بنیادی صفحہ / مضامین / محسن کتابیں۔۔۔03۔۔۔ تحریر: مولانا مناظر احسن گیلانی

محسن کتابیں۔۔۔03۔۔۔ تحریر: مولانا مناظر احسن گیلانی

Print Friendly, PDF & Email

جاننے والے،دیوبند وخیر آبادی لاگ ڈانٹ سے واقف ہیں۔سینے پر پتھر رکھ کر اس مدرسے میں داخل ہوا۔خدا جزائے خیر دے غزالی کو،اسیرِابن سینا وباقر کو،اس نے حضرت شیخ الہند کے حلقۂ حدیث میں پہنچا دیا۔کچھ دن کشمکش میں گزرے،عجب کٹھن دن تھے،آخر میں جس کی غلامی کی سرفرازی نصیب ہوئی،تعجب سے سنیے گا،کہ تین مہینے تک اس کے مصافحے سے کراھۃً یا احتقاراً محروم رہا!ایمان و یقین کے الفاظ سے آشنا تھا،لیکن حقیقت سے بیگانہ،حق تعالی کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس دولت کی سعادت میسر آئی۔اب تک مولانا محمد قاسم ؒ کے متعلق سنا تھاکہ شعر وخطابت میں اچھے تھے،لیکن ٹوٹی پھوٹی سہارنپوری اردو میں ان کے چند سائل نظر سے گزرے،ایسامعلوم ہوا کہ اس زمانے میں جس علم کلام کی حاجت ہے،حضرت پر اسی کا الہام ہوا ہے!زبان سے قطع نظر کر کے،مطالعے میں مصروف ہوا،اور اسلام کا ایک جدید نظام سامنے آگیا۔مولانا کی کتابوں کے بعد حضرت شاہ ولی اللہؒ اور حضرت شاہ شرف الدین یحیٰ منیریؒ کے مکتوبات کا بھی مجھ پر اچھا اثر پڑا،اور قرآن وحدیث کی روشنی میں جو فلسفہ ان بزرگوں نے تیار کیا تھا،اس کا مذاق غالب ہوا،اسی مذاق کے سلسلے میں شیخ اکبر محی الدین ابن عربی ؒ کی’’ فتوحات‘‘پر بھی نظرپڑی،ایسا معلوم ہوا کہ میری کھوئی ہوئی چیزیں سب اسی میں ہیں،حالاں کہ اس کتاب کے فقروں پر فقرے میرے لئے ناقابل فہم ہوتے تھے،مگر جی مطالعے سے نہیں گھبراتاتھا،اور خواہ ان کی مراد کچھ ہو،لیکن میری سمجھ میں اسلامی حقائق کے متعلق کوئی نہ کوئی بات ضرور آجاتی تھی،اور میری عقلی سیر کی انتہا شیخ اکبر ہی کی کتابیں ہیں!مجھ پر’’فصوص‘‘کا اتنا اثر نہیں ہے جتنا فتوحات کا،اس کتاب کے مطالعے میں ہر چیز کا سمجھنا،میں نے کبھی مقصود نہیں رکھا،بلکہ جو سمجھ میں آجائے اسی کو مقصود قرار دیا۔شیخ اکبر کے بعد مولانا اسماعیل شہیدؒ کی کتاب’’عبقات‘‘سے اس سلسلے میں مجھے خاص دلچسپی رہی،اور فائدہ پہنچا۔شیخ اکبر کے متعلق یہ بات عجیب ہے کہ ان کے خاص موضوع بحث’’وحدت الوجود‘‘سے مجھے چنداں دلچسپی نہ تھی۔خیر آبادی اسکول کے طالب علم ہونے کی وجہ سے،تقلیداً اس خیال کو اچھا سمجھتا تھا،لیکن خواہ مخواہ سمجھنے کو کوشش نہیں کرتا تھا،بلکہ سچ یہ ہے کہ اندرونی طور پر میرے میلانات اس کے خلاف تھے،اگرچہ یہ مسئلہ میرے لئے بدیہی ہے،اور جو بجائے چند وجودوں مثلاً اہر من ویزداں،یا مادۂ روح،خدائے عالم،سرچشمہ ذات واحد کو دیتے ہیں، اس کی ایک خاص تعبیر،وحدت الوجود کو قرار دیتا ہوں،شہود و جود کے اختلافات کو لفظی اختلاف سمجھتا ہوں،بہر حال شیخ اکبر کا معتقد ،اس مسئلے کے سوادوسرے دینی حقائق میں تھا۔جیسا کہ میں نے عرض کیا،جس ماحول میں میں نے ہوش سنبھالاتھا،اس میں مقلد وغیر مقلد کی بحث چھڑی ہوئی تھی،اس لئے ایک ہلکا سا تعلق مجھے اسلامی فروغ کے اس اختلاف سے بھی کچھ دن رہا،مگر بہت جلد شیخ عبدالوہاب شعرانی کی کتابوں خصوصاً میزان الکبریٰ سے طبیعت سنبھل گئی،اور مفتی عبداللطیف صاحب رحمانی کی کتا ب تذ کرۂاعظم سے بھی خیالات میں اصولی ترمیم میسر آئی،نیز دیوبند کے دورۂ حدیث خصوصاً شیخ الہند اور علامہ کشمیریؒ کے درس کا بھی اثر یہی ہوا،کہ غیر متعصب حنفی ہوگیا،اور بحمداللہ اس وقت تک یہی حال ہے۔غیر متعصب کا مطلب یہ ہے کہ شافعی،حنفی اختلافات میری نگاہوں میں چنداں وقیع نہیں ہیں۔ہر سلسلے کے بزرگوں کا احترام ،دینی حیثیت سے کرتا ہوں،اور خواہ مخواہ بلا ضرورت فتنہ پردازی کے لئے عوام کے سامنے،ان فروعی اختلافات کو چھیڑ کر ’’تفریق بین المسلمین‘‘ جیسے کبیرہ کے ارتکاب کو مذہبی جرم خیال کرتاہوں۔مقلدیت غیر مقلدیت کے سوااور دوسرے عصری خیالات مثلاً:نیچریت ،یا انکار حدیث والی قرآنیت،یا انکار تصوف والی وہابیت،ان چیزوں کا مجھ پر کبھی اثر اس لئے نہیں ہوا کہ چچا مرحوم ہی کی صحبت میں سارے سوالات سے واقف ہوچکا تھا،اس لئے مجھے صرف جواب سوچنا پڑتا تھا،بہتوں کو دیکھتا ہوں کہ یہ سوالات اچانک ان کے سامنے آتے ہیں،ایک مدت سوالات ہی میں بسر کرتے ہیں،پھر توفیق، رفیق ہوتی ہے تو جواب تک ان کی رسائی ہوتی ہے،بحمداللہ سوال کی منزل میری طے شدہ تھی،اس لئے جواب تک بہ آسانی رسائی ہوتی رہی۔

            دیوبند میں میرا قیام کچھ دن تو طالب العلمی کی حیثیت سے رہا،اور کچھ دن مدرسے کی ملازمت و خدمت میں گزارے،کہ اچانک مقادیر نے مجھے حیدرآباد پہنچادیا۔مولانا حمیدالدین فراہیؒ کی قرآن دانی کاشہرہ سن چکا تھا،خدا نے انکی صحبت کی سعادت سے سرفراز فرمایا،اور قرآن کے چند جدید پہلو مجھ پرمولانا کی صحبت میں کھلے،کہ اسی عرصے میں حیدرآباد کے ایک وکیل،جو  ا ب ناظم(جج) ہیں،اور مولانا محمد حسین اسم گرامی ہے،ان کی ملاقات میسر آئی،حضرت کے طفیل میں قرآن مجید کی آیتوں کے استعمال کی ایک نئی راہ معلوم ہوئی،بالآخر تھک تھکا کر اب جب کہ میری عمر انچاس کے قریب ہے،طلسم ہوشربا کی داستانوں سے شروع کرکے’’ذالک الکتاب لاریب فیہ‘‘کو اپنے مطالعے کی آخری کتاب قرار دیئے ہوئے ہوں،یوں چوں کہ مولویت اور مدرسیت میرا پیشہ ہے،اس لئے پڑھنے پڑھانے ،لکھنے لکھانے کے لئے،ہر قسم کی کتابیں دیکھنی پڑتی ہیں،لیکن ذوقِ مطالعہ اور مراقبہ کی تکمیل،صرف اسی کتاب سے ہورہی ہے،اور حق تعالی سے دعا ہے کہ اب اسی پر خاتمہ ہو!غالباً اب اس کے اظہارمیںشاید کچھ مضائقہ نہیں،کہ اسی قرآنی ذوق میں بحمداللہ قرآن پاک کا ایک بڑا حصہ بڑھاپے میں محفوظ ہوچکا ہے۔خدا کرے اسی مشغلے میں عجیب وغریب تجربات والی یہ زندگی ختم ہو۔’’ربنا انک تعلم مانخفی ومانعلن ومایخفی علی اللہ من شیئی فی الأرض ولا فی السمائ‘‘’’انت ولیی فی الدنیا والآخرۃ توفنی مسلماً وألحقنی بالصالحین’’ وآخر دعوانا أن الحمدللہ رب العالمین۔

            ایک لطیفہ:کتابوں کے افادے کے سلسلے میں ایک بات دماغ سے کبھی نہیں نکلتی۔بچپن میں جب انگریزی شروع کی،اور انگریزی کے حروف تہجی کو پہچاننے لگا،تو ایک دن عجیب واقعہ پیش آیا،میرے ماسٹر صاحب کے پاس انگریزی کی کوئی موٹی سی کتاب تھی،جسے وہ پڑھ رہے تھے،چھوڑ کر کسی ضرورت سے وہ گئے،میں نے کتاب اٹھالی اور دیکھنے لگا،چوں کہ انگریزی کا ہر حرف دوسرے سے جدا ہوتا ہے،اب جو میں نے دیکھا تو کتاب کے ہر ورق کی ہر سطر فرفر پڑھ رہا ہوں،یعنی اس کے حروف پہچان رہا ہوں،میری مسرت کی اس دن انتہا نہ رہی،کہ چند ہی دنوں میں انگریزی کی اتنی بڑی کتاب میری سمجھ میں آنے لگی،اگرچہ بہت جلد اپنی غلط فہمی معلوم ہوگئی،لیکن یہ ایسا مغالطہ ہے جو مجھے اکثر اب بھی اس لئے یاد آتا رہتا ہے کہ جن چیزوں کے سمجھنے کی،اس وقت مسرت حاصل ہے،کہیں اس وقت بھی مغالطہ پیش نہ آرہا ہو !کتابوں کی حد تک ہی نہیں،بلکہ زندگی کے تمام حقائق کے متعلق،مجھے کبھی کبھی اس قسم کا خوہ مخواہ خطرہ ہوتا ہے،اور عہد طفلی کا یہ مغالطہ باعث عبرت بنا ہوا ہے۔

            خیالات کی رو میں ایک چیز بھول گیا،میری مراد ڈاکٹر اقبال مرحوم اور مولانا محمد علی مرحوم سے ہے،ان دونوں مرحومین کے بعض خیالات نے میری  ذہنی رفتار کی تصحیح میں مدد کی ہے،اور ناشکری ہوتی اگر ان کا ذکر قصداً ترک کر دیتا۔اسی طرح حضرت تھانوی مدظلہ العالی(رحمۃ اللہ علیہ)کے بعض اقوال نے بعض اسلامی حقائق کے سمجھنے میں میری بڑی رہنمائی کی ہے،جزاہم اللہ عنا خیر الجزاء،قاضی سلیمان منصور پوری کی کتاب رحمۃ للعالمین کا بھی ممنون ہوں،سیرت طیبہ کے بعض اہم رخ انہیں کے اشارے سے میرے سامنے آئے۔ایک خاص نسبت جس کا اظہار مناسب نہیںہے،اس میں مولانا جامی مرحوم کی غزل سرائیوں کو بڑا دخل ہے۔قدس اللہ سرہ۔

محسن کتابیں لنک: http://www.bhatkallys.com/ur/author/imrankhan/

 

x

Check Also

سچی باتیں۔۔۔ ۱۳ فروری ۱۹۲۵۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

اسلامی دنیا میں یہ مہینہ رجب کے نام سے موسوم ہے، ایک ...