بنیادی صفحہ / مضامین / سچی باتیں۔۔۔ مولانا عین القضاۃ فرنگی محلی۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد  دریابادیؒ

سچی باتیں۔۔۔ مولانا عین القضاۃ فرنگی محلی۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد  دریابادیؒ

Print Friendly, PDF & Email

1929-02-22

سیکڑوں برس اُدھر نہیں، اِسی بیسویں صدی عیسویں میں، اور کہیں بہت دُور نہیں، اسی شہر لکھنؤ میں ایک مشہور متقی ومرتاض بزرگ مولانا عین القضاۃؒ تھے، جن کی وفات ۱۹۲۵ء میں ہوئی ہے۔آپ نے تجدیدِ قرآن وعلم دین کا ایک بہت بڑا مدرسہ ، مدرسۂ فرقانیہ کے نام سے قائم فرمایا تھا، جو اب تک چل رہاہے۔ سیکڑوںطلبہ، بیسیوں اساتذہ، بہت بڑی عمارت، استادوں کی اچھی معقول تنخواہیں، انگریزی کالجوں اور اسکولوں کے بالکل برخلاف، طلبہ سے فیس لینا الگ رہا، اُلٹی خود اُنھیں کے مدرسہ کی طرف سے کھانے اور کپڑے، بلکہ نقد سے بھی امداد۔ مدرسہ کے مجموعی مصارف کی میزان، ہرمہینے، کئی کئی ہزارکی! اور یہ صورت نہ صرف اُن کی زندگی میں قائم رہی، بلکہ وفات پر چارپانچ سال گزرنے پر اب تک چلی آتی ہے! کیا وہ اس کے لئے کوئی جائداد وقف فرماگئے تھے؟ کیا وہ کوئی رئیس، تعلقدار، ساہوکارتھے؟ کیا وہ موٹر پر ہواخوری کو نکلاکرتے تھے، اور اُن کے دروازے پر ہاتھی جھومتے رہتے تھے؟ یا یہ کچھ نہ سہی، تو کیا وہ اپنے مدرسے کے لئے، قوم سے بڑے بڑے عطئے اور چندے طلب کیاکرتے تھے؟ پبلک کے سامنے بڑی بڑی پُردرد اپیلیں شائع فرماتے رہتے، اور بڑی بڑی پُرجوش تقریریں کرتے رہتے، جن کامغز وماحصل صرف چندہ کی طلب ہوتی؟

اُن بزرگ کو تو ان چیزوں کی ہواتک نہیں لگتی تھی۔ ان کی پاک وگوشہ نشیں زندگی تو ’’پریس‘‘ اور ’’پلیٹ فارم‘‘ ، ’’پوسٹر‘‘ اور ’’اشتہار‘‘ ، ’’کمیٹی‘‘ اور ’’چندہ‘‘ کے جدید اور up to dateطریقوں سے بالکل ناآشنا تھی۔ نہ اُن کے جلوس نکلتے تھے، نہ اُن کے نام کی ’’جے‘‘ پکاری جاتی تھی، نہ اُن کے موٹر کے مصارف کا بِل سیکڑوں روپیہ ماہوار کا ہوتاتھا، اور نہ اُن کی ’’بصیرت افروز تقریروں‘‘ سے روزانہ اخباروں کے کالم کے کالم لبریز ہوتے تھے۔ نہ وہ ’’سلطان القلم‘‘ تھے ، نہ ’’ابو الکلام‘‘ ۔ نہ ’’رئیس الاحرار‘‘ تھے، نہ ’’ ظفر الملت‘‘ ، نہ’’شیر اسلام‘‘ تھے، نہ ’’امام الہند‘‘ ۔ نہ کسی انجمن کے صدر تھے، نہ سکریٹری۔نہ ایڈیٹر تھے نہ بیرسٹر۔ نہ مُناظرتھے نہ متکلم۔ نہ کوئی پنڈال اُن کی دھواں دھار تقریروں سے گونجا، نہ کوئی روزنامہ اُن کے پُرزور افتتاحیوں سے باصرہ نواز ہوا۔ بس ایک سیدھے سادے مسلمان تھے، اور پختہ مسلمان۔ اللہ کے ہورہے تھے ، اس لئے اللہ بھی اُن کا ہورہاتھا۔ اللہ کی راہ میں، اللہ کے کام کے لئے، ہزارہا روپیہ ماہوار صَرف کیا، اور اللہ ہر مہینے اپنے بندوں ہی کے ہاتھوں بے کھٹکے، اُنھیں یہ دولت دلاتارہا۔ اورجس کسی کو خدمت کی توفیق ہوئی، وہ یہ کبھی نہ سمجھا، کہ وہ مولانا پر کوئی احسان کررہاہے، بلکہ ہمیشہ یہی سمجھا، کہ مولانا اُس کی خدمت کو قبول فرماکر اُسے زیر باراحسان کررہے ہیں۔ یہ فیض زندگی کے کئی سال بعد بھی اب تک جاری ہے۔

تنہا مولانا عین القضاۃ ؒ کی تخصیص نہیں، بہت قدیم زمانہ کی نہیں، اسی سَوپچاس برس کے اندر،اور باہر کے نہیں، خود ہندوستان ہی کے، درویشوں اور دیندارعالموں کی کثرت سے مثالیں آپ کو مل جائیں گی، جنھوں نے اپنے اپنے زاویوں اور گوشوں اور خانقاہوں میں بیٹھے ہوئے ، اللہ کا نام لے کر عظیم الشان دینی درسگاہوں کی بنیاد ڈال دی، اور وہ درسگاہیں ہزارہا کے مصارف کے ساتھ، مدتوں سے بلاکسی کشمکش کے سرسبز چلی آرہی ہیں۔ دشواریوں میں مبتلا ہیں وہ، جن بھروسہ خدا سے زیادہ خودی پر، اور جن کا سہارا ’’تکبیر‘‘ سے کہیں زیادہ ’’تقریر‘‘ پر ہے!۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*