بنیادی صفحہ / مضامین / بات سے بات: پرانی کتابوں کی قدروقیمت۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل

بات سے بات: پرانی کتابوں کی قدروقیمت۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Print Friendly, PDF & Email

 چند روز قبل بچوں کے لئے ایک خوبصورت کتب خانہ کا افتتاح ہوا، نوجوان اساتذہ نے اسے مزین کرنے کے لئے خوب محنت کی، اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس نئے کتب خانہ میں پھٹی پرانی کتابیں اچھی نہیں لگتیں، کتب خانے کی خوبصورتی اس سے متاثر ہوتی ہے، لہذا انہیں نکال کرنئی کتابوں سے الماریاں بھری جائیں، یہ ان کی  ایسی فرمائش تھی ، جو ظاہری طور پر درست بھی لگتی تھی۔ہم نے انہیں پرانی کتابوں کی حفاظت کرنے کی رائے دی، معلوم نہیں انہیں پسند آئی بھی یا نہیں۔

پرانی کتابوں کو ضائع کرنے کا رویہ اب عام ہوچلاہے، دراصل اب لوگوں کے پاس پیسے اور سہولتیں پہلے کے مقابلے میں بہت  بڑھ گئی ہیں، پہلے پرانے قسم کے مکانات تھے جن میں کئی کئی خاندان رہا کرتے تھے، ہمارے بھٹکل میں ایک مکان کو دیکھا جس میں   (۲۴  ) گھرانے ایک چھت کے تلے آباد تھے۔ اب تہذبیں بدل رہی ہیں ، اس طرح لوگوں کے روئے بھی بد ل رہے ہیں۔ اب ایک مکان میں میاں بیوی اور ایک دو بچے رہتے ہیں، ان سے زیادہ آبادی بھاری لگتی ہے۔

بہت زیادہ    زمانہ نہیں گذرا ، ہماری طالب علمی  کے دور میں  جب سورت کے عبد الصمد الکتبی کی مہر پڑی انوارالسالک شرح عمدۃ السالک ، شرح شذور الذہب ، ریاض الصالحین جیسی کوئی باہر ملک کی پیلے کاغذ پر چھپی کتاب  پڑھنے کو  ملتی تو  اسے بار بار دیکھا کرتے ، اسے بہت تھام کر رکھتے، اتنی احتیاط کیا کرتے  کہ کوئی کاغذ نہ پھٹ جائے، لیکن اب بیروت کی چھپی بھاری بھرکم خوبصورت جلدوں کی کتابیں سامنے ہوتی ہیں، لیکن ان کے کھولنے کے لئے بھی ہاتھ نہیں بڑھتے، قدرین بدل گئیں ہیں۔

بات یہ ہے کہ جب نئی کتابوں سے ہمارے کتب خانے آباد ہونے لگے تو ہماری توجہ  کتب خانوں کے ظاہری  منظر تک سمٹ کر رہ گئی، اور خوبصورتی کو ترجیح دیتے ہوئے  قدیم کتابوں سے توجہ ہٹ گئی، اور یہ کتابیں  زیادہ تر بے توجہی سے بوسیدہ ہوکر پھٹ گئیں، حالانکہ  کئی لحاظ سے ان کی قدر وقیمت دوبالا ہو گئ تھی، یہی وجہ ہے کہ یورپ والوں نے اپنے کتب خانوں میں پرانی کتابوں کو سینت سینت کررکھا، اور دن بہ دن ان کی قیمت کوڑیوں سے بڑھ کر لاکھوں تک پہنچ گئی۔اس کی کئی وجوہات تھیں۔

۔ کتابوں کی ابتدائی اور قدیم ایڈیشنوں کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ جب یہ دوبارہ تحقیق کے ساتھ چھپتی ہیں، تو پھر عبارتوں کے موازنہ کے  وقت کام آتی ہیں۔ اور بعد کے ایڈیشنوں میں ہونے والی تحریفات کا ان کے ذریعہ پتہ چلتا ہے۔

۔ یہ کتابیں   کسی ملک  میں اشاعت کتب کی رفتار کا   پتہ دیتی ہیں۔

۔کتابوں کی عبارتوں کی تصحیح کا جو معیار ۱۹۷۰ ء کی دہائی سے قبل پایا جاتا ہے، وہ معیار اب  بہت گھٹ گیا ہے، جب سے ہاتھ کی کتابت کا کام کمپوٹر نے انجام دینا شروع کیا ہے،اس وقت سے املائی غلطیوں سے مبرا اشاعتیں بدلی کے چاند کی سی ہوگئی ہیں۔

۔جو کتابیں قدیم لیتھو پریس میں چھپی ہے، ان کی حیثیت قلمی کتابوں کی سی ہوگئی ہے، جن پر بڑے عظیم مدققین کی نظر پڑ چکی ہے۔ اسی وجہ سے ہندوستان میں لیتھو پر چھپی احادیث کی کتابیں عموما تحقیق اور ایڈیٹنگ کے موقعہ پر قلمی نسخوں کے ساتھ ساتھ  محققین کے سامنے ہوتی ہیں، اور یہ حضرات ان کا حوالہ بھی اپنی تحقیقات میں دیتے ہیں۔

۔ بہت سی کتابیں ایسی ہوتی ہیں، جنہیں دوبارہ چھپنا نصیب نہیں ہوتا،  یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ پتہ نہیں یہ کب ناپید ہوجائیں ، اس لئے جو کتاب بھی موجود ہے اس کی حفاظت آئندہ مٹ جانے کے خطرے سے بچنے کے لئے ضروری ہوجاتی ہے، ان  کتابوں میں بچوں کے لئے لکھا جانے والا ادب  بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے، یہی دیکھئے    بر صغیر سے  مکتبہ جامعہ دہلی، ہمددر کراچی، فیروز سنز  لاہور، غلام علی اینڈ سنز لاہور، ادارہ الحسنات رامپور ، کھلونا   دہلی وغیرہ سے کتنی ڈھیر  ساری بچوں کی کتابیں شائع ہوئیں، ہماری نسل نے انہی پڑھا اور پھاڑ کر پھینک دیا، آج ان میں سے ایک بڑی تعداد تلاش کرنے پر نہیں ملتی، جبکہ آج بچوں کی نفسیات سمجھ کر ان کے لئے لکھنے والے ادیب نایاب ہوتے جارہے ہیں،  بچوں میں مطالعہ اورکتب بینی کا شوق پیدا کرنے کے لئے اب انہیں کتابوں کی تلاش ضروری ہوگئی ہے ہے۔ انگریزی کا حال بھی اردو سے کچھ اچھا نہیں ہے، ستر کی دہائی تک  اکسفورڈ پریس کی کہانیوں  کی کتابیں بڑی تعداد میں ملتی تھیں، جب ہم چنئی میں پڑھتے تھے تو ریلوے اسٹیشن کےپاس برطانوی دور کی مور مارکیٹ   میں یہ کتابیں مستعمل  بھی ملا کرتی تھیں ، آج ان کتابوں کو تلاش کرتے ہیں تو مل دستیاب نہیں  ہیں، اس وقت تیس چالیس سال قبل چھپنے والے بچوں کے ادب کوجہاں سے بھی ملے اسکین کرکے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے، کہتے ہیں دنیا نے ترقی کی ہے ، ممکن ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کی ترقی آسمان کو چھورہی ہو، لیکن ادب اور کتاب کے میدان میں یہ ترقی معکوس ہی محسوس ہوتی ہے۔ اب ایسا ادب معدوم ہوا چلا جارہا ہے جس کا انتظار ایک قاری ہرصبح اور  ہرہفتہ کیا کرتا تھا، سوفٹ ویر وں کے طفیل ٹکسال کی طرح کتابیں پریسوں سے  دھڑا دھڑ چھپ رہی ہیں، لیکن اسے قاری نہیں میسرنہیں  ہیں، اس کا  الزام ہم موبائل اور سوشل میڈیا پر ڈال کر جان چھڑا لیتے ہیں، حالانکہ یہ آدھا سچ ہے، آدھا سچ تو یہ ہے کہ ایک معیاری قاری کو اس کے علم کی پیاس بجھانے کو اس کی مطلوبہ تحریر نہیں مل رہی ہے۔جو تحریر یں مل رہی ہیں وہ وقت گزاری کی ہیں۔لہذا قدیم کتابوں کی رونق اس کی جلد ٹوٹنے سے یا اس کا تھوڑا سا کاغذ پھٹنے سے ختم نہیں ہوجاتی، اس پر تھوڑی سی محنت کرکے ان کی رونقوں کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ اصل چیز دلو ں میں طلب علم کا ولولہ اور اس کی عزت پیدا کرنا ہے، جب دل میں علم کی عزت پیدا ہو تو اس کے حصول کے لئے ولولہ پیدا کرنا آسان ہوجائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*