بنیادی صفحہ / مضامین / پاکستان کے جید علماء سے اپیل۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

پاکستان کے جید علماء سے اپیل۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Print Friendly, PDF & Email

آج سے ایک مہینہ پہلے 13 جنوری کو دارالعلوم کراچی میں حضرت مولانا محمد تقی عثمانی اور حضرت مولانا محمد رفیع عثمانی کی دعوت پر علمائے کرام کی ایک مجلس نے نظام الدین دہلی، رائے ونڈ اور ٹونکی و کاکرائل کو ایک خط بھیج کر تبلیغی جماعت کے باہمی اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کی ہے اور توقع ہے کہ دیر سویر اس کے اثرات ظاہر ہوں گے اس طرح ہم 20 کروڑ ہندوستانی مسلمانوں کی خاطر پاکستان میں ہر مسلک کے علماء کو ساتھ لے کر اگر مصلحت کے خلاف نہ ہو تو ایک فتویٰ پاکستان میں ہر زبان میں ہر صوبہ کے لئے جاری کیا جائے جس میں ہر مسلمان کو قرآن و حدیث کے حوالہ سے یہ یقین دلایا جائے کہ جو کوئی مسلمان ملک کی سرحد پر پہرہ دینے والے ہندوستانی فوجی کو یا قافلہ میں گذر رہے غیرمسلم فوجیوں کو قتل کرتے ہوئے خود بھی ہلاک ہوجائے یا ہندو سپاہی کی گولی سے لڑتے ہوئے مارا جائے اس کا انجام صرف اور صرف دوزخ ہے۔
ہم ہندوستانی مسلمانوں تک پاکستان سے برابر یہ خبر پہونچتی رہتی ہے کہ اظہر مسعود، حافظ سعید اور ان کے ہی جیسے فرزندانِ شیطان جاہل بے روزگار نوجوان پاکستانی مسلمانوں کو بتاتے ہیں کہ کیوں زندگی برباد کررہے ہو سرحد پر جاؤ کسی کافر کو مارو اس سے جہاد کا ثواب ملے گا اور اگر ان کی گولی سے مرگئے تو شہید مانے جاؤگے اور جنت کے خوبصورت محل میں حوریں دروازہ کھولے تمہارا استقبال کرنے کیلئے کھڑی ملیں گی۔
ہمارے مخاطبوں میں جو کوئی بھی پاکستانی ہو اُسے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان کے لئے تقسیم سے پہلے ہر گلی میں جو جلوس نکلتے تھے ان میں صرف ایک ہی نعرہ تھا کہ پاکستان کے معنیٰ کیا لاالہ الا اللہ۔ اور یہ الگ بات ہے کہ مسٹر جناح اور ان کے قریبی ساتھیوں میں ایک بھی ایسا نہیں تھا جو اس نعرہ کی تفسیر ہوتا۔ وہ ہماری نوجوانی کا زمانہ تھا اور ہم جہاں رہتے تھے وہاں ایک ہمارے گھر کے علاوہ سب پاکستان کے عاشق تھے۔ لیکن یہ لکھتے ہوئے شرم آتی ہے کہ ان میں صرف بوڑھے یا غریب اور ان کے بچے تو مسجد میں آتے تھے ان کے علاوہ نوجوان برسرروزگار صرف جمعہ کی نماز پڑھتے تھے۔ لیکن نعرہ ہر وقت لگتا تھا۔
آج پاکستان میں جو وزیراعظم ہیں ان سے ہندوستانی مسلمانوں کو بہت اُمیدیں تھیں۔ انہوں نے اظہر مسعود اور سعید کے تمام اُمیدواروں کو بری طرح ہرایا۔ لیکن عمران خان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے ہندوستان کی سرحد پر ہر دن مرنے مارنے کی جو کہانی ان سے پہلے تھی وہی آج بھی جاری ہے۔ جبکہ انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں ہی کہا تھا کہ ہندوستان ایک قدم بڑھے گا تو ہم دو قدم بڑھیں گے۔ عمران خان کو معلوم ہے کہ ہندوستان میں الیکشن ہونے والے ہیں اور یہ پورا الیکشن ہندو مسلمان کے درمیان نہیں بلکہ متعصب ہندو اور فراخ دل ہندو کے درمیان ہے۔ ان حالات میں جو کچھ پلوامہ میں ہوا اور پچاس فوجی جو قافلہ کی شکل میں جارہے تھے اور سب جانتے ہیں کہ پاکستان پر حملہ کرنے نہیں جارہے تھے ان کو موت کی نیند سلا دیا۔ کیا اس کے بعد بھی عمران خان کو ایک قدم کا انتظار رہے گا؟
ہم نے پاکستان کے بزرگ علماء سے اپیل کی ہے مزید یہ عرض کرنا ہے کہ ان 50 میں بھی مسلمان سپاہی ہیں اور لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے جب ممبئی کے تاج ہوٹل اور اسٹیشن پر حملہ کیا تھا تو اس وقت بھی اسٹیشن پر 40 سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے تھے۔ خان صاحب اپنے دہشت گرد وں سے معلوم کریں کہ ان مسلمانوں کی شہادت کی سند کسے کسے ملے گی؟ اور جو قافلہ وہ فوج کا ہی سہی پرامن گذر رہا ہو اس پر حملہ کرنا کس اسلام نے بتایا ہے؟
ہندوستان کے مسلمان جس کشمکش سے گذر رہے ہیں اس کے ذمہ دار وہ خود نہیں ہیں۔ جناح صاحب نے ایک طرف تو یہ کہا تھا کہ ہم ایک الگ قوم ہیں ہماری اُمنگیں ہندو قوم سے بالکل الگ اور جداگانہ خصوصیات رکھتی ہیں۔ زندگی کے بارے میں ہمارا پورے کا پورا نقطۂ نظر الگ ہے اور ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ جب مسلمان اور ہندو آگ اور پانی ہے تو جناح صاحب نے مکمل تخلیۂ آبادی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا اور کٹے پھٹے دیمک لگے دو الگ الگ ٹکڑوں کو حاصل کرکے اس کا نام پاکستان رکھ دیا؟ وہ اگر تمام مسلمانوں سے ووٹ مانگ سکتے تھے تو آدھے مسلمانوں کو کچھ دینے کے بارے میں بھی معاہدہ کرسکتے تھے۔ جیسے ہندوستان کے مسلمان پر پاکستان جانے اور آنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی یا یہ کہ وہ اگر دس بیس تیس برس کے بعد بھی پاکستان جانے کا فیصلہ کرتا ہے تو پاکستان اس کا استقبال کرے گا اور ہندوستان اسے روکے گا نہیں۔
یہ صرف اس غلطی کی سزا ہے جو مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اور انہوں نے بھی دیا جن کو جانا نہیں تھا۔ یہی ووٹ ہے جو فرقہ پرست ہندو سے انہیں پاکستانی کہلا رہا ہے۔ ہر چند کہ پوری ایمانداری سے مسلمان پاکستان کی غلطی مانتے ہیں۔ کل کے حادثہ کے بعد ہر گھر میں جیسا کہرام مچا ہے ہر انسان کا کلیجہ منھ کو آتا ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں جو کچھ کررہی ہیں وہ ان کا فرض ہے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ جس گاؤں کا نوجوان قربان ہوا ہے اس گاؤں کے مسلمانوں کو بھی وہ سب کرنا چاہئے جو اُن کی حیثیت ہے اور جتنا دوسرے کریں۔
یہ بات سب کو معلوم ہوچکی ہے کہ جو گاڑی ٹکرانے کیلئے لائی گئی تھی اس میں جو بھی آتش گیر مادہ ہو لیکن یہ سب جان چکے ہیں اس گاڑی میں جتنے پاکستانی تھے ان کے جسم سے بم بندھے ہوئے تھے اور ان کے پھٹنے سے ہی سب اُڑگیا یہ بات پاکستان کے تمام علماء کو ہر ایک سے کہنا چاہئے کہ یہ خودکشی اور بے گناہوں کا قتل ہے جس کا انجام دوزخ ہے اور ان کو بھیجنے والوں کی سزا بھی دوزخ کا بدترین حصہ ہونا چاہئے۔ پاکستانی علماء پر ہم ہندوستانی مسلمانوں کا بھی حق ہے ان شیطان کے پجاریوں کو بدترین سزا ہی حق کی ادائیگی ہے۔
Mobile No. 9984247500

x

Check Also

ایک مکالمہ۔۔۔ موجودہ سائنس رحمت ہے یا زحمت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

ایک مکالمہ۔۔۔ موجودہ سائنس رحمت ہے یا زحمت پندرہ منٹ کا یہ ...