباد کی اس پہلی نسل نے جامعہ کو ایک ایسا منہج دیا جس میں رداداری اور اختلاف رائے کے برداشت کا عنصر اس ادارے کی تاسیس کے ایک صدی بعد بھی جاری و ساری ہے، یہ جامعہ کے بانیان کا اخلاص تھا، جسے اس دور میں جنوبی ہند کے اہل علم  اور اکابرکے عمومی مزاج سے بھی تقویت ملی۔

مولانا حفیظ الرحمن مرحوم کو صغر سنی ہی میں ایسا رواداری کا ماحول مل گیا، جسے فروغ دینے میں آپ نے عمر بھر اپنی صلاحیتیں اور توانیاں صرف کیں۔اس مزاج کوبچپن میں پیارم پیٹ سے تقویت ملی، یہاں پر علمائے دیوبند کا اثر بہت تھا، اور علامہ سید اسماعیل پیارم پیٹی رحمۃ اللہ علیہ اس وقت کے بڑے بااثر عالم دین  ہوا کرتے تھے، جن کے قاری عبید اللہ عمری داماد تھے، اورجو آپ کے پہلے استاد تھے، جن سے نصف قرآن حفظ کرنے کے بعد آپ نے داارالعلوم پیارم پیٹ میں آپ بقیہ نصف مولانا محمود الحسن معدنی  ؒ  کے پاس مکمل کیا  تھا، یہاں پیارم پیٹ میں کم عمری ہی میں اکابر دیوبند مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی وغیرہ کو دیکھنے اور سننے کا آپ کو موقعہ مل گیا۔

سنہ ۱۹۵۳ ء میں آپ کا داخلہ جامعہ دارالسلام عمر آباد میں ہوا، جہاں آپ کے والد ماجد شیخ الحدیث کے منصب تھے، لیکن آپ کے داخلہ سے دو سال قبل ۱۹۵۱ ء میں اللہ کو پیارے ہوچکے تھے، جامعہ کے مخلص بانیان کی کوشش تھی کہ  علم کے تمام گلستانوں کے پھول یہاں پر لاکر سجائیں، اور مسلکی اور فروعی اختلافات سے بلند ہوکر توحید کے علمبردار ، اور شرک وبدعات کے مخالف سرچشموں سے سیراب ہوں،چناچہ مولانا حافظ عبد الواجد  عمری رحمانی ؒ کو مزید تعلیم کے لئے مدرسہ رحمانیہ دہلی روانہ کیا گیا، مولانا حافظ محمد یوسف کوکن عمری کو تصنیف وتالیف میں تربیت کے لئے علامہ سید سلیمان ندوی کے ہاں دار المصنفین اعظم گڑھ میں رکھا گیا، مولانا سید محمد امین صاحب کو معارف قرآنی کے درس کے لئے  سیالکوٹ (مولانا میر ابراہیم سیالکوٹیؒ  ) اور لاہور  (  مفسر قرآن مولانا احمدعلی  لاہوریؒ کے پاس)بھیجا گیا، مولانا حافظ عبید اللہ صاحب کو حفظ وتجوید کی تکمیل کے لئے پانی پت بھیجا گیا، مولانا ابو البیان حماد صاحب کو مولانا مسعود عالم ندوی کے پاس رکھا گیا، اور جب یہ فرزندان جامعہ علم وادب کے ان دور دراز سرچشموں سے اپنی علمی پیاس بجھا کر ( نہیں تیز کرکے )واپس آئے تو ان سے جامعہ کی خدمت لی گئی۔ (کہشان جامعہ ۔ ۱۲۸)

 علامہ غضنفر حسین نائطی 

جامعہ میں اہل حدیث  اساتذہ کے ساتھ حنفی دیوبندی مکتب فکر کے اساتذہ کی بھی ابتداہی سے کمی نہیں تھی، اکابر اساتذہ میں سے مولانا سید صبغۃ اللہ بختیاری ؒ ، اور مولانا سید محمد امین عمری قابل ذکر ہیں،  جامعہ کے وہ  مایہ اساتذہ جن کا احترام بغیر تحفظات کے آج بھی کیا جاتا ہے، ان میں سے ایک علامہ غضنفر حسین نائطی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ان کے بارے میں مولانا حفیظ الرحمن ؒ رقم طراز ہیں کہ :۔

(میرے والد مولانا محمد نعمان اعظمی شیخ الحدیث کہلاتے تھے، مولانا شاکر نائطیؒ شیخ الادب تھے، دونوں کے میدان الگ تھے، سوچ میں فاصلے تھے، مسلکی اختلاف تھا، میرے والد سلفی المسلک تھے اور آپ صوفی مشرب، سیاسی نقطہ نظر میں ایک دوسرے کے خلاف تھے، لیکن ذاتی تعلقات اور میل ملاپ میں افتراق و اختلاف کی کوئی چھاپ نہیں تھی ۔۔۔ مولانا ایک پہنچے ہوئے بزرگ اورصوفی کامل تھے، اثنائے گفتگو تصوف کی اصطلاحات بھی آجاتیں، ملکوت ، لاہوت، یاہوت وغیرہ کا ذکر آجاتا،تو ہماری شرارت یا ظرافت کہ ہم حضر موت اور لاہور کے بارے میں کچھ سوال کرتے، آپ کو ہماری نیتوں کا بخوبی اندازہ تھا، جلالی بزرگ کے لئے ہمارا سوال اشتعال انگیز ہوتا، مگر آپ سراپا متبسم بن کر فرماتے ، آپ لوگ خشک وہابی ہیں، دہلی اور لاہور سے آگے جابھی کہاں سکتے ہیں۔ (کہکشان جامعہ ۔ ۱۲۳)  آپ کے ایک اور رفیق مولانا ثناء اللہ عمری رقم طراز ہیں کہ  جامعہ کا قیام ۱۹۲۴ء میں عمل میں آیا تھا، جو دو مدرسین سب سے پہلے اس سے  وابستہ ہوئے ان میں سے ایک مولانا محمد فضل اللہ  تھے جو جامعہ کے پہلے ناظم بنے ،اور دوسرے علامہ غضنفر حسین شاکر نائطی تھے، جو پہلے ناظم کی رحلت کے بعد ۱۹۴۴ء سے۱۹۵۰ ء تک دوسرے ناظم رہے، اول الذکر مسلکا اہل حدیث تھے، اور ثانی الذکر  فاتحہ درود کے پابند دارالعلوم لطیفیہ ویلور کے فارغ التحصیل صوفی صافی بزرگ، آپ ۱۹۶۷ء میں آنکھیں بند ہوتے تک چالیس سال تک تدریس سے وابستہ رہے (کہکشان جامعہ۔ ۵۳  ) ۔

آپ نے یہاں سے ۱۹ جنوری ۱۹۶۱ء کو سند فضیلت حاصل کی ،ساتھ ہی ساتھ مدراس یونیورسٹی سے افضل العلماء کا امتحان پاس کیا۔ عمرآباد کے اساتذہ میں علامہ شاکر نائطیؒ کے ساتھ، مولانا احمد اللہ خان عمریؒ،  مولانا امین احمد عمریؒ، مولانا ظہیر الدین اثری رحمانیؒ، شیخ التفسیر مولانا سید عبد الکبیر عمریؒ، مولانا سید امین عمریؒ، شیخ الحدیث مولانا عبد الواجد عمری رحمانیؒ ، مولانا ابو البیان حماد عمری  دامت برکاتہم قابل ذکر ہیں۔

آپ کو دوران طالب علمی مضامین لکھنے کا شوق تھا ، جو اس دور کے پرچوں خاص طور پر سہ روزہ مدینہ بجنور میں بھی چھپتے تھے، جو کہ اپنے دور میں تعمیری فکر کا ایک معیاری پرچہ  سمجھا جاتا  تھا، فراغت کے فورا بعد آپ نے  اس کے مدیر سعید اختر بن مجید حسن کو ملازمت کی درخواست بھیجی جو فورا قبول ہوگئی، لیکن مولانا کا یہاں دل نہیں لگا، اور آپ چند دنوں  بعد دہلی چلے  گئے جہاں سہ روزہ دعوت دہلی میں مولانا محمد مسلم بھوپالی ؒ   کے زیر ادارت معاون مدیر کی حیثیت سے منسلک ہوگئے، سہ روزہ دعوت میں  آپ کا دل لگ گیا تھا، اور آپ کی خواہش تھی کہ  آئندہ زندگی اسی  میں گذار دیں۔ لیکن قسمت میں کچھ اور لکھا تھا۔

الكلية العربية الجمالية  مدراس اور شیخ احمد حسین شرقاوی از ہری 

ہوا یوں کہ   مولانا عبد الواجد عمری رحمانیؒ  ، شیخ الحدیث جامعہ  کا گرامی نامہ موصول ہوا جس کا حاصل یہ تھا کہ جامعہ ازہر مصر کے شیخ احمد حسین شرقاوی کی خواہش ہے کہ آپ جمالیہ مدراس میں کچھ دن ان کے ساتھ رہیں، تو وہ آپ کو اعلی تعلیم کے لئے قاہرہ بھیج دیں گے (میرے اساتذہ۔ ۱۳۰  )۔ مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی ؒ نے آپ کو جمالیہ میں تیاری کرکے ازہر جانے کے موقعہ سے فائدہ  اٹھا نے   کی ترغیب دی۔

اس زمانے میں جمالیہ عربی کالج  کی دینی مدارس میں اپنی ایک شناخت تھی، عربی بول چال پر قدرت رکھنے والے ہی جمالیہ میں رہ سکتے تھے، کیو ں کہ وہا ں غیر ملکی جیسے سری لنکا، ملیشیا وغیرہ کے طلبہ کی تعداد زیادہ تھی، کیمپس میں ہر بات اور اعلان وغیرہ عربی ہی میں ہوتا تھا، طلبہ آپس میں عربی ہی بولتے تھے، اچھا علمی ماحول تھا، قوانین کم تھے، آزادی زیادہ تھی، پھر بھی طلبہ پر دینی رنگ غالب اور اخلاق وعادات شریفانہ تھے (میرے اساتذہ۔ ۱۳۲  )۔  یہاں پر  حکومت مصر اپنے خرچہ پر اساتذہ کو بھیجتی تھی، اس وقت شیخ شرقاوی یہاں پر  مبعوث تھے، عمرآباد میں آپ کے آخری سال جو جلسہ ہوا تھا، اس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے آپ شریک تھے، اور مولانا حفیظ الرحمن ؒ کی عربی تقریر التمدن الاسلامی سے متاثر تھے، اور آپ کا نام نوٹ کرکے گئے تھے۔جمالیہ کے بارے میں مرحوم اپنے جذبات کا اظہار یوں کیا ہے:

(جنوبی ہند کی بد نصیبی ہے کہ یہاں کی نامی گرامی ہستیاں اور نامور فعال ادارے تک گمنامی کے ایسے گوشے میں جابسے ہیں کہ پڑوس کے آدمی کو بھی وہ اجنبی لگتے ہیں،وہ ان کی ملک گیر کارکردگی سے بھی یکسر ناواقف ہے، مدراس کے تاجر حضرات نے اپنی تجارتوں ہی کو فروغ نہیں دیا، بلکہ علوم فنون کی خدمت ، ان کی ترویج و اشاعت اور اسلام کی دعوت وتبلیغ کی راہ میں بہت ساری ناممکن باتوں کو ممکن کردکھایا۔ جو کام  علماء اور دانش وروں کا تھا وہ ان تاجروں نے ایسے موثر اور پائدار طریقوں سے انجام دیا کہ دنیا والے دیکھتے ہی رہ گئے ، یہاں تک بھی میں کہہ دوں تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ مدراس کے باحیثیت احباب نے اسلام کی دعوت وعلوم کی اشاعت اور خدمت خلق کے ایسے کارنامے انجام دئے جو شاہوں اور نوابوں کو بھی بہت کم نصیب ہوئے۔۔۔ جمالیہ عربی کالج بہت قدیم او مشہور عربی مدرسہ ہے، خالص ٹمل علاقے میں بڑے بڑے کروڑ پتی تاج اس کے فارغ ہیں، مدرسے کے بانی محترم جمال محمد جہاں وقت کے بڑے تاجر تھے وہی سخاوت وفیاضی میں بھی نام ور تھے، فلسطین کی تاریخ میں درج ہے کہ مظلوم فلسطینیوں کی امداد کے لئے چندے کی غرض سے ایک وفد ہندوستان آیا تو اس کی ہر جگہ خوب پذیرائی ہوئی ، عوام نے دل کھول کر تعاون کیا، نظام حیدرآباد اور مدراس کے جمال محمد صاحب نے ایک ایک لاکھ روپئے دیا جو اس وقت آج کے کروڑوں پربھاری ہے (میرے اساتذہ۔ ۲۲)۔

اورشیخ شرقاوی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ( شیخ شرقاوی وضعدار آدمی تھے، رکھ رکھاؤ کا بڑا پاس ولحاظ تھا، ان کی صلاحی کو جانچنے کے قابل تو میں نہیں تھا لیکن ان میں فصاحت وبلاغت اور طلاقت لسانی جو شیوخ ازہر کی ایک خاص پہچان ہے بدرجہ اتم موجود تھی، میرا زیادہ وقت ان کے ساتھ گزرتا تھا، وہ مجھے گھستے بھی خوب تھے اور مصروف رکھتے تھے، ڈاکٹر عبد اللہ دراز کی مایہ ناز کتاب النبا العظیم تلخیص کے لئے میرے حوالے فرمائی، میرے لئے یہ پہلا تجربہ تھا، شیخ کی رہ نمائی اورہمت افزائی میرے کام آئی اور مین کچھ کچھ کامیاب ہوتا گیا۔ (  میرے اساتذہ۔ ۱۳۲)

 یہاں مولانا عبد الباری حاوی معدنیؒ ، صدر المدرسین  جمالیہ  آپ پر مہربان تھے، موصوف کا عمرآباد سے تعلق تھا، مولانا احمد اللہ خان صاحب  آپ کے بہنوئی تھے  ، جو کہ آپ کے استاد اور آپ کے والد ماجد کے خدام خاص میں تھے، جامعہ کی تعمیر میں  اینٹ گار ا ڈھو کر بھی  آپ نے تعاون کیا تھا  ، مولانا حاوی ؒ آپ کے والد ماجد سے بھی خوب واقف تھے (میرے اساتذہ۔ ۱۳۲)

 لیکن جمالیہ میں رائج بعض روایات کی پابندی آپ سے نہ ہوسکی، جس کی وجہ سے طلبہ کو حجام، دھوبی، ناشتہ کے لئے پندرہ روپئے ماہانہ   کی جو سہولتیں ملتی تھیں، ان سے آپ محروم ہوگئے، والد ماجد کا سایہ سرپر نہیں تھا، لہذا اخراجات کا بوجھ   برداشت سے باہر ہورہا تھا، ایسے میں جمالیہ کی مسجد میں آپ کی ملاقات  مولوی یم نذیر حسین قصوری مرحوم سے ہوئی جن کا مکان پڑوس ہی میں واقع تھا۔

 قصوری خاندان ، مجلس خلافت پنجاب اور موپلا تحریک

نذیر صاحب بڑی نامور شخصیت تھی، جامعہ دارالسلام کے صدر تھے، اور آپ کی  مولانا عبد القادرقصوری ، مولانا محی الدین قصوری، مولانا اسماعیل غزنوی، مولانا داؤد غزنوی اور ایسے بہت سارے علمی اور سیاسی بزرگ آپ کےقریبی عزیز اور خاندان کے تھے (میرے اساتذہ۔ ۱۳۲  ) ۔ یہاں تاریخ ہند کے ایک گمشدہ باب کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

حجاز پر شاہ عبد العزیز بن سعود ؒ کے قبضے پر ہندوستان میں تحریک خلافت تقسیم ہوگئی، مولانا عبد الباری فرنگی محلی، مولانا علی برادران ، شاہ ابن سعود کے خلاف تھے، اور پنجاب کی مجلس کی قیادت پر قصوری خاندان اور غزنوی خاندان حاوی تھے، جو مسلکا اہل حدیث تھے، اسی دوران ۱۹۲۱ ء میں ملبار میں موپلا تحریک  شروع ہوئی، جس میں انگریزی حکومت نے بے تحاشا ظلم کئے، سینکڑوں شہید ہوئے، ان میں سے بہت سارے مسلمان قیدی ریل کی بوگی میں بند ملبار سے کوئمبتور پہنچتے پہنچتے دم گھٹ کر مر گئے، اس وقت گاندھی جی خلافت تحریک کی قیادت کررہے تھے، اور وہ موپلا تحریک کے مخالف تھے، لہذا شمال کے اخبارات اور مسلم قیادت نے اس عظیم تحریک آزادی سے زیادہ دلچسپی نہیں لی، اس وقت اس تحریک کے مظلوموں کی مدد کا بیڑہ مولانا عبد القادر قصوری کی قیادت میں مجلس خلافت (پنجاب ) نے اٹھایا، وہ پنجاب سے خفیہ دوروں پ کالیکٹ آئے، موپلا تحریک کے شہیدوں کی اولاد کے لئے کالیکٹ میں یتیم خانہ تعمیر کرنے میں تعاون کیا، آج اس کا شمار ہندوستان کے عظیم ترین یتیم خانوں میں اور مسلمانوں کے ترقی یافتہ تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے، آپ کے فرزند مولانا محی الدین قصوریؒ نے بھی کیرالا اور جنوبی ہند سے دینی ودعوتی خدمات انجام دیں، پونہ میں دعوت اسلام کا ایک اہم مرکز قائم کیا، ملبار اور کیرالا میں اہل حدیث فکر کی اشاعت میں ان حضرات کا بڑا ہاتھ ہے،  جامعہ دارالسلام عمر آباد کا قیام بھی انہی دنوں عمل میں آیا تھا۔

میاں نذیر حسین قصوری جامعہ دار السلام کے صدر تھے، اور مملکت سعودیہ کے بانی  شاہ عبد العزیز  ابن سعود کے حجاز پر قبضے کے ابتدائی دنوں میں قصوری اور غزنوی خاندان کے بزرگوں کی اخلاقی تائید کی وجہ سے  شاہ عبد العزیز ابن سعود ان کا بڑا احترام کرتے تھے، خاص طور میاں نذیر حسین قصوری کے ماموں مولانا محمد اسماعیل غزنوی ؒ کے بڑے شیدا تھے، اگر مولانا غزنوی ؒ آپ سے کسی وجہ سے  ناراض ہوتے تو شاہ عبد العزیز    ؒ آپ کو خاص طور پر منانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جامعہ دارالسلام عمر آباد کا جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے ملحق اولین اداروں میں ہوتا ہے، ۱۹۶۳ ء میں جب شیخ عبد العزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ  کو جب میاں نذیر حسین قصوری کی رحلت کی اطلاع ملی  تو ، انہیں تعلقات کی بنیاد پر  مولانا حفیظ الرحمن کو تسلی دی ، جو اس وقت جامعہ کے طالب علم تھے، اور خاص طور پر معتمد جامعہ کاکا محمد عمر مرحوم کو تعزیتی خط لکھا۔

 (  جب ہمارا  سنہ  ۱۹۷۰ ء میں جمالیہ میں داخلہ ہوا تو میاں نذیر حسین کا انتقال ہوئے عرصہ گزرچکا تھا، کالج کے قریب آپ کی حویلی  کی گیٹ پر سنگ مرمر کی تختی موجود تھی، غالبا مرحوم لاولد تھے۔ ان کے ایک عزیز وہا ں رہائش پذیر تھے، جو بڑے بااخلاق  تھے، اور پابندی سے جمالیہ کی مسجد میں نماز پڑھنے آتےتھے)

(نوٹ: جمالیہ اورقصوری خاندان کی خدمات پر چونکہ شاذ ونادر لکھا گیا ہے، لہذا ان پر کچھ زیادہ روشنی ڈالی گئی ہے)

Whatsapp: 0097155563651

2022-05-28

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*