بنیادی صفحہ / مضامین / گجرات میں چار لڑکے مودی کیلئے مسئلہ۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

گجرات میں چار لڑکے مودی کیلئے مسئلہ۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Print Friendly, PDF & Email

گجرات کے الیکشن کے بارے میں خبروں سے ہٹ کر جو تبصرے ہورہے ہیں انہوں نے وزیر اعظم کی نیند اُڑادی ہے۔ ہم جب الیکشن کے میدان میں رہے ہم سے زیادہ صحیح اندازہ دوسرا نہیں کرپاتا تھا۔ آج ہم جب سفر کے قابل ہی نہیں تو اندازہ کیا ظاہر کریں۔ ایک بات جو ہم نے ہمیشہ محسوس کی وہ یہ تھی کہ اگر مقابلہ غریب اور امیر کا ہو کمزور اور بااثر کا ہو تو عام آدمی کی حمایت حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اور جو بااثر ہوتے ہیں وہ غرور میں بھول جاتے ہیں کہ ووٹ ایک آدمی کا ایک ہی ہوتا ہے۔
1963 ء میں وہ الیکشن تاریخ ساز تھا جس میں آزاد اُمیدوار آچاریہ کرپلانی کھڑے تھے ان کے مقابلہ کے لئے پنڈت نہرو نے حافظ محمد ابراہیم کو جو وزیر بھی تھے صرف اس لئے بھیج دیا کہ کرپلانی جیت نہ سکیں۔ آچاریہ جی کی حمایت میں بابو ترلوکی سنگھ، ڈاکٹر فریدی اور ان سے متعلق لوگ ہی تھے جن میں ہم بھی لکھنؤ سے بلائے گئے تھے۔ حافظ ابراہیم صاحب کی حمایت میں مرکزی وزیروں کے علاوہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور کشمیر کے وزیر اعلیٰ بھی تھے رعونت اور فرعونیت کا یہ حال تھا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے سی بی گپتا سے کہا کہ پیٹرول پمپ والوں سے کہہ دو کہ جس نے کرپلانی کی گاڑیوں میں پیٹرول دیا اس کا پمپ بند کردیا جائے گا۔ جبکہ آچاریہ جی کی پوری ٹیم کے پاس خود آچاریہ جی کی گاڑی سمیت 6 گاڑیاں تھیں اور حافظ ابراہیم صاحب کے پاس وزیروں کے علاوہ علاقہ کے ہر دولتمند کی گاڑی لگی ہوئی تھی۔
آج جو گجرات کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ 50 وزیروں اور وزیر اعلیٰ کی فوج مودی جی گجرات میں اتاریں گے تو حیرت ہوتی ہے۔ مودی جی نے دہلی میں اروند کجریوال کے مقابلہ میں اور اس کے بعد لالو یادو کے مقابلہ میں بہار میں کیا کم وزیر اتارے تھے؟ مودی جی یہ چاہتے ہیں کہ گجرات میں جتنی ذات کے ہندو ہیں ہر ذات کا وزیر ان سے ووٹ دلوانے کے لئے لایا جائے۔ اتنے الیکشن لڑنے کے باوجود حیرت ہے کہ مودی جی کو اندازہ نہیں ہوا کہ وزیروں سے رونق تو بڑھ جاتی ہے ووٹ نہیں بڑھتے۔ بہرحال وہ اپنا شوق پورا کرلیں۔
قسمت اس وقت اس راہل پر مہربان ہے جو دس برس سے اپنی ماں کے ساتھ گجرات کے الیکشن کے موقع پر آتے تھے اور مہمان لیڈر کی طرح کہیں ایک اور کہیں دو تقریریں کرکے چلے جاتے تھے اس کے بعد کانگریس یتیم بچوں کی طرح اگلے الیکشن کا انتظار کرتی رہتی تھی۔ آج راہل کو دیکھنے کے لئے چھتوں پر ہجوم اُمڈ پڑا ہے اور راہل چاروں طرف گردن گھما گھماکر ان کا شکریہ ادا کررہے ہیں اور راہل جو مودی پر وار کرتے ہیں تو لوگ تالیاں بجاکر اور نعرے لگاکر یقین دلا رہے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ تو کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس میں راہل کی کشش کتنی ہے لیکن یہ سب دیکھ رہے ہیں کہ 24 سالہ ہاردِک پٹیل، الپیش ٹھاکر اور جگنیش میوانی جب سے بی جے پی سے ہٹ کر راہل گاندھی کے ساتھ آئے ہیں راہل کی بانچھیں کھلی ہوئی ہیں اور اسے مودی جی کا خوف کہیں گے کہ وہ ان چار لڑکوں کے مقابلہ میں پورے ملک کے حکمرانوں کو لارہے ہیں اور یہ نہیں سوچ رہے کہ بازی اُلٹ گئی تو کہاں منھ دکھائیں گے؟
2002 ء کے بعد ایک الیکشن کے موقع پر سونیا گاندھی نے بڑی ہمت کرکے وزیر اعلیٰ مودی کو موت کا سودا گر کہہ دیا تھا۔ بس اس ایک جملہ کو مودی نے ایسا دانت سے پکڑا اور اسے بھگایا کہ ماں بیٹے کا گجرات میں رکنا مشکل ہوگیا وجہ صرف یہ تھی کہ ہندو عوام مودی کی مٹھی میں تھے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ وہ نوجوان پھٹک کر دور چلا گیا جو مودی مودی مودی کیا کرتا تھا اور اسے توقع تھی کہ مودی کی مٹھی میں روزگار کی چابیاں ہیں۔
آج پورے ملک کی طرح گجرات کا نوجوان بھی دیکھ رہا ہے کہ اگر وزیراعظم کے پاس کچھ ہے تو وہ دولتمندوں کے لئے ہے اور اونچی ذات والوں کے لئے ہے۔ نوجوانوں اور غریبوں یا اوسط درجہ والوں کے لئے کچھ نہیں ہے۔ نوجوانوں پر اس کا بھی بہت اثر ہے کہ سرکاری کالج اور اسکول کم سے کم ہیں اور بیکار ہوتے جارہے ہیں اور جو تعلیم کی تجارت کررہے ہیں وہ ان کو پڑھا رہے ہیں جو یہ نہ دیکھیں کہ کس کلاس کی کتنی فیس ہے؟
پورے ملک میں چھوٹے طبقوں اور دلت برادری کے ساتھ اتنا بے رحمی کا سلوک شاید کہیں نہیں ہورہا جتنا گجرات میں ہورہا ہے۔ اور انتظامیہ کا جواب ہے کہ ہم گرفتار تو کرتے ہیں یا جیل تو بھیج دیتے ہیں جو کچھ گجرات میں ہوا اس کا علاج گرفتاری نہیں ہے بلکہ وہ ہے جو ہریانہ کے اس اسکول کے ایک کنڈکٹر کے ساتھ ہریانہ پولیس نے کیا کہ وہ اپنی درد بھری کہانی سنا بھی نہیں پاتا جو اس کا ثبوت ہے کہ اسے ڈنڈوں سے ہی نہیں ٹھوکروں سے بھی مارا ہے صرف اس لئے کہ قتل کرنا قبول کرو۔ گجرات میں اگر مودی جی اور امت شاہ نے دلتوں کو بھی انسان سمجھا ہوتا تو آج انہیں ایک وزیر کو لانے کی بھی ضرورت نہ پڑتی لیکن وہ بھی ان میں سے ایک ہیں جو اقتدار کے لئے موریہ کو پاس بٹھاتے ہیں اور جہاں ان کی حکومت ہے وہاں یہ نہیں کہتے کہ اگر دلتوں کو اپنا بھائی نہ سمجھا تو الٹا لٹکا دیا جائے گا۔
گجرات میں مسلمان صرف 9 فیصدی ہیں۔ مسلمانوں کی طرف سے ناراضی کی خبریں آئی تھیں اگر اس وقت مسلمانوں نے بے وقوفی کی تو بھیانک غلطی ہوگی کانگریس ان کی ضرورت ہے انہیں خود کانگریس کے پاس جانا چاہئے اور معلوم کرنا چاہئے کہ انہیں کام بتایا جائے۔ یہ وقت ناز نخرے دکھانے کا نہیں اگر ان کی قربانی سے حکومت تبدیل ہوجائے تو خود ان کا بہت بڑا فائدہ ہے۔ احمد پٹیل کو کوشش کرنا چاہئے کہ وہ راہل اور مسلمانوں کو قریب لائیں۔ جمہوریت کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ ایک پارٹی صوبہ کو جاگیر نہ بنالے۔
Mobile No. 9984247500

x

Check Also

مسعود احمد برکاتی ایک بامقصد زندگی کا استعارہ… تحریر : ڈاکٹر طاہر مسعود

مسعود احمد برکاتی نے جنہیں بالعموم اُن کے رفقا ’’برکاتی صاحب‘‘ کہا ...