بنیادی صفحہ / مضامین / جو جان بوجھ کر کرے اُسے کیا سمجھانا۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

جو جان بوجھ کر کرے اُسے کیا سمجھانا۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Print Friendly, PDF & Email

یہ آج کی بات نہیں، کئی دن پرانی ہے کہ مسٹر اسد الدین اویسی نے ہاپوڑ کے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں بیٹر کے مسلمانوں سے یہ نہیں کہتا کہ وہ یہاں بیٹھ کر آنسو بہائیں بلکہ میں ان کا ضمیر جھنجھوڑنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اس تقریر میں سیکولرازم کا نام لینے والوں کو منافق بتاتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ مسلمانوں پر مظالم کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ جو سیکولرازم کا دعویٰ کرتے ہیں۔
تقریر کا کافی حصہ نقل کرکے انقلاب کے فاضل ایڈیٹر شکیل شمسی نے۔ ’’نہیں اویسی صاحب نہیں‘‘ کے عنوان سے بہت ہی درد بھرے انداز میں انہیں سیکولرازم پر حملہ کرنے سے روکا۔ شمسی صاحب نے ان کی اہلیت، قابلیت، صلاحیت اور خوش پوشاکی کا بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جس دن اویسی صاحب مسلمانوں کو اٹھ کھڑے ہونے کے لئے کہہ رہے تھے اسی دن اجودھیا میں بی جے پی کے ایک اہم لیڈر رام ولاس ودیانتی ملک آئین اور عدلیہ کو طاق پر رکھتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر 2019 ء سے پہلے شروع کرکے اپنی پارٹی کے لئے ہندو ووٹ بینک کو کیش کررہے تھے۔
اس ملک کے لئے جتنا کمیونل ہندو خطرناک ہے اتنا ہی مسلمانوں کے لئے فرقہ پرست مسلمان خطرناک ہے۔ ہم نے اپنی زندگی میں کبھی سیکولر ہندو کا قصیدہ نہیں پڑھا۔ ہمارا کالم پڑھنے والوں کو یاد ہوگا کہ ہم نے پنڈت جواہر لعل نہرو کا بھی قصیدہ نہیں پڑھا ان کی کسی اچھی بات کی تعریف کردی ہوگی۔ اویسی صاحب نے وہ نہیں دیکھا جو ہم نے دیکھا ہے اور ہمیں یہ تسلیم کرنے میں تکلف نہیں کہ حیدر آباد میں انہوں نے جو دیکھا یا سنا ہوگا وہ ہم نے نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود یہ کہنا ضروری ہے اگر الیکشن 1937 ء والے ہوں کہ جس میں ہندو ہندو کو ووٹ دے اور مسلمان مسلمان کو تو جتنے بھی اویسی فرقہ بندی کریں ان سے نقصان تو ہوگا لیکن وجود کو خطرہ نہیں ہوگا۔ اور الیکشن کی موجودہ شکل میں کہ ہندو اور مسلمان دونوں کے ووٹ ایک ساتھ گنے جائیں گے تو ایسے میں مسلمانوں سے یہ کہنا کہ تم صرف مسلمان کو ووٹ دو اس کو خودکشی پر اُکسانا ہے۔
ہم اویسی صاحب سے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں ہر جگہ الیکشن میں ٹانگ اَڑاکر کیا ملا؟ انہوں نے مہاراشٹر میں سماج وادی پارٹی کے اُمیدواروں کو ہرواکر دو سیٹیں جیت لیں لیکن بی جے پی کو 10 سیٹیں زیادہ دلادیں۔ وہ عوام کو بتائیں کہ ان دو ممبروں سے مسلمانوں کو کیا ملا؟ ان کے بارے میں ہم نے سنا ہے کہ ان کا ایک میڈیکل کالج ہے ایک بہت بڑا اسپتال ہے۔ وہ خود وکیل ہیں وہ ان تینوں چیزوں سے ہزاروں مسلمانوں کو فائدہ پہونچا سکتے ہیں۔ ہم اگر دشمنوں کی بات پر اعتبار نہ کریں اور تسلیم کرلیں کہ وہ جس صوبہ میں جتنے اُمیدوار بھی کھڑے کرتے ہیں اور ہیلی کاپٹر سے یا ہوائی جہاز سے سفر کرکے جتنا روپیہ خرچ کرتے ہیں اور اُمیدواروں کی بھی مدد کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ ایک ممبر کی شکل میں بھی نہیں آتا تو کیا یہ ایک مسلمان کے لئے جائز ہے؟ 2015 ء میں انہوں نے بہار میں 25 مسلمانوں کو لڑانا چاہا ہم ٹوٹے پھوٹے قلم ہاتھ میں لئے لکھنؤ میں بیٹھے رہے اور یہاں سے لکھتے رہے جسے ہر اخبار نے چھاپا مسجدوں میں پڑھ کر سنایا مسلمانوں نے فوٹو کاپی کراکے تقسیم کیا اور اویسی صاحب پانچ اُمیدواروں کی ضمانت بھی نہ بچا سکے۔
انہوں نے اورنگ آباد کے کارپوریشن میں اپنی جذباتی تقریروں سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ اس کا فائدہ انہیں کیا ہوا؟ اویسی صاحب نے 2017 ء میں اترپردیش میں دل کھول کر الیکشن لڑا جس قدر ممکن ہوسکتے تھے انہوں نے مسلمان ووٹ مسلمان کو دلوائے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی کو 325 حلقوں میں کامیابی ملی۔
اویسی صاحب وہی کررہے ہیں جو مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن مسٹر جناح اور اسی ذہنیت کے لیاقت علی خاں، خلیق الزماں، عبدالرب نشتر، خواجہ ناظم الدین، حسن شہید سہروردی اور راجہ محمود آباد جیسے تمام انگریزوں کے پٹھوؤں نے کیا اور جس کے نتیجہ میں آج میرٹھ کے ایک گاؤں کے مسلمانوں کو اپنے گھروں پر یہ لکھ کر لگانا پڑرہا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اس لئے ہم اپنا گھر بیچ کر کسی دوسری جگہ ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔ فرقہ پرستوں نے ہمارا جینا حرام کردیا ہے۔
ہر پڑھا لکھا مسلمان جانتا ہے کہ امت شاہ کی وزیراعظم اس لئے تعریف کرتے ہیں کہ وہ ہزاروں کروڑ روپئے لے کر ہر اویسی جیسے آدمی کے پاس جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ جس سیٹ پر مسلمان معقول تعداد میں ہوں وہاں اپنا اُمیدوار کھڑا کردو اور ایک کروڑ روپیہ اس کے خرچ کیلئے لے لو۔ ہم سے یہ بات ایک ذمہ دار آدمی نے بتائی کہ امت شاہ جیل میں مختار انصاری سے ملنے گئے تھے اور ان سے کہا تھا کہ سو کروڑ روپئے لے لو اور اپنی پارٹی سے سو مسلمان لڑادو سیٹیں ہم بتا دیں گے۔ مختار انصاری کو جیل سے رہائی بھی مل جاتی لیکن انہوں نے انکار کردیا۔
ہمارے ہی نہیں ملک بلکہ پوری دنیا کے سامنے کیرانہ اور نور پور کا الیکشن ہے دونوں پر مسلمان اُمیدوار تھے اور وہ دونوں علاقے وہ ہیں جہاں جاٹ ہی جاٹ ہیں۔ رمضان کا مہینہ، آگ برساتی دھوپ اور روزہ دار مرد اور برقع پوش عورتیں۔ اگر اکھلیش اور اجیت سنگھ سیکولر نہ ہوتے تو ہر گاؤں میں یہ اعلان کون کرتا کہ کوئی جاٹ صبح سے دوپہر تک ووٹ نہیں دے گا صبح سے دوپہر تک مسلمان بھائی اور بہنیں ووٹ دیں گی بعد میں جاٹ آئیں گے۔ اور یہ منظر بھی نظر نہ آتا کہ جاٹوں کی لائن لگی ہے برابر میں عورتوں کی ہے جن میں 75 فیصدی مسلمان ہیں ہندو اپنی لائن توڑ دیتے ہیں اور مسلمان بہنوں کو آواز دیتے ہیں کہ ہماری لائن میں آجاؤ۔ اویسی صاحب یہ ہے سیکولرازم اور یہ جب تھا جب دونوں امیدوار مسلمان تھے۔
اویسی صاحب تو بہت تعلیم یافتہ ہیں ہمارے جیسا معمولی پڑھا لکھا بھی جانتا ہے کہ جو کوئی ہندوستان میں مسلمان سے یہ کہے کہ صرف مسلمان کو ووٹ دو اور سیکولر پارٹی کے ہندو کو نہ دو وہ امت شاہ سے پیسے لے کر بول رہا ہے۔ اسد الدین اویسی کے مقابلہ میں ان کے والد ماجد پورے ملک کے مسلمانوں میں محترم لیڈر جانے جاتے تھے۔ حالانکہ وہ بھی۔۔۔ لیکن اسد الدین صاحب نے حد کردی کہ وہ پارلیمنٹ سے لے کر میونسپل بورڈ کے الیکشن بھی ایسے لڑرہے ہیں جیسے پروردگار نے انہیں حکم دیا ہے۔ ان سے بس ایک بات اور کہنا ہے کہ ذرا ڈاکٹر ایوب کا حشر دیکھ لیں وہ اگر امت شاہ کی ڈگڈگی پر ناچتے رہے اور انقلاب کے پہلے صفحہ پر ہر دن ان کا اشتہار چھپتا رہا تو آج وہ گورکھ پور کے نشاد کی غلامی کررہے ہیں۔ اور ہر مسلمان کو معلوم ہوگیا ہے کہ یہ امت شاہ کے سابق دلال ہیں۔

x

Check Also

آب بیتی الحاج محی الدین منیری ۔19-حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری کی خدمت میں ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری

M:00971555636151             اس کے واقعہ کے کچھ عرصہ بعد حضرت شیخ الحدیث ...