بنیادی صفحہ / مضامین / بھٹکل کے پہلے حافظ قرآن۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری

بھٹکل کے پہلے حافظ قرآن۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری

Print Friendly, PDF & Email

TEL: +971555636151

    مورخہ ۷ فروری   ۲۰۱۱ء کے سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ہی خبر آئی کہ ہمارے استاد مولانا حافظ اقبال ندوی صاحب کی زندگی کا سورج  بھی غروب ہوگیا ، وہ اب ہم میں نہیں رہے۔ ابھی تین ماہ قبل تعطیلات گذارنے کے لئے وطن جانا ہوا تھا  تو آپ کی زیارت کے لئے  گھر پر حاضری ہوئی تھی، جسم کا ایک ڈھانچہ رہ گیا تھا، چہرہ سکڑ کر پنجربن گیا تھا، ہوش و حواس کہاں تھے کہ بات کرتے ؟  جو پہنچانتے اور سلام کا جواب دیتے ؟ایک لاشہ تھا جو چارپائی  پر خاموش پڑا تھا،  آنکھوں میں آنسو آگئے  اور سامنے  ۱۹۶۴ء  کا منظر گھومنے لگا ۔

        مولانا اسی سال ندوۃ العلماء سے فضیلت کی سند لے کر بھٹکل میں وارد ہوئے  تھے،  نوزائدہ  جامعہ اسلامیہ بھٹکل اپنی قیام گاہ گوائی میراں مرحوم  کے گھر کی پہلی منزل (بورنڈا ماللی) سے منتقل ہوکر مین روڈ پر سوداگر الکٹرنک کے سامنے ایک گودام  میں جسے مقامی زبان میں بخار  کہاجاتا تھا  منتقل ہوچکا تھا، یہ جامعہ میں ہمارے داخلہ کا دوسرا سال تھا،  یہاں سے مولانا نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کیا تھا، یہاں آپ کے  سامنے آج کے  دور کے اکابرین بھٹکل قاضی شہر مولانا ملا اقبال ، مولانا محمد صادق اکرمی ، مولانا محمد غزالی وغیرہ   زانوئے تلمذ تہ کررہے تھے، مولانا عبد الحمید ندوی ؒ  جامعہ کے مہتمم تھے ، عالم دین کی حیثیت سے اس دینی درسگاہ میں مولانا ندوی کے بعد آپ ہی کا درجہ آتا تھا ، کوئی تیسرا عالم دین وہاں پر مستقل استاد نہیں تھا،  اس وقت آپ کی شخصیت  میں بڑی جاذبیت تھی ، کتابی چہرہ ، سڈول کسرتی  بدن ، رنگ سفید سرخی مائل، لباس پاکیزہ شمالی ہند کے شرفاء کا ، لکھنوی کرتہ اس  پر سفید براق چھوٹی موری کا پاجامہ ، سر پر بالوں والی جناح کیپ، ڈاڑھی سجی ہوئی اس میں کوئی بکھرا ہوا  بال شاید ہی  ڈھونڈے سے ملے، بال پٹھے دار بیچ گردن سے کٹے ہوئے، ان کی تراش خراش اور کنگھی کا اہتمام ، عمر پچیس  (۲۵)  کے لگ بھگ رہی ہوگی ، بھٹکل کی گلی کوچوں سے جب گزرتے تو کیا چھوٹا کیا بڑا سب کی  نظریں ان پر ٹہر جاتیں، دو ایک سال بعد ان کے چچیرے بھائی مولانا عبد العلیم بھی دیوبند سے فارغ ہوکر آئے تو ان کی بھی وضع قطع میں خوش ذوقی دیکھنے کے لائق ،سونے پر سہاگہ ان کی جوڑی بھی خوب لگتی ، حلقہ علماء میں ہم نے مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی مرحوم کے سوا آپ سے بڑھ کر کسی اور کو  اپنی وضع قطع کا  ایسا  اہتمام کرتے نہیں دیکھا ۔

       حافظ صاحب کو اللہ نے لحن داودی سے نوازا تھا، بھٹکل کے پہلے حافظ قرآن ، اس پر بلا کی خوبصورت آواز تلاوت کا بھی اپنا مخصوص اندا ز جو سب سے نرالا تھا، آپ کے پیچھے ساٹھ کی دہائی میں پہلے جامع مسجد میں ، پھر شاید ایک بار سلطان مسجد میں تراویح پڑھنے کا اتفاق  ہوا ، کیا سماں بندھتا تھا ، اب تو بھٹکل میں خوش الحان حافظوں کی  خاصی بڑی تعداد  پائی جاتی ہے، سدیس ، شریم ، حذیفی وغیرہ سبھی ائمہ حرم کی  نقالی کرنے والے یہاں پر  خوب ملتے ہیں ،لیکن ہمارا ذاتی مشاہدہ ہے کہ حافظ اقبال اپنے طرز میں منفرد تھی ، ان کے برصغیرکے پانی پتی انداز تلاوت کا  اب بھی کوئی جواب نہیں  ہے  ۔

        آپ کو شعر وادب کا بھی بڑا ذوق تھا ، جامعہ کے طلبہ کو آپ نے نعت اور نظمیں پڑھنے کی خوب مشق کروائی ، ماہر القادری ؒ کی نعت ﴿جب کفر نے فتنے پھیلائے ﴾اور قرآن کی فریاد  ﴿طاقوں میں سجایا جاتا ہوں ﴾کو بھٹکل میں پہلے پہل آپ ہی کی خوش الحان آوازنے  مقبول کیا تھا  ۔مولانا عبد الماجد دریابادی کے صدق جدید کے گرویدہ تھے، اس کی فائل حفاظت سے رکھتے ، دیکھا کہ کبھی کبھار صدق  جدید  کا کوئی شمارہ ڈاک میں گم ہوجاتا  تو اپنے شاگردوں خصوصا مولوی عبد الصمد قاضی سے جن کا خط اپنے  ساتھیوں میں بہت خوبصورت ہوا کرتا تھا ، ان سے صدق  جدید کا  یہ شمارہ لکھوا کر محفوظ کیا کرتے ، مطالعہ کا شوق تھا ، آپ کی علمی صلاحیت بہت اچھی تھی ،تقریر بھی خوب کرتے تھے ،  چونکہ آپ کے والد اور بھائی بہن وغیرہ گھر پر نائطی کے بجائے اردو بولنے کے عادی تھے ، لہذا  لکھنو کے تعلیمی ماحول نے زبان کو خوب شستہ بنا دیا  تھا، خوش مزاجی اور ہر ایک کے ساتھ بے تکلفانہ انداز تکلم آپ کا اہم وصف تھا ، بڑی میٹھی زبان میں تقریر کرتے ، شعرو ادب کے ذوق  کے ساتھ بلا کی خوبصورت آواز اور جاذب نظر شخصیت  اکٹھے ہوں  تو تقریر  کیا جادو جگائے گی ، اس کا آپ خوب اندازہ لگا سکتے ہیں ، ندوے میں آپ کے رفیق مولانا قاضی محمد فاروق ندوی صاحب راوی ہیں کہ دوران طالب علمی ندوے کی محفلوں میں آپ کا طوطی بولتا تھا۔ اس زمانے میں  ندوے کے  معاصر طلبہ میں بھٹکل سے مولوی عبد المجید ملپا ، اور مرڈیشور کے مولوی محمد علی باشا اور مولوی محمد اقبال گیما ،گنگولی سے مولانا محمد تقی   اور شیرور سے  خلفو احمد قافشی قابل ذکر ہیں۔ ان ساتھیوں میں سے حافظ محمد رمضان ندوی اور خلفو احمد قافشی نے جامعہ کے ابتدائی دور میں آپ کے ساتھ ہی تدریسی خدمات انجام دیں۔ آخر الذکر عرصہ تک سلطان مسجد میں امام بھی رہے۔

      جامعہ کی جب جامع مسجد قدیم میں منتقلی ہوئی تو وہاں پر آپ نے کوئی دیڑھ دو سال تدریسی خدمات انجام دیں، یہاں پر آپ سے جناب  عبد القادر ڈانگی صاحب نے کافی بڑی عمر میں قرآن کا حفظ شروع کیا اور تکمیل کے بعد اپنے قصبہ تنگنگنڈی میں  ایک ادارہ  تعلیم القرآن قائم کرکے بچیوں کے قرآن حفظ کرنے  کا  علاقہ میں اولین نظم قائم کیا ،یہاں سے، مرحوم عثمان حسن ماسٹر کی ایک دختر بھٹکل کی پہلی حافظ قرآن بن کر نکلیں۔حافظ عبد الغنی رکن الدین  خجندی نے بھی جامع مسجد ہی میں آپ سے تحفیظ قرآن کا آغاز کیا ، یہ چند بھٹکل کے ابتدائی حافظ ہیں جن سے حفظ قرآن کا کارواں آگے بڑھا،  حافظ  ابراہیم شیپائی کانام بھی ابتدائی حفاظ میں شمار کیا جاسکتا ہے،لیکن کبھی ان کی تراویح سننے کا اتفاق نہیں ہوا۔

        باوجود خداداد صلاحیتوں کے جو اس وقت کے علماء میں ناپید تھیں بھٹکل اور جامعہ کے نصیب میں آپ کی صلاحیتوں سے زیادہ مستفید ہونا نہیں لکھا تھا،آپ پر اخراجات کی ذمہ داریاں تھیں ، ابھی گھر بھی بسانا تھا ، جامعہ والے چالیس روپئے ماہوار پر رکھنے پر مصر تھے  ، دس بیس روپئے زیادہ  تنخواہ  کی بھی یہاں گنجائش نہیں نکل رہی تھی، لہذا رتناگیری(کوکن )   والوں کے نصیب میں آپ کی خدادا د  صلاحیتوں سے مستفید ہونا لکھا تھا ، جہاں کے حالات بھی ایسے ہی کسی باصلاحیت عالم دین کی خدمت کا تقاضا کررہے تھے ، مولانانے  ۱۹۶۷ء سے  ۱۹۸۲ء تک کوئی پندرہ سال اس سرزمیں کو اپنی اصلاحی سرگرمیوں سے  سرفراز کیا ، یہاں پر آپ کو بڑی عزت ملی ،بڑی قدر ومنزلت ہوئی ۔ یوں تو جامعہ اسلامیہ اور بھٹکل کو آپ سے مستفید ہونے کا کم ہی موقعہ ملا، لیکن کیا عجیب بات ہے کہ  ایک اندازے کے مطابق ہمارے قومی اداروں میں تعلیم پانے والی موجودہ نسل کے نوے فیصد سے زیادہ طالب علم چند  ایک واسطوں سے آپ کے شاگرد  اور ممنون احسان ہیں ۔ ۱۹۶۸ء میں فاروقی مسجد کے افتتاح کے بعد کچھ عرصہ آپ نے امامت کے فرائض انجام دئے، یہاں ایک شبینہ مدرسہ قائم کیا جس میں محلہ کے طلبہ آپ سے قرآن سیکھتے اور دین کی بنیادی تعلیم حاصل کرتے ۔

      بھٹکل سے آپ کی  دوری کو بہتوں نے محسوس کیا ، جن لوگوں کو اس سے بہت دکھ پہنچا ان میں ایک اہم شخصیت الحاج محی الدین منیری مرحوم کی ہے۔ بھٹکل کو پہلا حافظ دینے میں آپ کا اہم کردار رہا ہے۔ ہمیں۱۹۸۶ء  میں  قوم کے اس عظیم محسن کی زبانی دو مجالس میں آپ کی آب بیتی ریکارڈ کرنے کا موقعہ ملا تھا، یہ مسلمانان بھٹکل کی نشاۃ ثانیہ کی بڑی قیمی دستاویز ہے، اس انٹرو یو میں منیری صاحب نے بھٹکل کے پہلے حافظ کے بارے میں جو مشاہدات بیان کئے تھے پیش خدمت ہیں۔

        ۔۔﴿بمبئی  کے محمد علی روڈ پر واقع چونا بھٹی مسجد میں قاری فیروز مرحوم ایک زمانے میں بچوں کو قرآن حفظ کرایا کرتے تھے ، یہاں پر دیوبند کے ایک جید عالم دین اور فاضل مولانا محفوظ الرحمن کا بھی درس ہوا کرتا تھا، قاری فیروز اور میں نے ایک ساتھ  ۱۹۵۱ء میں حج  کا سفرکیا تھا ، دوران  سفر ہم ساتھ ہی رہتے ، اسی دوران  منی میں آپ کی رحلت واقع ہوئی ۔ قاری صاحب کا ہماری قوم پر ایک بڑا احسان ہے جس کا ذکر یہاں ضروری سمجھتا ہوں ۔

         میرے ایک دوست تھے قادر باشا صاحب ، ان سے میری بڑی بے تکلفی تھی، وہ ہمیشہ مجھ سے اردو میں بات چیت کیا کرتے تھے، ایک دن کی بات ہے کہ میں نل بازار میں رکن الدین کاڑلی حسین مرحوم کی دکان پر بیٹھا تھا کہ وہ اپنے چھ سالہ فرزند  محمد اقبال کی انگلی تھامے  وارد ہوئے۔ او ر مجھے سے مخاطب ہوکر کہنے لگے ، منیری ! یہ بچہ تمھارے ذمہ ہے ، اس کو اسکول میں ڈال دو، میں نے جواب دیا،  جس اسکول میں آپ چاہیں میں اسے وہاں پر ڈال دوں گا، لیکن آپ  اگر اسے مجھے سونپتے ہیں تو اپنی من چاہی جگہ پر اسے داخل کردوں گا۔ انہوں نے جواب دیا ، میں نے اسے تمہارے حوالہ کردیا ، تم جو چاہو کرو، میں اس بچہ کو سیدھے قاری فیروز کے پاس چونا بھٹی مسجد لے گیا  اور ان سے درخواست کی کہ میری قوم میں کوئی حافظ نہیں ہے  ، بڑی تمنا ہے کہ میری قوم میں بھی ایک حافظ قرآن ہو، اس مقصد سے یہ بچہ آپ کی خدمت میں لایا ہوں ۔ اس کے والد نے اسے میرے ذمہ سونپ دیا ہے، اب اسے آپ کے حوالہ کرتا ہوں۔ اس پر آپ محنت کریں ، یہ میری قوم کا بچہ ہے، میرا بچہ ہے، اب اسے آپ اپنا بچہ سمجھیں۔

         خدا قاری فیروز کو غریق رحمت کرے ، انہوں نے دوسال کی انتھک محنت کے بعد اقبال کو حافظ قرآن بنا کر مجھے سونپ دیا ، میری مسرتوں کی کوئی انتہا نہیں رہی تھی ، شاید میرا کوئی بچہ بھی اس وقت حافظ بنتا تب بھی شاید مجھے اتنی خوشی نہیں ہوتی۔ میں نے قادر باشا مرحوم سے خواہش ظاہر کی کہ تمھارے فرزند کے حفظ قرآن مکمل کرنے پر میں ایک جلسہ کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے جیب سے دوسو روپیئے نکالے اور کہا کہ ان سے جو چاہو کرو۔ ماوے کا سموسہ اس وقت کی ایک مشہور مٹھائی تھی۔ آٹھ آنے کا ایک سموسہ بڑا قیمتی سمجھا جاتا تھا، پائیدھونی کے مٹھائی والے سے اس رقم کے سموسے منگوائے۔چونا بھٹی مسجد میں جلسہ عام ہوا،جس میں بمبئی کے مقتدر علماء نے شرکت کی، مولانا سلطان حسن مفتی آگرہ ، قاری صدیق، مولانا محفوظ الرحمن  وغیرہ سبھی علماء نے تقریریں کیں، ان حضرات نے حافظ اقبال کو بڑی دعائیں دیں، جلسہ کے بعد قادر باشا صاحب سے میں نے کہا کہ قاری فیروز نے بڑی محنت اور دلچسپی سے آپ کے بچہ کو حافظ بنایا ہے،  انہیں کچھ ہدیہ دینا چاہئے ، یہ کہ کر میں نے ان سے دوسو روپئے لئے  اور خاموشی سے قاری صاحب کو پیش کردئے ، یہ دیکھنا تھا کہ قاری صاحب آگ بگولہ ہوگئے اور مجھ پر برس پڑے ، کہنے لگے ، تمھاری اولاد سے میں پیسے لوں ، میرے بچے سے میں پیسے لے لوں یہ کیا بات کرتے ہو۔ تمھاری بات سے آج  مجھے بڑی ناراضی ہوئی ہے، انہوں نے ایک ڈھیلہ پیسہ نہیں لیا، قاری صاحب مجھے معاف کردیجئے ، اسے میں بچے کے ابا کو لوٹا تا ہوں کہ کر میں چپ ہوگیا ، قاری صاحب نے اپنے اخلاص و محنت سے  ہماری قوم کو پہلا حافظ دیا، جو اب مولانا حافظ اقبال ندوی کے نام سے پہنچانے جاتے ہیں ۔

     حافظ اقبال اس زمانے میں جاملی محلہ میں رہا کرتے تھے، اس دور میں بمبئی کی مساجد میں تراویح میں پورا  قرآن  سنانے کا رواج عام نہیں تھا ، گنی چنی مساجد میں حافظ تراویح  میں قرآن  سنایا کرتے تھے، میں نے جاملی محلہ مسجد کے ٹرسٹیوں سے کہ سن کر انہیں تراویح کے لئے کھڑا کیا ، یوں تو مجھے قرآن ازبر یاد نہیں ہے، معلوم نہیں تلاوت  درست کرتا بھی ہوں یا نہیں، لیکن اس کام میں میری اتنی دلچسپی تھی کہ سب کام چھوڑ کر روزانہ تراویح سنانے سے پہلے دوبار اہتمام سے اقبال سے قرآن کریم سنتا اور مدہوش ہوجاتا،اس کی برکت سے بھٹکل میں حفظ قرآن کا ایک دور شروع ہوا، خدا کا لاکھ شکر و احسان ہے کہ اس نے میر ے ہاتھوں یہ عظیم خدمت لی۔آج بھٹکل میں سیکڑوں حافظ و حافظات پائے جاتے ہیں، مگر اس وقت کوئی حافظ نہیں تھا ، بچپن میں ہم لوگ سنا کرتے تھے کہ گڈے سیدبو کے گھرانے میں ایک صاحب اپنے مکان  پر  چلتے پھرتے قرآن پڑھا کرتے تھے ، انہیں قرآن کا وافر حصہ یاد تھا۔

      اس کے بعد میں نے اقبال کو ان کے ابا سے لے کر دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو بھیجدیا، وہاں کے اساتذہ سے  بھی درخواست کی کہ بھٹکل میں ایک دینی مدرسہ کے قیام کا ارادہ ہے، اسے سنبھالنے کے لئے آپ اسے تیار کریں۔ اس زمانے میں ندوہ میں تفسیر کے استاد ہوا کرتے تھے ، مولانا اویس نگرامی ؒ صاحب ، بڑے ہی نیک اور پابند شرع، یوں تو ندوہ کے بیشتر اساتذہ وعلماء سے میرے روابط تھے ، لیکن ان میں سے مولانا اویس نگرامی ؒ سے میرے تعلقات سب سے گہرے تھے، آپ  کے زہد و تقوے کا سکہ میرے دل پر بیٹھا ہوا تھا ،آپ کی باتوں  میں ایسی روانی اور کشش تھی کہ میں بیان نہیں کرسکتا، الحمد للہ آپ کے ساتھ حج پر بھی جانے کا موقعہ نصیب ہوا،  ۱۹۶۵ ء کے حج میںآپ کی اہلیہ بھی میری اہلیہ کے ساتھ شریک تھیں، پانی جہاز پر رفاقت رہی، سات آٹھ روز ساتھ رہنے کا موقعہ ملا، مولانا میرا  بہت اکرام کرتے تھے ، بڑی محبت سے پیش آتے ، میرا جب بھی ندوے جانا ہوتا توگھر دعوت پر ضرور بلاتے، واپسی کے وقت گھر سے نرم نرم روٹیوں اور شامی کباب کا توشہ باندھ کربھجتے ، وہ مجھے ٹوٹ کر چاہتے تھے ۔

      مولانا محمد صبغۃ اللہ بختیاری ؒکی شخصیت محتاج تعارف نہیں، فقیر منش اور بزرگ انسان ہیں ، میرے ساتھ بھی ان کے گہرے مراسم رہے ہیں، انہوں نے المعھد الاحسانی کے نام سے رائے چوٹی کرناٹک میں تصوف کا ایک مرکز بھی قائم کیا ہوا ہے، بھٹکل کئی ایک بار ان کا آنا ہوا، وہ ہمیشہ مجھ سے تاکید کرتے کہ منیری صاحب ! کسی بھٹکلی کو دوسال کے لئے مولانا اویس نگرامی کی خدمت میں بھیج دو ، ان کی تربیت سے جو فائدہ ہوگ میں اسے بیان نہیں کرسکتا۔

       میں نے مولانا اویس نگرامیؒ اور  ندوے کے ایک اور استاد مولانا محمد اسحاق سندیلوی ؒ(سابق مہتمم و  شیخ الحدیث)   اور دیگر دو تین اساتذہ کے ذریعہ اس کی تربیت کی کوشش کی اور اقبال نے فضیلت تک ندوہ میں تعلیم حاصل کی ، آپ سب واقف ہیں کہ ان کا انداز تلاوت بڑا میٹھا ہے، علم میں پختگی ہے، بڑی تمنا تھی کہ بھٹکل میں دینی مدرسے کے قیام کے بعد اس کی ذمہ داری  آپ کو سونپی جائے ، مگر قسمت کے کھیل نرالے ہیں ، انہوں نے جامعہ اسلامیہ کے ابتدائی ایام میں کچھ عرصہ یہاں پر پڑھایا،مگر پھر کاروبار و تجارت کے چکر میں گھر گئے، اب شارجہ میں امامت کررہے ہیں ، اللہ ان کا بھلا کرے جہاں بھی رہیں خوش رہیں﴾

         حافظ اقبال صاحب نے جامعہ چھوڑنے کے بعد بمبئی کے قریب پانویل میں کچھ عرصہ امامت کی،جہاں پر رتناگیری کے ایک ڈاکٹر آپ سے بہت متاثر ہوئے،یہاں سے آپ رتناگیری منتقل ہوئے،جہاں امامت خطابت کے ساتھ اصلاحی کام بھی انجام دیتے رہے ، اس علاقہ میں صاحب استعداد لوگوں میں بھی حج بیت اللہ جانے کا رواج نہیں تھا، بڑے عرصہ بعد آپ یہاں سے حج بیت اللہ کے لئے قافلہ لے کر نکلے ۔

          ۱۹۸۲ ء میں حج بیت اللہ کے سفر کے دوران  آپ کی ملاقات دبی میں کراچی دربار ریسٹورنٹ  کے مالک اقبال صاحب  سے ملاقات ہوئی ، جو آپ کو اپنے بچوں کی تربیت کی غرض سے اور اپنے ہوٹل میں کیشر کے طور پر انہیں دبی لے آئے، لیکن ان کا خمیر اس کے لئے نہیں تھا، دو چار ماہ میں اس کام سے ان کا دل اچاٹ ہوگیا ،  خوش قسمتی سے انہیں شارجہ بازار کی مرکزی رولہ مسجد میں امامت اور خطابت کا کام مل گیا ،  جو ان کے مزاج سے مطابقت رکھتا تھا ، جہاں آپ نے تندہی سے یہ فرائض انجام دئے ، اصلاحی و دعوتی دروس کا سلسلہ بھی جاری رہا ، جس سے بڑ ا فیض عام رہا  اور لوگوں کی اصلاح بھی ہوئی ۔ اس دوران چند ایک بار بھٹکل والوں کے پروگراموں میں تشریف لائے ، ۱۹۸۷ء میں ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم کے خطاب کے موقعہ پر آپ نے ماہر القادری کی ایک  پسندیدہ نعت﴿ جب کفر نے فتنے پھیلائے ﴾  پیش کی تھی ، خوش قسمتی سے اس کی ویڈیو محفوظ تھی  اسے ہم نے انٹر نٹ پر پیش کردیا ہے۔اس کے ذریعہ آپ کے آواز کی ایک جھلک کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=JjUPygANVq4&list=PLjseW6sQdLXFuzlRc4XtSur3l83L8C9xX&index=20

           آپ نے رتناگیری اور شارجہ میں بھی تجارت و کاروبار کرنے کی کوشش کی، شارجہ میں ایک ہوٹل بھی کچھ عرصہ چلایا ، لیکن قدرت نے ان کی تخلیق اس کام کے لئے نہیں کی تھی، اس میدان میں کامیابی ان کے شریک حال نہ ہوسکی ،امارات میں آپ ربع صدی  تک مقیم رہے، شارجہ جانا ہوتا تو بڑی خندہ پیشانی سے استقبال کرتے ، بڑی بے تکلفانہ مجلس رہتی ، آخری عمرمیں سلسل البول  اور شوگر کی بیماری کا لاحقہ ہوا ، پریشان ہوئے،  جھٹ اوقاف میں جاکر استعفی پیش کردیا ، اوقاف والوں نے سمجھایا بجھایا کہ ابھی استعفی پیش نہ کریں، انتظار کریں، لیکن انہوں نے امانت داری کا تقاضہ یہی سمجھا ، زندگی کے آخری چار سال بڑی کسم پرسی میں گذرے، بیماری اور کمزوری نے انہیں بہت نڈھا ل کردیا  تھا کہ وقت موعود آپہنچا۔

            حافظ صاحب کی خوبیوں اور صلاحیتوں کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے، جس وقت ان کی اٹھان ہورہی تھی اسی طرح بھٹکل میں اس کا تسلسل  جاری  رہتا تو شاید بھٹکل میں آج کی مقبول اور معتبر ترین علمی و دینی شخصیات کی روشنی آپ کے سامنے ماند پڑجاتی ، لیکن قدرت کی منشا یہی تھی کہ آپ کی شخصیت برگد کے درخت کی طرح نہ بنے جس کے سایہ میں کوئی اور پودا پروان نہیں چڑھتا، بلکہ یہاں پر کئی اور  چراغ روشن کرنے تھے اور آپ کی صلاحیتوں سے دوسرے بیابانوں کو سیراب کرنا تھا۔ اس کی حکمت وہی جان سکتا ہے جو سارے جہانوں کا مالک ہے ، اس کی ذات  علیم و حکیم ہے  وہ بلند و بالا ہے  اور ہم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

 دبی  12-02-2011

x

Check Also

محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا عبید اللہ سندھی

مولانا عبیداللہ سندھیؒ             ولادت:سیالکوٹ، /۱۲ محرم  ۱۲۸۹  ھ،مطابق ۱۰ /مارچ ۱۸۷۲  ...