بنیادی صفحہ / مضامین / جب حضور آئے۔۔(۲۲)۔۔ گلشن مہک اٹھے۔۔۔ تحریر: صاحبزادہ عابد حسین

جب حضور آئے۔۔(۲۲)۔۔ گلشن مہک اٹھے۔۔۔ تحریر: صاحبزادہ عابد حسین

Print Friendly, PDF & Email

         ”ربیع الاول شریف کا مہینہ جب بھی ا ٓتا ہے، اس میں رحمت و برکت اور ایمان و ایقان کے وہ گلشن کھلتے ہیں کہ ان کی مہک پھر سارا سال اہل ایمان کے مشام  قلب و جان کو معطر رکھتی ہے، جوں ہی اس مہینہ مقدس کا چاند طلوع ہوتا ہے، ایمان کی کھیتیوں میں بہار آ جاتی ہے، وہ کھیتیاں، جو انسانی فطرت کے ناتے نسان و عصیان کے جھگڑوں کے باعث خزاں دیدہ ہو چکی ہوتی ہیں، ربیع الاول کی سدا بہار ہوائیں ا ن میں نیا گلشن آباد کر دیتی ہیں، محبت رسول کی کلیاں چٹکتی ہیں، عشق رسول کی کونپلیں پھولتیں ہیں، ایمان کے پھول کھلتے ہیں اور پھر اس مہکتے ہوئے گلستان میں ایمان کے بلبل چہچہانے لگتے ہیں، وہ کائنات عالم کے حسین ترین پھول، اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت و ستائش کے نغمے الاپنا شروع کر دیتے ہیں، فرش زمین کا ذرہ ذرہ اور عرش بریں کا چپہ چپہ اس ہستی والا صفات کے نغموں میں رطب اللسان نظر آتا ہے اور سماں کچھ یو ں لگتا ہے:۔

                   عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ، فرش پہ طرفہ دھوم دھام

                    کان جدھر لگا ہے، آقا تیری ہی داستاں ہے

        ایسا کیوں نہ ہو؟ یہ ہی تو وہ نہار ہے جس کے صدقے سب نہاروں کو بہار ملی، یہ یہی تو وہ مہک ہے جس سے سب گلشن مہک اٹھے، یہ ہی تو وہ ہستی ہے جس کے تصدق میں نیستی کو ہستی نصیب ہوئی اور خزاں دیدہ کائنات عالم کا چمن لہلہا اٹھا

                 ”وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا، وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

                جان ہیں وہ جہان کی، جان ہے تو جہان ہے“۔

x

Check Also

تبصرات ماجدی۔۔۔(۲۹)۔۔۔ تاریخ ادبیات ایران در عہد جدید۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

#تبصراتِ_ ماجدی    از مولانا عبد الماجد دریابادی (29)۔ تاریخ ادبیات ایران در ...