بنیادی صفحہ / مضامین / تذکرہ انجمن اور عرب و دیار ہند کے مصنف ، مورخ بھٹکل ، مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی ۔ قسط 02

تذکرہ انجمن اور عرب و دیار ہند کے مصنف ، مورخ بھٹکل ، مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی ۔ قسط 02

Print Friendly, PDF & Email

تحریر : عبد المتین منیری۔ بھٹکل

سرخ وسفید جسم پر ململی سفید برّاق قمیص ،اُجلی لنگی ، سر پر دوپلی ٹوپی ، ڈاڑھی کا کوئی بال بکھر ا ہوا نہیں .پابندی سے اس پر کنگھی اور حنا کا خضاب ،نماز جمعہ کے لئے بن ٹھن کر جب نکلتے تو بڑھاپے میں  بھی ان پر پڑی  ہوئی نگاہیں نہیں ہٹتی تھیں ۔

                شاید وہ بھٹکل کے پہلے عالم دین تھے جنھوں نے روایتی ذرائع کے بجائے تجارت کو تلاش معاش کا ذریعہ بنایا ۔  اگر وہ چاہتے تو دین کے ذریعہ خوب دنیا کماسکتے تھے ،  ہم نے انہیں بڑھاپے ہی اس وقت دیکھا جب ان کے جسم کا رواں رواں سفید ہوچکا تھا ،1960ء کی دہائی میں وہ گوشہ نشین  سےہوگئے تھے ، ان کے خاندان میں روحانی علاج نسلا بعد نسل چلا آرہا تھا، لیکن وہ خود ہوں یا ان کے والد ماجد روحانی کمالات  کی صلاحیت کے باوجود صرف اپنے اہل و عیال یا  قریبی اعزاء  کا علاج  معالجہ  کرتے تھے ۔

                انھوں نے جب ہوش سنبھالا وہ تاریخ کا ایک انقلابی دور تھا ، ہندوستانی مسلمان لمبی نیند سے کروٹ لے رہا تھا ، بر صغیر میں ایک تعلیمی تحریک برپا تھی . علی گڑھ کا محمڈن کالج اب مسلم یونیورسٹی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا .ملت کی ایک اور تعلیمی تحریک جامعہ ملیہ اسلامیہ کی شکل میں برگ و بار لارہی تھی، بھٹکل میں بھی اس کے اثرات نمایاں تھے ، انجمن حامی مسلمین  قوم کی امیدوں کی آما جگاہ بن کر اُبھر رہا تھا . اس نے بھی ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی تھی .البتہ اس میں اور پیشرو تحریک میں اتنا فرق ضرور تھا کہ آخرالذکر کی قیادت صرف مسلم مفادات کی علمبردارنہیں تھی ، اسے اسلامی اقدار و روایات بھی جان ودل سے عزیز تھے . ان کی تمنا تھی کہ اس تحریک سے اٹھنے والی نسل مبادیاتِ دین وایمان اور اسلامی تہذیب سے مکمل طور پر بہرہ ورہو ۔

                خواجہ صاحب ندوہ کے فیض یافتہ تھے ، جو اس وقت جدید و قدیم کے ایک سنگم کی حیثیت سے ابھررہا تھا ،انجمن کے قائدین میں آپ کی کشش ایک فطری بات تھی . یوں تو آپ نے اپنے قدیم روایتی حلقہ سے وضع دارانہ مراسم استوار رکھے ، لیکن آپ کی جذباتی و فکری وابستگی انجمن کی عصری قیادت ہی سے رہی ، آپ کی طویل عمر کے دورا نئے میں یہ قیادت کئی نسلوں میں منتقل ہوئی ، لیکن آپ کے اس تعلق اور انجمن سے وارفتگی میں  آخر تک سرِ مو فرق نہیں آیا۔

                خواجہ صاحب بدلتی دنیا سے با خبر رہنے کے لئے ہمیشہ کوشاںرہے ، نئے اخبارت و مجلات کا انہیں شدت سے انتظار رہتا . جس پابندی سے وہ خبریں سنتے ایسی پابندی ہمیں کم ہی کہیں نظر آئی . کیا مجال کہ صبح وشام کی خبروں کا وقت ہواور ریڈیو پر کان لگائے گھرپر نظر نہ آئیں ۔

                بھٹکل میں یوں تو عالم فاضل بہت ہوئے ہیں ، لیکن کتب بینی اور مطالعہ میں جو انہماک آپ کے  اورآپ کے بھائی مولانا قاضی شریف محی الدین اکرمی مرحوم  کے یہاں پایا جاتا تھا، اس کی دوسری نظیر ان آنکھوں نے نہیں دیکھی۔بے کار آرام کرتے ہوئے کم ہی نظر آتے ، جب دیکھو ہاتھ میں کوئی کتاب  ہوتی یا اخبار پڑھ رہے ہوتے ۔کتابیں اور خصوصیت سے قلمی کتابوں کو جمع کرنے کا بے پناہ شوق تھا ۔

  عمر بھر کے مطالعہ کا نچوڑ :

                خواجہ صاحب بنیادی طور پر تاریخ کے آ دمی تھے ، انہیں اپنی قوم  کے ماضی پر بجا طور پر ناز تھا ، بیسویں صدی  کو تو انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے بنتے دیکھی تھی . مسلمانان بھٹکل کی نشأۃ ثانیہ میں جن شخصیات نے قائدانہ خدمات انجام دیا تھا،چاہے وہ اسماعیل حسن صدیق ہوں ، یا یم یم صدیق اور حاجی حسن شابندری ، ان کی اکثریت آپ کی ہم نوالہ ہم پیالہ تھی –

                                                                                                                                                                           انہیں احساس تھا کہ اہل نوایط کی جو نسلیں بھٹکل سے نکل کر دور بس گئیں تھیں، ان میں سے کئی ایک آسمانِ علم کے چاند تارے بن کر جگمگائے ،انہوں نے تحقیق وتصنیف کو سینے سے لگایا ، مال وزر کو ٹھو کر لگادی ، اشرفیوں پر کتابوں کو فوقیت دی ، اسی کے نتیجہ میں چنئی اور حیدرآباد  میں اہل نوائط کے دو کتب خانے محمدیہ وسعیدیہ آفتاب و ماہتاب بن کر ضؤفشانی کررہے ہیں . اور جن میں محفوظ مسلمانوں کا قومی ورثہ، اور ہزار سالہ ہندوستان کی اسلامی تاریخ کی نادر و نایاب دستاویزات اہلِ ذوق کو دعوتِ نظارہ دے رہی ہیں .تفسیر ، حدیث اور اسلامی علوم پر کئی نادر کتابوں کے اکلوتے قلمی نسخوں سے یہ مالا مال ہیں . دائرۃ المعارف العثمانیہ نے ان کی قدر جانی اور گذشتہ صدی میں ان کی اشاعت کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا .دنیا بھر کی کئی جامعات اور یونیورسٹیوں میں یم فل اور ڈاکٹریت کے طلبہ واسکالر ان نادر ذخیروںکو منظر عام پر لانے کے لئے بے تاب ہیں .اور دن رات اس کیلئے ایک کئے ہوئے ہیں ۔اہل نوایط کو گذشتہ صدیوں میں ہندوستان میں قائم مسلم ریاستوں ،سلطنت عادل شاہی ، سلطنت خدادا د، سلطنت عثمانیہ حیدر آباد ، سلطنت والا جاہی میں بے پناہ عزت و منزلت ملی تھی ، انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا گیا تھا، محتسب ، قاضی جیسے اعلی منصب تھال میں رکھ کر انہیں پیش کئے گئے تھے ، یہ سب انہیں معلوم تھا ۔

                وہ انساب کے عالم تھے ، قبیلہ نوا یط سے پھوٹنے والی شاخوں اورخاندانوںکے ناموں کی اصلیت سے وہ باخبر تھے۔

                یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ قرون اولی میں ہندوستان کے جن علاقوں میں عرب تاجروں نے خداکا دین پہنچایا ، یہ دینِ خالص تھا ، عجمی افکار کی اس میں آمیزش نہیں تھی ، بدعات و خرافات سے یہ پاک و صاف تھا ،کیونکہ انھوں نے براہ ر است چشمۂ نبوت سے سیرابی کی تھی ، ان کی مادری زبان میں کلام الہی کا نزول ہوا تھا ۔

                خواجہ صاحب نے جب ندوہ میں داخلہ لیا اس وقت علامہ سید سلیمان ندویؒ کا طوطی بول رہا تھا ، سید صاحب خیرالقرون کے داعیانِ حق کی نسلوں سے بہت اُنس رکھتے تھے ، عرب وہند کے تعلقات پر انکی معرکۃ الآراء کتابیں  ’ ’  عربوں کی جہاز رانی  ‘‘ اور "عرب و ہند تعلقات” اس وقت تک دادِ تحقیق وصول کر چکی تھیں ،جب علامہ کو خواجہ صاحب کے بارے میں معلوم ہوا تو اس موضوع پر تحقیقی کام کے لئے متوجہ کیا ، پھر آپ کے استاذِ مکرم مولانا قاضی حبیب اللہ مرحوم کا بھی اس پر مسلسل اصرار رہا ۔

                خواجہ صاحب اکابر کی اس خواہش کو عرصہ تک اپنے دل میں پالتے رہے . تصنیف وتالیف کی طرف  ان کا میلان پہلے ہی سے تھا ، لیکن جس معاشرہ میں وہ رہ رہے تھے اس میں تصنیف وتالیف کی ہمت افزائی کا ذوق نہیں تھا . ایک تاریخ بن رہی تھی ، تاریخ نویسی پر توجہ دینے کی کسے فرصت تھی ، جب محنتیں برگ وبار لانے لگیں ، انجمن نے قوم کو تعلیم جدید سے سنوادیا جامعہ اسلامیہ بھی رنگ لانے لگا ، اور بھٹکل میںٰ لکھنے پڑھنے کا ماحول بنا ،تب خواجہ صاحب کو خیال آیا کہ تکمیلِ آرزو کا اب وقت آگیا ۔

                انھوں نے عرب ودیار ہند کی تصنیف و تدوینِ کا کام شروع کیا . اور بڑی ہی محنت  اور عرق ریزی سے مواد اکٹھاکیا ،اور کتاب مکمل کی ،میراخیال ہے کہ موضوع سے متعلق جتنا مواد اس کتاب میں آیا ہے بمشکل   ایسا مواد کسی اور کتاب میں یکجا ملے گا . خواجہ صاحب کی یہ خوش بختی تھی کہ قومی اداروں میں انہیں بھر پور عملی کردار اداکرنے کا موقعہ ملا اور انھوں نے اجتماعی خدمت میں زندگی کا بیشتر وقت گزارا . لیکن شاید یہ ان کی بد قسمتی تھی کہ نصف صدی تک انہیں اپنے مطالعہ کے استعمال کا موقعہ نہ ملا .

                خواجہ صاحب نے جب قلم اٹھایا عمر کی ستر بہاریں بیت چکی تھیں ، اعضاء جو اب دے رہے تھے، انگلیا ں احساسات کا ساتھ نہیں دےپارہی تھیں،خواجہ صاحب نے انجمن کی گولڈن جوبلی ۱۹۷۱ء کے موقعہ پرتاریخ انجمن لکھی ،جس کا اولین حصہ عرصہ ہوا شائع ہوچکا ہے،  . خواجہ صاحب کے تذکرہ انجمن کی حیثیت چشم دید  گواہی کی ہے ، جب یہ کتاب سامنے آئی تھیں اس وقت انجمن کو آغاز سے دیکھنے والی بہت سی آنکھیں روشن تھیں ، لہذا بھٹکل کی تعلیمی تحریک کی یہ ایک مستند دستاویز بن گئی ہے ، اس سلسلے میں  بعد میں آنے والی کوئی بھی تحریر خواجہ صاحب کی اس تحریر  کی مرجعیت کو ماند نہیں کرسکتی ۔

                                                                                                                                                                                                                           تاریخ ایک زینہ ہے ، قومیں اس پر چڑھ کر ترقی کے مراحل طے کرتی ہیں ۔یہ حال و مستقبل کو ماضی سے جوڑتی ہے جس قوم کو اپنا ماضی یاد نہیں رہتا وہ بغیر بنیاد کی عمارت جیسی ہے اس کی تہذیب و ثقافت  کسی بھی وقت زمین بوس ہوسکتی ہے . ماضی سے سبق ہی آئندہ غلطیوں سے قوموں کو بچاتا ہے . ترقی یافتہ قومیں اپنی تاریخ کو سینے سے لگاتی ہیں . اسے ورثہ قرار دیکر انکی حفاظت کو تہذیب کا لازمی جزء سمجھتی ہیں .

                خواجہ صاحب 7/دسمبر 1990ء کو اس دنیا  کو داغ مفارقت دے گئے ، قوم کے مؤرخ تھے ، ان کو ہم سے جدا ہوئے  تین عشرے  بیت رہے ہیں، کم ہی ہیں جو انہیں یاد کرتے ہوں گے ، ورنہ قوم انہیں کب کی بھلا چکی ہے . کیا قومی خدمت گذاروں کے ساتھ ہمارا یہ سلوک مناسب ہے . آپ بھی سوچئے اور مجھے اجازت دیجئے ۔

2019/01/01

x

Check Also

اگر کچھ ہوا تو ذمہ دار پاکستان ہوگا۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

ہندوستان کی مغربی سرحد پر سی آر پی ایف کے قافلہ کے ...