بنیادی صفحہ / مضامین / تبصرات ماجدی(۱۳۱)۔۔۔ اردو ۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادی

تبصرات ماجدی(۱۳۱)۔۔۔ اردو ۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادی

Print Friendly, PDF & Email

*(131) اردو*

از جگن ناتھ صاحب آزاد

24صفحہ، قیمت چھ آنے، دہلی کتاب گھر، دہلی۔

نثر نہیں نظم ہے، ایک ہندو شاعر کی زبان سے چند سال قبل کی کہی ہوئی، لیکن حال میں دھرائی ہوئی، شاعر اب لاہوری نہیں 1947 کے خونیں واقعات کے بعد سے دہلوی ہیں، اپنا لٹا پٹا تحریری سرمایہ وطن سے لاسکے ہوں یا نہیں لیکن بڑی بات یہ ہے کہ اپنی شرافت کا سرمایہ تمام تر لیتے آئے ہیں – کلام آپ سنیں گے؟

سنا ہے ہند پر یوں حکمراں تھی آل تیموری

کہ ملک ایک جسم تھا اور اس میں جاں تھی آل تیموری

یہ تھا دور آدمیت کا شرافت کا مروت کا

وطن میں یہ زمانہ تھا، زمانہ امن و راحت کا

ہوئیں شیر و شکر اس طرح دو اقوام آپس میں

کہ پھیلیں ہر طرف ہندوستان میں پیار کی رسمیں

اکھٹے ہندو، مسلم شریکِ حکمرانی تھے

وطن کے پاسباں مل جل کے محوِ پاسبانی تھے

اللہ اللہ! یہ الفاظ اور یہ خیالات ایک ‘‘شرنارتھی’’ کی زبان سے 1950 میں!۔ دوسرا بند ملاحظہ ہو    ؎

ادھر بھی ایک تمدن تھا ادھر بھی ایک تمدن تھا                    نظر آیا وطن کی سرزمیں پر ایک حسیں نقشہ

نہ کیوں اس گلستاں میں ارتقا کے پھول پیدا ہوں

جہاں پہلو بہ پہلو دو تمدن کار فرما ہوں

جہاں علم پر چمکے مثال کہکشاں ہندی

حکومت کی زباں تھی فارسی، اور ملکی زباں ہندی

عنا دل نغمہ آرا تھے ادب کے گلستانوں میں

اضافہ ہو رہا تھا اس طرح دونوں زبانوں میں

آگے ذکر ہے کہ دونوں سے مل جل کر بلکہ گھل مل کر نئی زبان اردو پیدا ہوئی، بند کے بند اگر نقل ہوتے گئے تو کتاب میں پڑھنے کے لیے رہ ہی کیا جائے گا؟

کتاب منگا کر پڑھیے اور دوسروں کو سنائیے۔ شاعر کی شرافت اس قابل ہے کہ اس کے ہاتھ چوم چوم لیے جائیں۔

ایک مختصر پیش نامہ قاضی عبد الغفار صاحب کے قلم سے ہے۔

صدق جدید، نمبر  14، جلد  13 ،   مارچ 1951

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*(132) ہفت رنگ*

از عرش ملسیانی

192صفحہ، مجلد مع گرد پوش، قیمت تین روپیہ ‘‘رہنمائے تعلم’’ بک ڈپو، مفتی والان، دہلی۔

(پاکستان میں : شیخ محمد اسمعیل پانی پتی، دفتر ‘‘رہنمائے تعلم’’ رام گلی نمبر 3، لاہور)

اردو کے شاعروں اور خوش گو شاعروں کی تعداد ہندوؤں میں اب بھی موجود ہے اور اس طبقہ کے ایک ممتاز فرد عرش ملسیانی (نائب ایڈیٹر ‘آج کل’) ہیں، ہفت رنگ ان کا پہلا دیوان ہے، صوری اعتبار سے چھوٹا، معنوی حیثیت سے بڑا، قامت میں کہتر، قیمت میں بہتر۔

عرش کی مناسبت ‘فلک’ سے ظاہر ہے اور آسمان کے بھی چوں کہ سات طبقہ ہیں شاید اسی مناسبت سے یہ دیوان عرش بھی قوس و قزح بنا ہوا سات رنگ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

پہلا رنگ ‘‘خون آدم’’ (17-64) ہے اس کی بسم اللہ اقبال کی ایک فارسی رباعی سے ہوتی ہے، کوئی 16 نظمیں اس میں مسائل حاضرہ پر ہیں، اس کی ایک نظم اشرف المخلوقات کا نمونہ  ؎

اے حال پریشانِ جہاں دیکھنے والو               اے نبضِ جوانان جہاں دیکھنے والو

دیکھو تو زرا یہ قفس و دام کی دنیا                     آزار کی دنیا غم و آلام کی دنیا

تہذیب پہ تخریب ستم توڑ رہی ہے                  ہمت ہے کہ ہر گام پہ جی چھوڑ رہی ہے

یہ ٹینک یہ بم اور یہ توپوں کے دہانے              بے مہری انسان کے سناتے ہیں افسانے

خوانخواریِ انسان کی یہ گھاتیں ہیں قیامت          اس اشرف مخلوق کی باتیں ہیں قیامت

دوسرا رنگ نوائے عشق (ص : 65 تا 112) کے نام سے تغزل کا ہے، اس کی ایک جھلک  ؎

اب وہ کرتے ہیں مری غمخواریاں                 ہوگئیں آسان سب دشواریاں

عرضِ واجب سے بھی رکھا ہے نیاز    مجھ کو لے ڈوبیں مری خود داریاں

تم نے یہ کیا اپنے دل میں ٹھان لی                  کیوں ہیں میری اس قدر دلداریاں

ان سے ملتا ہے قناعت کا سبق                    ایک نعمت ہیں مری ناداریاں

کوشش اظہارِ غم بھی ضبط بھی                     آہ یہ مجبوریاں، مختاریاں!

تیسرا رنگ ‘‘واردات’’ (ص : 114-128) کے زیر عنوان ہے، اس آپ بیتی کے ٹکڑے میں شاعر نے حسن بشری اور حسن قدرت سے متعلق اپنے تجربات و تاثرات کی داستان سنائی ہے۔

چوتھے رنگ کا عنوان سوز و گداز (ص : 130 تا 144) ہے اور اس کے تحتانی عنوانات ‘‘بیوہ کی فریاد’’ ‘‘محبوب کا آخری خط’’ ‘‘سہاگن بیوہ’’ وغیرہ ہیں۔

پانچواں رنگ ‘‘متفرقات’’ (ص : 145-160) کا ہے، اس میں کچھ سیاسی نعرے ہیں، معتدل قسم کی سوشلزم کی تائید۔

چھٹا رنگ ‘‘خرابات’’ (ص : 162-176) کے عنوان سے خمریات پر ہے اور کتاب کا شاید سب سے پھیکا حصہ یہی ہے، عجب نہیں کہ محض تبصرہ نگار کی بدذوقی اس کی ذمہ دار ہو۔

ساتواں رنگ کا عنوان گیت (ص : 172 تا 192) ہے، ‘‘کسان کا گیت’’ ‘‘پن گھٹ’’ ‘‘ہمارا دیش’’ وغیرہ اور اس کے بیش تر حصوں میں زبان قدرۃً دیہاتی استعمال کی گئی ہے۔

عرش صاحب نہ دہلی کے ہیں نہ لکھنؤ کے، پنجاب کے ہیں اور پنجاب میں بھی دیہات کے، حیرت ہے کہ وہاں رہ کر انھیں اردو فارسی آمیز اردو کے صحیح استعمال پر اس قدر قدرت کیسے حاصل ہوگئی، پھر فنی اعتبار سے بھی دیکھیے تو کلام الگ پختہ اور حافظ و اقبال سے تو انھیں خاص عقیدت معلوم ہوتی ہے، کسی سے ہٹیے وہ اب بھی نہیں اور کچھ روز میں مزید مشق و پختگی کے بعد تو عجب نہیں کہ استادوں کی صف میں نظر آنے لگیں۔

صدق جدید، نمبر  19، جلد  1 ،   مورخہ 6؍ اپریل 1951

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*(133) کشکول مجذوب*

از خواجہ عزیز الحسن صاحب غوری مجذوبؒ

ضخامت 288+6صفحات، قیمت چھ روپیہ

کتب خانہ امداد الغرباء، متصل مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور، (یو پی)۔

ماضی قریب کے شعراء میں خواجہ عزیز الحسن مجذوبؒ خاص رنگ کے مالک، آپ شیخ طریقت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے محبوب خلفاء میں تھے اور اپنے مرشد کے عاشق زار، ان کے فیض صحبت سے کلام جو پہلے ہی پر کیف اور وجد انگیز تھا اور زیادہ پر کیف اور عاشقانہ سے بڑھ کر عارفانہ ہوگیا۔ شاعر کا تخلص پہلے حسن تھا، مرشد کے ارشاد کے مطابق اسے مجذوب سے بدل دیا۔ مرشد کے یہاں انھیں وہی درجہ حاصل تھا جو حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی بارگاہ میں امیر خسروؒ کو حاصل تھا۔ اسی بنا پر آپ کو خسرو بارگاہ اشرفی کہا جاتا تھا۔

حضرت مجذوب نہایت ذہین و پرگو شعراء میں تھے، لیکن کلام میں بلا کی جاذبیت تھی، سخت سے سخت زمینوں میں ان کی روانی طبع جان ڈال دیتی تھی۔ موجودہ مجموعہ ان کے مکمل دیوان کی حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ مرتب کو جس قدر کلام جہاں سے بھی مل سکا اسے انھوں نے کشکول کے نام سے شایع کر دیا، پورے دیوان کا مسودہ کہا جاتا ہے کہ مرحوم کے صاحبزادوں کے پاس موجود ہے، مگر معلوم نہیں کہ ان کے کون سے مصالح اس کی اشاعت میں مانع ہیں۔

اس کشکول کی ترتیب یوں ہے، اولاً حمد و نعت، بعد ازاں غزلیں ردیف وار نظمیں، قند پارسی کے عنوان سے فارسی کلام اس کے بعد اشکہائے عقیدت (مرثیے)، حقائق و بصائر پر مشتمل یہ قطعات جس کا خاص جزء تعلمات اشرفیہ منظوم ہیں اور آخر میں 16 صفحات کا ضمیمہ جس میں حضرت مجذوب کی بعض مشہور و معروف نظمیں نئی روشنی، نعرۂ جانباز وغیرہ شامل ہیں۔ مجذوب کا کلام شروع سے آخر تک جاذب قلب ہے۔ نمونے ملاحظہ ہوں  ؎

یہ کون آیا کہ دھیمی پڑگئی لو شمع محفل کی             پتنگوں کے عوض اڑنے لگیں چنگاریاں دل کی

خلاصہ مجھ سے سن لے کوئی آداب محبت کا         دعائیں دل میں دینا ظلم سہنا، بے زباں رہنا

کیا کہوں دنیا میں کیوں کر رہا                      عمر بھر جینا مجھے دوبھر رہا

کبھی نظر میں جمال تیرا کبھی نظر میں جلال تیرا      بس اب ہے دل اور خیال تیرا کسی کا اس میں گزر نہیں ہے

وہی بزم دو عالم مری تنہائی ہے                    خانۂ دل میں عجب انجمن آرائی ہے

ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی                      اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی

تعلیمات اشرفیہ منظوم کا بھی ایک نمونہ ملاحظہ ہو  ؎

دل سے لگائے ہوئے نام اس کا لیے جا            ہاں جام یہ جام اس کی محبت کے پیے جا

ذکر میں اور فکر میں دن رات لگا رہ                انجام کو چھوڑ اس پہ، خود اپنی بنی کئے جا

صدق جدید، نمبر  22، جلد  12 ،   مورخہ 12؍ مئی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*