بنیادی صفحہ / مضامین / آب بیتی الحاج محی الدین منیری علیہ الرحمۃ -10- دھوکہ دہی کے چند واقعات ۔۔۔ بقلم : عبد المتین منیری

آب بیتی الحاج محی الدین منیری علیہ الرحمۃ -10- دھوکہ دہی کے چند واقعات ۔۔۔ بقلم : عبد المتین منیری

Print Friendly, PDF & Email

            میرے خسر مولانا خواجہ بہاؤ الدین اکرمی صاحب جب بمبئی میں ٹیوشن کے ذریعہ گذراوقات کیا کرتے تھے ، انہیں تجارت کرنے کا خیال آیا۔ اور انہوںنے محمد حسن نامی ایک میمن کی شراکت میں مدراس سے لنگیاں منگوانی شروع کردیں ، اور جے جے اسپتال کے پاس اب جہاں نیا اردو کتاب گھر ہے ایک نئی عمارت میں دکان خریدلی ، اور لنگیوں کا کاروبارشروع کردیا۔ مولانا کی شخصیت میں بزرگیت تھی لہذا سارا کاروبار مجھے ہی دیکھنا پڑتا ، مولانا وقتاً فوقتاً آکر حساب و کتاب دیکھا کرتے ، اس زمانے میں دھوکہ دہی کے عجیب و غریب واقعات دیکھنے میں آئے۔ چند ایک آپ بھی سن لیجئے ۔

            ایک دن ہماری دکان پر ایک خوش پوشاک آدمی ایک بچے کو ساتھ لے کر آیا ، اس وقت ہمارا کاروبار سست تھا، اس نے مجھ سے مال دکھانے کو کہا، میں نے اسے ساڑیاں ، لنگیاں وغیرہ نکال دکھائیں۔ غالباً پانچ چھ سو روپیہ کا مال (جن کی مالیت آج کے دور میں پانچ چھ ہزار سے کم نہیں ہوگی)اس نے منتخب کرکے ان کی گٹھری بنائی اور کہا کہ پڑوس کی عمار ت میں ہماری مستورات رہتی ہیں ، انہیں یہ مال دکھا کر لاتاہوں ، انہیں ان میں سے جو پسند آئے گا میں خرید لوں گا۔ یہ میرابیٹا ہے واپسی تک آپ کی دکان پر بیٹھے گا ۔ اور وہ گٹھری لے کر چلاگیا ، ہم نے کافی دیر تک اس کا انتظار کیا، جب وہ نہ آیا تو بچے کی ڈانٹ ڈپٹ شروع کی تو پتا چلا کہ اسے اس شخص کا اتا پتہ کچھ معلوم نہیں ، بس وہ اسے راستہ میں ملا تھا، ہوٹل میں لے جاکر چائے پلائی اور ایک روپیہ ہاتھ میں تھما کر اس سے کہا کہ تم یہاں بیٹھو اور کوئی پوچھے تو کہنا کہ میرے بیٹے ہو۔ ایک اجنبی پر اتنے سے بھروسہ کا یہ حشر ہوا۔  ایسا ہی ایک اور دلچسپ واقعہ سن لیجئے ۔

            ایک شخص بڑی آن بان کے ساتھ ہماری دکان پر وارد ہوا، خواجہ صاحب بھی اس وقت موجود تھے۔ اس نے ہم دونوں سے باتیں کیں اور بتایا کہ اسے معلوم ہواہے کہ ہمارے تجارتی تعلقات مدراس کی مولانا کمپنی اور دوسرے لنگیوں کے بڑے تاجروں سے ہیں ۔ اور وہ جئے پور کے ایک بہت ہی امیر شخص کا آدمی ہے جو کہ اس وقت بمبئی کے ایک ہوٹل میں آکر ٹہرا ہواہے۔ اسے ہزاروں لنگیوں کی ضرورت ہے ، اور ہمیں وہ ایک بڑا آرڈر دینے کا خواہش مند ہے۔ اگر اس میں دلچسپی ہوتوکچھ نمونے اسے دے دیں۔ میں یہ نمونے لے کر اس کے ساتھ چلاگیا، وہ مجھے باندرہ کے ایک بنگلہ میں لے گیا جہاں پر وہ اقامت پذیر تھا۔ وہاں پر بڑا ٹھاٹ باٹ تھا، پہلے مجھے باہر دالان میں بیٹھنے کے لئے کہاگیا، تھوڑی دیر بعد مجھے اندر کمرے میں بلایا گیا ، جہاں پر میزکرسی سجی ہوئی تھیں اور ایک شاندار شخص وہاں بیٹھا ہواتھا۔ اس کے ساتھ دوتین محافظ تھے۔ اس نے ادھر ادھر سے لنگیاں دیکھیں ، یہ لنگی کیسی ہے ؟ وہ کیسی ہے ؟اس کی قیمت کیا ہے ؟ اور اس کی کیا ہے ؟ پوچھنے لگا، اور کہنے لگا کہ ہمیں ایک بہت بڑ اآرڈر دیناہے ، مدراس سے ہزاروں لنگیوں کا آرڈر دیجئے ہم نقد اداکردیں گے۔ اس کے بعد ایک بار خواجہ صاحب کو بھی ساتھ لے جاناہوا۔ انہوں نے آپ کی بڑی آؤ بھگت کی، صاب کو چائے لاؤ، چاندی کی پیالی میں لانا۔ ۔ ۔ خواجہ صاحب کے ساتھ میں بھی بیٹھ گیا ، بڑی عزت و احترام کے ساتھ اس نے ہمیں بٹھایا۔ خواجہ صاحب سے کہا بار بار آپ کو تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں ، مجھ اکیلے کو بھیج دیں تو کافی ہے۔ ہم اسی کے ساتھ معاملات طے کرلیں گے۔ جوبتانا ہوآپ اسے بتادیا کریں ۔ انہیں چھوڑنے کے لئے وہ خود ساتھ آیا۔ خواجہ صاحب نے راستہ میں مجھ سے کہاکہ ان پر مجھے شرح صدر نہیں ہورہاہے ، ان کے معاملات پر میرا دل مطمئن نہیں ہے، ان کے رہن سہن کا انداز بڑا عجیب ہے، میں نے کہا چپ رہیں، اتنے بڑے بیوپاری کو ہاتھ سے کیسے جانے دیں، ان کے ساتھ بڑا معاملہ ہونے والاہے۔ ان سے ہمیں بہت فائدہ ہوگا۔ مجھے چھوڑدیں میں ان سے سارے معاملات نپٹاتاہوں ۔ اس نے مجھے دوروز کے بعد آنے کو کہا، میں کیا دیکھتاہوں کہ ایک میز کے چاروں طرف دس بارہ آدمی بیٹھے ہوئے ہیں اور چوسر قسم کا ایک کھیل کھیل رہے ہیں، مجھ سے آہستہ سے کہاگیا کہ دیکھو اس کھیل میں بڑا نفع ہے ، اس میں ہار جیت بھی ہوتی ہے، لوگ ہزاروں روپیہ ہمارے پاس لاتے ہیں ، آپ بھی اس میں کیوں شریک نہیں ہوتے، دل میں خیال آیا میں بھی ان کے ساتھ شریک ہوجاؤں ، کچھ پیسے مل جائیں گے ، مجھے بھی لالچ ہوا کیونکہ لوگ اپنے ساتھ ہزاروں لے جارہے تھے ۔ میں نے کہا اس وقت میرے پاس کچھ موجود نہیں ہے ، گھوڑا لگانا ہو تو لگا دیتاہوں ، نہیں آپ چار پانچ سوروپیہ ساتھ لائیے ، آپ کا ہی فائدہ ہوگا۔ میں نے کہا ابھی توجیب خالی ہے، پھر بھی پیسہ ساتھ ہی لے کر آتاہوں ، وہ مجھے جوئے میں لگا کر ساری دکان صاف کرانا چاہتے تھے۔ میں نے ساراماجرا جا کر خواجہ صاحب کو بتادیا۔ انہوں نے کہا میں نے تمہیں پہلے بتادیا تھا۔ لیکن تم ضد کرتے ہو، میں نے کہا میں ایک بار پھر کوشش کرکے دیکھتا ہوں ، ان کی باتیں بیوپاریوں جیسی ہیں ، ان سے بیوپار ضرور ہوگا۔

            میں جب دوبارہ ان کے پاس گیا تو انہوں نے پوچھا ، پیسہ لائے ہو، میں نے کہا کہ کچھ نقد نہیں ہے ، دکان کی ساری رقم باہر پڑی ہوئی ہے۔ نقد سو پچاس جس قدر تھا جیب میں ہے ۔ اچھا وہی لگادو۔ میں نے جیب میں جو رقم تھی وہ گھوڑے پر لگا کر گنوادی ، اس طرح بھولے بھالے لوگوں کو پھنسا کر ان کا لاکھوں روپیہ لوٹا جاتاتھا۔ بڑی حویلی میں ٹھاٹ باٹ ، چاندی کی پیالی میں صاب کو چائے لاؤ وغیرہ ۔ اس طرح کے دھوکے بھی بمبئی میں ہوتے تھے۔

x

Check Also

مسلم سینا کا نام لینا بھی طوفان کو دعوت دینا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

ہم الحمد للہ نہ کم آمیز ہیں نہ مردم بے زار، بعض ...