بنیادی صفحہ / مضامین / تذکرہ انجمن اور عرب ودیار ہند کے مصنف، مورخ بھٹکل ،مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی – قسط 01
[adrotate banner="161"]

تذکرہ انجمن اور عرب ودیار ہند کے مصنف، مورخ بھٹکل ،مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی – قسط 01

Print Friendly, PDF & Email

تحریر : عبد المتین منیری۔ بھٹکل

         بھٹکل میں انجمن حامی مسلمین کے قیام کے یاد گار لمحات کی یاد میں صدی تقریبات کا بگل بج چکا ہے ، ۴/جنوری سے ان کا آغاز ہوگیا ہے،اس دوران قوم کے ان محسنین کو یاد ِآتے ہیں ، جنہوں نے قوم کی نشات ثانیہ کے لئے قربانیاں دیں ، اور اس  مقصد کے حصول کے  لئے اپنا سبھی کچھ نچھاور کیا ہے ، ا یسے میں یادوں کےدریچے سے ایک ایسی شخصیت کا چہرہ جھانک رہا ہے  ، مطالعہ جن کا  اوڑھنا بچھونا تھا ، تحقیق و تصنیف کے میدان میں کچھ کر دکھانے کی تڑپ ان کے رگ و پے میں سمائی ہوئی تھی ، پیرانہ سالی اور ماحول کی بے رخی ان کے آڑے نہ آئی ، جہاں وہ ان تاریخ ساز لمحات میں قوم کی عظیم شخصیات کے شانہ بہ شانہ رہے، وہیں آپ  ان  لمحات کو تذکرہ  انجمن کی شکل میں آئندہ نسل کے لئے  محفوظ کرگئے،  یہ شخصیت مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندویؒ کی تھی، بھٹکل کاآنے والا  ہر مورخ جن کا مرہون منت رہے گا۔

                مولانا مرحوم جو خواجہ خلفو کے نام سے جانے پہچانے جاتے تھے، ایک ایسے خانوادہ سے تعلق رکھتے تھے جو عرصہ تک عہدہ قضاء پر فائز رہا ۔ . مذہبی رسومات اس کے افراد کی شرکت کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی تھیں . اس خانوادے میں اللہ والوں  کی بھی کوئی کمی نہیں تھی ، خود آپ کے والد محمدامین خلفو مرحوم کی لِلّہیت کے قصے  اڑوس پڑوس میں مشہور تھے . برصغیر کے عظیم بزرگ حضرت بہاء الدین زکریا سمنانیؒ کے یوم پیدائش کی مناسبت سے آپ کانام تجویز ہواتھا۔

تعلیم و تربیت   

                آپ کی ابتدائی تعلیم گھر کے  بڑے بزرگوں ہی کے ہاتھوں پر ہوئی ،  غربت اور وطن میں اعلیٰ تعلیم کے وسائل کی کمی انہیں تلاش معاش کے لئے منگلور لے گئی ، چونکہ گھر کا ماحول مذہبی تھا ، خاندان میں بھی عالموں کی کمی نہیں تھی ، اعلیٰ تعلیم سے محرومی کے احساس نے انہیں چین سے بیٹھنے نہ دیا ۔

                اس زمانے میں جنوبی ہند کی دو درسگاہوں کو بھٹکل میں مرجعیت حاصل تھی . ایک اقطابِ ویلور کا دارا لعلوم لطیفہ جہاں سے مولانا قاضی محمد اسماعیل اکرمی ؒ اما م و خطیب خلیفہ جامع مسجد ،دستار فضیلت باندھ کر آئے تھے ، اور دوسرا دیوان باغ چنئی  میں واقع خانوادہ قاضی بدر الدولۃ کا مدرسہ محمدیہ ، جہاں سے آپ کے بڑے بھائی مولانا قاضی شریف محی الدین اکرمی ؒ سابق چیف  قاضی متحدہ  جماعت المسلمین بھٹکل نے فراغت پائی تھی ۔

                خانوادہ قاضی بدر الدولۃ کے بزرگوں کا ماننا تھا کہ ان کے جد امجد مخدوم فقیہ اسماعیل ؒ  بھٹکل سے تعلق رکھتے تھے، اور خانوادۂِ اکرمی مخدوم صاحب کے بھائی کی اولاد سے ہے ، لہذا خانوادہ قاضی بدر الدولہ کو بھٹکل کی  نوائط برادری، اور  ان میں بھی خصوصیت کے ساتھ خانودہ اکرمی سے ہمیشہ لگاؤ رہا ۔. ریاست والا جاہ کے چیف قاضی اور خانوادہ قا ضی بدر الدولۃ کے جانشین مولانا  قاضی محمد عبید اللہ (    ڈاکٹر محمد حمید اللہ  رحمۃ اللہ علیہ کے تایا) کی بھٹکلی طلبہ پر خصوصی نوازش رہی تھی .

                اپنی ذاتی آمدنی سے وہ بھٹکل سے تعلیم کے لئے  آنے والے ان طلبہ کی کفالت کرتے تھے، قاضی شریف محی الدین اکرمیؒ آپ کےان  فیض یافتگان میں سے ایک تھے . خواجہ صاحب نے خانوادہ قاضی بدرالدولۃ کی ان توجہات کو دیکھتے ہوئے پہلے مدرسہ محمدیہ کا رخ کیا . اور مولانا قاضی محمد عبیداللہ ؒ کی سر پرستی        میں سلسلہ تعلیم جاری رکھا ، لیکن سوء اتفاق سے آپ کا دورانِ تعلیم ہی میں انتقال ہوگیا ، جس کے بعد منٍصب قضاء پر اختلاف رونما ہوا ، اور خاندان کو ملنے والا ریاستی وظیفہ  اس تنازعہ کی وجہ سے عرصہ تک بند رہا ، آپ کے جانشین مولانا قاضی محمد حبیب اللہ ؒ پر اب دوہرا بوجھ تھا ،ان  حالات میں  ان کے لئے خود اپنے خاندان کی کفالت مشکل ہورہی تھی ، باوجود اس کے آپ کی زبان پر حرف شکایت نہ آیا ، لیکن آنکھیں دیکھ رہی تھیں، دل پتھر کا  تو بنا ہوا نہیں  تھا ، اللہ نے شعور سے نوازا تھا ، خواجہ صاحب نے چنئی  سے بمبئی کی راہ لی .اس وقت جدہ کے ایک صاحبِ خیر تاجر محمد علی زینل جزیرہ نمائے عرب کے طلبہ کی تعلیم کے لیے مدرسۃ الفلاح کے نام سے جدہ،دبئی اورممبئی میں تین مدرسے اپنے  ذاتی خرچے پر چلارہے تھے،یہ مدرسے جزیرہ نمائے عرب میں منظم تعلیم کی نشا ء ۃ ثانیۃ کا آغاز سمجھے جاتے ہیں ، اور بڑی عزت سے ان کا اب بھی تذکرہ ہوتا ہے۔اس وقت مولانا قاضی محی الدین اکرمی مرحوم اس مدرسہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے ،ساتھ ہی ساتھ علاقہ کوکن کے منتخب اہل علم مرد اور خواتین کو قضاء، جنازے کے مسائل کفن و دفن کی اور بنیادی مسائل کی تربیت دے رہے تھے ، خواجہ صاحب نے اسی مدرسے میں داخلہ لیا اور تعلیم مکمل کی۔

                یہ وہ دور تھا جب آسمانِ علم پر دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم ندوۃ العلماء آفتاب و ماہتاب بن کر چمک رہے تھے ، چہاردانگِ عالم میں ان کا شہرہ تھا ، ایک طرف مولانامحمد انور شاہ کشمیری ؒ جیسے محدث عصر اور مولانا شبیر احمدعثمانی ؒ جیسے شیخ الاسلام  قال اللہ وقال الرسول ﷺ کی مسندسجائے ہوئے تھے ، تو دوسری طرف علامہ سید سلیمان ندویؒ جانشینِ شبلی ؒ ،سیرت النبی ﷺ کا نذرانہ پیش کررہے تھے ۔

                خواجہ صاحب حیران ہوئے کہ کس غنچہ سے مزید خوشہ چینی کی جائے ،اور کس سر چشمہ کو سیرابی کے لئے چُنا جائے کہ اسی دوران اچانک دارالعلوم دیوبند کو نظر لگ گئی، یہاں پر اختلافات رونما ہوئے ،  شاہ صاحب ؒ ’’ اور مولانا عثمانیؒ‘ اپنے رفقاء کے جلو میں ڈابھیل منتقل ہوگئے ۔ ویسے بھی خواجہ صاحب کا مزاج  مائل بہ ندوہ تھاہی ، انہیں کسی ایک ادارے کے انتخاب میں  مزید دماغ پاشی  کی   ضرورت  نہیں ہوئی ۔

                بھٹکل اور نوائط کی نسبت نے انہیں یہاں بھی عزت بخشی ، ناظم ندوہ ڈاکٹر عبدا لعلی حسنیؒ خصوصیت سے ان پر مہربان ہوئے ، آپ نے گھر پر اپنے برادر کے ساتھ جو بعد میں مفکر اسلام حضر ت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ بن کر افق پر ابھرے، آپ کو بھی ان  کےساتھ صحیح مسلم کے درس میں شریک کیا ، مشہور صاحب قلم صحافی مولانا رئیس احمد جعفری بھی ندوۃ العلماء میں آپ کے ہم سبق رہے ۔ یہ رفاقت بعد میں بھی جاری و ساری رہی ۔

                                                                                                                                                                                                   دینیات کے اولین مدرس کی حیثیت سے محسن قوم مولانا عبد الحمید ندوی علیہ الرحمۃ کی تقرری کے لئے انجمن کا وفد ۱۹۳۰ء کے آس پاس جب  علامہ سید سلیمان ندوی ؒ اور مولانا مسعود علی ندوی ؒ سے ملنے دارالعلوم ندوۃ العلماء گیا تھا ، تو ایک جانکار کی حیثیت سے آپ بانیان انجمن پر مشتمل اس وفد کی رہبری اور مشورے کے لئے ندوے میں موجود تھے ، یہاں سے فراغت کے بعد آپ نے اہل اللہ کی زیارت و ملاقات  کے لئے شمالی ہند کے اہم مراکز کا  دورہ کیا ، اس دورے میں آپ کی اہم ترین ملاقات حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ سے ہوئی تھی . شاید آئی یس صدیق مرحوم کے سوا آپ بھٹکل کے واحد فرد تھے جنہیں حضرت حکیم الامت ؒ  سے  شرفِ ملاقات نصیب ہوا  تھا۔

                ندوہ سے  فراغت کے دنوں میں  حیدر آباد دکن  میں نظام عثما ن علی خان کا عہد زریں چل رہا تھا ، دنیا بھر کے اہل علم و ماہرین فن یہاں جمع ہورہے تھے . اردو کو علمی و زندہ زبان بنانے کیلئے  مایہ ناز مترجم محمد عنایت اللہ مرحوم کے زیر اہتمام دارا لترجمۃ العثمانیۃ قائم ہوچکا تھا ، خواجہ صاحب کو لغت داں کی حیثیت سے اس میں ملازمت کرنے کا موقع مل گیا ،لیکن کام جس شان کا تھا اور جس محنت کا طالب تھا اس کے بالمقابل  مشاہرہ مطابقت نہیں رکھتا تھا ، نہ ہی ان کی بنیادی  ضرورتیں اس سے  پوری ہورہی تھیں، کچھ عرصہ بعد آپ نے ممبئی کو اپنی آما جگاہ بنایا ، یہاں پر جے جے اسپتال کے پاس ایک دکان کھولی اور لنگیوںکا کاروبارشروع کردیا ، جو کچھ عرصہ تک چلتا رہا ۔

                                                                                                                                                                                                                    علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کا ذہنی لگاؤ تھا ، علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی روابط مضبوط تھے ،لہذا جب جمعیت علمائے اسلام قائم ہوئی تو آپ نے اس سے وابستگی اختیار کی ، اور ممبئی میں اسے مضبوط کرنے کے لئے کافی دجد و جہد کی ۔آپ یہاں جمعیت کے صدر بھی رہے ، بھٹکل مسلم جماعت ممبئی میں بھی فعال رہے ، اس کے صدر بھی چنے گئے ۔سید برہان الدین مرحوم کی رفاقت میں نائطی زبان کا پہلا مجلہ ( النوایط ) جاری  کیا ۔جماعت المسلمین بھٹکل کے ساتھ تادم آخر وابستہ رہے اور اسے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے رہے ، مجلس اصلاح و تنظیم میں بھی متحرک رہے ۔

                انجمن حامیٔ مسلمین بھٹکل سے آپ کی ہمیشہ جذباتی وابستگی رہی ، یہاں پر آپ کے مشوروں اور تجاویز کو پذیرائی ملی ، انہیں قدر کی نظر سے دیکھا گیا ،آپ نے اس کی دستور ساز می میں اہم رول ادا کیا ، اور جب انجمن میں دینی پہلو ماند پڑنے لگا جو کبھی اس کا طرۂ امتیاز رہا تھا تو آپ نے مستقل شعبہ دینیات کے قیام کے ذریعہ انجمن کے اس بنیادی مشن کو زندہ  رکھنے  کی کو شش کی ، آپ اس شعبہ کے نا ظم بھی رہے ۔

                خواجہ صاحب جس خانوادہ کے فرد تھے ، وہ ہمیشہ سے پرانی روایات و اقدار کا امین رہا ہے ،باوجود  اس کے آپ جدّت کے متلاشی تھے ،لیکن جس ماحول میں ان کی تر بیت ہوئی تھی ا س کی روایات کا خون میں رچ بس جانا بھی ایک فطری بات تھی ، لہذا آپ نے ایک متوازن رویہ اختیار فرمایا ، انھوں نے اسّی سال سے زیادہ عمر پائی اور جب تک ان کے اعضاء میں سکت رہی ان کی امتیازی وضع قطع اور رکھ رکھاؤ میں کوئی فرق نہیں آیا ۔

[adrotate group="32"]
x

Check Also

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ بغیر ہمزہ کے ’گاے‘ اور’ چاے‘۔۔۔۔تحریر :اطہر علی ہاشمی

پاکستان میں روزِ اوّل سے اردو کو قومی زبان تسلیم کرنے کے ...