بنیادی صفحہ / مضامین / محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا اعزاز علی امروہوی۔۔۔ قسط ۰۳

محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا اعزاز علی امروہوی۔۔۔ قسط ۰۳

Print Friendly, PDF & Email

             دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہونے کے بعد حضرت شیخ الہند قدس سرہٗ نے نے مدرسہ نعمانیہ واقع پورینی ضلع بھاگلپور کے مدرس ادبی کے لئے مامور فرمایا، تو وہاں کچھ موقع مل گیا کہ قومی مدارس کی غیر درسی کتابوں کا مطالعہ کروں۔ اس زمانے میں میں نے مفصل کو بھی  دیکھا۔ اور اوضح المسالک کا مطالعہ بھی کیا، اور اسی زمانے میں الفیہ کی شرح ابن عقیل کو بھی دیکھا۔ زمخشری کی علمی عظمت کا مقتضا یہ ہے کہ میں مفصلکے مقابلے میں کسی کتاب کا نام نہ لوں، مگر اس وقت جو عرض کرنا ہے، وہ یہ ہے کہ مجھ کو دلچسپی کس سے ہوئی!۔

             سچ یہ ہے کہ میں نے افادی حیثیت سے  اوضح المسالک کو مفصل پر ترجیح دی، اس کے بعد جب ابن عقیل کا مطالعہ کیا تو مجھ کو اس سے محبت ہو گئی،  اس کتاب کو میں نے متعدد بار دیکھا، اور چاہا کہ طلبہ اس کتاب کو پڑھیں، مگر مدرسہ نعمانیہ مذکورہ ایک انجمن کے ماتحت تھا، اراکین انجمن سے حصول اجازت کے بغیر اس ارادے پر عمل کرنا خلاف ضابطہ تھا، اور وہاں کے قدامت پسند ممبراس کی اجازت نہ دیتے تھے، اس لئے میں کامیاب نہ ہو ا، دارالعلوم دیوبند میں حاضر ہوا تو اپنے بڑے لڑکے کو پڑھانے کا موقع ملا، اس سلسلے میں میں نے ایک جماعت کو ابن عقیل کی شرح پڑھائی، اور میرا خیال یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو بہت زیادہ نفع پہنچا، اور اس طرح میں نے اس کو خارج از اوقات مدرسہ کئی دفعہ پڑھا یا۔ ابن عقیل کی اخلاص کی برکت کہ جس نے اس کو پڑھا، وہ اس کا شیدا ہو گیا۔ آج کل بھی ہمارے یہاں ایک صاحب اطراف بمبئی کے ساکن، جو انگریزی میں ایم۔ اے ہیں، دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل اور مولوی فاضل (پنجاب) کو معقول تنخواہ دے کر میزان الصرف پڑھتے پڑھتے ابن عقیل تک پہنچے ہیں، ان کی تعلیم میں میرے مشورے کو بھی دخل ہے، وہ ایک دفعہ فرماتے تھے کہ مجھ کو تو ابن عقیل کا ایک ایک لفظ پیارا معلوم ہوتا ہے۔

             مختصر یہ ہے کہ میرے نزدیک ایک زمانہ درا ز تک سلاست بیان، مقاصد نحویہ کی تکمیل اور حسن تفہیم میں ابن عقیل کی نظیر نہ تھی۔ دارالعلوم دیوبند کی حاضری کے بعد حضرت مولانا سید انور شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے زیر ہدایت میں نے کتابِ سیبویہ کا مطالعہ کیا، اور آج تک چار دفعہ اس کا مطالعہ کر چکا ہوں۔

             اب میرا عقیدہ یہ ہے کہ کتابِ سیبویہ ہی ایک ایسی کتاب ہے، جو طالب علم کے سامنے نحو کی تمام علمی ذخائر رکھ دیتی ہے، اور متعلم اپنی قابلیت کے موافق اس سے بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔

             طلبہ کے درس میں اس کو داخل کر دینا تو شاید غیر مفید بلکہ مضر ہو، لیکن شاید یہ نامناسب نہ ہو کہ جس وقت طالب علم میں کافیہ وامثالہا کے سمجھنے کی قابلیت پیدا ہو جاوے، طالب علم کے مطالعے میں یہ کتاب رہے، اور کافیہ کے بجائے شرح ابن عقیل کو رکھا جائے۔

             نصاب کے متعلق میری ایک مستقل گزارش ہے، اگر موفق حقیقی نے توفیق عطا کی تو کسی قریبی ہی فرصت میں الندوہ کے اہل علم ناظرین کی خدمت میں پیش کروں گا، تاکہ اگر ان پریشان خیالات میں کوئی چیز عمدہ ہو تو عمل فرمائیں، ورنہ: ’’کالاے بد بریش خاوند‘‘۔

            ادب کے سلسلے میں مجھ کو معذور سمجھا جاوے، اگر میں یہ عرض کروں کہ          ع

                                                                        ’’ معشوق من ست آں کہ بہ نزدیک تو زشت است‘‘

            عصر حاضر کے علماء مقامات حریری سے ناراض ہیں، صوبہ آسام کے سرکاری عربی مدارس کے ممتحن ہونے کی حیثیت سے مجھ کو علم ہے کہ وہاں یہ مظلوم کتاب صرف پانچ مقاموں تک داخل ہے۔ انتخاب سوالات کے وقت میں اکثر مستعجب ہوتا تھا کہ مقامات حریری کے ان چند اوراق کو داخل کرنے کی بھی کیا ضرورت تھی؟ اگر تبرک ہی حاصل کرنا تھا تو طلبہ کو اس کی فقط زیارت کرا دی جاتی! اب سنا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی نے بھی اس جزء لا یتجزی کو اپنے نصاب میں جگہ دے دی ہے۔

            اسی پر بس نہیں بلکہ بعض حضرات تو حدود  ادب سے متجاوز ہو کر کتاب اور مصنف کتاب کی نسبت سقیم الفاظ استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں فرماتے ہیں، لیکن میں مقامات حریری کا مداح ہوں، اور سمجھتا ہوں کے حفظ معانیِلغات، اور لغات کے مختلف استعمالات، علم بدیع کے تفننات وغیرہا کی حقیقت جس طرح یہ کتاب واشگاف کرتی ہے، دوسری کتاب اس کے مساوی میرے علم میں نہیں ہے، اس لیے کم ازکم پچیس مقامے داخل درس ضرور رہیں، اسی  کے ساتھ تاریخی یمنی کا کوئی معتدبہ حصہ بھی داخل درس رہنا ضروری ہے۔

             متاخرین کے دواوین میں دیوان بحتر ی کوبارہا ذوق و شوق سے دیکھا، لیکن بالعموم شعرائے جاہلیت کے کلام میں جو آمد و انسجام ہے، متاخرین میں،میں ان اوصاف کو محسوس نہ کر سکا،شعرا ئے جاہلیت میں امرء القیس کاکلام مجھ کو زیادہ پسند ہے۔ متاخرین شعراء میں أبوالعلا معری کی سقط الزند مع اسکی شرح تنویر کے، نیز ابن فارض کے قصائد آج بھی میرے سرہانے رکھے ہوئے ہیں۔بہت سے علماء سوتے وقت ادعیہ ماثورہ پڑھ کر سوتے ہونگے، اور(افسوس) میں ان کے اشعار کا مطالعہ کرتے ہوئے سوتا ہوں۔

            ادب کے لئے میرے خیال میں جس طرح صرف و نحو ضروری ہیں، اسی طرح معانی وبیان بھی ضروری ہیں،معانی کے مصطلحا ت اور مختصر سی حقیقت سامنے آ جانے کے لئے مختصر معانی(جو ہمارے قومی مدارس میں متداول ہے) پڑھ لینا،طالب علم کے لیے ضروری ہے۔ اس کے بعد دلائل الاعجاز یا مطول کا مطالعہ کافی ہے۔

            میری ذاتی رائے یہ ہے کہ طلباء کواولاً سہولت اور اختصار کے ساتھ فن اور اصطلاحات فن سے روشناس کرا دیا جائے، اور اسی اثنا میں اساتذہ اپنے اثرات سے کام لے کر متعلمین میں وہ اہلیت پیدا کردیں کہ جس کی وجہ سے طلبہ بہ شوق ورغبت مدرسے میں آیا کریں، اور ان کے تخیل میں مدرسہ اور جیل خانہ دو جدا جدا چیزوں کا نام ہو۔ اسباق کے اوقات ان کے لئے قیدی کی مشقت کے اوقات کا نام نہ ہو،بنائً ًعلیہ جس وقت طلبہ میں مفردات لغت کو سمجھنے کی اہلیت پیدا ہوجائے، ان کو اہل لغت کا مختصر طرز سمجھا کر مختار الصحاح یا اس جیسی کسی دوسری کتاب کا مطالعہ کرایا جائے، اور جب ان میں عربی دانی کی وسعت ہو جاوے،تو منتھی الارب، اس کے بعد لسان العرب سے کام لینا سکھایا جاوے۔

            اقرب الموارد پر زیادت تسہیل کے باوجود مجھ کو بہت سے شبہات ہیں،اور منجد(جو آج کل قومی مدارس کے اکثر طلباء کے پاس موجود ہے)بھی میرے نزدیک لغات جدیدہ کے لیے تو ایک حد تک مفید ہے،مگر عربیت قدیمہ خصوصا تفسیر و حدیث میں اس سے استمداد، زہر ملے ہوئے شہد سے کم نہیں ہے۔

            حضرت الاستاذ مولانا الحاج الحافظ محمد احمد صاحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند قدس سرہٗ جب عدالت عالیہ حیدرآباد دکن کے منصب افتاء پر فائز ہوئے تو اعزاز علی بھی ہم رکاب تھا۔فتاوی نویسی کا اتفاق پہلا ہی تھا۔اس زمانے میں مجھ کو ’’مجلہ عدلیہ ‘‘ا ور’’ الحجج الواضحہ فی البینات الراجحۃ‘‘ سے بہت مدد ملی،جس کی وجہ سے میں آج بھی ان کے مصنفین کو دعائیں دیتا ہوں۔اول الذکر کتاب تو آج بھی میرے پاس ہے،اور کوئی نایاب کتاب نہیں ہے۔ سنا ہے کہ کسی عیسائی نے اس کی شرح بھی کی ہے،اس شرح کے ذریعے سے حوالے بکثرت مل جاتے ہیں، مگر موخرالذکر کتاب جس کو فقہ کی انسائیکلوپیڈیا کہنا ناموزوں نہیں، کمیاب ہے۔ ان دونوں کتابوں کا تعلق معاملات سے ہے۔

             وسعت نظر کے لئے شاید یہ دونوں کتابیں معین نہ ہوں، مگر قضا کے مسائل بہت آسانی سے مل جاتے ہیں، وسعت نظر کے لئے میرے خیال میں بدائع سے عمدہ کتاب کوئی نہیں ہے۔

            شرح وقایہ کا اگر میں بالکل ذکر ہی نہ کروں، کیونکہ پڑھنے کے بعد بار بارپڑھانے کی نوبت آئی، لیکن اپنی عدم اہلیت کی بنا پر میں اس سے زیادہ مستفید نہ ہو سکا، تو کوئی حرج نہ ہو گا۔

            شرح نقایہ دو ہیں: ایک ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کی، دوسری شمنی کی، موخر الذکرنسخہ قلمی دارالعلوم دیوبند کے کتب خانے میں ہے، اول الذکر قازان میں طبع ہوا،ہندوستان میں میں نے کئی جگہ نقلیں بھی دیکھیں،مگر غالبا سب مطبوعہ قازان ہی سے منقول ہیں، کیونکہ اغلاط فاحشہ میں منقول اور منقول عنہ برابر ہیں،ایک نسخہ میرے پاس بھی ہے جس کو میں مدینہ منورہ سے خرید کر لایا تھا، وہ بھی مطبوعہ قازان ہی ہے، ہندوستان میں اس کی صرف ایک جلد تا آخر کتاب الحج طبع ہوئی ہے، دوسری تاآخر کتاب الوقف زیر طبع ہے۔

             شرح نقایہ کے اس نسخے کے متعلق میری تحسین اگرچہ ناشناس کی تحسین کیوں نہ ہو، مگر میں تو اس کو ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے علوم کا طغرائے امتیاز سمجھتا ہوں،! تقلید جس غلط معنی میں ہندوستان میں شائع ہو گئی ہے، اس کا ازالہ اسی کتاب سے ہوسکتا ہے۔ میری رائے ہے کہ ابتداء طفولیت ہی سے بچوں کو، اخلاق و تصوف کی طرف مائل کیا جائے، یہ امر آخر ہے کہ عملی ہو، کتابی نہ ہو،اور انکے نشونما کے ساتھ ساتھ اس تعلیم کا بھی نشو نماہو۔

            مجھ کو اپنی کسی قریبی گزارش میں بسلسلہ اصلاح نصاب اس کے متعلق اپنے خیالات کو تفصیل کے ساتھ پیش کرنا ہے، اس لئے اس وقت صرف اس پر ختم کرتا ہوں کہ اگر ریاض الصالحین جس کے مؤلف علامہ نووی ہیں،داخل نصاب نہ کی جا سکے، تو کم از کم درجہ وسطانی کے طلبہ پر اس کا مطالعہ لازم کردیا جائے۔ امام غزالی رحمہ اللہ کی تصنیفات کا مطالعہ،میں ان طلبہ کے لئے مفید سمجھتا ہوں، جو فنون درسیہ  سے واقف ہو چکے ہوں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*