بنیادی صفحہ / مضامین / محسن کتابیں۔۔۔۱۵۔۔۔ تحریر : مولانا عبد السلام ندوی

محسن کتابیں۔۔۔۱۵۔۔۔ تحریر : مولانا عبد السلام ندوی

Print Friendly, PDF & Email

مولانا عبدالسلام ندوی

             ۔ولادت: علاء الدین پٹی (ضلع اعظم گڑھ، یوپی)۔

             ۔۸ربیع الثانی ۱۳۰۰ھ، مطابق، /۱۶فروری۱۸۸۳ء۔

             اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے، ابتدائی فارسی کی تعلیم وطن میں پائی، عربی کی تعلیم متوسطات تک کانپور،آگرہ اور غازی پور میں حاصل کی، پھر بعض اسباب سے تعلیم کا سلسلہ دو برس تک منقطع رہا۔ اس کے بعد۱۹۰۶ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں درجہ پنجم میں داخلہ لیا۔۱۹۰۹ء میں فراغت کے بعد دارالعلوم کے شعبہ تکمیل ادب میں داخل ہوئے، اور۱۹۱۰ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔ مولانا کا شمار بہت ہونہار طلبہ میں ہوتا تھا، چنانچہ بہت جلد اساتذہ کا اعتماد حاصل کیا۔ فراغت کے بعد ندوے میں استاد ادب مقرر ہوئے، اور کچھ مدت تک درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ علامہ شبلی کی ان پر خاص نظر تھی، اور وہ ان کی صلاحیتوں کے معترف تھے، اور ان کی قابلیت کے بڑے مداح تھے۔ انہوں نے ان کی اٹھان دیکھ کر پیشن گوئی کی تھی کہ یہ لڑکا پورا مصنف ہوگا۔ علامہ کی زندگی ہی میں ’’الندوہ‘‘ کے سب ایڈیٹر اور پھر ایڈیٹر ہو گئے تھے۔

            مولانا ابوالکلام آزاد نے کلکتہ سے ’’الہلال‘‘ نکالا تو ان کوبہ اصرار اپنے پاس بلا لیا، وہاں وہ مولانا آزاد کے ساتھ الہلال کی ادارت میں برابر شریک رہے۔دار المصنفین کے قیام کے بعد۱۹۱۴ء ہی میں مولانا عبدالسلام صاحب وہاں چلے گئے، اور مرتے دم تک اس سے وابستہ رہے۔ شعر و ادب کا خاص ذوق تھا۔ وہ فطری ادیب تھے۔ تاریخ پر گہری نظر تھی۔ ہندوستان کے نامور مصنفین میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ مگر سادگی حد سے بڑھی ہوئی تھی، ظاہر داری سے از حد دور تھے، ظاہری کسی چیز سے ان کے فضل و کمال کا علم نہیں ہوتا تھا۔

             اہم کتابوں میں شعر الہند، اسوہ صحابہ، اسوہ صحابیات، سیرۃ عمر بن عبدالعزیز، امام رازی، اقبال کامل، تاریخ اخلاق اسلامی، حکمائے اسلام و غیر ہیں، نیز بعض اہم کتابیں ابھی تک غیر مطبوعہ ہیں۔

             وفات: اعظم گڑھ، ۲۸ /صفر ۱۳۷۶ھ ۴ /اکتوبر ۱۹۵۶ء

            مدفن: احاطہ دارالمصنفین، اعظم گڑھ

—————————————————————————————————-

            میں اپنے باپ، ماں، بلکہ ان سے زیادہ اپنے دادا کی سب سے لاڈلی اولاد ہوں۔ میرے باپ، اپنے باپ کے اکلوتے بیٹے تھے، ان کے علاوہ ان کی سات  لڑکیاں تھی، جن میں ایک کے سوا سب میرے والد کے بعد پیدا ہوئیں، اس لئے قدرتی طور پر وہ میرے والد اور میرے والد کی اولاد سے انتہائی محبت رکھتے تھے۔ اتفاق سے میرے والد کی اولاد کا سلسلہ لڑکیوں سے شروع ہوا، اور چند سال کے عرصے میں پے بہ پے تین لڑکیاں پیدا ہوئیں، اس کے بعد میری ولادت ہوئی۔ اب غور کیجئے کہ جس شخص کے گھر میں پے درپے ساتھ لڑکیاں پیدا ہو چکی ہوں، اور اس کے بعد اس کے محبوب لڑکے کی صلب سے بھی متصل تین لڑکیاں پیدا ہوں، وہ اس کے اولاد نرینہ کی پیدائش کا کس قدر مشتاق اور خواہش مند ہوگا! ایسی حالت میں میری ولادت نے میرے دادا کی اشتیاق آمیز مسرت میں غیرمعمولی اضافہ کیا۔ خوش قسمتی سے اس وقت خاندان فارغ البال تھا، کاشتکاری اور زراعت کے علاوہ، جو آبائی پیشہ تھا، تیل اور شکر کی تجارت ہوتی تھی، اس لئے دیہاتی نقطہ نظر سے گاؤں میں ہمارا خاندان ایک دولت مند خاندان شمار کیا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ میرے دادا ایک باحوصلہ اور فیاض شخص تھے، اس لیے انہوں نے میری ولادت پر غیر معمولی مسرت کا اظہار کیا، غرباء اور رعایا کو دیہاتی پیمانے پر روپے، پیسے اور کپڑے تقسیم کئے، اور گاؤں بھر کی دعوت کی، اس سے اتنا نتیجہ تو ہر شخص نکال سکتا ہے کہ میں اپنے بھائی بہنوں میں، اپنے باپ ماں کی سب سے محبوب اور سب سے خوش قسمت اولاد ہوں، میری اس خوش قسمتی کا آغاز یوم ولادت ہی سے ہوا، اور الحمدللہ کہ اب بھی مختلف حیثیتوں سے اپنے بھائی بہنوں میں سب سے زیادہ خوش قسمت اور ممتاز ہوں، اس پر خداوند تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں، اور دل میں یہ حسرت رکھتا ہوں کہ میرے اور بھائی بہن کم از کم میرے برابر خوش قسمت کیوں نہ ہوئے! گزشتہ اور موجودہ خوش قسمتی کو اگر صغری و کبری بنایا جائے تو کم ازکم شاعرانہ طور پر اس سے یہ نتیجہ بھی نکلے گا کہ اگر توفیق الہی نے مدد کی، اور ابر رحمت کی چادر نے اپنے سائے کو پورے طور پر پھیلا یا، تو ان شاء اللہ آخرت میں بھی خوش نصیب ہی رہوں گا۔

                                                ایں دعا ازمن،واز وجملہ جہاں آمین باد

            لیکن اس خوش نصیبی کے ساتھ یہ افسوس ہے کہ میری پیدائش کے چند ہی سال بعد میرے دادا کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت مجھ کو صرف اس قدر ہوش تھا کہ اب تک ان کی صورت مجھے یاد ہے، باتیں یاد نہیں۔ ان کی وفات کے بعد کا ایک اور واقعہ یاد ہے، میرے دادا کی قبر ایک مختصر سے باغ میں ہے جو ہمارا خاندانی قبرستان ہے، خاص میرے دادا کی قبر پر آم کا ایک درخت سایہ افگن ہے۔ ایک بار اپنے بچپن میں آموں کی فصل میں اس قبرستان میں گیا، تو اپنے دادا کی قبر پر ایک پختہ آم گرا ہوا دیکھا، ساتھ میں ایک عزیز تھے،انہوں نے آم اٹھا کر مجھ کو دیا اور کہا کہ لو، اس کو تمھارے دادا نے تم کو دیا ہے، اس پر مجھے انتہائی مسرت ہوئی، اور آج اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو مسرت کے ساتھ حسرت بھی ہوتی ہے! غرض میری تعلیم کا سلسلہ میرے دادا کی زندگی میں شروع نہ ہو سکا بلکہ میرے والد نے میری تعلیم کا انتظام کیا۔ اس موقع پر صداقت کے ساتھ مجھ کو یہ بتا دینا چاہیے کہ میرے دادا ایک دیہاتی ان پڑھ تھے، صرف زراعت و تجارت کے ذریعے سے دولت پیدا کی تھی، ملازمت اور دوسرے علمی ذرائع معاش سے ہمارا خاندان ناآشنا تھا، لیکن میرے والد نے کسی قدر ترقی کی، اور قدیم مکاتب میں فارسی زبان کی تعلیم حاصل کی، تجارتی اغراض سے ہندی بھی پڑھی، اور قدیم ہندوانہ حساب سیکھا،جس کی وہ بڑے ماہر تھے۔ ان کو اس سے بڑی چڑ تھی کہ کوئی شخص کاغذ،قلم، دوات اور پنسل سے حساب لگائے، وہ ہر چیز کا حساب زبانی کرتے تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس دیہاتی سادہ تعلیم سے کوئی سرکاری اور قومی ملازمت نہیں مل سکتی تھی۔ اس لیے وہ بھی اپنے قدیم پیشہ زراعت اور تجارت میں مشغول رہے، اس لئے اس مختصر تعلیم کے بعد بھی ہمارا خاندان ملازمت سے نا آشنا رہا۔ میرے چچا نے جو میرے دادا کے بھائی کی اولاد تھے، تعلیم میں اس سے بھی زیادہ ترقی کی اور غالباً شرح جامی تک عربی پڑھی، اور چونکہ اہل حدیث تھے، اس لئے حدیثوں کے شروح  و ترجمے سے اپنی استعداد زیادہ بڑھا لی، اور چھوٹے چھوٹے مذہبی رسالہ لکھنے لگے، جن کے قلمی مسودات اب تک موجود ہیں۔ اس طرح رفتہ رفتہ ہمارا خاندان علم سے آشنا ہوا، اور یہ آشنائی فارسی اور عربی زبان کے ذریعے سے ہوئی، جس کا اس زمانے میں بڑا چرچا تھا، اس لئے میرے والد نے میری تعلیم کا باقاعدہ انتظام کیا، خود تو دو دو کوس کے فاصلے پر جا جا کر دوسرے گاؤں کے مکاتب میں تعلیم حاصل کی تھی، لیکن میرے لئے باقاعدہ اپنے دروازے پر ایک مکتب قائم کیا، اور ایک فارسی خواں معلم کو میری تعلیم کے لئے مقرر کیا، جس کو ہمارے یہاں سے دو روپیہ ماہوار تنخواہ اور کھانا ملتا تھا، اس کے علاوہ گاؤں اور آس پاس کے دیہاتوں کے لڑکے تعلیم حاصل کرتے تھے، اور دو دو چار چار آنے ماہوار دیتے تھے۔ اس طرح میرے گاؤں اور آس پاس کے دیہاتوں کے بہت سے لوگ خواندہ ہو گئے، اور مجھے مسرت ہے کہ میری وجہ سے اس زمانے میں ابتدائی تعلیم کی تھوڑی سی اشاعت ہوگئی، اور اس حیثیت سے میں یومِ خواندگی منانے والوں سے اپنے آپ کو زیادہ خوش قسمت سمجھتا ہوں، غرض میں نے فارسی کی ابتدائی کتابیں، بجائے کسی عالم دین کے ایک ایسے معلم سے پڑھیں، جس کو اس زمانے کی اصطلاح کے موافق ہم لوگ میاں صاحب کہتے تھے۔ میں بذات خود اس زمانے میں نصاب تعلیم کے لفظ سے ناآشنا تھا، البتہ اس زمانے کے رواج کے مطابق میں نے آمد نامہ، صفوۃ المصادر، کریمہ، مامقیماں، اللہ خدائی، بوستاں، گلستان، اخلاق محسنی اپنے میاں صاحب سے پڑھیں۔ اس کے بعد ان کا سرمایہ علم ختم ہو گیا اور ان سے بہتر معلم کی تلاش ہوئی، اس وقت میرا سن تیرہ چودہ سال کا تھا، اور اس زمانے کے رواج کے مطابق میری شادی اسی سن میں ہو گئی تھی۔ خوش قسمتی سے میرے خسر صاحب ایک سندیافتہ عالم تھے، اور مولانا عبدالحئی صاحب فرنگی محلی سے تمام درسی کتابیں پڑھی تھیں۔ انہوں نے مختلف مقامات پر درس و تدریس کی خدمت بھی انجام دی تھی، لیکن اس وقت بے کار تھے، اور خود اپنے دروازے پرایک مکتب قائم کرکے حسبۃً للہ اپنے گاؤں اور خاندان کے بچوں کو تعلیم دیتے تھے،اس لئے میں نے دو برس تک اپنے سسرال میں رہ کر ان سے فارسی کی انتہائی کتابیں مثلا: انوار سہیلی، سکندر نامہ، بہار دانش، مینا بازار، شبنم شاداب، دیوان غنی، اور دیوان ہلالی وغیرہ پڑھیں۔ اس کے بعد عربی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا، اگرچہ میں خود اپنی سسرال میں رہ کر، اپنے خسر سے عربی تعلیم حاصل کرسکتا تھا، تاہم گھر سے باہر نکل کر تعلیم حاصل کرنے کے بعض ذرائع پیدا ہوگئے۔ میرے بہنوئی مولوی محبوب الرحمن کلیم بی۔ اے کانپور کے مشن کالج میں ایف۔ اے کلاس میں پڑھتے تھے۔ اس وقت کانپور عربی تعلیم کا مرکز تھا، اور جامع العلوم اور فیض عام کی شہرت مولانا اشرف علی صاحب اور مولانا احمد حسن صاحب کی ذات کی وجہ سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی تھی۔ میں یا میرے والد تو بذات خود کانپور کی اس علمی مرکزیت سے ناواقف تھے۔ البتہ مولوی محبوب الرحمن کلیم کے ساتھ کی وجہ سے میرے والد نے مجھ کو ان کے ہمراہ کر دیا، لیکن میں نے بذات خود کانپور کے کسی مدرسے میں تعلیم نہیں حاصل کی، بلکہ خود ہمارے ہم وطن مولوی بخشش احمد صاحب جو اس وقت مدرسہ اصلاح المسلمین سرائے میر میں مدرس ہیں، کانپور مشن اسکول میں مدرس تھے، اور مولوی محبوب الرحمن کے ساتھ رہتے تھے۔ میں نے عربی کی کتابیں مثلاً میزان، منشعب، زبدہ،پنج گنج، صرف میر، نحو میر،ھدایۃ النحو، قال اقول، صغری، کبری، میزان منطق، شرح تہذیب وغیرہ ان سے اور فیض عام اور جامع العلوم کے بعض فارغ التحصیل طلبہ سے پڑھیں، اور جو کتاب پڑھی، پوری پڑھی، اور بعض کتابوں کو ازبر یاد کیا، لیکن ایف۔اے پاس کرنے کے بعد مولوی محبوب الرحمن صاحب آگرہ سینٹ جانس کالج میں داخل ہو گئے۔ اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ آگرہ کی جامع مسجد میں ایک برائے نام عربی کا مدرسہ قائم تھا، اور مولوی محمد رمضان مدرس تھے، میں نے ان سے کافیہ، شرح جامی اور قدوری وغیرہ پڑھیں۔ اس کے بعد مولوی محبوب الرحمن صاحب بی۔اے پاس کر کے علی گڑھ چلے گئے، اور میں نے غازیپور کا رخ کیا، جہاں مدرسہ چشمۂ رحمت مدت سے قائم تھا۔ اور اعظم گڑھ کے عربی خواں طلباء کا قرب مسافت کی وجہ سے سب سے بڑا مرکز تھا۔خوش قسمتی سے اس وقت ہمارے عزیز اور برادر محترم مولوی شبلی صاحب، جو اس وقت دارالعلوم ندوہ کے فقیہ ہیں، مدرسہ چشمۂ رحمت میں مدرس تھے۔ میں نے ان سے قطبی، میر قطبی، شرح وقایہ، میبذی، نورالانوار، ہدیہ سعیدیہ اور ملاحسن وغیرہ پڑھیں، اور ہر کتاب پوری پڑھی، اور میں نے اپنے اساتذہ میں ان کو سب سے بہتر پایا، لیکن اس وقت بھی مدرسے میں داخل نہ تھا، بلکہ ان سے گھر پر پڑھتا تھا۔ ان کے علاوہ چشمۂ رحمت میں ہمارے ضلع کے ایک اور عالم مولوی لعل محمد صاحب مدرس اول تھے، ان کے اسباب میں بے قاعدہ شریک ہوتا رہا، اور اسی طرح میر زاہد وغیرہ کے جستہ جستہ مقامات سنے۔ان واقعات سے معلوم ہوا ہوگا کہ میری تعلیم مدرسہ کی چار دیواری سے باہر، قدیم طرز پر ہوئی، اور اب بھی میں خانگی تعلیم کو مدرسوں کی تعلیم سے بہتر سمجھتا ہوں، اور میرے نزدیک کتابوں کے انتخابات کا درس، تعلیمی قابلیت کے لئے سم قاتل ہے، ہر کتاب پوری پڑھنا چاہیے۔

            کانپور، آگرہ اور غازی پور میں تعلیمی سلسلے کے علاوہ کچھ ادبی مشاغل بھی جاری تھے۔ ہمارے عزیز مولوی محبوب الرحمن کلیمؔ شاعر تھے، اس لئے ان کی صحبت میں رہ کر میں نے بھی شاعری شروع کی، اور ان ہی کے تخلص کی مناسبت سے شمیمؔ تخلص اختیار کیا۔ اس وقت پیام یار، پیام عاشق اور دامنِ گل چیں وغیرہ متعدد شاعرانہ رسالہ نکلتے تھے، جن میں بہت سے شعراء کی ہم طرح منتخب غزلیں شائع ہوتی تھیں۔ میں ان رسالوں کو بشوق پڑتا تھا،اور ان میں اپنی غزلیں اشاعت کے لئے بھیجتا تھا، پہلے مولوی محبوب الرحمان سے اصلاح لیتا تھا، غازی پور آیا تو مدرسہ چشمۂ رحمت کے منیجر اور غازی پور کے سب سے بڑے شاعر مولوی عبدالاحد شمشادؔ منیجر مدرسہ چشمہ رحمت سے اصلاح لینے لگا۔ مولوی عبدالاحد صاحب شمشادؔ نے فارسی اور اردو کی کتابوں کا ایک بڑا کتب خانہ بھی جمع کیا تھا، اور طلبہ اور اپنے تلامذہ کو نہایت فیاضی کے ساتھ کتابیں دیکھنے کو دیتے تھے، اور میں ان کے یہاں سے اردو اور فارسی کے دواوین لا کر بشوق ان کا مطالعہ کرتا تھا۔ اس وقت تک تو مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ میری محسن کتابیں کون کون سی ہیں؟ یایہ کہ مجھ کو کسی زمانے میں اس موضوع پر لکھنے کی تکلیف و دعوت دی جائے گی! لیکن اب بھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری محسن کتابیں سکندر نامہ، دیوان غنی، دیوان ہلالی، اور اخلاق محسنی وغیرہ تھیں، فارسی دواوین کے سمجھنے میں مجھے ان سے بڑی مدد ملی، اور شاعرانہ تلمیحات، تشبیہات، استعارات اور صنائع وبدائع کے سمجھنے اور ان سے لطف اٹھانے میں انہوں نے میرے ساتھ خاموش احسان کیا۔ اس وقت تک میں نے نثر کی کتابوں کا بہت کم مطالعہ کیا تھا، لیکن میرے عزیز مولوی محبوب الرحمن کلیم مضمون نگار بھی تھے، اور ان کی صحبت میں سرسید، مولانا حالی، مولوی عبدالحلیم شرر وغیرہ کا نام اکثر سنتا رہتا تھا، اور مولانا شبلی مرحوم تو ہمارے ہم وطن ہی تھے، ان سے میں پہلے ہی سے واقف تھا، اور ان کی شکل و صورت دیکھنے کا مشتاق تھا۔ خوش قسمتی سے کانپور میں ان کی صورت دیکھی، اور ان کی ایک مختصر سی تقریر بھی سنی، لیکن اب تک میں نے ان ادبائے ہند کی کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا تھا، لیکن جب آگرہ میں تھا، تو اسی زمانے میں الفاروق نکلی، اور آگرہ اخبار کے ایڈیٹر نے مولوی محبوب الرحمن صاحب کو ریویو لکھنے کی غرض سے وہ کتاب دی، وہ اس کو گھر لائے تو میں نے اس کو بغور پڑھا، اور یہ پہلا دن تھا کہ دور جدید کی تصنیفات میں ہندوستان کے سب سے بڑے مورخ اور ادیب کی ایک ممتاز تصنیف میری نظر سے گزری۔ اسی زمانے میں رسائل شبلی کا مجموعہ بھی شائع ہوا، اور میں نے اس کو بھی بشوق پڑھا۔ اس کے بعد مجھے ایک عجیب قسم کی بدقسمتی سے ازخود عربی زبان کی کتابوں کے مطالعے کا موقع ملا۔ ہندوستان میں طاعون نمودار ہوا، اور ہر جگہ شدت کے ساتھ پھیلا۔میں طاعون کے خوف سے سلسلہ تعلیم کو چھوڑ کر گھر پر بیٹھ گیا، لیکن یہ بے کاری میرے لئے مفید ثابت ہوئی۔ اعزہ واقارب میں چند لوگ عالم تھے، اور کچھ کتابیں جن میں زیادہ تر حصہ درسی کتابوں کا تھا، جمع کر لی تھیں۔ میں ان کے اس مختصر کتاب خانے سے منطق و فلسفہ کی کتابیں مثلاً شرح مطالع، ملا جلال، حمداللہ، میر زاہد، امور عامہ وغیرہ مانگ کر لاتا تھا، اور انکا تفریحاً مطالعہ کرتا تھا۔ زیادہ تر کتابوں پر مولانا عبد الحئی فرنگی محلی کے حاشیہ ہوتے تھے، اور وہ اپنے تبحر علمی اور طرز تحریر سے مطالب کو نہایت آسان کردیتے تھے، اس لیے میں ان کتابوں کو بہت اچھی طرح سمجھ لیتا تھا۔ اسی زمانے میں تفسیرکبیر بھی پوری پڑھ ڈالی، اور چونکہ امام رازی بھی پیچیدہ مسائل کو نہایت آسان عبارت میں لکھتے ہیں،اس لئے اس کو بھی میں باآسانی سمجھ جاتا تھا۔ ان کتابوں کے مطالعہ کا مجھ پر یہ اثر اور یہ احسان ہوا، کہ مجھ کو عقلیات سے دلچسپی ہوگئی، اور صرف وہی کتابیں پسند آنے لگیں، جو عقلی اصولوں کے مطابق لکھی گئی ہوں، یعنی دعوی، دلیل اور علل و اسباب سب پر بحث ہو، میرا یہ ذوق اب تک قائم ہے، اور تاریخی، ادبی، مذہبی ہر کتاب میں ان چیزوں کی جستجو کرتا ہوں۔

            دو برس میں طاعون کا خوف کم ہوا، اورمیں اپنی تضییع اوقات پر افسوس کرنے لگا، تو ندوہ میں چونکہ زیادہ تر اپنے ہم وطن لوگ رہتے تھے، بالخصوص اعلی عہدے دار مثلاً مولانا حفیظ اللہ صاحب مہتمم دارالعلوم اور مولانا شبلی نعمانی معتمد دارالعلوم اپنے وطن اور برادری کے لوگ تھے، اس لئے دارالعلوم ندوہ کی طرف رجحان پیدا ہوا۔مولانا حفیظ اللہ صاحب کو خط لکھا، اور انہوں نے نہایت مہربانی کے ساتھ بلا لیا، وہاں پہنچ کر پانچویں درجے میں داخل ہوا، اگرچہ مولانا شبلی کے آنے کے بعد نصاب تعلیم بدل گیا تھا، تاہم یہ پانچویں درجے سے لیکر آٹھویں درجے تک جو کتابیں داخل درس تھیں، وہ میرے عقلی اور ادبی ذوق کے بالکل مطابق تھیں۔  شرح حکمۃ العین، شرح حکمۃ الاشراق، توضیح تلویح، ہدایہ، حماسہ، سبعہ معلقہ، متنبی، نقد الشعر، دلائل الاعجاز وغیرہ میرے عقلی اور ادبی معیار پر پوری اتریں، اس لیے میں نے ان کو بشوق پڑھا۔ کبھی کبھی مولانا حفیظ اللہ صاحب کی قدیم تعلیمی عصبیت میں ہیجان پیدا ہوجاتا تھا، تو حمداللہ، قاضی مبارک اور صدرا کے اسبا ق بھی ہوجاتے تھے۔ ان کتابوں کے اثر سے عقلی اور ادبی ذوق میں اور ترقی ہوئی، اور کتب خانے سے شرح مقاصد، شرح مواقف، اور شرح تجرید وغیرہ مستعار لے کر بالاستیعاب مطالعہ کرنے لگا۔ اردو کتابوں میں اس زمانے میں مولانا شبلی کی’’ علم الکلام‘‘ اور’’الکلام‘‘ شائع ہو چکی تھیں، چونکہ یہ دونوں کتابیں عقلی اصول پر لکھی گئی تھیں، اس لئے میں نے نہایت شوق سے ان کو پڑھا۔ مجھے غلط یا صحیح طور پر، طرز تحریر میں مولانا شبلی نعمانی کا مقلد کامل خیال کیا جاتا ہے، غالباً ان کی تصنیفات کے ابتدائی مطالعے کا یہ احسان ہوگا۔ بہرحال میں انکی تصنیفات کو اپنا محسن اور اپنا رہبر سمجھتا ہوں۔ مولانا شبلی کے علاوہ اور مصنفین کی کتابیں مجھے بالکل پسند نہ آئیں، مولانا نذیر احمد اور مولانا عبدالحلیم شرر کی تصنیفات کو تو میں نے بالکل نا پسند کیا، سرسید کی تصنیفات کا معیار بھی میرے نزدیک بلند نہیں، اردو طرز تحریر پر ان کا یہ احسان ضرور ہے کہ انہوں نے قدیم مقفی اور مولویانہ طرز تحریر کو چھوڑ کر، ایک سادہ سلیس اور رواں طرز تحریر پیدا کیا، لیکن میرے نزدیک ان کی انشاء پردازی میں رنگینی اور بانکپن نہیں، مضامین بھی زیادہ تر مناظرانہ اور ملایا نہ ہیں، بعض مقامات پر ابتذال اور بھدا پن بھی ہے، بہرحال، مجھ پر ان کی تصنیفات کا کچھ اچھا اثر نہیں پڑا۔ مولانا حالی میں بھی وہ نوک جھونک، رنگینی، اور بلندی نہیں، البتہ وہ نقّاد بہت بڑے ہیں، اور ان کی تصنیفات میں مقدمہ شعر و شاعری، حیات سعدی اور یادگار غالب کا مجھ پر اس حیثیت سے خاص طور پر احسان ہے، اور میں تنقیدی حیثیت سے ان کی ان کتابوں کو اپنا محسن اور رہنما سمجھتا ہوں۔ میں نے ناول بہت کم پڑھے ہیں، البتہ ہردوئی کے حکیم محمد علی کے چند ناول پڑھے، تو ان کی رنگین بیانی کا مجھ پر خاص اثر ہوا۔ مولانا محمد حسین آزاد کی انشا ء پردازی کو اگرچہ میں پسند کرتا ہوں، لیکن ان کی تصنیفات کو بہت زیادہ بلند پایہ، متین اور سنجیدہ نہیں سمجھتا۔ مولانا عبدالماجد دریا بادی ؒکی تصنیفات میں مجھ کو فلسفہ اجتماع، فلسفہ جذبات، تاریخ اخلاق یورپ، باعتبار مضامین اور باعتبار طرز تحریر کے، بہت زیادہ پسند ہیں۔ یہ کتابیں مادہ اور صورت دونوں کے لحاظ سے مولانا شبلی کی تصنیفات کا مکمل عکس ہیں، اس لیے کہ ہم اور وہ دونوں ایک ہی چراغ کے پروانے ہیں۔ روحانی اور ادبی حیثیت سے مجھ پر صحیح بخاری کا نہایت عمدہ اثر ہوا،لیکن اسی نسبت سے میں فقہی کتابوں کو بالکل بے اثر اور بے کیف پاتا ہوں!۔

https://telegram.me/ilmokitab

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*