بنیادی صفحہ / مضامین / مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینا — بھارت کی بڑی سفارتی فتح۔۔۔از:ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینا — بھارت کی بڑی سفارتی فتح۔۔۔از:ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

Print Friendly, PDF & Email

اقوامِ متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ سید اکبرالدین نے اطلاع دی ہے کہ یو.این. سیکورٹی کاؤنسل نے اپنی مئی 2019کی میٹنگ میں قرارداد نمبر 1267کے ذریعہ پاکستانی شہری مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد مان لیا ہے۔ یہ ہندوستان کی بڑی سفارتی فتح مانی جارہی ہے۔ بھارت 2009سے مسعود اظہر کو دہشت گرد ڈکلیئر کرانے کی کوشش کررہا تھا۔ مگر چین ہمیشہ اس طرح کے قرار داد پر ویٹو لگا کر اس کو رکوادیتا تھا۔ مگر اس بار بھارت نے اپنی سفارتی دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چین پر عالمی دباؤ بنایا جس کے نتیجے میں چین اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر راضی ہوگیا۔ اس بار چونکہ چین نے مزاحمت نہیں کی اس لیے فرانس، امریکہ اور برٹین کے ذریعہ پیش کردہ قرار داد منظور ہوگیا۔ بلاشبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس کا فوری اثر یہ ہوگا کہ مسعود اظہر کے تمام اثاثے منجمد کردیے جائیں گے۔ اس کے نقل و حمل پر پابندی لگ جائے گی اور اس کو ہتھیار کی فراہمی پر روک لگ جائے گی۔ اگر ان روکاوٹوں کا صحیح ڈھنگ سے نفاذ ہو تو یقینا اس کی دہشت گردانہ سرگرمیاں رک جائیں گی۔

اس وقت دہشت گردی ایک بڑا عالمی انسانی مسئلہ بن گیا ہے جس پر مؤثر ڈھنگ سے روک لگانے کی ضرورت ہے۔ ہر طرح کے عالمی معاہدات اور کوششوں کے باوجود دہشت گردی پر مؤثر روک نہیں لگ رہی ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ دہشت گردوں کو اچھا اور برا دہشت گرد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جو دہشت گرد ان کی فکر اور سیاست کے مطابق کام کرتا ہے اس کی ہر طرح سے ہمت افزائی کی جاتی ہے اور جو اس کے خلاف کام کرتا ہے اس کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس دوہرے معیار کی وجہ سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دہشت گرد، دہشت گرد ہے، یہ انسانیت کے خلاف کام کرنے والا مجرم ہے۔ اس کو اسی نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے اور اس کا قلع قمع کرناچاہیے۔ جب تک آپ اس معاملہ میں معروضی انداز نظر اختیار نہیں کریں گے اس فتنہ کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ابھی حال میں دنیا نے دیکھا نیوزی لینڈ جیسے پرامن ملک میں ایک دہشت گرد نے عین جمعہ کی نماز کے وقت پچاس سے زائد مردوں، عورتوں، بچوں کی جان لے لی۔ اس کے کچھ ہی دن پہلے پلوامہ میں ایک خود کش حملہ میں پچاس جوان مارے گئے۔ اور عین ایسٹر کے دن ایک دوسرے پرامن ملک سری لنکا میں جنونی دہشت گردوں کے ایک گروہ نے آٹھ مقامات جس میں چرچ اور ہوٹل شامل تھے پر حملہ کرکے لگ بھگ 250لوگوں کی جان لے لی۔ یکم مئی کو مہاراشٹر میں گڈچرولی کے مقام پر نکسلیوں نے 16جوانوں کی جان لے لی۔ ان واقعات کے تواتر سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی واقعی ایک بڑا عالمی مسئلہ بن گیا ہے جس پر روک لگانا ضروری ہے۔

دہشت گردی پر سیلکٹِو اپروچ غلط ہے۔ دہشت گرد عناصر ہر ملک، ہر قوم، ہر مذہب اور ہر رنگ میں موجود ہیں۔ جب تک ہم ان کو اپنے سے الگ کرکے نہیں دیکھیں گے اور الگ مان کر ان کا استیصال نہیں کریں گے اس مسئلہ پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔

اس سلسلے میں سب سے پہلی ذمہ داری اس قوم اور اس ملک کی ہے جہاں ایسے عناصر سرگرم ہیں، ان کی صحیح ڈھنگ سے پہچان کرنا اور ان کو قرار واقعی سزا دینا ضروری ہے۔ لیکن اس میں یہ احتیاط لازمی ہے کہ بے قصور لوگ محض شک کی بنیاد پر نہ پکڑے جائیں اور غلط ماحول اور غلط پروپیگنڈہ کرنے سے بچا جائے ورنہ اس مسئلہ پر قابو پانا مشکل ہوگا۔

مسعود اظہر جیسے لوگ مذہب کی آڑ میں جو دہشت گردانہ کھیل کھیل رہے ہیں اس کا سب سے زیادہ نقصان اسلام اور مسلمانوں کو ہورہا ہے۔ دہشت گرد زیادہ تر مسلمانوں کو ہی نشانہ بناتے ہیں اور اب تک ہزاروں مسلمان دہشت گردانہ حملے میں مارے جاچکے ہیں۔ دہشت گردی کی وجہ سے ساری دنیا میں مسلمان شک کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں اور اسلام کی بدنامی ہوتی ہے کیونکہ لوگ سمجھنے اور ماننے لگے ہیں کہ یہ قتل و غارت گری اسلامی تعلیم کا نتیجہ ہے جبکہ اس سے زیادہ جھوٹی اور غلط بات آج تک سورج کی روشنی میں نہیں بولی گئی ہے۔ جو دین امن و رحمت کا دین ہے وہ دہشت گردی کا حامی کیوں کر ہوسکتا ہے؟ اس لیے اگر کوئی مسلمان دہشت گرد ہے وہ اسلام اور مسلمان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور پوری مسلم سوسائٹی کو اس سے برأت کا اعلان کرنا چاہیے۔

ہم حکومت ہند کو اس کی اس سفارتی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدام کرے گی۔ ہندوستانی مسلمان اس جنگ میں پورے ایمانی شعور کے ساتھ اس کے ساتھ ہیں۔

x

Check Also

بھٹکل کے پہلے حافظ قرآن۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری

TEL: +971555636151     مورخہ ۷ فروری   ۲۰۱۱ء کے سورج کے غروب ...