بنیادی صفحہ / مضامین / محسن کتابیں۔۔۔تحریر۔۔۔ میاں بشیر احمد،آکسن

محسن کتابیں۔۔۔تحریر۔۔۔ میاں بشیر احمد،آکسن

Print Friendly, PDF & Email

 میاں بشیر احمد، آکسن

ولادت : لاہور

رمضان ۱۰-۱۳۱۰ھ مطابق مارچ ۱۰- ۱۸۹۳ء
باغبان پورہ لاہور کے رہنے والے تھے۔ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد سنٹرل ماڈل اسکول سے  ۱۹۰۸ء میں انٹرنس کیا،۱۹۱۰ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف۔اے کرکے آکسفورڈ گئے،اور ۱۹۱۳ء میں تاریخ میں بی۔اے آنرز کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۱۴ء میں لندن سے بیرسٹری کاا متحان پاس کیا،وہاں سے واپس آکر اسلامیہ کالج لاہور میں تاریخ کے استاد مقرر ہوئے۔۱۹۲۲ء میں لاہور ہی سے اپنے والد جسٹس شاہ دین ہمایوں کی یاد میں ماہنامہ’’ہمایوں‘‘ جاری کیا،جو ۱۹۵۷ء تک مسلسل نکلتا رہا،اس کا شمارملک کے بہت ہی معیاری ادبی رسالوں میں ہوتا تھا،ہندوستان کے مشہور و معروف ادباء اس میں لکھتے تھے،میاں بشیر احمد نے اس کے مدیر کی حیثیت سے بڑی شہرت پائی۔اردوکے فروغ کے لئے انھوں نے۱۹۳۶ء میں انجمن ترقی اردو پنجاب کی بنیاد رکھی۔وہ مختلف اوقات میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کورٹ رکن،پنجاب یونیورسٹی لاہور کے فیلو،اور انجمن ترقی اردو کی مجلس منتظمہ کے رکن رہے۔سیاسی اعتبار سے مسلم لیگ سے وابستہ تھے۔کئی سال تک اس کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن بھی رہے۔۱۹۴۶ء سے ۱۹۴۹ء تک وہ پنجاب کی قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے۔۱۹۴۹ء میں ترکی میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے۔انکی اردو تصانیف میں فلسفیانہ مضامین کا مجموعہ ’’طلسم خیال‘‘ اور اسلامی سیاست سے متعلق’’مسلمانوں کا ماضی،حال اور مستقبل‘‘ اور انگریزی میں اپنے والد مرحوم کی سوانح عمری life of justice  زیادہ مشہور ہیں۔
وفات:لاہور، /۵محرم الحرام ۱۳۹۱ھ ،مطابق  /۳  مارچ ۱۹۷۱ء
مدفن:قبرستان میاں فیملی،باغبان پورہ ،لاہور

یہ ایک بہت ہی مشکل سوال ہے کہ کون سی کتابیں میری محسن ہیں؟
کون سی کتاب ہے جو میں نے پڑھی اور جس کا احسان میرے سر پر نہیں،وہ بری ہو یا بھلی،لازم ہے کہ اس نے مجھ پر کچھ نہ کچھ اثر چھوڑا ہوگا،پھر ایسی بھی بہت سی ہوں گی،جنہیں یاد کرنے پر ان کے اثرات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے،لیکن میں یہاں صرف دو چار کتابوں کا ذکر کروں گا جو اس عنوان کو دیکھ کر مجھے فوراً یاد آگئیں۔
 وہ کتاب جس نے اوائل عمری میں مجھ پر سب سے زیادہ اثر ڈالا،شبلی کی ’’الفاروق‘‘ تھی۔اسلام،تاریخ،کہانی،سیاست،راست بازی،اس میں یہ سب کچھ تھا،گویا لڑکپن میں مجھے ایک رہنما مل گیا،میں نے جانا بس یہی اسلام ہے،برسوں گزر گئے،کئی مرتبہ الحاد نے کامیابی کے ساتھ میرے دماغ پر حملہ کیا،لیکن دل جس الفاروقی رنگ میں پہلی مرتبہ رنگا جاچکا تھا،وہ رنگ کچھ نہ کچھ ہمیشہ باقی رہا،ایک تو عمر ایسی تھی کہ جو اثر پڑا ،وہ مٹ نہ سکا،اوردوسرے کتاب ہی ایسی عظیم الشان تھی کہ جب میرے ایک دہلوی ادیب دوست نے  اس پردو سال ہوئے نکتہ چینی کی تو ایسامعلوم ہوا گویا مجھ پر ذاتی حملہ کیا گیا ہے۔سیرۃ النبیﷺ پڑھنے کے بعدبھی میری پسند کی کتاب الفاروق ہی رہی۔حضرت عمرؓ کا وہ صحرا میں اپنے غلام کو اونٹ پر بٹھا کر اس کے آگے آگے چلنا ،وہ راتوں کو گشت کرنا،وہ ایک بڑھیا کا دلیری سے کہنا’’اتق اللہ یا عمر‘‘ اسلام کا وہ دو بڑی سلطنتوں پر چھا جانا،ان کا اثر آج تک طبیعت سے زائل نہیں ہوا۔
پھر انگلستان سے واپس آکر مجھے خوب یاد ہے کہ جتنا’’لاادریت‘‘نے میرے دماغ پر قابو پایا،اتنا ہی یہ میرا معمول ہوگیاکہ ہر روز صبح کو،قرآن مجید(عربی میں)دس منٹ اور دیوان حافظ دس منٹ پڑھا کرتا۔
کارلائل کی ’’ہیروز اینڈ ہیروور شپ‘‘میں’’محمد ‘‘والا مقالہ مجھے بیحد پسند تھا،چنانچہ آکسفورڈ میں جب میں نے ایک تاریخی مقالہ لکھا،اور اس میں کارلائل کے اس مقالے سے ایک اقتباس دیا،تو میرے ایک انگریز پروفیسر کو وہ اتنا پسند آیا ،کہ اس نے کہا کہ کسی طرح اسے اپنے آخری امتحان میں بھی درج کرنا،میں نے ایسا ہی کیا،اس کے کئی جملے مجھے ابھی تک یاد ہیں۔
میری ایک عجیب عادت تھی کہ جو کتاب مجھے بہت پسند آتی،اسے ناتمام چھوڑ دیتا۔دیوان حافظ میں نے ایک ماہ میں آدھا پڑھا،اتنا پسند آیا کہ اس کے بعد پڑھنا چھوڑ دیا،باقی ماندہ دیوان کا اکثر حصہ میں نے آج تک نہیں پڑھا۔میں نے بہت کم ناولیں پڑھی ہیں،لیکن ڈاکٹر ہوگو کی مشہور ناول’’لے مزارابل مجھے اتنی پسند آئی کہ میں نے اسے بارہا تھوڑا تھورا پڑھ کر چھوڑ دیا،یہاں تک کہ شروع کرنے کے سترہ سال بعد اسے ختم کیا۔میں اسے دنیا کی بہترین کتابوں میں شمار کرتا ہوں۔
حال میں میں نے ایک کتاب”میرا عقیدہ” پڑھی ہے۔جو مجھے بہت پسند آئی۔اس میں دنیا کے چند بڑے مفکرین نے اپنے ذاتی عقیدے بیان کئے ہیں،اکثر عقیدے لاادریت یا دہریت سے ملتے جلتے ہیں،لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی کا ایمان،الحاد کے حملوں کے بعد قائم نہیں رہ سکتا ،تو وہ زندہ رہنے کے قابل نہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*