بنیادی صفحہ / مضامین / کمارا سوامی کہاں سے کلیجہ لائیں۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

کمارا سوامی کہاں سے کلیجہ لائیں۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Print Friendly, PDF & Email

ایک ہفتہ سے ہر اخبار کا ایک موضوع یہ ہے کہ کمارا سوامی کی حکومت رہے گی یا جائے گی؟ جبکہ ہر بات سے اندازہ ہورہا ہے کہ کرناٹک کی موجودہ حکومت جائے گی۔ 13 مہینے اتنے نہیں ہوتے کہ اس وقت کی باتیں سب بھول جائیں۔ ہمیں بھی یاد ہے اور آپ کو بھی یاد ہوگا کہ کمارا سوامی نے کانگریس کے 80 ممبروں کی حمایت کے خط کے ساتھ گورنر سے کہا تھا کہ ہمیں حکومت بنانے کا موقع دیا جائے۔ لیکن وزیراعظم نے گورنر سے کہا یا کہلایا کہ سب سے بڑی پارٹی ہونے کی وجہ سے بی جے پی کے اُمیدوار کو وزیراعلیٰ کا حلف دلایا جائے۔ عام دنوں اور دوسری پارٹی کی حکومت میں گورنر صاحب، مہامہم اور عزتمآب ہوتے ہیں مگر حکومت بی جے پی کی ہو اور وزیراعظم نریندر مودی ہوں کو تو بیچارہ گورنر کہا جاتا ہے۔ تو بیچارے گورنر کو جب حکم دیا کہ وہ بی جے پی کے اُمیدوار کو حلف دلادے تو اس نے حلف دلا دیا اور اپنی مرضی سے یا حکم کے مطابق اسے 15 دن کا وقت دیا کہ دوسری پارٹیوں کے ممبروں کو خریدکرکے، اغوا کرکے، دھوکہ دے کر، زخمی کرکے جیسے بھی ہو اپنی اکثریت بناکر اسمبلی میں اکثریت ثابت کردیں۔
کانگریس کے چوٹی کے وکیلوں نے مسئلہ سپریم کورٹ پہنچا دیا اور وہاں سے بیچارے گورنر کو یہ حکم دلا دیا کہ جب اکثریت ہے تو 15 دن کیسے دو دن میں ہاؤس میں اکثریت ثابت کرو اس حکم کا کوئی توڑ بیچارے گورنر کے پاس نہیں تھا اور دو دن مین زمین کو آسمان بنانے والی جادوئی چھڑی کسی کے پاس نہیں تھی مجبور ہوکر وزیراعلیٰ آئے اور اپنا استعفیٰ بیچارے گورنر کے قدموں پر رکھ دیا۔ اس کے بعد کمارا سوامی کو وزیراعلیٰ بننا ہی تھا۔
کمارا سوامی ان کے والد دیوگوڑا اور پوری کانگریس اس پورے واقعہ سے واقف ہے اور سب نے دیکھا ہے کہ ایک بار نہیں کتنی بار بی جے پی اس کے اُمیدوار اور وزیراعظم کی بے عزتی ہوئی تھی۔ کمارا سوامی کو خوب معلوم ہے کہ کانگریس میں بھگدڑ شروع ہوچکی ہے۔ یہ ایسا ہی وقت ہے جیسا سیتارام کیسری کے زمانہ میں تھا اور جب اچانک سونیا گاندھی تلوار لے کر میدان میں آگئیں اور کیسری صاحب کو رخصت کردیا تو ہر طرف کانگریس کے حق میں نعرے لگنے لگے۔ کمارا سوامی کو سمجھنا چاہئے کہ اب اگر انہوں نے دو چار کو روک کر حکومت بچالی تو چند روز کے بعد دوسرے اپنا سودا کرلیں گے۔ انہیں یہ سبق یاد رکھنا چاہئے جو مصر کی اخوان المسلمین کے بانی شیخ حسن البنا شہید نے لکھ دیا ہے کہ جو نہیں بکا اس کے بارے میں یہ نہ سمجھو کہ وہ بکے گا نہیں بلکہ یہ سمجھو کہ ابھی اس کی قیمت نہیں لگی۔
بی جے پی کانگریس کے ممبروں کو اپنی پارٹی میں شامل نہیں کررہی بلکہ منھ مانگے پیسے دے کر خرید رہی ہے کہ استعفیٰ دے دو تاکہ حکمراں پارٹی کے ممبروں کی تعداد بی جے پی کے ممبروں سے کم ہوجائے۔ اب اگر ایک ممبر یہ کہتا ہے کہ وہ پانچ سال میں دس کروڑ کماتا تو بی جے پی اسے پندرہ کروڑ میں خرید لے گی اور جن ہاتھوں میں حکومت اور خزانہ ہے ان ہاتھوں کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ کیا کیا کرسکتے ہیں اور انہوں نے کیا کیا کیا ہے؟
ہم کسی تعلق کے بغیر کمارا سوامی اور کانگریس کو یہ مشورہ دیں گے کہ وہ اپنی حکومت کو فٹ بال نہ بنائیں کہ ہر دن اس پر ایک لات سپریم کورٹ کی پڑرہی ہے ایک اسپیکر کی اور بیچارہ گورنر بھی شارٹ تو مارتا ہے، وہ ہوا میں جھول جائے یا حکومت کے لگے۔ اس کھیل کو ایک ہفتہ ہوگیا۔ کمارا سوامی اسپیکر کی مدد سے اور بی جے پی گورنر کی مدد سے حکومت سے فٹ بال کی طرح کھیل رہے ہیں۔ کمارا سوامی نے کہا ہے کہ مجھے وزیراعلیٰ کی کرسی جانے کا خوف نہیں ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ یدی یورپا کی طرح اس کرسی کی خاطر اسی طرح قسطوں میں ذلیل ہورہے ہیں جیسے وہ ہوئے تھے۔ ان کو جب پہلی بار معلوم ہوا تھا کہ کانگریس کے ممبروں کو بی جے پی نے منھ مانگی قیمت دے کر خرید لیا تو اس وقت چپ چاپ جاکر استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا۔ ہر سیاسی آدمی کو یاد ہوگا کہ 1967 ء میں اُترپردیش میں جب چودھری چرن سنگھ بارہ ممبروں کو لے کر حکمراں بنچوں سے اٹھ کر مخالف بنچوں پر جابیٹھے تو گپتا جی جیسا کھلاڑی دو تین دن میں مختلف پارٹیوں کے 20 ممبر خریدکر پھر اپنی اکثریت بنا سکتا تھا لیکن وہ چپ چاپ گورنر کے پاس گئے اور جاکر استعفیٰ دے دیا۔
اٹل بہاری باجپئی جب صرف ایک ووٹ سے ہارے تو انہوں نے ایک گھنٹہ بھی یہ سوچنے میں ضائع نہیں کیا کہ کہا کیا جائے؟ حالانکہ ایک ممبر مخالفت میں ووٹ دینے والے وہ بھی تھے جو اُڑیسہ اسمبلی کے پہلے سے ممبر تھے اس مسئلہ کو بنیاد بناکر دوبارہ ووٹنگ ہوسکتی تھی مگر وہ اُٹھے اور سیدھے صدر کو جاکر استعفیٰ دے دیا۔ کانگریس جو تماشہ دیکھ رہی ہے وہ بھی ذلیل ہورہی ہے اسے بھی اعلان کرنا چاہئے تھا کہ اب ہماری حکومت نہیں ہے۔ اور کمارا سوامی سے کہتے کہ جاؤ استعفیٰ دے دو موت تو بہرحال آنا ہے پھر ذلیل ہوکر مرنے سے کیا فائدہ؟
Mobile No. 9984247500

x

Check Also

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ سہو کتابت۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

محترم نواز احمد اعوان علم دوست شخصیت ہیں۔ ان کی سب سے ...