بنیادی صفحہ / مضامین / بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگ۔۔جاری ہے اندرونی جنگ!….. از: ڈاکٹر حنیف شباب (دوسری اور آخری قسط )

بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگ۔۔جاری ہے اندرونی جنگ!….. از: ڈاکٹر حنیف شباب (دوسری اور آخری قسط )

Print Friendly, PDF & Email

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے……….. 

بات چل رہی تھی بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگوں کی۔جس میں خاص اور نمایاں پہلومسلم امیدوار میدان میں اتارنے کے حق میں اور موجودہ ایم ایل اے کی مخالفت میں بنایا جارہا ماحول ہے۔ سیاسی طور پر مسلم نمائندگی کو ابھارنے یا تقویت دینے کی ضرورت پر کوئی دو رائے ہوہی نہیں سکتی۔ مگر حقائق اور اعداد وشمار کی روشنی میں جو سوال کھڑے کیے جارہے ہیں اس پر کوئی بھی معقول جواب کسی کی بھی طرف سے سامنے نہیں آرہا ہے۔ یا تو کچی عمر میں اپنے آپ کو پکے سیاسی ماہر سمجھنے کی نادانی کرنے والے چند ایک ابھرتے قائدین ہیں جو حقیقت کی بجائے قیاس اور سنہرے خواب پر بھروسہ کررہے ہیں۔یا پھر بعض ایک بزعم خودپختہ کار "سیاسی مبصر” اورمنجھے ہوئے”قلمکار”ہیں، جو اپنوں کی حمایت میں غلواورتغافل(بلکہ تجاہل) سے کام لے رہے ہیں اور اسے دانشوری کا نام دے رہے ہیں۔ مگر سب سے اہم گروپ وہ ہے جو مسلم امیدواری کی راہ ہموار کرنے کے لئے موجودہ ایم ایل اے کے خلاف منفی پروپگنڈہ کو ہی سب سے بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔

ایم ایل اے کے خلاف پروپگنڈہ کی حقیقت : گزشتہ چند مہینوں سے موجودہ ایم ایل اے کے خلاف زوردارمنفی پروپگنڈہ شروع کیاگیا ہے اور اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ وہ تنظیم اور مسلمانوں کے اتحاد کو انتشار میں بدلنے کی کوشش کررہا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں میں ہونے والے بعض واقعات اور سیاسی اقدامات کے پس منظرمیں جائزہ لیں تویقیناًاس الزام میں کچھ وزن ضرور نظر آتا ہے۔ مگر جیسا کہ میں نے اپنے پچھلے مضامین میں اس طرف اشارہ کیا تھا کہ اس کے لئے کیا تنہا ایم ایل اے ہی ذمہ دار ہے، یا پھر ایم ایل اے کے ساتھ ہمار ے مرکزی ادرے کے ذمہ داران کےrapport کی کمی اور ہمارے اپروچ نے بھی اس میں کوئی کردار ادا کیا ہے ؟ اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے ، جوکہ صحیح معنوں میں نہیں ہورہا ہے۔ایک بات تو طے ہے کہ مرکزی ادارے کے کلیدی عہدوں پر فائز ذمہ داران کی اپنی سیاسی صف بندی alignmentاور سیاسی عزائم ambitionsجدا جدا ہونے کی وجہ سے یہاں موجودہ ایم ایل اے کے ساتھ مفادات کا تضادconflict of interest ہونابالکل ایک فطری عمل ہے۔اور اس کو چاہے کتنا ہی چھپانے کی کوشش کی جائے مگر دیکھنے والی آنکھوں اور جاگتے ہوئے ذہنوں پر یہ پہلو بالکل عیاں ہے۔

وہ یہ چاہتے ہیں کوئی کچھ نہ سمجھے
سمجھ میں سبھی کی مگر آ رہا ہے

ایم ایل اے تو یہ کام کرے گا ہی: جب مفادات کے تضادات روز روشن کی طرح موجود ہوں تو پھر ایم ایل اے کا ردعمل (چاہے اس مقام پر کوئی بھی ہو) یہی ہوگا۔ وہ اپنے سیاسی کیریئرکی قبر پر کسی اور کوتاج محل تعمیر کرنے کی اجازت تو نہیں دے گا۔( اور اگر کوئی اس قسم کی امید رکھتا ہے تو پھر اس کی بے وقوفی پر سر پیٹنے کے سوا کیا کیاجاسکتا ہے؟)ہمیں یہ حقائق نہیں بھولنا چاہیے کہ موجودہ ایم ایل اے نے گزشتہ الیکشن سے بہت پہلے ایک عرصے تک فیلڈ ورک کیا تھا اور وہ عوامی زندگی میں کسی نہ کسی حوالے سے اپنی موجودگی ثابت کرچکا تھا۔سابقہ الیکشن کے موسم میں ایک مرحلے پرجنتا دل سے اس کی امیدواری کے امکانات بھی معتبر ذرائع سے سامنے آرہے تھے۔ مگر ہم نے مسلم نمائندگی کا اپنا کارڈ کھیلاتو ایک طرف کانگریس سے پنگا لیا تو دوسری طرف منکال کے لئے جنتا دل کے راستے بند کردئے۔ اس کے بعد بھی اس نے آزاد امیدوار کے طور پر سیاسی شطرنج کی چالیں جو چلیں تو سب کو دھول چٹاکر ہی دم لیا۔اور تازہ الیکشن کے اکھاڑے میں اترنے کے لئے وہ اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی ہر جائز اور ناجائز حرکت کرے گاہی۔ آج کے دور میں اسی کا نام تو سیاست ہے!

سامنے حریف ہوتو پھر سیاسی چالیں ہونگی ہی: جب جنتا دل سے ہم نے اپنا امیدوار میدان میں اتارا تھاتو وہ اس کا حریف ہی ٹھہرا۔اور وہی حریف جب متحدہ سیاسی موقف اختیار کرنے والے مرکزی ادارے کے دائرے میں خودایک مرکزی کردار ہواور وہ اپنی پارٹی کے تئیں فطری وفاداری دکھارہا ہو، جبکہ اسی مرکزی ادارے کادوسرا کلیدی عہدیدار اسی سیاسی پارٹی کے ساتھ نہ صرف وابستہ ہوجس سے کہ ایم ایل اے کو ٹکٹ ملنے والی ہو، بلکہ اپنے ذاتی سیاسی عزائم رکھتا ہواور الیکشن میں ایم ایل اے کا پتہ کٹواکر خود اپنے لئے ٹکٹ حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا ہوتو، کوئی بھی ہوشمند انسان ایم ایل اے سے کس بنیاد پر ہمارے ساتھ یا ہمارے ادارے کے ساتھ مخلصانہ لگاؤ اور وفاداری کی توقع کرسکتا ہے؟جبکہ اس نے سابقہ الیکشن ہماری حمایت کے بغیر ہی جیتا ہو!

تمام گاؤں ترے بھولپن پہ ہنستا ہے
دھوئیں کے ابر سے برسات مانگنے والے

صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ ایک شخص کو ہم سیاسی منظرنامے سے ہٹانے کی مہم بھی چلارہے ہیں اور یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ وہ اپنی دفاعی چالیں بھی نہیں چلے گا، ہمیں نقصان بھی نہیں پہنچائے گا ، بلکہ ہماری خیرخواہی اور جی حضوری کرے گا! گستاخی معاف،یہ تو تجاہل عارفانہ کی حد دہوگئی !
ہماری سیاسی قیادت کاالمیہ: اگرہمارے سیاسی امیدواروں اور ان کے حمایتیوں کی جانب سے پھیلائی جارہی اس بات کو مان بھی لیتے ہیں کہ فی الواقع مذکورہ بالا حقائق کی وجہ سے نہیں بلکہ موجودہ ایم ایل اے اپنی بدنیتی اور سنگھی ذہنیت کی وجہ سے ہمارے ادارے اور اتحاد کو تباہ و برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔ جیسا کہ قوم کے ایک بیدر مغزقائداور سیاسی میدان کے ہتھکنڈوں سے واقف ایک سابق ذمہ دار نے مجھ سے کہا:” اس سے پہلے کسی دوسرے ایم ایل اے نے تنظیم اور اس کی اجتماعی قیادت کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا تھاجتنا کہ موجودہ ایم ایل اے نے پہنچایا ہے”، تو مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہمارے اربابِ حل وعقد جان بوجھ کر حقائق پر پردہ ڈال رہے ہیں، یا ماضی کے حالات اور واقعات ان کے ذہنوں سے پوری طرح مٹ گئے ہیں۔زندہ قومیں تو وہ ہوتی ہیں جو ماضی کے اسباق کی روشنی میں مستقبل کے سفر کا تعین کرتی ہیں اور اپنا لائحۂ عمل اسی مناسبت سے تیار کرتی ہیں۔

ہم نے توخود ہی بازی ہاری تھی!: کیونکہ جب میں مذکورہ بالا بیدار مغز قائد کے قول اور ماحول میں پھیلے ہوئے انکشافات پر غور کرتا ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ جب غیر مسلموں کے تعاون سے جس زمانے میں الیکشن جیتنے کے امکانات تھے اور ہمارے اپنے سیاسی قائد کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ ہوا تھااس کے بعدپورے اسمبلی حلقے میں پیغام پہنچانے کے لئے شہر کے معززین کا باقاعدہ وفد سفر پر نکل چکا تھا، تب اچانک(غالباً نامزدگی فارم بھرنے سے ذرا دیر قبل) مرکزی ادارے کی سیاسی حکمت عملی کے ارباب اقتدارنے خود ہی اپنا فیصلہ بدلاتھااور ہوناورسے قریب کے ایک غیر مسلم (شمبھو گوڈا) کو اپنانمائندہ منتخب کرتے ہوئے خود ہی بازی ہارنے کا جو فیصلہ کیا تھا، اس وقت تو منکال وئیدیا یاکوئی اور ایم ایل اے منظر یا پس منظر میں نہیں تھا۔ ایک او رموقع پرتنظیم کی طرف سے اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں کانگریسی امیدوارکے حق میں اجتماعی فیصلہ صادر ہونے کے بعدتنظیم سے وابستہ مگرمبینہ طور پردوسری سیکیولر پارٹی کے حامیوں نے آدھی رات کے وقت پورے اسمبلی حلقے میں بابری مسجدکی تصاویر کے ساتھ کانگریس کو مجرم قرار دیتے ہوئے( تنظیم کے فیصلے)کانگریس کے خلاف اپیل والے پمفلیٹس جو تقسیم کیے تھے اور تنظیم کے اتحادپر شب خون مارنے اور اسے سبوتاژ کرنے کی خفیہ مہم چلائی تھی ، اس وقت بھی منکال وئیدیا یا کوئی سنگھی اور زعفرانی لیڈر اس میں ملوث نہیں تھا۔

شجر کے قتل میں اس کا بھی ہاتھ ہے شاید
بتا رہا ہے یہ بادِ صبا کا چپ رہنا

ماضی میں یہ سب ہوچکا ہے: اس کے علاوہ ہماری اپنی کمیونٹی سے اسمبلی الیکشن میں باغی امیدوار وں کا میدان میں اترنا، بلدیہ، پنچایت وغیرہ کے انتخابات میں باغی امیدوار بننا ، بی جے پی کا ساتھ دینا، تنظیم کے فیصلے کے خلاف خفیہ کینویسنگ کرنا، اسمبلی یاپارلیمانی حلقے میں تنظیم کے تحت لیے گئے اجتماعی فیصلے کے خلاف بھٹکل کے حدودد سے باہر جاکر ہمارے اپنوں کی طرف سے اپنی پارٹی کے امیدواروں کے لئے مہم چلانا، اور بعض ایسے معاملات میں تنظیم کی طرف سے ضابطے کارروائیاں انجام دینا، پابندیاں لگانا، بی جے پی اور خاص کر اننت کمار ہیگڈے کے کٹر مخالف اور ہمارے اپنے لوگوں سے قربت اور اپنا ایک مضبوط ووٹ بینک رکھنے والے سابق وزیر آر این نائک کا پتہ کاٹنے کا سہرا بعض بااثر شخصیات کی طرف سے مبینہ طور پر اپنے سر لینااور آر این نائک کو ہم سے بدظن ہونے کے مواقع فراہم کرنا(جوبعد میں بی جے پی میں شامل ہوگیا اوراب حال ہی میں اس نے ایم پی اننت کمار کے خلاف محاذ کھولا ہے) یہ سب کچھ ماضی میں ہوچکا ہے۔ اور ان سب واقعات میں کہیں بھی موجودہ ایم ایل اے یا کسی اورغیر مسلم کانگریسی ،سنگھی اور زعفرانی کردار کہیں سے بھی ابھر کر سامنے نہیں آتا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف مخالفانہ ہَوا بنائے رکھنے کے لئے تمام الزامات موجودہ ایم ایل اے کے سر مونڈھ دینے اور منفی پروپگنڈہ کی سیاسی ضرورت پوری کرنے میں سارازور صَرف کرنانہ عقلمندی ہوگی اور نہ ہی ہمارے امیدوار کے جیتنے کی ضمانت ہوگی۔اور افسوس کی بات یہ ہے کہ تاحال اس سے ہٹ کر کوئی ایسا پہلو سامنے نہیں آیا ہے جسے انتخابی حکمت عملی کہا جاسکے۔

بابری مسجد کا غم اور ملّی غیرت: ہمارے ایک سیاسی قائد کی یہ بات دل کو چھو گئی کہ انہیں کانگریس سے اس لئے بغض ہے یا وہ اس پارٹی سے اس لئے دور رہے ہیں کہ بابری مسجد کی شہادت کا جرم اس پارٹی کے کھاتے میں بھی جاتا ہے، ورنہ وہ بھی اپنا سیاسی کیریئر بنانے کے لئے شاید کانگریس کا ہاتھ تھامنے کے بارے میں سوچتے ۔ بس یہ ملّی غیرت ہے جو ان کی اس راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ اس قدر دینی حمیت بھری سوچ اور اتنی خدا لگتی بات سن کر تو ہمار ادل بھی تڑپ اٹھا اور جی میں آیا کہ بڑھ کر ان کے ہاتھ چوم لیں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ بابری مسجد کی اصل قاتل اور فسطائیت کی علمبردار بی جے پی کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے جب جنتادل نے ریاست میں حکومت بنائی تھی اور وزیر اعلیٰ کی حیثیت میں جب کمارسوامی کا قافلہ بھٹکل سے گزررہا تھاتو سرکل کے قریب نیشنل ہائی وے پر ان کے مختصر مگر شاندار استقبال کا اہتمام کرنے والے آخر کون تھے؟ اور کیا اس وقت ان لوگوں کے ضمیر سے کوئی آواز نہیں اٹھی تھی؟جب بہت زیادہ اس سوال پر غورکیا تو ہمارے دل سے یہ آواز آئی کہ سیاست اور ملی غیرت و حمیت کا ایسا کوئی گہرا رشتہ نہیں ہوتا کہ جسے بالائے طاق نہیں رکھا جاسکے۔اسی لئے اس رویے کو عام زبان میں سیاسی ضرورت یا مصلحت کی چادر میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔

وزیر اعلیٰ کی آمد سے کھلا ایک نیا رنگ: موجودہ ایم ایل اے کے تعلق سے ہمارے سیاسی عزائم رکھنے والے گروپ کی طر ف سے ایک اور بات جوہمارے اپنے حلقوں میں پھیلائی جارہی تھی، وہ یہ تھی کہ منکال وئیدیا کی اپنی قوم اس کے خلاف ہوگئی ہے، اور کسی بھی حالت میں اسے دوبارہ الیکشن میں کامیاب دیکھنا نہیں چاہتی ہے۔ اور ان میں سے کچھ گروپس جن کے پاس "اچھے خاصے ووٹس”ہیں ، وہ ہمارے اپنے مسلم امیدوار کے حق میں پولنگ کروانے کے لئے تیار ہیں۔ یہ بات سچ بھی ہے کہ اکثر وبیشتر الیکشن قریب آنے کے بعد ووٹرس میں ہیجان ہوتاہے اور کچھ تبدیلیوں کی خواہش بھی جنم لیتی ہے۔ اس کے پیچھے زیادہ تر سیاسی عزائم اور خواہشات کارفرما ہوتی ہیں۔ لیکن سیاست کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ یہاں کبھی بھی ، کوئی بھی ، کسی کا بھی نہ ہمیشہ دوست ہوتا ہے اور نہ ہمیشہ دشمن ! بس سیاسی مفادات اور مصلحتیں ہوتی ہیں جو وقتی طور پر رجحانات اور موقف بدلنے کا سبب بنتی ہیں۔لہٰذا جو لوگ یہ بات پھیلا رہے تھے کہ منکال وئیدیا کی اپنی کمیونٹی اس کی مخالف ہوگئی ہے ، ان کی یہ غلط فہمی شاید اس وقت دور ہوگئی ہوگی جب بھٹکل میں وزیر اعلیٰ سدارامیا کی آمد پر ان کا پرجوش استقبال کرنے کے لئے ایم ایل اے کی پوری موگیر(ماہی گیر)کمیونٹی نے ایک دن کے لئے ماہی گیری مکمل طورپر بند رکھنے کا اعلان کیا۔ظاہر سی بات ہے کہ وزیراعلیٰ کے استقبال اور اجلاس کی کامیابی کا زیادہ سے زیادہ کریڈٹ ایم ایل اے ہی کو جانا ہے اور اس کا مقصد بھی اپنی پکڑ اورطاقت کا مظاہرہ show of strength کرنا تھا ،جس میں و ہ پوری طرح کامیاب رہا ۔ اور اس پرطرہ یہ ہوا کہ وزیراعلیٰ نے خود ہی یہ کہتے ہوئے تڑکا لگادیا کہ منکال وئیدیا نہ صرف یہاں سے ٹکٹ کا حقدار ہے بلکہ وہ تو آئندہ منسٹر بننے کے قابل ہے!

اس موڑ پر ہم تواپنے قائدین اور سیاسی عازمین سے بس یہی پوچھ سکتے ہیں کہ : می لارڈ! کیا اب بھی اس بات میں سچائی ہے کہ موجودہ ایم ایل اے نے اپنی ہی قوم میں اپنا اعتبار کھویا ہے،پارٹی میں اس کی سیاسی ساکھ ختم ہوگئی ہے اور وہ اس لائق نہیں رہا کہ اسے گھاس ڈالی جائے!
کیونکہ وزیر اعلیٰ کے اس تازہ بیان سے کانگریس میں ہمارے اپنے مسلم امیدوار کا دروازہ اگرچہ پوری طرح بند نہیں ہوا ہے، پھر بھی کھلنے کے امکانات مدھم ضرور ہوئے ہیں۔ دوسری طرف جنتا دل رہ جاتی ہے جس کے ذریعے ہمارے امیدوار کوٹکٹ ملنے کا راستہ اور زیادہ آسان ہوتا نظر آرہا ہے، مگرلاکھ ٹکے کا سوال پھر بھی یہ رہ جاتا ہے کہ کیا سیاسی بازی کھیلنے کا یہ جوکھم اٹھایا جاسکتا ہے؟ اور کس حد تک اس قیمت ادا کی جاسکتی ہے؟اور اس پس منظر میں عوام کی حالت اب تک یہی ہے کہ : ؂

کب سے حیران کھڑے ہیں کہ کدھر کو چلئے
کوئی کہتا ہے اِدھر تو کوئی اُدھر کو چلئے

 

)نوٹ : یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مشتمل ہے ۔ادارہ بھٹکلیس کا اس مضمون میں درج کسی بات سے متفق ہونا ضروری نہیں(

x

Check Also

مسعود احمد برکاتی ایک بامقصد زندگی کا استعارہ… تحریر : ڈاکٹر طاہر مسعود

مسعود احمد برکاتی نے جنہیں بالعموم اُن کے رفقا ’’برکاتی صاحب‘‘ کہا ...