بنیادی صفحہ / مضامین / نماز تقریب نہیں عبادت ہے۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

نماز تقریب نہیں عبادت ہے۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Print Friendly, PDF & Email

جیسے جیسے دن گذرتے گئے ہندو اور مسلمانوں کی دوری بڑھتی گئی اور یہ لعنت آر ایس ایس کی ہے جس نے ہر ہندو کے دماغ میں یہ بٹھا یا کہ مسلمان ملچھ ہوتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس کا ایس پی جسے ہر مذہب کے بارے میں سب کچھ معلوم ہونا چاہئے تھا وہ نوئیڈا میں کہہ رہا ہے کہ ’’صرف نماز ہی نہیں بلکہ ہر مذہبی تقریب کے لئے اجازت لینی ہوگی‘‘ وہ یہ بات اس لئے کہہ رہا ہے کہ وہ نماز کو تقریب سمجھ رہا ہے۔ نوئیڈا میں جو سرکاری اور غیرسرکاری مسلمان ملازم ظہر کی نماز ایک پارک میں پڑھ لیتے ہیں اس کے بارے میں اگر ایس پی یا ہندو افسروں کو معلوم ہو کہ وہ کیا ہے تو وہ ایسی بات نہ کہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر افسر کو یہ بتایا جائے کہ نماز تقریب نہیں ہے۔ تقریب اسے کیسے کہیں گے کہ اگر 500 آدمی بھی جمع ہیں اور ان میں 499 صف بنائے پیچھے کھڑے ہیں اور ایک آدمی آگے کھڑا ہے وہ صرف اللہ اکبر کہتا ہے اور جو کچھ پڑھتا یا کہتا ہے وہ ان سے نہیں کہتا جو 499 کھڑے ہیں۔ بلکہ اس پروردگار سے کہتا ہے جس نے سب کو پیدا کیا اور ایسے کہتا ہے کہ کوئی ایک بھی نہیں سن پاتا وہ چند منٹ کے بعد پھر اللہ اکبر کہتا ہے اور خود جھک جاتا ہے اس کے جو پیچھے کھڑے ہیں وہ بھی جھک جاتے ہیں اور صرف 15 سکنڈ کے بعد کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے سمع اللہ لمن حمدہ اور پھر اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کرتا ہے جس کے ساتھ سب کی پیشانی زمین سے لگ جاتی ہے۔ یہی عمل چار بار ہوتا ہے اور آخر میں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ داہنے اور بائیں کہہ کر نماز ختم کردیتا ہے۔ اس کے بعد جو سُنّت پڑھتا ہے وہ الگ الگ پڑھتا ہے کوئی پانچ منٹ کوئی دس منٹ لیکن ان پانچ سو میں سے کوئی اگر بولتا ہے تو وہ ذاتی بات ہوتی ہے۔ اب کوئی افسر یہ بتائے کہ یہ تقریب کیسے ہوئی؟ اس لئے کہ اگر ہر دن جب نماز پڑھی جائے تو کوئی نئی بات بتائی جائے اور بتانے والا سننے والوں سے سوال جواب کرے اور دوسرے دن دوسری حرکت کرے یعنی اگر پہلے دن پندرہ منٹ میں نماز ختم کرکے سب اپنے کام کے لئے چلے جائیں تو دوسرے دن اسی نماز کو بیس منٹ میں ختم کرے اور تیسرے دن تیس منٹ میں ختم کرے تو اسے تقریب کہا جائے گا۔
جن افسروں کو نماز پر اعتراض ہے اور ان سے ان کے کسی آقا نے یہ کہا ہے کہ جانے مسلمان کیا سازش کرتے ہیں انہیں ہندی میں چھپی ہوئی نماز کی کتابیں دے دی جائیں تاکہ وہ پڑھ لیں۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ ان افسروں نے نماز کو آر ایس ایس کی شاکھا سمجھ لیا ہے۔ نوئیڈا کے ایس پی کو پارک کے نگراں مالی سے بھی دریافت کرنا چاہئے کہ جو نماز پڑھنے آتے ہیں کیا وہ پارک کے پیڑوں کو روندتے ہیں یا پارک میں جگہ جگہ پیشاب پاخانے کرتے ہیں یا کچھ توڑکر لے جاتے ہیں یا آگ جلاکر کھانے گرم کرتے ہیں یا جیسے آتے ہیں ویسے ہی چلے جاتے ہیں۔
پوری عمر میں جتنے سفر اپنے بزرگوں کے ساتھ کئے یا دوسروں کے ساتھ کئے اگر ٹرین کی روانگی میں دیر ہوئی اور نماز کا وقت جانے لگا تو پلیٹ فارم پر ایک کنارے کوئی کپڑا بچھاکر نماز پڑھ لی اور ٹرین میں ہی وقت ہوگیا اور نماز کا وقت ختم ہونے لگا تو نہ جانے کتنی بار ٹرین میں پڑھی اور جس ہندو ہم سفر سے کہا ذرا زحمت ہوگی اس نے انتہائی محبت سے کہا کہ ضرور پڑھئے ہم کھڑے ہوجائیں گے۔ یہ تو اکثر وزیراعلیٰ نے کیا ہے کہ رمضان میں اپنے مکان پر افطار کے لئے اپنے مسلمان دوستوں کو اور اہم حضرات کو بلایا ہے اور سفید دُھلی چادریں لان میں بچھائی ہیں کہ افطار کے بعد نماز پڑھ لیں۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ مسلمان پھر روز اس کوٹھی کے لان میں نماز پڑھنا اپنا حق کہیں گے۔ لکھنؤ کے جھنڈے والے پارک میں ہمارے سامنے مولانا عبدالسلام فاروقی مولانا عبدالمومن فاروقی ڈاکٹر عبدالجلیل زیدی اور متعدد حضرات کی نماز جنازہ ہم نے خود پڑھی ہے۔ اور کسی نے نہیں کہا کہ اس کے لئے اجازت لی ہے۔
اس مسئلہ کے شرعی پہلو پر بھی علماء نے اپنا خیال ظاہر کیا ہے اور اجازت کے بغیر وہاں نماز پڑھنے کو منع کیا ہے۔ اگر وہ پارک پولیس کے محکمہ کی ملکیت ہے تو ضرور اس کی اجازت لینا چاہئے لیکن پارک تو کارپوریشن کا ہے جو صرف عوام کے لئے ہے اور پارک میں کوئی نوٹس نہیں لگا ہے کہ اس پارک میں کیا کرنے کی اجازت ہے اور کیا کیا کرنا منع ہے تو اس کی پابندی ضروری ہے۔ شہر کے پارکوں میں شادیاں بھی ہوتی ہیں میری دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کی شادی سرکاری پارک میں ہوئی اس کے لئے اجازت لی کارپوریشن نے چاروں طرف چونا چھڑکا پارک کو ہر طرف سے صاف کیا۔ لیکن اسی پارک میں ہندو دوستوں کے ماں یا باپ کے انتقال کی رسومات ہوئیں تو کسی اجازت کی ضرورت نہیں سمجھی گئی اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ شادی تقریب تھی اور سوگ سبھا تقریب نہیں تھی۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر کسی جج کو یا کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ افسر کو پانچوں نمازوں کے وقت کے بارے میں بتایا جائے کہ کب کیا اور کیسے پڑھی جاتی ہیں تو وہ بھی تسلیم کرے گا کہ نماز تقریب نہیں ہے۔ اور کوئی نہیں بتا سکتا کہ کسی بھی مذہب میں ہر دن اور دن میں پانچ بار ایک عمل کیا جاتا ہے۔ جیسے ہر صبح کو پارک میں اجتماعی طور پر سحر خیزی اگر ہونے لگے تو کیا وہ تقریب ہوجائے گی؟
نماز وہ عبادت ہے کہ ہر شہر اور بستی کی مسجدوں کے دروازوں کے باہر مغرب کی نماز کے بعد عورتوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے جن کی گود میں بیمار بچے ہوتے ہیں اور وہ نماز پڑھ کر آنے والوں سے کہتی ہیں کہ پھونک چھوڑ دیجئے ان کا عقیدہ ہے کہ اس سے بچہ اچھا ہوجاتا ہے۔ پارک میں جو نماز پڑھنے آتا ہے وہ پاک صاف ہوتا ہے ایسے پاک لوگوں کو تو بلاکر کہنا چاہئے کہ دعا کردیجئے کہ پارک کا ہر پیڑ اور پودا ہرا رہے یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان وزیراعلیٰ کو خوش کرنے کے لئے ہے جو کہتے ہیں کہ راہل گاندھی مندر میں ایسے بیٹھتے ہیں جیسے نماز والے بیٹھتے ہیں۔ کاش انہیں معلوم ہوتا کہ جب زمین پھٹنے لگتی ہے تب سیکڑوں مسلمان دھوپ میں نماز پڑھ کر پانی مانگتے ہیں اور زیادہ تر سب نے دیکھا ہے کہ بارش ہوجاتی ہے یہ ہے نماز۔
Mobile No. 9984247500

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج مواد سے ادارہ بھٹکلیس کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

x

Check Also

ایک مکالمہ۔۔۔ موجودہ سائنس رحمت ہے یا زحمت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

ایک مکالمہ۔۔۔ موجودہ سائنس رحمت ہے یا زحمت پندرہ منٹ کا یہ ...