بنیادی صفحہ / مضامین / محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا بدر الدین علوی

محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا بدر الدین علوی

Print Friendly, PDF & Email

مولانا بدرالدین علوی

            ولادت:علی گڑھ،۱۳۱۰ھ،مطابق ۱۸۹۳ء

            معزز علوی سادات سے آپ کا تعلق تھا۔شروع میں انگریزی تعلیم حاصل کی،عربی بھی ساتھ ساتھ شروع کردی تھی،لیکن ۱۹۱۰ء میں پنجاب یونیورسٹی کے انٹرنس کے امتحان میں ناکامی کے بعد پوری طرح عربی کی طرف متوجہ ہوئے۔آپ استاذ العلماء مولانا لطف اللہ علی گڑھی کے آخری دور کے باکمال تلامذہ میں تھے۔

         سنہ ۱۹۱۵ء میں لٹن لائیبریری ،ایم۔اے۔او کالج علی گڑھ میں عربی وفارسی سیکشن کے انچارج مقرر ہوئے،۱۹۲۰ء ۔۱۹۲۱ میں مدرسہ لطفیہ علی گڑھ میں تدریسی خدمات انجام دی،۱۹۲۱ء ہی میں مسلم یونیورسٹی کے انٹر میڈیٹ کالج میں عربی کے استاد مقرر ہوگئے،۱۹۳۲ء میں بحیثیت لکچرر شعبہ عربی مسلم یونیورسٹی آپ کا تقرر ہوا،۱۹۵۴ء میں مسلم یونیورسٹی کی ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔مولانا کو انگریزی زبان پر بڑی قدرت حاصل تھی۔آزادی  سے قبل مسلم یونیورسٹی میں ذریعہ تعلیم انگریزی تھا،مولانا بے تکلف انگریزی میں لکچرز دیتے تھے،مولانا انگریزی،اردو،عربی تینوں زبانوں میں مضامین لکھتے تھے۔اسی طرح ان کی تصانیف بھی ان تینوں زبانوں میں موجود ہیں۔ان میں یہ کتابیں قابل ذکر ہیں:شرح المختار من شعر بشار(تحقیق وتعلیق)،کلام لطف،استاذ العلماء،کے علاوہ دیوان ابن درید اور دیوان بشار بھی ان کی تحقیق سے علی الترتیب مصر وبیروت سے شائع ہوئے ہیں۔

            وفات:علی گڑھ ۱۷ /محرم الحرام ۱۳۸۵ھ ،مطابق  /۱۶ مئی ۱۹۶۵ء

            مدفن:قبرستان مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

*******************************************************************************************************************

            میری والدۂ مرحومہ ایک دین دار علم والی خاتون تھیں۔اللہ تعالیٰ نے تربیت کا سلیقہ ان کو ایسا عطا فرمایا تھاکہ باید وشاید۔والد مرحوم کو تربیت اور تعلیم سے ،بچوں کے بڑے ہوجانے کے بعد بھی سروکار نہ تھا،تمام امور کی ذمہ داری والدہ مرحومہ پرتھی۔مروجہ طریقے پر ابتدائً مجھے کلام اللہ پڑھایا گیا،پھر مولوی اسماعیل میرٹھی کی کتابوں کا سلسلہ شروع ہوا۔سیرت نبوی اور تاریخ سے دلچسپی والدہ مرحومہ پیدا کرچکی تھیں۔اردو پڑھنے کی لیاقت آتے ہی سیرت کی ایک بڑی ضخیم کتاب شمس التواریخ ہاتھ لگی،ایک کتب فروش اتفاق سے دروازے پر یہ کتاب لے کر آیا،والد مرحوم نے میری طبیعت کی مناسبت سے خرید لی اور مجھے دے دی،جب وہ جلد بندھنے کے لئے گئی،تومجھے خوب یاد ہے کہ کس بے چینی کے ساتھ میں اس کی واپسی کا منتظر رہا۔میرے ایک ہم سن چچازاد بھائی ان دنوں آئے ہوئے تھے،تقاضے کے لئے وہ بار بار جلد ساز کے پاس بھیجے جاتے۔جب وہ آگئی تو میں تھا اور وہ،قرآن مجید کے دور اور سبق کے بعد سارا وقت شمس التواریخ کے پڑھنے میں گزرتا،اس وقت نو دس سال سے زیادہ عمر نہ تھی،بیسوں باتیں سمجھ میں نہ آتیں،لیکن کتاب کو نہ چھوڑتا،بالآخر اس کو ختم کرڈالا،اب والدہ مرحومہ کو سنانے کی ٹہری۔غرض کسی نہ کسی بہانے سے اس کے ساتھ مشغولیت ،اس کی محبت کا تقاضہ تھی۔برادر موصوف نے جو ایک اچھے عہدے پر فائز ہوکر اب رحلت کر چکے ہیں،میرا شغف دیکھ کر یہ معمول قرار دے لیا تھاکہ ہر خط میں عزیزوں کے ساتھ شمس التواریخ کو بھی سلام لکھتے۔اس زمانے میں امرتسر سے اخبار وکیل نکلتا تھا،والد مرحوم نے اس کو میرے نام پر جاری کرالیا تھا۔اس میں بلاد اسلامیہ کی خبروں سے خاص ذوق تھا۔ایک پرچے میں شمس التواریخ کے حصہ دوم کا اشتہار نظر پڑا۔عرض کرتے ہی کتاب منگوادی گئی،حضرت ابوبکرؓ  صدیق کے حالات میں تھی،اور حصہ اول کی ایک تہائی ضخامت رہی ہوگی،چند دنوں میں پڑھ لی۔اب کچھ لکھنے کا شوق بھی پیدا ہوچکا تھا،تلاوت اور دور کے لئے جو نسخہ قرآن مجید کا میں نے خود پسند کر کے منگوایا تھا،اس میں شاہ عبدالقادرؒصاحب کا ترجمہ اور ابن عباسؓ کی تفسیر کاترجمہ حاشیہ پر چھپا ہواتھا۔پہلا شوق اس تفسیر کو بصورت کتاب علاحدہ نقل کرلینے کا ہوا،چنانچہ کچھ لکھ ڈالا،پھر شمس التواریخ سے انتخاب کر کے ایک تاریخ عرب لکھنی شروع کی۔شمس التواریخ حصہ دوم کے ساتھ،مولوی عبدالرحمٰن امرتسری کا سفر نامۂ بلاد اسلامیہ بھی ہاتھ آیاتھا،اس میں قسطنطنیہ کا ذکر بڑی دلچسپی سے پڑھا،اسی سے مولانا شبلی نعمانی کے سفر نامے کا شوق ہوا،وہ منگوایا گیا،بہت دلچسپ معلوم ہوا،اسی زمانے میں مجھ کو فارسی اور انگریزی پڑھائی جارہی تھی۔پڑھانے کا ذوق بھی اسی وقت سے ہے۔جو لڑکے ساتھ کھیلنے کو آتے،ان کو نیچی جگہ بٹھا کر خود اونچی جگہ بیٹھتا،اور جو خوپڑھا ہوتا وہ ان کو پڑھاتا۔انھیں دنوں ایک ملازم نے مجھ سے تواریخ حبیب الٰہ پڑھی۔والدہ مرحومہ نے جو فارسی اور اس کے متعلقہ مضامین کی کتابیں نانا صاحب مرحوم سے پڑھی تھیں،ان میں قواعد کی ایک کتاب اصول عجیبہ تھی۔یہ کتاب مجھے نہیں پڑھا ئی گئی تھی،مگر میں نے جب اسکو دیکھا تو بہت پسند آئی،اور اپنے چھوٹے بھائی مرحوم کو وہ پڑھا کر اپنے نہ پڑھنے کی تلافی کرلی۔فارسی کے بعد اردو شروع کرائی گئی،اور الندوہ اور البیان (عربی اردو کا رسالہ)میرے نام پر جاری ہوئے۔اسی دوران میں مولانا شبلی نعمانی کی دیگر تصانیف بھی دلچسپی سے پڑھیں۔شمس التواریخ کا حصہ سوم کا چھپنا شروع ہوا،اور یہ ماہ بہ ماہ جس قدر چھپ جاتا، آتا رہتا،تاآں کہ کئی سال میں تکمیل کو پہنچ کر پوری کتاب حاصل ہوئی،پھر حصہ چہارم بھی اسی طرح پر حاصل کیا گیا،مگر افسوس ہے کہ پہلا حصہ جو ایک زمانے میں میرے لئے عزیز ترین تھا ،ضائع ہوگیا۔ایک مہربان مستعار لے گئے ،پھر واپس نہ دیا۔

            عربی کی تعلیم شروع ہوتے ہی عربی کے جملے بنانے کا شوق غالب ہوا۔پڑھا نے والے صاحب اگر گریز بھی کرتے ،تو میں نہ چھوڑتا۔عربی کی مشق کے لئے ارشاد الطلب زیر استعمال رہتا۔مولوی امجد علی صاحب بہاری کا ’’الانتخاب الجدید‘‘بھی اسی زمانے میں ابتدائی مراحل کے لئے بہت نافع ہوا۔اب بھی میں مبتدیوں کے لئے اس کو تجویز کیاکرتا ہوں۔عربی بول چال مصنفہ عبدالرحمٰن امرتسری  سے کچھ دنوں خود والد مرحوم نے مشق کرائی،مگر یہ مشق کچھ زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکی۔یہ وہ زمانہ تھا کہ درس عربی کے متوسطات میں مشغول تھا۔اب استاذ     العلماء کی خدمت میں باریابی ہوئی،سب سے پہلی کتاب جو شروع کی ،’’میبذی‘‘ تھی۔اس ذات بابرکات کی کفش برداری کا یہ فیض ہواکہ جو کتاب بھی ہاتھ آئی،فیض بخش اور محسن تھی۔درس نطامی کی کتابوں کے نام گنوانا بیکار ہے،سب ایک ایک کر کے پڑھیں،اور سب نے ایسا رنگ جمایا کہ کوئی دوسرا ذکر اچھا نہ لگتا۔درس نظامی کے ساتھ ساتھ ادب کی کتابیں پڑھنا،اور عربی تحریر کی مشق برابر جاری رہی،اور بعض رسائل بھی عربی میں تالیف کئے۔

            انگریزی تعلیم کا سلسلہ عربی کے ساتھ کچھ عرصہ تک چلتا رہا،۔۱۹۱۰ء میں پنجاب یونیورسٹی کا انٹرنس کا امتحان دیا،کامیابی پر کالج میں داخلے کا خیا ل تھا،مگر خدا کو منظور تو کچھ اور ہی تھا،ناکام رہا،اور انگریزی یک لخت چھوٹ گئی،تمام وقت عربی پر صرف ہونے لگا۔بجز اس کے کہ کبھی کبھی والد مرحوم انگریزی املا کرادیا کرتے،بس دو کام تھے:پڑھنا اور پڑھانا!اپنے پڑھنے سے فراغت پائی،تو صرف پڑھا نا رہ گیا۔۱۹۲۱ء میں انٹر میڈیٹ کالج میں عربی کا معلم مقرر ہوا،اور چھوٹی ہوئی انگریزی سے پھر سابقہ پڑا،پہلے سال کورس کو اردو ترجمے سے پڑھایا،لڑکوں نے انگریزی میں ترجمے کی خواہش کی،اس سلسلے سے انگریزی زبان اور گرامر کا مطالعہ ناگزیر ہوا،اور دوسرے سال ہی سے بذریعہ زبان انگریزی تعلیم دینا شروع کردیا۔انگریزی میں نکلسن کی لٹریری ہسٹری،چارلس لائل کی عربین پوئٹری اور مقدمہ مفضلیات،کلاوسٹن کی عربین پوئٹری اور ہوارٹ کی عربک لٹریچر خاص طور پر قابل ذکر ہیں،جن سے فائدہ اٹھایا۔اوپر لکھ چکا ہوں کہ عربی تحریر کا سلسلہ ہمیشہ جاری تھا۔انٹرمیڈیٹ کالج کے زمانے میں عربی کے مضامین مصر وشام کے رسائل میں نکلا کئے۔ذوق تحریر وتالیف نے ابن درید اور بشار پر کام کرنے کے لئے مستعد کردیا۔ان کاموں کا  ایک حصہ(یعنی شرح المختار) مصر سے شائع ہوا۔ان کا موں کے سلسلے سے عربی لٹریچر کی تمام کتابیں جو دستیاب ہوئیں،چھان ماریں۔میرے مکرم دوست مولانا عبدالعزیز میمن کا چھوٹا کتب خانہ مگر نوادر کا مجموعہ،ان کی عنایت سے استعمال میں رہا،اور ہر کتاب محسن بنی۔ان کتابوں کی فہرست جزء اً شرح المختار میں شائع ہوچکی ہے۔محسن کتابوں کی فہرست میں تفسیر خازن،حاشیہ جمل،حدیث میں فتح الباری اور عمدۃ القاری،اللمعات،مرقاۃ المفاتیح،رجال میں تہذیب التھذیب،فقہ میں فتح القدیر،عینی،عنایہ،لغت مین قاموس،نظم میں مشاہیر شعراء کے دواوین،نثر میں قالی کی امالی اور الکامل،متعلقات تصوف میں اخبار الاخیار اور اصول المقصود وغیرہا کا نام خصوصیت سے لینا ضروری ہے۔

اس سلسلے کے جملہ مضامین کوپڑھنے کے لئے کلک کریں

http://www.bhatkallys.com/ur/author/imrankhan/

x

Check Also

عظیم معلم، مربی اور اولین معتمد جامعہ۔ ۰۵۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

  مولانا عبد الحمید ندوی  کوجامعہ چھوڑے ایک عشرہ بیت چکا تھا، ...