بنیادی صفحہ / مضامین / جسٹس دیپَک گپتا کی کھری کھری باتیں… سہیل انجم

جسٹس دیپَک گپتا کی کھری کھری باتیں… سہیل انجم

Print Friendly, PDF & Email

ایک وقت تھا جب ہندوستانی عدلیہ کو بہت وقار حاصل تھا۔ اس کی ایمانداری کی قسمیں کھائی جاتی تھیں۔ لیکن رفتہ رفتہ اس کا وقار گرتا چلا جا رہا ہے۔ حالانکہ اب بھی عوام کو ملک کے آئینی اداروں میں سے کسی پر اگر سب سے زیادہ بھروسہ ہے تو وہ عدلیہ ہی ہے۔ جب بھی کوئی تنازع ہوتا ہے تو لوگ یہی کہتے ہیں کہ میں تمھیں عدالت میں دیکھ لوں گا۔ وہ عدالت جاتے بھی ہیں۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود عدالتوں پر عوام کا اعتبار اب پہلے جیسا نہیں رہ گیا۔

 جب سے مرکز میں بی جے پی کی قیادت میں حکومت قائم ہوئی ہے ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جو عدالتوں کے وقار میں کمی کا باعث بنے ہیں۔ حکومت جس طرح تمام آئینی اداورں کو اپنے اشاروں پر چلانا چاہتی ہے اور وہ اس میں بہت حد تک کامیاب بھی ہے، اسی طرح وہ عدالتوں کو بھی اپنے اشاروں پر چلانا چاہتی ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ملکی عدالتیں حکومت کے اشاروں پر کام کر رہی ہیں لیکن بہر حال ایسے واقعات سامنے آجاتے ہیں جو شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

 ذرا یاد کیجیے جنوری 2018 کا وہ تاریخی واقعہ جب پہلی بار سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین جج منظر عام پر آئے تھے اور انھوں نے ایک پریس کانفرنس کرکے عدلیہ کے وقار کو بچانے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ اگر عدالتوں کے وقار کو نہیں بچایا گیا تو ملک میں جمہوریت باقی نہیں رہے گی۔ ان چار ججوں میں ایک جسٹس رنجن گگوئی بھی تھے۔ وہ اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے بعد چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہونے والے تھے۔ اس وقت ان کو عوام میں بڑا اعتبار اور وقار حاصل تھا۔ لیکن ان کے دور میں جو فیصلے ہوئے اور انھوں نے سبکدوشی کے فوراً بعد جس طرح حکمراں جماعت کی جانب سے راجیہ سبھا کی رکنیت کی پیشکش قبول کرلی اس سے ان کا بھی اور عدالت عظمیٰ کا بھی وقار داؤ پر لگ گیا۔

سپریم کورٹ میں ایک جج تھے جسٹس دیپک گپتا۔ وہ ایک ایکٹیوسٹ وکیل اور جج کی حیثیت سے مشہور رہے ہیں۔ وہ حکومت سے اختلاف رائے کو غلط نہیں مانتے ہیں۔ سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ حکومت کے کسی فیصلے یا پالیسی سے اختلاف کرنا ملک سے غداری نہیں ہے۔ جس طرح سی اے اے کے مخالفین کو ملک کا باغی بتایا جا رہا تھا اس کے خلاف جسٹس دیپک گپتا نے آواز اٹھائی تھی۔

 ان دنوں اور اس کے بعد بھی حکومت کے فیصلے بالخصوص سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے تھے اور اب بھی کیے جا رہے ہیں۔ جسٹس گپتا اس کے بھی خلاف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح بغاوت کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج ہو رہی ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے۔ وہ سڈیشن کی دفعہ کے بے دریغ استعمال کے خلاف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس دفعہ کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

ابھی گزشتہ دنوں وہ سپریم کورٹ کے جج کے منصب سے ریٹائر ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے دیئے گئے ورچوول الوداعیہ میں کھل کر باتیں کیں اور کئی اہم باتیں کہیں۔ اس کے بعد وہ اخباروں اور نیوز پورٹلس کو انٹرویو بھی دے رہے ہیں اور عدالتوں میں ہونے والے کام کاج اور ان سے متعلق دیگر باتوں پر کھل کر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں دو بہت اہم باتیں کہیں۔ ایک تو یہ کہ جب کوئی جج فیصلہ سانے کے لیے کرسی پر بیٹھے تو وہ اپنے مذہبی خیالات و نظریات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف قانون کے مطابق فیصلہ سنائے۔ ان کے مطابق ہمارا آئین ہی ہمارے لیے گیتا، بائبل، قرآن، گرو گرنتھ صاحب اور دیگر مذہبی کتاب ہے۔

 دوسری بات انھوں نے جج اور قانون داں حضرات کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہی کہ ہمارے اور آپ کے آئینی حقوق پامال نہیں ہوتے۔ وہ غریب ہیں جن کے آئینی حقوق مسلسل پامال ہو رہے ہیں۔ غریبوں کی کوئی آواز ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی غریبوں کے لیے آواز اٹھائے تو ہمیں اسے کم از کم سننا چاہیے اور اگر کچھ ہو سکے تو ہمیں غریبوں کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف غریبوں کو بھی ملنا چاہیے۔ ان کی باتوں کے بین السطور سے یہ واضح تھا کہ انصاف صرف امیروں کے لیے مخصوص ہے غریبوں کے لیے نہیں ہے۔

جہاں تک مذہبی خیالات و نظریات کی بات ہے تو جج حضرات بھی اپنا مذہبی ذہن رکھتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دس فیصد معاملات میں جج حضرات اپنے مذہبی ذہن کو بالائے طاق رکھ کر فیصلہ کرتے اور سناتے ہوں ورنہ نوے فیصد معاملات میں ججو ں کا ذہن کام کرتا ہے اور ان کے مذہبی خیالات فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

 دور کیوں جائیے جسٹس گگوئی کے دور میں بابری مسجد کے فیصلے پر نظر ڈال لیجیے۔ اگر بنچ میں شامل جج حضرات قانون کے مطابق فیصلہ سناتے تو وہ فیصلہ قطعاً نہیں ہوتا جو سامنے آیا بلکہ کچھ اور ہوتا۔ بنچ نے اپنے فیصلے میں تمام باتیں بابری مسجد کے حق میں کہیں لیکن ایک دفعہ کے تحت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے رام مندر کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ جسٹس دیپک گپتا شاید اسی کیس کی طرف اشارہ کر رہے تھے جب وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں صرف قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے اور ہمارا آئین ہی ہماری مذہبی کتاب ہے۔

اسی طرح ان کی یہ بات بھی بہت درست ہے کہ انصاف امیروں کے لیے ہے غریبوں کے لیے نہیں ہے۔ اس کی تازہ مثال دوسری ریاستوں میں جا کر کام کرنے والے ان کروڑو ں مزدوروں کی ہے جو اس وقت اپنے اپنے گھروں کو جانے کے لیے بے چین ہیں۔ ان سے متعلق ایک عذرداری سپریم کورٹ میں معرض التوا میں ہے اس پر عدالت نے صرف یہ کیا کہ مرکز کو ایک نوٹس جاری کر دیا۔ باقی اس نے کوئی ہدایت نہیں دی کہ وہ اپنے گھروں کو کسیے جائیں گے ان کے کھانے پینے کا کیا انتظام ہوگا۔ اس معاملے پر عدالت کوئی سماعت نہیں کر رہی ہے۔

 جبکہ ریپبلک ٹی وی کے مالک اور اینکر ارنب گوسوامی کے معاملے پر سپریم کورٹ نے فوری کارروائی کی اور ایک معاملے کو چھوڑ کر دیگر تمام معاملات میں ان کے خلاف سخت کارروائی پر روک لگا دی۔ ارنب گوسوامی نے پال گھر میں دو ہندو سادھووں کے قتل پر ایک ٹی وی پروگرام میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کو براہ راست مورد الزام ٹھہرایا تھا اور کہا تھا کہ انھوں نے ہی سادھووں کو مروایا ہے۔

ان کے اس بے بنیاد الزام کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں کانگریسی کارکنوں نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے۔ ارنب نے گرفتاری سے بچنے کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کورٹ نے ان کے معاملے پر فوری سماعت کرکے انھیں راحت دے دی۔ عدالت کے اس رویے پر سپریم کورٹ کے معروف وکیل پرشانت بھوشن نے سخت اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ عدالت غریبوں کے معاملے پر کوئی سنوائی نہیں کر رہی ہے اور ارنب کے معاملے پر جو کہ حکومت کے قریبی ہیں فوراً کارروائی کی گئی۔ غریبوں کو انصاف نہ ملنے کی اور بھی متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

 جسٹس دیپک گپتا نے اور بھی بہت سی باتوں پر اظہار خیال کیا ہے جس سے عدالتوں کے رویے کا اندازہ ہوتا ہے۔ حالیہ کچھ برسوں میں عدلیہ نے جس طرح اپنا رویہ بدلا ہے وہ اس کے وقار کے منافی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عدلیہ اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرے۔ ورنہ اگر عوام کا اعتماد عدالتوں پر سے مکمل طور پر اٹھ گیا تو قانونی ماہرین کے مطابق وہ دن ہندوستانی عدالتوں کے لیے انتہائی برا ہوگا۔

x

Check Also

ایک مکالمہ۔۔۔ موجودہ سائنس رحمت ہے یا زحمت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

ایک مکالمہ۔۔۔ موجودہ سائنس رحمت ہے یا زحمت پندرہ منٹ کا یہ ...