بنیادی صفحہ / مضامین / ان تہی دستوں کے ہاتھوں میں نہ چادر ہے نہ خاک۔۔۔۔ از: حفیظ نعمانی

ان تہی دستوں کے ہاتھوں میں نہ چادر ہے نہ خاک۔۔۔۔ از: حفیظ نعمانی

Print Friendly, PDF & Email

وزیراعظم کے لئے ہر گٹھ بندھن کی خبر ایسی ہوتی ہے جیسے ملک پر کسی نے حملہ کردیا ہو۔ وہ فوراً اقتدار کی لالچ کا الزام لگا دیتے ہیں اور محاذ بنانے کی کوشش کرنے والے لیڈروں کو کتابلی سانپ چھچھوندر نائی اور بندر غرض کہ جتنی گالیاں ہوسکتی ہیں دے ڈالتے ہیں۔ ان کے من کی بات یہ ہے کہ اپنے کو سیکولر کہنے والی ہر پارٹی الگ الیکشن لڑے اور مسلمانوں اور سیکولر ہندوؤں کے ووٹ تقسیم ہوجائیں اور ان کو اگر 25 فیصدی بھی ووٹ ملیں تب بھی حکومت ان کی بن جائے۔
کیا 2014 ء میں جو کچھ نریندر مودی نام کے لیڈر نے نعرے دیئے وعدے کئے یقین دلایا کانگریس پر الزام لگائے اور جھوٹے الزام لگائے تو کیا وہ اقتدار کی لالچ نہیں تھی؟ اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ 2019 ء کے الیکشن کی انتخابی مہم کی ابتدا کے لئے صوفی سنت کبیر کے مزار یا سمادھی کو منتخب کرنا صحیح تھا؟ تین باتیں ان سے متعلق ہیں ایک یہ کہ وہ ایک جولاہے کے گھر پیدا ہوئے تھے یا ایک برہمن عورت نے انہیں جنم دیا تھا اور یہ کہ جسے مزار یا سمادھی کہا جارہا ہے وہاں ان کا جسم دفن نہیں ہے بلکہ پھول ہیں اور مگہر میں تو ان کی موت ہوئی یا موت کے بعد لائے گئے ورنہ انہوں نے پوری زندگی بنارس میں گذاری۔ بہرحال وہ جو کچھ بھی تھے الیکشن کی ہری جھنڈی نہیں تھے۔
نریندر مودی جی نے 2014 ء میں جو کہا تھا کہ 80 لاکھ کروڑ روپئے کالا دھن کی شکل میں دنیا کے دوسرے ملکوں میں کانگریسیوں کا جمع ہے اسے میں سو دن میں منگوا لوں گا۔ اور عوام میں تقسیم کردوں گا۔ کیا یہ جھوٹ نہیں تھا؟ اور کیا انہوں نے اس زمانہ کے بابا رام دیو سے اپنی ہر بات کی تائید حکومت کی لالچ میں نہیں کرائی اور اپنے ہر جھوٹ کی بابا سے تائید کراکے ان کی برسوں کی تپسیا پر جھوٹ کی کالک نہیں پوتی؟ مودی جی نے جو کہا تھا کہ میرے وزیراعظم بنتے ہی مہنگائی ختم ہوجائے گی۔ اور ڈالر کے مقابلہ میں جو کانگریس نے روپیہ کو حقیر کیا ہے اسے ہم ڈالر کے برابر کردیں گے اور پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمت وہ ہوگی جو سعودی عرب میں ہے۔ یا یہ جو تعلیم یافتہ نوجوان بیکار گھوم رہے ہیں ان سب کو نوکری یا روزگار دیا جائے گا۔ یہ سارے جھوٹ کیا انہوں نے حکومت کی لالچ میں نہیں بولے اور کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ ان میں سے ایک کام بھی وہ نہیں کرسکتے؟
مودی جی نے چار سال حکومت کی وہ اپنے اور اپنے چاہنے والوں کے نزدیک پنڈت نہرو سے بھی مقبولیت میں آگے نکل گئے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ راجیو گاندھی اور نرسمہاراؤ سے بھی کم درجہ کے وزیراعظم ثابت ہوئے 2014 ء سے پہلے ملک میں جتنے کارخانے تھے اور جس حال میں تھے ان میں اضافہ تو کیا ہوتا کمی ہوگئی ان کی حلف برداری سے پہلے ملک میں جتنے بے روزگار تھے اب دوگنے ہوگئے اس لئے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے ہر کاروباری کی کمر جھک گئی۔ وزیراعظم اور وزیر مالیات جتنا چاہیں جشن منائیں کہ جی ایس ٹی کو ایک سال ہوگیا دُکانداروں کو اگر اس سے فائدہ ہوا ہوتا تو وہ اپنی دُکانوں اور کارخانوں میں روشنی کرتے اور گانے بجاتے۔
وزیراعظم کی تنگ دستی کا یہ حال ہے کہ وہ 43 سال پرانی ایمرجنسی کا یوم غم منا رہے ہیں۔ جبکہ اگر ایمرجنسی کا غم منانے کا کسی کو حق ہے تو زیادہ حقدار مسلمان ہیں۔ اس ایمرجنسی میں اہم معرکہ نس بندی کا تھا اندرا گاندھی نے پوری طاقت لگادی کہ مسلمان عالم نس بندی کو جائز قرار دے دیں لیکن کسی بڑے عالم نے اسے جائز قرار نہیں دیا اور اندرا گاندھی کو منھ کی کھانا پڑی انہوں نے ہر قسم کا لالچ دیا ہر طرح کی دھمکی دی۔ اور یہ اسی کا غصہ تھا کہ ترکمان گیٹ پر تباہی مچائی گولی چلائی مسلمان قربان ہوئے لیکن ہار نہیں مانی۔ مودی جی کیا یوم غم منائیں گے وہ بتائیں تو کہ کتنے ہندو مرے؟ جتنے لیڈر جیل میں تھے سب عیش کررہے تھے۔ اس کے برعکس جماعت اسلامی کے امیر مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی اور اترپردیش کے امیر مولانا عبدالغفار ندوی نینی جیل الہ آباد میں تھے اور دونوں کو عام قیدیوں کے ساتھ رکھا۔ مسئلہ وہی تھا کہ نس بندی کو جائز نہیں کہا تھا۔ اور وہ ایمرجنسی خود اندرا گاندھی نے ختم کی جو لاکھوں بند تھے انہوں نے نہ جیلیں توڑیں نہ مرن برت رکھے۔ جب اندرا گاندھی نے ختم کی تو باہر آگئے اور جے پرکاش نرائن کی قیادت میں جنتا پارٹی بنالی جس کے صدر چندر شیکھر تھے اور جب حکومت بنی تو اٹل جی وزیرخارجہ اور اڈوانی جی وزیر اطلاعات بنے اور جب راج نرائن نے دوہری ممبر شپ کا مسئلہ اٹھایا تو سب سے پہلے جن سنگھ ہی استعفیٰ دے کر باہر آئی اور اپنا نام بھارتیہ جنتا پارٹی رکھ لیا تاکہ جنتا پارٹی کا فائدہ مل سکے۔ اور صرف ڈھائی سال حکومت چلی اور پھر شان سے اندراجی واپس آگئیں۔ اس میں وہ کیا ہے جس کا یوم غم منایا جارہا ہے؟
اندرا گاندھی نے لگ بھگ پندرہ برس حکومت کی اس میں صرف دو سال کی ایمرجنسی ہی نہیں ہے وہ بھی ہے کہ انہوں نے پاکستان کو آدھا کردیا اور ہندوستان کو مشرق کی طرف سے ہر خطرہ سے بچالیا ان کا یہ کارنامہ ہی تھا جس کیلئے مودی جی کے ہی نہیں پورے ملک کے بڑوں نے انہیں درگا ماں کا خطاب دیا تھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اگر اندرا گاندھی ایک کروڑ بنگالی ہندوؤں کو ہندوستان نہ بلاتیں تو شیخ مجیب الرحمن اپنے سر سے زمین کھود ڈالتے پاکستان سے الگ نہیں ہوسکتے تھے یہ صرف اندرا گاندھی کا دماغ تھا جس نے بنگلہ دیش بنوا دیا۔
ملک کے نامور صحافی آنجہانی خشونت سنگھ اپنی کتاب میں لکھ گئے ہیں کہ جو ایک کروڑ بنگالی کلکتہ اور مغربی بنگال میں آئے تھے ان میں سے سیکڑوں سے انہوں نے انٹرویو لیا کہ تم کیوں آگئے؟ ان میں سے کسی نے نہیں کہا کہ ہمیں مارا یو لوٹا یا پاکستانی فوج نے ہماری بہنوں یا بیٹیوں کو اٹھا لیا بلکہ سب کا ایک جواب تھا کہ ہم ڈر کی وجہ سے آگئے۔ اور یہ ڈر ہندوستان نے بھیجا تھا۔ یہ بھی اندرا گاندھی کی سیاست تھی کہ پوری دنیا کو اپنا ہمنوا بنایا اور مشرقی پاکستان پر حملہ کردیا اور جنرل نیازی نے جنرل جگ جیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ اس کارنامہ کے مقابلہ میں ایمرجنسی کیا ہے صرف 21 مہینے کی جیل میں عیاشی؟ بینکوں کو نیشنلائز کرنا راجاؤں اور نوابوں کو پریوی برس اور اختیارات ختم کرنا بھی اندرا گادھی کا کارنامہ ہے۔
مودی جی اب الیکشن کے کارزار میں جارہے ہیں اس کیلئے کارناموں کا ذخیرہ چاہئے اور مودی جی کی جھولی خالی ہے۔ یہ وقت یہ کہنے کا ہے کہ ہم نے چار سال میں یہ کیا یہ کیا اور یہ یہ یہ کیا۔ افسوس کہ مودی جی کے پاس ایک چیز بھی نہیں ہے روپیہ ڈالر کے مقابلہ میں اتنا گرگیا کہ شرم آتی ہے ڈیزل، پیٹرول، گیس اور ہر چیز کی قیمت آسمان چھو رہی ہے۔ ملک کا نوجوان پکوڑے اور پان بیچ رہا ہے یہ بے روزگار ہی ہے جو بات بات پر بھیڑ بن جاتا ہے اور انسان کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالتا ہے وزیراعظم جانتے ہیں کہ یہ غصہ ان کے خلاف ہے اس لئے انہوں نے منھ بند کررکھا ہے۔ ۔ اور وہ صرف کانگریس کی تاریخ پڑھا رہے ہیں جس سے عام آدمی کو کوئی دلچسپی نہیں۔ اور قابل رحم وہ ہیں جو انتظار کررہے ہیں کہ مودی جی کوئی ایسا چمتکار کریں جو اُن کو ووٹ مل جائیں ؂
بیبیو تم نے کس اُمید پہ سر کھولا ہے

Mobile No. 9984247500 

x

Check Also

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ قاموس الفصاحت اور ماہر القادری۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

حضرتِ ماہرالقادری (مرحوم) بجائے خود ایک لغت تھے، لیکن اردو کی کوئی ...